ایران کی دفاعی تنصیبات پر 90 منٹ تک کارروائی کی: سینٹ کام
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی فوج نے بدھ کی صبح ایران کے خلاف حملوں کا نیا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کردیا ہے۔
امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق بدھ کی صبح امریکی وقت کے مطابق 6 بجے ایران میں نئے حملے کیے گئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ یہ حملے ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں جنہیں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔
اس سے قبل منگل کی رات بھی امریکا نے ایران کے مختلف علاقوں میں تقریباً سات گھنٹے تک جاری رہنے والے حملوں میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔
امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں ایران پر دوبارہ نافذ کی گئی بحری ناکہ بندی کے دوران کی گئیں۔ انہی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں شروع ہو گئیں۔
مختلف ممالک، جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، وہاں ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے جنگ بندی کے لیے ہونے والا عبوری معاہدہ مزید کمزور پڑ گیا۔
بدھ کی صبح بحرین اور کویت میں میزائل حملوں کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کیے گئے۔ حکام کے مطابق ایران کی جانب سے آنے والے ممکنہ حملوں کے باعث شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایات دی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں ایسے الرٹس روزانہ کی بنیاد پر جاری کیے جا رہے ہیں، جس سے خطے میں جاری جنگ بندی مزید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن آئی آر آئی بی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے این ایس آئی مینجمنٹ سینٹر، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، اہم فوجی سازوسامان کے گوداموں اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
تاہم اس دعوے پر امریکا یا بحرین کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ان حملوں سے ہونے والے ممکنہ نقصان کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہو سکی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہوچکی کشیدگی کے پانچویں روز صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے۔
ایرانی حکام نے تصدیق کی کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران جنوبی ایران پر ہونے والے امریکی حملوں میں 30 سے زائد عام شہری جاں بحق ہوئے۔
ایرانی نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ نے بتایا تھا کہ امریکی فوج کی جانب سے تیرہ میزائلوں کے ذریعے بمپور کی بیرکوں پر حملہ کیا گیا جس سے 388 ویں بریگیڈ کے سات اہلکار جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔
ایرانی فوج کا کہنا تھا کہ ان کے دفاعی اقدامات کے باعث جانی نقصان کو ایک حد تک محدود رکھنے میں مدد ملی، ورنہ امریکی حملوں کا مقصد گیسٹ ہاؤس، گارڈ پوسٹس اور رہائشی تنصیبات کو نشانہ بنا کر زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔
ایران کی وزارت صحت کے ترجمان حسین کرمانپور کا کہنا تھا کہ حالیہ امریکی حملوں میں 260 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 222 افراد کو ضروری طبی امداد کی فراہمی کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں جن کی عمریں 18 سال سے کم ہیں، جبکہ ان مخصوص حملوں میں کم از کم دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔
اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے فوری طور پر امریکا کے ساتھ نیا معاہدہ نہ کیا تو اگلے ہفتے اس کے بجلی گھروں اور اہم ترین پلوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کا امریکی ٹی وی چینل ’فاکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم آج رات بھی ایران پر بہت سخت حملے کریں گے اور کل رات بھی یہ حملے جاری رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگلا ہفتہ ایران کے لیے بہت ہی برا ثابت ہونے والا ہے کیونکہ تب تک ہم ان کے تمام بجلی گھروں اور پلوں کو تباہ کر چکے ہوں گے، بشرطیکہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔













