روہنگیا کے مسلمان پناہ گزینوں کی کشتیوں کو حادثہ، 500 سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ

سال 2025 روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے اب تک کا سب سے مہلک ترین سال رہا ہے جس میں ساڑھے چھ ہزار سے زائد افراد نے سمندری راستے سے نقل مکانی کی اور ان میں سے لگ بھگ 900 افراد سمندر برد یا لاپتہ ہو گئے۔
شائع 16 جولائ 2026 11:25am

خلیج بنگال میں روہنگیا مسلمانوں کی دو کشتیاں ڈوبنے کے بعد 500 سے زائد افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق یہ پناہ گزین میانمار اور بنگلہ دیش کے خستہ حال کیمپوں سے فرار ہو کر بہتر زندگی کی تلاش میں سمندری سفر پر نکلے تھے لیکن سمندری لہروں کا شکار ہو گئے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے شعبے اور ہجرت کے عالمی ادارے ’آئی او ایم‘ نے جمعرات کو جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں اس واقعے کی تفصیلات بتائی ہیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق یہ دونوں کشتیاں جون کے آخر میں میانمار کی مغربی ریاست راکھین سے روانہ ہوئی تھیں جن میں سوار پناہ گزینوں کی اکثریت روہنگیا مسلمانوں پر مشتمل تھی اور ان میں کچھ ایسے پناہ گزین بھی شامل تھے جنہوں نے بنگلہ دیش کے کیمپوں سے میانمار پہنچ کر اس سفر کا آغاز کیا تھا۔

ان میں سے ایک کشتی جس پر تقریباً 250 افراد سوار تھے، روانگی کے فوراً بعد ہی لاپتہ ہو گئی اور اس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ دوسری کشتی جس پر 280 افراد سوار تھے، آٹھ جولائی کو میانمار کے ساحل کے قریب ڈوب گئی۔

دونوں عالمی اداروں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ ان واقعات اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد کی ابھی تک باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے، لیکن یو این ایچ سی آر اور آئی او ایم کو قیمتی جانوں کے ممکنہ ہولناک نقصان پر شدید تشویش ہے۔

عام طور پر روہنگیا پناہ گزین سال کے اس حصے میں سمندری سفر سے گریز کرتے ہیں کیونکہ مون سون کے موسم میں بارشوں اور طوفان کی وجہ سے سمندر انتہائی خطرناک ہو جاتا ہے۔ تاہم حالیہ شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باوجود ان پناہ گزینوں نے مجبوراً یہ خطرناک ترین راستہ چنا۔

امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق اس وقت بنگلہ دیش کے انتہائی گنجان آباد اور خستہ حال کیمپوں میں تقریباً بارہ لاکھ روہنگیا مسلمان کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں جو میانمار کی فوج کے تشدد سے بچنے کے لیے وہاں پناہ گزین ہوئے تھے۔

ان پناہ گزینوں کے پاس میانمار واپس جانے کا کوئی محفوظ راستہ نہیں ہے کیونکہ وہاں اب بھی وہی فوج برسرِاقتدار ہے جس نے 2017 میں روہنگیا نسل کشی کی تھی، اور جو روہنگیا اب بھی میانمار میں رہ رہے ہیں وہ نظر بند کیمپوں میں انتہائی سخت پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ امریکا اور دیگر ممالک کی طرف سے امداد میں کٹوتی کے بعد بنگلہ دیش کے کیمپوں میں پناہ گزینوں کے کھانے پینے کے راشن میں بھی کمی کر دی گئی ہے جبکہ میانمار کی فوج اور راکھین کے ایک مقامی مسلح گروپ کے درمیان جنگ نے حالات کو مزید ابتر بنا دیا ہے۔

ان سنگین حالات کے باعث روہنگیا پناہ گزینوں کی بڑی تعداد لکڑی کی بنی ٹوٹی پھوٹی کشتیوں میں ملائیشیا پہنچنے کے لیے اپنی جان داؤ پر لگا رہی ہے، اس دوران اب تک کئی معصوم بچے، عورتیں اور پناہ گزین لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ عالمی اداروں نے زور دیا ہے کہ اس انسانی المیے کو روکنے کے لیے دنیا کو خوابِ غفلت سے جاگنا ہوگا۔

یو این ایچ سی آر اور آئی او ایم نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے اس خطرناک ترین سمندری راستے پر مزید جانی نقصان کو روکنے کے لیے مضبوط علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت ہے، جس میں تلاش اور بچاؤ کے کاموں کو تیز کرنا، پناہ اور تحفظ تک رسائی دینا، اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

یاد رہے کہ سال 2025 روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے اب تک کا سب سے مہلک ترین سال رہا ہے جس میں ساڑھے چھ ہزار سے زائد افراد نے سمندری راستے سے نقل مکانی کی اور ان میں سے لگ بھگ 900 افراد سمندر برد یا لاپتہ ہو گئے۔