عباس عراقچی سابق امیرِ قطر کی تعزیتی تقریب میں شرکت کے لیے دوحہ روانہ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سابق امیرِ قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی تعزیتی تقریب میں شرکت کے لیے دوحہ روانہ ہو گئے ہیں۔ اپنے دورے کے دوران وہ قطری حکام سے بھی ملاقات کریں گے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بدھ کے روز سابق امیرِ قطر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کی تعزیتی تقریب میں شرکت کے لیے دوحہ روانہ ہوگئے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق وہ اپنے دورے کے دوران قطری حکام سے ملاقات بھی کریں گے اور ایرانی حکومت و عوام کی جانب سے تعزیت کا اظہار کریں گے۔
شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کے انتقال کا اعلان اتوار کے روز قطر کے امیری دیوان نے کیا تھا۔ امیری دیوان نے اپنے بیان میں کہا کہ قوم ایک عظیم رہنما سے محروم ہو گئی ہے، جنہوں نے قطر کی ترقی، استحکام اور عالمی شناخت کے لیے تاریخی خدمات انجام دیں۔
شیخ حمد بن خلیفہ الثانی 1995 میں اقتدار میں آئے اور 2013 تک قطر کے امیر رہے۔ ان کے دور حکومت میں قطر نے معاشی، سماجی اور سفارتی میدان میں غیر معمولی ترقی کی۔ قدرتی گیس کے وسیع ذخائر سے مؤثر استفادہ کرتے ہوئے انہوں نے قطر کو دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل کر دیا، جبکہ ملک کا بنیادی ڈھانچہ، تعلیمی ادارے اور صحت کا نظام بھی تیزی سے ترقی کرتا رہا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی شیخ حمد کے دور کو قطر کی خارجہ پالیسی میں ایک نئے باب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی قیادت میں قطر نے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور ایشیا کے کئی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کیا اور عالمی سفارت کاری میں اپنی اہمیت منوائی۔ اسی دور میں الجزیرہ نیٹ ورک کی عالمی سطح پر توسیع نے بھی قطر کی بین الاقوامی شناخت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
شیخ حمد کو قطر کی جدید ریاست کا معمار بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے دور میں ملک نے تعلیم، تحقیق، کھیل اور ثقافت کے شعبوں میں بڑے منصوبے شروع کیے، جن کی بدولت قطر عالمی توجہ کا مرکز بنا۔ انہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ قطر کو 2022 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا، جو مشرق وسطیٰ میں منعقد ہونے والا پہلا فٹبال ورلڈ کپ تھا۔ افتتاحی تقریب میں شیخ حمد کی آمد پر اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجا کر ان کا استقبال کیا تھا۔
سال 2013 میں انہوں نے رضاکارانہ طور پر اقتدار اپنے صاحبزادے شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے حوالے کر دیا، جو اس وقت صرف 33 برس کے تھے۔ اقتدار کی یہ پرامن منتقلی عرب دنیا میں ایک منفرد مثال سمجھی جاتی ہے۔
اقتدار چھوڑنے کے بعد بھی شیخ حمد قطر کی سیاسی اور سماجی زندگی میں ایک بااثر شخصیت کے طور پر جانے جاتے رہے اور انہیں ”فادر امیر“ کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔
سابق امیر کے انتقال پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے نام تعزیتی پیغام بھیجا، جس میں قطری حکومت اور عوام سے بھی ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ عباس عراقچی نے بھی عربی زبان میں اپنے ایکس اکاؤنٹ پر سابق امیر کے انتقال پر گہرے رنج اور افسوس کا اظہار کیا۔
عراقچی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب قطر خطے میں اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ حالیہ ایران۔امریکا کشیدگی کے دوران بھی دوحہ مختلف سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں سرگرم رہا ہے، جس کے باعث اس دورے کو دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔













