'ہم جیتنے کے لائق ہی نہیں تھے': ایمپابے نے اسپین سے ہار کا ملبہ ٹیم پر ڈال دیا

ناقدین کا خیال ہے کہ ان کے الفاظ ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کے لیے سخت تھے۔
شائع 15 جولائ 2026 10:17am

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل میں اسپین کے ہاتھوں 0-2 سے شکست کے بعد فرانسیسی ٹیم کا فائنل میں پہنچنے کا خواب چکنا چور گیا ہے۔ اس بڑی ہار کے بعد فرانس کی ٹیم کے کپتان کلین ایمباپے نے گھما پھرا کر بات کرنے کے بجائے سچائی کو تسلیم کیا ہے اور صاف کہا ہے کہ ان کی ٹیم کا کھیل اس لائق ہی نہیں تھا کہ وہ فائنل میں پہنچ پاتی۔

فرانسیسی کپتان کیلیان ایمباپے نے اپنی ٹیم کی کارکردگی پر کھل کر تنقید کی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ فرانس کی ٹیم نہ تو حکمت عملی کے لحاظ سے اچھا کھیل پیش کر سکی اور نہ ہی تکنیکی اعتبار سے سیمی فائنل جیسے بڑے مقابلے کے معیار پر پورا اتری۔

میچ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کپتان کیلیان ایمباپے نے انتہائی مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ ہم نے وہ کھیل پیش کیا جو ہم کھیلنا چاہتے تھے، چاہے وہ میدان کی حکمت عملی ہو، کھیل کی مہارت ہو یا پھر ہماری کارکردگی کا مجموعی معیار ہو اور جب آپ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل جیسے بڑے میچ میں وہ سب نہیں کرتے جو آپ کو کرنا چاہیے، تو پھر آپ جیت نہیں سکتے۔

ایمباپے نے بتایا کہ میچ شروع ہونے سے پہلے ان کی ٹیم کا منصوبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد اسپین پر ابتدا ہی سے دباؤ ڈالنے کا تھا تاکہ وہ اپنے روایتی انداز میں کھیل نہ سکیں، کیونکہ جب کھیل کو قابو میں رکھنے کی بات آتی ہے تو وہ ہم سے بہتر ہیں، لیکن ہم ایسا نہ کرسکے۔ ان کے مطابق اسپین نے فرانس کی حکمت عملی کو ناکام بنا دیا۔

کھیل کی باریکیوں کا ذکر کرتے ہوئے کپتان کا کہنا تھا کہ میدان کے بیچ میں ہمارے کھلاڑیوں کی تعداد ان سے کم رہ گئی تھی، جس کا اسپین نے پورا فائدہ اٹھایا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ جب آپ ان سب چیزوں کو ملا کر دیکھتے ہیں تو نتیجہ ہار کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں کا گیند کو چھونا اور میدان میں حرکت کرنا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کے معیار کا تھا ہی نہیں۔

کپتان نے مزید کہا کہ ہمارا خواب فائنل میں پہنچنا تھا تاکہ ہم اپنے ملک کے لوگوں کو خوشیاں دے سکیں اور تاریخ رقم کر سکیں، لیکن اب ہمیں اس ہار کا سامنا سر اٹھا کر کرنا ہوگا۔ میرا ماننا ہے کہ جب آپ جیتتے ہیں تو سر اٹھا کر جیتتے ہیں، اس لیے جب آپ ہاریں تو تب بھی آپ کو سر اٹھا کر ہی ہار قبول کرنی چاہیے۔

27 سالہ ایمباپے نے موجودہ ورلڈ کپ میں اب تک آٹھ گول اسکور کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں بہت زیادہ مایوسی ہے اور میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا کہ میں اور میری ٹیم کتنی اداس ہے۔ لیکن اب ہمیں خود کو سنبھالنا ہوگا، چھٹیاں گزارنی ہوں گی اور آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ فٹ بال کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ ہمیں نئے سرے سے شروعات کرنی ہوگی، اس ناکامی کو پیچھے چھوڑنا ہوگا اور اس سے سبق سیکھنا ہوگا۔

واضح رہے کہ فرانس کی ٹیم ورلڈ کپ 2026 کے فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہی، جبکہ اسپین نے ایک مرتبہ پھر اپنی مضبوط اور منظم کارکردگی سے ثابت کیا کہ وہ عالمی فٹبال کی صفِ اول کی ٹیموں میں شامل ہے۔

دوسری جانب ایمباپے کے دوٹوک اور بے لاگ تبصرے فٹبال شائقین کے درمیان بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جہاں کچھ لوگ اسے ایک کپتان کی دیانت دارانہ خود احتسابی قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ ان کے الفاظ ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کے لیے سخت تھے۔