سعودی عرب اور امریکا کے عراق میں فضائی حملے
سعودی عرب اور امریکی مسلح افواج نے ایک ساتھ عراق میں موجود ایران نواز مسلح گروہوں کے ٹھکانوں پر شدید جوابی فضائی حملے کیے ہیں۔
سعودی وزارتِ دفاع اور امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ مشترکہ کارروائی سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات اور امریکی افواج کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے جواب میں کی گئی ہے۔
سعودی رائل فضائیہ نے عراق کے چار مختلف علاقوں بصرہ، واسط، کربلا اور نینویٰ کے میدانی علاقوں میں قائم ملیشیا کے ٹھکانوں، اسلحہ کے گوداموں اور لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔
سعودی فوج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اپنے بیان میں کہا کہ ”سعودی مسلح افواج نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ مکمل رابطے اور تعاون کے تحت عراق میں موجود اُن ملیشیاؤں کے اہداف پر حملے کیے جو مملکت کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے میں ملوث تھیں“۔

انہوں نے واضح کیا کہ سعودی ایئر ڈیفنس نے حالیہ دنوں میں ریاض اور مشرقی صوبے کی پیٹرولیم تنصیبات کی طرف عراقی علاقے سے بھیجے گئے متعدد ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا۔
ترجمان کے مطابق یہ اقدام قومی سلامتی کے تحفظ اور تیل تنصیبات کے دفاع کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ”سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی اور اس کی نیابتی تنظیموں کو مزید امریکی فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے یہ حملے فوری طور پر روکنے ہوں گے“۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین دنوں کے دوران امریکا اور سعودی عرب کی تنصیبات پر 30 سے زائد ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کی کوشش کی گئی، جنہیں ناکام بنا دیا گیا۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے اس موقف کو دہرایا کہ ”سعودی عرب کشیدگی نہیں چاہتا اور نہ ہی اس کا مقصد حالات کو خراب کرنا ہے، لیکن مملکت اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی“۔
اس تمام تر صورتحال کے جواب میں عراقی عسکری اتحاد ’اسلامک ریزسٹنس ان عراق‘ نے ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے سعودی عرب کے دعوؤں کو من گھڑت قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ”سعودی عرب کے کسی بھی بے وقوفانہ اقدام کا سخت جواب دیا جائے گا“۔
دوسری جانب عراقی وزیراعظم علی الزیدی، جو پہلے ہی ان حملوں کی تحقیقات کا حکم دے چکے ہیں، جلد سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔
عراقی فوج نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ”عراق اپنی سرزمین کو کسی بھی بھائی یا دوست ملک کے خلاف حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا پابند ہے“۔













