ٹرپل سنچری، چھ چھکے اور کئی منفرد ریکارڈز کے حامل لیجنڈ کرکٹر گیری سوبرز انتقال کر گئے

سر گارفیلڈ سوبرز نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں سے کرکٹ کی دنیا میں وہ ریکارڈز قائم کیے جو آج بھی خواب سمجھے جاتے ہیں۔
اپ ڈیٹ 17 جولائ 2026 11:26pm

کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین آل راؤنڈر سر گارفیلڈ سوبرز (گیری سوبرز) 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ بائیں ہاتھ سے جارحانہ بیٹنگ، تین مختلف انداز میں بولنگ اور غیر معمولی فیلڈنگ کی صلاحیت رکھنے والے گیری سوبرز نے اپنے دو دہائیوں پر محیط کیریئر میں کئی ریکارڈز قائم کیے۔ وہ آج بھی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے کم عمر ترین ٹرپل سنچری بنانے والے بلے باز ہیں۔

ویسٹ انڈیز کرکٹ نے جمعے کو سر گیری سوبرز کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ’ایک عظیم اننگز اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ سر گارفیلڈ سوبرز ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔‘ ادارے نے ان کی تصویر کے ساتھ ’لیجنڈ، آئیکون، ہیرو‘ کے القابات بھی تحریر کیے۔

ان کے انتقال کے ساتھ کھیل کا ایک سنہری باب اختتام کو پہنچ گیا لیکن ان کے ریکارڈز اور کارنامے آج بھی کرکٹ کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔

ان کے انتقال پر دنیا بھر کے کرکٹ حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سر گارفیلڈ سوبرز کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پی سی بی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ 1959 میں ویسٹ انڈیز کے دورۂ پاکستان کے دوران سر گارفیلڈ سوبرز کی میزبانی کرنا پاکستان کے لیے باعثِ اعزاز تھا۔ ان کی غیر معمولی صلاحیت نے پاکستانی میدانوں کو اعزاز بخشا اور ان کا شاندار کیریئر عالمی کرکٹ پر ہمیشہ کے لیے اپنے نقوش چھوڑ گیا پے۔

پی سی بی نے ویسٹ انڈیز کرکٹ، سر گارفیلڈ سوبرز کے اہلِ خانہ اور مداحوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار بھی کیا ہے۔

انگلش کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سر گارفیلڈ سوبرز کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں، انہیں ہمیشہ یاد رکھا جاائے گا۔

بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے انہیں کرکٹ کا حقیقی آئیکون اور کھیل کے بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک قرار دیا اور ان کی بھارتی کرکٹرز سے ملاقات کی ویڈیو بھی شیئر کی ہے۔

شاندار کرکٹ کیرئیر

سر گارفیلڈ سوبرز نے محض 16 برس کی عمر میں بارباڈوس کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ اپنے فرسٹ کلاس کیریئر میں انہوں نے 28 ہزار سے زائد رنز بنائے اور ایک ہزار سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔

ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کے باعث انہیں 1954 میں صرف 17 برس کی عمر میں ویسٹ انڈیز کی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔

سر گارفیلڈ سوبرز نے 1954 سے 1974 کے درمیان ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کرتے ہوئے 93 ٹیسٹ میچ کھیلے۔ اس دوران انہوں نے 57.78 کی شاندار اوسط سے 8 ہزار 32 رنز بنائے اور ساتھ ہی 235 وکٹیں بھی حاصل کیں۔

انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے 8 ہزار رنز صرف 157 اننگز میں مکمل کیے تھے۔ ان کا یہ ریکارڈ آج بھی قائم ہے اور دنیا کا کوئی بھی بلے باز یہاں تک کہ سچن ٹنڈولکر اور برائن لارا جیسے عظیم کرکٹرز بھی ان کے اس ریکارڈ کو نہیں توڑ سکے تھے۔

اس کے علاوہ 1958 میں پاکستان کے خلاف انہوں نے کانراڈ ہنٹ کے ساتھ مل کر دوسری وکٹ کے لیے 446 رنز کی تاریخی پارٹنراشپ قائم کی تھی، جو دہائیوں تک ورلڈ ریکارڈ رہا۔

وہ صرف ایک کامیاب بلے باز یا بولر نہیں تھے بلکہ کرکٹ کے تینوں شعبوں میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں آج بھی کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین آل راؤنڈر قرار دیا جاتا ہے۔

ٹرپل سنچری

سنہ 1958 میں صرف 21 برس کی عمر میں انہوں نے پاکستان کے خلاف ناقابلِ شکست 365 رنز کی تاریخی اننگز کھیلی۔ اس وقت یہ ٹیسٹ کرکٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز تھی، جس نے انہیں عالمی شہرت دلائی۔ یہ ریکارڈ بعد میں ویسٹ انڈیز کے ہی کرکٹر برائن لارا نے توڑا تاہم ٹرپل سنچری بنانے والے سب سے کم عمر کھلاڑی کا اعزاز آج بھی ان ہی کے پاس ہے۔

ان کا ریکارڈ ٹوٹنے پر کمنٹیٹر نے ان سے سوال کیا کہ ریکارڈ ٹوٹنے پر کیسا محسوس ہورہا ہے تو انہوں نے نہایت دلچسپ جواب دیا۔

گیری سوبرز کا کہنا تھا کہ ’ریکارڈز تو بنتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں اور نیا ریکارڈ بنانے کے لیے کسی کا پرانا ریکارڈ ٹوٹنا بھی عام سی بات ہے۔ میرے لیے خوشی کی بات میرا ریکارڈ توڑنے والا کھلاڑی (برائن لارا) ہے جو کرکٹ کو اسی انداز سے کھیلتا ہے، جس طرح اسے کھیلا جانا چاہیے۔‘

ایک اوور میں 6 چھکے

سر گارفیلڈ سوبرز کے تاریخی ریکارڈز میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں ایک اوور میں مسلسل چھ چھکے لگانے والے پہلے بلے باز تھے۔

انہوں نے یہ منفرد اعزاز ناٹنگھم شائر کی نمائندگی کرتے ہوئے گلیمورگن کے بولر میلکم نیش کے خلاف حاصل کیا، جو آج بھی کرکٹ کی تاریخ کے یادگار ترین لمحات میں شمار ہوتا ہے۔

ان کے سابقہ کلب ناٹنگھم شائر کرکٹ کلب نے انہیں کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین آل راؤنڈر اور اپنی تاریخ کی ایک نمایاں شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

مختلف بالنگ اسٹائل

گیری سوبرز جارحانہ بیٹسمین کے علاوہ ایک جادوگر بولر کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہیں تین مختلف انداز سے بولنگ میں کمال حاصل تھا۔ وہ بائیں ہاتھ سے سے تیز بولنگ، آرتھوڈوکس اور چائنا مین اسپن بولنگ، تینوں میں ماہر تھے۔ ایک بولر کی تینوں انداز میں مہارت آج کے دور میں بھی ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

بیٹنگ اور بولنگ کے علاوہ فیلڈنگ میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ ٹیم کو جب بھی مخالف ٹیم پر دباؤ برقرار رکھنا ہوتا، وہ ’شارٹ لیگ‘ اور ’سلپ‘ کی پوزیشن پر موجود نظر آتے۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کے 93 میچوں میں 109 کیچز پکڑے۔

28 جولائی 1936 کو بارباڈوس کے علاقے سینٹ مائیکل میں پیدا ہونے والے گیری سوبرز کی ذاتی زندگی بھی کے کئی پہلو بھی بہت مشہور ہوئے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیدائش کے وقت ان کے دونوں ہاتھوں میں ایک، ایک اضافی انگلی موجود تھی جنہیں انہوں نے بچپن میں خود ہی کاٹ کر علیحدہ کر دیا تھا۔

ان کے والد کینیڈین مرچنٹ نیوی میں ملازم تھے لیکن دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمن حملے میں ان کا جہاز ڈوب گیا۔ اس وقت سوبرز صرف پانچ برس کے تھے۔ وہ چھ بہن بھائیوں میں پانچویں نمبر پر تھے۔

اپنی خودنوشت میں انہوں نے لکھا کہ والد کی وفات کے بعد ان کی والدہ نے انتہائی مشکل حالات میں بھی بچوں کی تعلیم، خوراک اور ہر ضرورت کا بھرپور خیال رکھا۔

کرکٹ کے لیے غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم نے انہیں ’نائٹ ہڈ‘ سے نوازا اور ’سر‘ کا خطاب دیا۔ جنوبی افریقہ کے معروف رہنما نیلسن منڈیلا نے بھی انہیں پسندیدہ کرکٹر قرار دیا تھا۔

وہ ویسٹ انڈیز کے ایک کامیاب ترین کپتان تھے جن کے دور میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم ناقابلِ شکست تصور کی جاتی تھی۔ ان کی اسی عظیم خدمات کی وجہ سے آئی سی سی نے سال کے بہترین کرکٹر کا ایوارڈ ان کے نام سے منسوب کر رکھا ہے، جسے ’سر گیری سوبرز ٹرافی‘ کہا جاتا ہے۔

کرکٹ کے معروف جریدے ’وزڈن‘ نے سنہ 2000 میں 100 بین الاقوامی کرکٹ ماہرین کے پینل کے ذریعے 20ویں صدی کے 5 عظیم ترین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا تھا۔ اس تاریخی فہرست میں سر ڈونلڈ بریڈمین سرفہرست جب کہ سر گیری سوبرز دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

بعد ازاں سر ڈونلڈ بریڈمین نے خود سر گارفیلڈ سوبرز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا ’میرے خیال میں وہ کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑی ہیں۔‘

بارباڈوس میں ہر سال 28 اپریل کو ’قومی ہیروز کا دن‘ منایا جاتا ہے۔ سنہ 1998 میں بارباڈوس کی پارلیمنٹ نے ’آرڈر آف نیشنل ہیروز ایکٹ‘ پاس کیا، جس کے تحت ملک کی تاریخ بدلنے والے 10 عظیم ترین افراد کو ’قومی ہیرو‘ کا درجہ دیا گیا۔ ان 10 ہیروز میں سے ایک گیری سوبرز تھے۔

ان کے آبائی وطن بارباڈوس میں حکومت نے ان کے نام پر ’سر گارفیلڈ سوبرز اسپورٹس کمپلیکس‘ بھی قائم کر رکھا ہے جو اب ملک میں انڈور اسپورٹس اور بڑے ثقافتی میلوں کا اہم ترین مرکز سمجھا جاتا ہے۔