کراچی: 2 سالہ اذان کے اغوا کا ڈراپ سین، ملزمان والد کے قریبی نکلے
کراچی میں ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس نے 2 سالہ آذان کے اغوا کیس کا معمہ حل کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔
ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کے مطابق 2 سالہ آذان کے اغوا کیس میں مرکزی ملزم محمد احتشام بچے کے والد کا قریبی دوست نکلا، جس نے واردات کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر بچے کو اغوا کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے واردات سے 3 روز قبل متعلقہ نجی سوسائٹی کی مسلسل ریکی کی اور اغوا کی کارروائی کے لیے پہلے سے موٹرسائیکل، جعلی نمبر پلیٹ، ہیلمیٹ اور دیگر سامان کا انتظام کر رکھا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی ملزم کو بچے کو اغوا کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد تکنیکی شواہد کی مدد سے تحقیقات کو آگے بڑھایا گیا۔

تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ملزمان نے بچے کے اہل خانہ سے 50 لاکھ روپے تاوان طلب کیا اور اس مقصد کے لیے بیرونِ ملک سے چلنے والے واٹس ایپ نمبرز استعمال کیے تاکہ اپنی شناخت چھپا سکیں۔
پولیس کے مطابق واردات کے بعد مرکزی ملزم نے مکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل 2 روز تک بچے کے اہل خانہ کے ساتھ اس کی تلاش میں بھی حصہ لیا تاکہ خود پر کسی قسم کا شبہ نہ ہونے دے۔
ایس ایس پی ویسٹ طارق الہیٰ مستوئی کے مطابق پولیس کی مسلسل کارروائی، تکنیکی تحقیقات، میڈیا پر بھرپور تشہیر اور معززین کے دباؤ کے باعث ملزمان گھبرا گئے اور انہوں نے بچے کو کراچی سے گھارو منتقل کر دیا۔ بعد ازاں پولیس ٹیم نے گھارو کے قریب بروقت کارروائی کرتے ہوئے معصوم آذان کو بحفاظت بازیاب کرا لیا۔
پولیس نے مرکزی ملزم محمد احتشام سمیت تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ دورانِ تفتیش تینوں ملزمان نے اغوا میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کر لیا جب کہ پولیس نے تکنیکی شواہد کی مدد سے ان کے بیانات کی تصدیق کر لی ہے۔
پولیس کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی موٹرسائیکل، جعلی نمبر پلیٹ، ہیلمیٹ، واردات کے دوران استعمال کیے گئے کپڑے اور دیگر سامان بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کامیاب کارروائی ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کی سربراہی میں انجام دی گئی، جنہوں نے کامیاب آپریشن پر پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی۔













