ایران کے خلاف کارروائی کا جواب ضرور دیا جائے گا: ایرانی نائب اسپیکر کی یوکرین کو وارننگ
ایران کی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی نیک زاد نے ایرانی جہاز پر یوکرینی حملے پر خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف ہر حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔
ایرانی خبر رساں ایجسنی ’اِرنا‘ کے مطابق اتوار کو ایران کی پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب اسپیکر علی نیک زاد نے یوکرین کی جانب سے بحیرہ خزر (کیسپین سی) میں ایرانی تجارتی جہاز پر حملے کو غیر ذمہ دارانہ کارروائی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس حملے کے نتائج ضرور سامنے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع کا رکھتا ہے اور جو بھی مقام ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوگا اسے ایران کے لیے جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔
علی نیک زاد نے یورپی ممالک کی حکومتوں پر بھی تنقید کی اور برطانیہ، بلغاریہ اور یوکرین کا نام لیتے ہوئے کہا کہ انہیں امریکا کا آلہ کار بننے سے گریز اور ایسے تنازعات سے دور رہنا چاہیے جن کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو خطے سے نکل جانا چاہیے، ورنہ اسے ایک اور بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج امریکا یا اسرائیل کی ہر کارروائی کا سخت جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ امریکی عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے صدر کو سمجھائیں ورنہ مزید امریکی فوجی تابوتوں میں واپس لوٹیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے سابق رہنما کے قتل کا بدلہ لینے کے عزم سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور انہیں یقین ہے کہ اس کے ذمہ داروں کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔
واضح رہے کہ ہفتے کے روز بحیرہ خزر (کیسپین سی) میں ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ ہوا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں ایک ایرانی اہلکار جاں بحق جب کہ دوسرا شدید زخمی ہوا ہے۔ ایران نے اس حملے کا الزام یوکرین پر عائد کیا ہے۔
دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی روس کے مختلف علاقوں سمیت بحیرہ خزر میں ایک جہاز پر حملے کی تصدیق کی ہے۔
یوکرینی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ یوکرین روسی حملوں کے جواب میں طویل فاصلے تک کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات یوکرین کی دفاعی افواج نے روس کے مختلف علاقوں میں ایسے اہداف کو نشانہ بنایا جو جنگی کارروائیوں میں استعمال ہونے والے وسائل اور انفراسٹرکچر کا حصہ تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طویل فاصلے پر کیے گئے حملوں میں ایران کے ساتھ فوجی سامان کی ترسیل میں استعمال ہونے والے بعض جہاز اور ایک جنگی بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔












