کرکٹ ورلڈ کپ کا نیا فارمیٹ؛ پاکستان اور بھارت کے درمیان اضافی مقابلوں کا امکان

2027 ورلڈ کپ کا نیا فارمیٹ: بھارت اور پاکستان کے ایک اضافی مقابلے کا امکان، اب کوارٹر فائنلز نہیں ہوں گے۔
شائع 16 جولائ 2026 11:12am

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے 2027 میں جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے نئے فارمیٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اضافی میچ ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، جسے کرکٹ کی دنیا کا سب سے بڑا اور مقبول مقابلہ سمجھا جاتا ہے۔

آئی سی سی کے مطابق 2027 کا ورلڈ کپ 14 ٹیموں پر ہی مشتمل ہوگا، تاہم ٹورنامنٹ کا ڈھانچہ پہلے سے مختلف ہوگا۔ نئے فارمیٹ کے تحت کوالیفائی کرنے والی 14 ٹیموں میں سے سب سے کم درجہ بندی رکھنے والی تین ٹیمیں ابتدائی مرحلے میں کھیلیں گی، جن میں سے صرف ایک ٹیم اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرے گی۔ اس کے بعد مرکزی مرحلے میں 12 ٹیمیں شامل ہوں گی، جنہیں دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا اور ہر گروپ میں 6، 6 ٹیمیں ہوں گی۔

گروپ مرحلے کے بعد پہلے کی طرح ”سپر سِکس“ مرحلہ نہیں ہوگا بلکہ اس کی جگہ ”سپر سیون“ مرحلہ متعارف کرایا گیا ہے۔ اس مرحلے میں ٹیمیں مزید اہم میچز کھیلیں گی، تاہم اس بار کوارٹر فائنلز نہیں ہوں گے۔ یعنی ٹورنامنٹ میں ناک آؤٹ مرحلے کا ایک اضافی راؤنڈ نہیں رکھا گیا۔

آئی سی سی کا کہنا ہے کہ نئے فارمیٹ کا مقصد ٹورنامنٹ کو زیادہ دلچسپ، مسابقتی اور اہم بنانا ہے۔ ادارے کے مطابق اس تبدیلی سے ایسے میچز کی تعداد کم ہوگی جن کے نتائج سے ٹورنامنٹ پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، جبکہ ہر میچ کی اہمیت بھی بڑھ جائے گی۔

نئے فارمیٹ کی وجہ سے گروپ اور سپر7 مرحلے میں زیادہ میچز کھیلے جائیں گے، جس کے باعث بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اضافی مقابلہ ہونے کا امکان بھی بڑھ گیا ہے، بشرطیکہ دونوں ٹیمیں اگلے مرحلے تک رسائی حاصل کر لیں۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کئی برسوں سے دوطرفہ کرکٹ سیریز نہیں کھیلتے۔ دونوں ٹیمیں صرف آئی سی سی کے عالمی ٹورنامنٹس یا ایشیا کپ جیسے محدود ایونٹس میں ہی آمنے سامنے آتی ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان آخری دوطرفہ سیریز 2006 میں پاکستان میں کھیلی گئی تھی، جس میں ٹیسٹ اور ون ڈے میچز شامل تھے۔

کرکٹ کے شائقین کی بڑی تعداد اور دونوں ممالک کے درمیان اس تاریخی مقابلے کی مقبولیت کے باعث بھارت اور پاکستان کا میچ نشریاتی حقوق اور تجارتی آمدنی کے لحاظ سے آئی سی سی کے لیے سب سے زیادہ اہم مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

آئی سی سی نے مردوں کے 2028 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فارمیٹ میں بھی تبدیلی کی منظوری دی ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں 20 ٹیمیں ہی شریک ہوں گی، لیکن گروپ مرحلے سے 8 کے بجائے 10 ٹیمیں اگلے مرحلے میں پہنچیں گی۔ ”سپر 10“ مرحلے میں بہترین کارکردگی دکھانے والی دو ٹیمیں براہ راست سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی، جبکہ باقی سیمی فائنل کی نشستوں کا فیصلہ ایک نئے ایلیمینیٹر مرحلے کے ذریعے ہوگا۔

دوسری جانب آئی سی سی نے ایک الگ اعلان میں ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کو 1 کروڑ 28 لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالر کا قرض فراہم کرنے کی منظوری بھی دی ہے تاکہ بورڈ کی مالی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکے۔

ویسٹ انڈیز دیگر بڑی کرکٹ ٹیموں سے مختلف ہے کیونکہ یہ ایک علاقائی ٹیم ہے، جس میں کئی کیریبین ممالک اور علاقوں کے کھلاڑی شامل ہوتے ہیں۔ محدود مالی وسائل اور مختلف جزائر کے درمیان طویل سفری اخراجات کی وجہ سے ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کو بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے مالی طور پر مضبوط کرکٹ بورڈز کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔