ہیکرز نے بھارت کے سب سے بڑے نیوکلیئر پلانٹ کا ڈیٹا چوری کرلیا

روسی ساختہ ری ایکٹرز کے نقشے اور اہم معلومات ڈارک ویب پر افشا، بڑے خطرات کا خدشہ
شائع 15 جولائ 2026 03:09pm

بھارت کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ ’کوڈن کولم‘ سے متعلق انتہائی حساس فائلیں ڈارک ویب پر افشا ہو گئی ہیں۔ ’ورلڈ لیکس‘ نامی ایک بدنام زمانہ رینسم ویئر یعنی تاوان مانگنے والے ہیکرز کے گروپ نے انٹرنیٹ کی خفیہ دنیا یعنی ڈارک ویب پر یہ تمام فائلیں جاری کی ہیں، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ معلومات بھارتی تاجر انیل امبانی کے ریلائنس گروپ’ سے چرائی گئی ہیں۔

ان فائلوں میں ایٹمی پلانٹ کی مختلف تنصیبات کے نقشے اور سپلائرز کی تفصیلات شامل ہیں۔

تامل ناڈو میں واقع کوڈن کولم نیوکلیئر پاور پلانٹ بھارت کے سات جوہری پلانٹس میں سب سے بڑا ہے اور یہ ملک کی توانائی کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کے منصوبوں کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔

اس ایٹمی پلانٹ کے ٹھیکیداروں میں شامل ریلائنس گروپ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے اپنے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ تیسرے فریق کی ڈیٹا فراہم کرنے والی بھارتی کمپنی ’یوٹا‘ کے سرور پر موجود ان کے ڈیٹا میں جزوی دخل اندازی یعنی ہیکنگ ہوئی ہے، اور اس واقعے کے بارے میں حکومت کو مطلع کر دیا گیا ہے۔ تاہم، ریلائنس نے یہ نہیں بتایا کہ کس قسم کا ڈیٹا چوری ہوا ہے۔

نیوکلیئر تھریٹ انیشیٹو نامی ادارے کے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ، جو ایٹمی سیکیورٹی پر حکومتوں کو مشورے دیتے ہیں، انہوں نے اس حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ڈیٹا ہیکنگ سے پلانٹ کی حفاظت کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ فائلیں اگر غلط ہاتھوں میں چلی جائیں تو ان کے ذریعے ایٹمی پلانٹ کے نظاموں کا نقشہ تیار کیا جا سکتا ہے، ان کے سپلائرز کی شناخت ہو سکتی ہے اور پلانٹ کی سیکیورٹی میں موجود کمزوریوں کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔

نکولس روتھ کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا دشمن کو صرف یہ نہیں بتاتا کہ اس منصوبے تک کس کی رسائی ہے، بلکہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ وہ رسائی کن مخصوص سسٹمز تک پہنچتی ہے۔

رائٹرز نے ان دستاویزات کا جائزہ لیا ہے، جن پر سال 2016 سے لے کر سال 2025 کے وسط تک کی تاریخیں درج ہیں، لیکن وہ آزادانہ طور پر ان کی سچائی کی تصدیق نہیں کر سکا۔

ان فائلوں میں پلانٹ کے نقشوں اور سپلائرز کی تفصیلات کے علاوہ میٹنگز، معائنے کے ریکارڈز، آلات کے جائزے اور انشورنس پالیسیاں بھی شامل ہیں۔

مجموعی طور پر ریلائنس کی 45 جی بی سے زائد ڈیٹا پر مشتمل ساڑھے آٹھ لاکھ فائلوں میں سے 19 ہزار فائلیں انتہائی حساس نوعیت کی ہیں۔

واضح رہے کہ ریلائنس گروپ کے ذیلی ادارے ’ریلائنس انفراسٹرکچر‘ نے سال 2018 میں اس پلانٹ کے یونٹ نمبر تین اور چار کی تعمیر اور ڈیزائننگ کا ٹھیکہ جیتا تھا۔

زیرِ تعمیر یہ دونوں یونٹس سال 2027 تک مکمل ہونے کی امید ہے جن سے دو ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔

ریلائنس انفراسٹرکچر کے سرورز کی دیکھ بھال کرنے والی کمپنی ’یوٹا‘ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے 29 مئی کو ریلائنس انفراسٹرکچر کے سرور پر مشکوک سرگرمی دیکھی تھی، جسے فوراً روک دیا گیا اور مبینہ رینسم ویئر حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔ تاہم، ریلائنس انفراسٹرکچر نے جون کے آخر میں ہمیں بتایا کہ بیرونی حملہ آوروں کی جانب سے ڈیٹا ہیک کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔

یوٹا کا کہنا ہے کہ وہ ان حملہ آوروں کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر پائے لیکن انہوں نے اپنی تکنیکی تحقیقات ریلائنس انفراسٹرکچر کے ساتھ شیئر کر دی ہیں اور وہ اس تفتیش میں مکمل تعاون کر رہے ہیں۔

دوسری طرف، بھارت کی ایٹمی توانائی کے سرکاری ادارے، بھارتی وزیر اعظم کے دفتر اور اس سائبر حملے کا نشانہ بننے والے گروپ ’ورلڈ لیکس‘ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے یا ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، افشا ہونے والی ان فائلوں کا تعلق ایٹمی ری ایکٹرز کے مرکزی نظام (کور سسٹم) سے نہیں ہے، کیونکہ وہ روس کا سرکاری ادارہ ’روسیٹم‘ فراہم کرتا ہے۔

لیکن ان فائلوں میں یونٹ تین اور چار کے وینٹیلیشن اور کولنگ سسٹم کے نقشے اور ’کامن کنٹرول روم‘ کی منزل کا مکمل خاکہ موجود ہے۔

اس کے علاوہ ریلائنس اور نیوکلیئر پاور کارپوریشن کے درمیان 2024 میں ہونے والی ایک مشترکہ میٹنگ کی تفصیلات اور کچھ آلات کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

ایک اور دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ ریلائنس انفراسٹرکچر اور نیوکلیئر کارپوریشن نے ایک انشورنس پالیسی لے رکھی تھی جس کے تحت اگر یونٹ تین یا چار میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو وہ گیارہ کروڑ بیس لاکھ ڈالر کے حقدار ہوں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھارت میں سائبر سیکیورٹی کی کمزور صورتحال کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی کمپنی سرف شارک کے مطابق، بھارت دنیا میں ڈیٹا چوری کے حوالے سے تیسرے نمبر پر ہے جہاں پچھلے سال دو کروڑ اسی لاکھ سے زائد اکاؤنٹس ہیک ہوئے۔

اس سے پہلے 2019 میں بھی کوڈن کولم ایٹمی پلانٹ پر شمالی کوریا کے ہیکرز کی جانب سے سائبر حملہ کیا گیا تھا، تاہم اس وقت نیوکلیئر پاور کارپوریشن نے دعویٰ کیا تھا کہ پلانٹ کا مرکزی نظام محفوظ رہا اور اس حملے سے سیکیورٹی متاثر نہیں ہوئی۔