ملک گیر ہڑتال کی کال: پٹرول ڈیلرز نے حکومت کے سامنے تین مطالبات رکھ دیے

مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو رات 12 بجے ملک بھر میں تمام پٹرول پمپس بند کردیے جائیں گے: پیٹرول ڈیلرز کا عندیہ
شائع 22 جولائ 2026 03:26pm

پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے تمام دھڑے ہڑتال کے معاملے پر متحد ہو گئے ہیں۔ ڈیلرز نے حکومت کے سامنے تین مطالبات پیش کردیے ہیں اور اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے مطالبات منظور نہ کیے تو آج رات 12 بجے سے ملک بھر کے تمام پٹرول پمپ بند کر دیے جائیں گے۔

پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مختلف دھڑوں نے متفقہ طور پر آج رات سے ہڑتال کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے حکومت کے سامنے تین اہم مطالبات رکھ دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ڈیلرز کا پہلا مطالبہ ہے کہ ان کے منافع کا مارجن موجودہ 2.6 فیصد سے بڑھا کر 8 فیصد کیا جائے۔ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرنے کے بجائے دوبارہ 15 روزہ یا ماہانہ بنیادوں پر کیا جائے۔

ایسوسی ایشن نے اپنا تیسرا مطالبہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے نافذ کیے گئے کوٹہ سسٹم کے خاتمے سے متعلق پیش کیا ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 18 جولائی کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا اختیار آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے سپرد کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا، جب کہ اوگرا نئی قیمتیں اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گی۔

اس فیصلے کے بعد 18 جولائی کی رات آئندہ تین روز کے لیے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین جاری ہے۔

حکومت کی نئی پالیسی پر عوام، ٹرانسپورٹرز اور پٹرول پمپ مالکان مسلسل تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ڈیزل مہنگا ہونے کے بعد ملک بھر میں ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں بھی اضافہ کر دیا، جبکہ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے تمام دھڑوں نے روزانہ قیمتوں کے تعین کی پالیسی واپس نہ لینے کی صورت میں احتجاج اور ہڑتال کی دھمکی دے رکھی ہے۔