حوثی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز کیوں بن گئے؟
یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل حملوں، صنعا ایئرپورٹ پر کشیدگی اور باب المندب میں بڑھتے ہوئے خطرات کے بعد یہ گروہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتِ حال مزید بگڑتی ہے تو آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب بھی عالمی تجارت کے لیے ایک نیا بحران بن سکتا ہے۔ ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ حوثی کون ہیں، ان کی طاقت کیسے بڑھی اور ایران سے ان کے تعلقات کی حقیقت کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یمن کا حوثی گروپ، جسے باضابطہ طور پر انصار اللہ کہا جاتا ہے، ایک مذہبی، سیاسی اور مسلح تحریک ہے جو شمالی یمن میں سرگرم ہے۔ اس کی قیادت عبدالملک الحوثی کے ہاتھ میں ہے، جنہیں خطے کے انتہائی بااثر مگر کم منظر عام پر آنے والے رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
حوثی زیدی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی بنیاد 1990 کی دہائی کے آخر میں شمالی یمن میں ایک مذہبی اصلاحی تحریک کے طور پر رکھی گئی تھی، جس کا مقصد زیدی برادری کی مذہبی اور سماجی شناخت کا تحفظ تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ حکومت سے اختلافات شدت اختیار کرتے گئے اور یہ تحریک مسلح مزاحمت میں تبدیل ہوگئی۔ حوثیوں نے یمنی فوج کے خلاف کئی گوریلا جنگیں لڑیں اور 2011 میں عرب اسپرنگ کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی بے یقینی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی طاقت میں نمایاں اضافہ کیا۔

یمنی حکومت کی جانب سے حوثیوں کو باغی قرار دینے کے بعد حوثیوں نے اپنی تحریک کو منظم کیا اور 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد یمن کی سیاسی صورتِ حال مکمل طور پر بدل گئی۔
صنعا پر قبضے کے بعد سعودی عرب نے حوثیوں کو ایران کا اتحادی قرار دیتے ہوئے مارچ 2015 میں عرب اتحادی افواج کی قیادت میں فوجی مداخلت کی۔ اس اتحاد کا مقصد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو دوبارہ اقتدار میں لانا تھا، تاہم کئی برس تک جاری رہنے والی جنگ کے باوجود حوثی شمالی یمن اور دارالحکومت صنعا پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
اس جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا اور اقوام متحدہ نے یمن کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شامل قرار دیا۔ بعد ازاں 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے جنگ بندی عمل میں آئی جس کے بعد نسبتاً سکون رہا، مگر ایران، امریکا جنگ کے دوران حوثی باغیوں کا کھل کر تہران کی حمایت نے یمنی حکومت کے ساتھ غیر رسمی جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

’رائٹرز‘ کے مطابق ابتدائی طور پر ایک مقامی مزاحمتی گروپ سمجھے جانے والے حوثیوں نے گزشتہ چند برسوں میں اپنی عسکری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ان کے پاس بیلسٹک میزائل، کروز میزائل، ڈرون اور جدید فضائی حملوں کی صلاحیت موجود ہے۔ وہ ماضی میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی تیل تنصیبات، فوجی اڈوں اور اہم انفراسٹرکچر کو متعدد مرتبہ نشانہ بنا چکے ہیں۔
اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد حوثیوں کا کردار مزید نمایاں ہوا تھا۔ انہوں نے فلسطینیوں سے اظہارِ یک جہتی کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر حملے شروع کیے اور اسرائیل پر بھی ڈرون اور میزائل داغے۔

ان کارروائیوں کے جواب میں اسرائیل اور امریکا نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے۔ ان حملوں کے باعث عالمی شپنگ کمپنیاں بحیرہ احمر اور نہر سویز کے بجائے جنوبی افریقا کے گرد طویل بحری راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئیں، جس سے عالمی تجارت، سپلائی چین اور مال برداری کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایران حوثیوں کو اپنے علاقائی محاذِ مزاحمت کا حصہ قرار دیتا ہے، تاہم دونوں کے تعلقات کی نوعیت پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ امریکا اور سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ایران حوثیوں کو اسلحہ، مالی وسائل اور فوجی تربیت فراہم کرتا ہے، جب کہ ایران اس الزام کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔

امریکی حکام یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ لبنان کی حزب اللہ نے حوثیوں کی عسکری تربیت میں کردار ادا کیا، تاہم حزب اللہ اور حوثی دونوں اس مؤقف کو مسترد کرتے ہیں۔ دوسری جانب حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے نمائندہ نہیں بل کہ ایک خودمختار یمنی تحریک ہیں اور اپنے ہتھیار خود تیار کرتے ہیں، اگرچہ دونوں کے درمیان سیاسی ہم آہنگی ضرور موجود ہے۔
خیال رہے کہ رواں ہفتے ہی ایران کی فضائی کمپنی ماہان ایئر لائن کا ایک طیارے نے صنعا ایئر پورٹ پر لینڈ کیا تھا، اس طیارے کی لینڈنگ روکنے کے لیے یمنی حکومت نے رن وے پر فضائی حملہ کیا تھا۔ پیر کو حوثیوں نے سعودی عرب پر میزائل حملے کیے اور الزام لگایا کہ سعودی اتحاد نے ان کے زیرِ کنٹرول صنعا ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا تھا۔
دوسری جانب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی طیارے کو صنعا میں اترنے سے روکنے کے لیے کارروائی کی، کیوں کہ اسے شبہ تھا کہ اس کے ذریعے اسلحہ منتقل کیا جا رہا ہے۔

اسی دوران دارالحکومت صنعا میں بھی حوثیوں کے حامی سڑکوں پر نکل آئے۔ صنعا یونیورسٹی میں طلبہ، اساتذہ اور دیگر حامیوں نے مظاہرہ کیا، جس میں صنعا ایئرپورٹ پر حملوں کی مذمت کی گئی۔ مظاہرین نے عبدالملک الحوثی کی تصاویر اور حوثی پرچم اٹھا رکھے تھے، جب کہ مقررین نے تحریک کے حق میں تقاریر اور نظمیں بھی پیش کیں۔
رواں ہفتے حوثیوں نے صنعا ایئرپورٹ پر حملے کا الزام سعودی عرب پر عائد کرتے ہوئے ابہا ایئرپورٹ کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم سعودی اتحاد کے مطابق تمام میزائل فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیے۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق مارچ 2022 کی جنگ بندی کے بعد یہ سعودی عرب پر حوثیوں کا پہلا براہِ راست حملہ تھا، جس سے چار سال سے قائم نسبتاً پرامن صورتِ حال ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئی۔
حوثیوں کے سعودی عرب پر میزائل حملوں کے بعد پاکستان سمیت خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب سے مکمل یک جہتی کا اظہار کیا اور اسے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔
حالیہ پیش رفت صرف یمن تک محدود نہیں بل کہ اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایران کے بعض بیانات کے بعد خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر تہران اپنے حوثی اتحادیوں کے ذریعے باب المندب میں دباؤ بڑھاتا ہے تو آبنائے ہرمز کے بعد دنیا کی ایک اور اہم بحری گزرگاہ بھی خطرے میں آ سکتی ہے۔

باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا انتہائی اہم بحری راستہ ہے، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی نقل و حمل ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بل کہ عالمی تیل کی قیمتوں، توانائی کی ترسیل، سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
یہی وجہ ہے کہ حوثیوں کو اب صرف یمن کا ایک مقامی مسلح گروپ نہیں بل کہ مشرق وسطیٰ کی طاقت کی سیاست اور عالمی بحری تجارت پر اثر انداز ہونے والی ایک اہم قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جب کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں یمن ایک مرتبہ پھر مرکزی محاذ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔














