ایران جنگ کے بعد اوول آفس میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی پہلی ملاقات

ٹرمپ نے ایران سے متعلق نیتن یاہو کے مؤقف پر ناراضی کا اظہار کیا۔
اپ ڈیٹ 28 جولائ 2026 11:37pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی، تاہم ملاقات سے قبل ایران کے معاملے پر دونوں رہنماؤں کے درمیان پالیسی اختلافات نمایاں ہوئے۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی جانب سے ایران سے متعلق ممکنہ انٹیلی جنس معلومات کے میڈیا میں آنے پر ناراضی کا اظہار کیا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو منگل کے روز وائٹ ہاؤس پہنچے، جہاں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اوول آفس میں بند کمرے میں ملاقات کی۔ یہ دونوں رہنماؤں کی 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے بعد پہلی بالمشافہ ملاقات ہے۔

ملاقات سے قبل ایران کے معاملے پر دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی جھلک اس وقت سامنے آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی جانب سے ایران سے متعلق ممکنہ انٹیلی جنس معلومات میڈیا میں آنے پر ناراضی کا اظہار کیا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق نیتن یاہو کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات پیش کرنے کی اطلاعات پر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں براہ راست بتایا جانا چاہیے، معاملات کو پہلے سے عوامی سطح پر سامنے نہیں لانا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو وائٹ ہاؤس ملاقات میں ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق معلومات اور تہران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کرنا چاہتے تھے۔

ٹرمپ نے ’فاکس نیوز‘ کو انٹرویو میں کہا کہ انہیں ایسی معلومات سے آگاہ کرنے کے لیے میڈیا کے ذریعے اعلان کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں بند کمرے کی ملاقات کے دوران امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے، جن میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ شامل تھے۔

ملاقات میڈیا کے لیے بند رکھی گئی تھی، جب کہ اس حوالے سے فوری طور پر تفصیلات بھی جاری نہیں کی گئیں۔ تاہم اسرائیلی وزیرِاعظم آفس نے ’ایکس‘ پر ملاقات کی تصاویر شیئر کیں جس میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کو خوش گوار انداز میں بیٹھے دیکھا گیا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس چھوڑ دیا۔ ملاقات تقریباً ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی، اسرائیلی حکام کے مطابق نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات خوش گوار ماحول میں ہوئی۔

اسرائیلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان بہترین ہم آہنگی واضح نظر آئی۔ ان کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو نے اس مشترکہ مؤقف کا اعادہ کیا کہ کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

ملاقات میں امریکا اور اسرائیل کے درمیان شراکت داری، جوہری پروگرام سے متعلق خدشات اور مشرق وسطیٰ میں تعاون کے مختلف امکانات پر بھی بات چیت کی گئی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ہونے والی دونوں ملاقاتیں مثبت اور تعمیری رہیں۔

قبل ازیں، امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ مطابق ایران جنگ کے بعد امریکا اور اسرائیل کے درمیان بعض اہم معاملات پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ نیتن یاہو ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے حامی ہیں، جب کہ ٹرمپ سفارتی راستے کے ذریعے جنگ کے خاتمے پر زور دے رہے ہیں۔

لبنان اور حزب اللہ کا معاملہ بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلاف کی وجہ بنا ہوا ہے، جہاں ٹرمپ انتظامیہ کشیدگی کم کرنے کی خواہاں ہے جب کہ نیتن یاہو سخت مؤقف برقرار رکھنے کے حامی ہیں۔

نیتن یاہو ایسے وقت میں واشنگٹن پہنچے ہیں جب اسرائیل میں انتخابات قریب ہیں اور انہیں سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم اختلافات برقرار ہیں۔

ٹرمپ اور نیتن یاہو کی یہ دوسری مدتِ صدارت کے بعد ساتویں ملاقات ہے۔ تاہم اس بار دونوں رہنماؤں کے قریبی تعلقات کے باوجود ایران، جنگ بندی اور مشرق وسطیٰ کی پالیسی پر اختلافات نمایاں ہیں۔

دوسری جانب نیتن یاہو کی ٹرمپ سے ملاقات کے دوران وائٹ ہاؤس کے باہر فلسطین کے حامی مظاہرین نے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے خلاف نعرے بازی کی۔