مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، کسی ملک کے خلاف نہیں: اسحاق ڈار

معاہدے مقصد خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے جاری کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے: نائب وزیراعظم
اپ ڈیٹ 09 اگست 2026 06:16pm

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں جب کہ اس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے جاری کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ سے متعلق وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ 2 روز سے مکہ معاہدے کے حوالے سے بحث جاری ہے، عوامی دلچسپی کے باعث معاہدے کا پس منظر اور وضاحت پیش نظر رکھنا مفید ہوگی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو 2026 کو مکہ المکرمہ میں دفاعی معاہدے پر مشترکہ طور پر دستخط کیے، یہ معاہدہ تینوں ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، مکہ دفاعی معاہدہ کئی برسوں سے جاری مذاکرات اور باہمی رابطوں کا نتیجہ ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ مکہ معاہدے کا مقصد امن و سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجک تعاون مضبوط بنانا ہے، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینا بھی مکہ معاہدے کا مقصد  ہے، یہ معاہدہ ان تینوں ممالک کے مابین یا دیگر ممالک اور تنظیموں کے ساتھ پہلے سے موجود کسی بھی دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدے کو منسوخ یا تبدیل نہیں کرتا اور نہ ہی یہ دیگر ممالک یا تنظیموں کے ساتھ موجود معاہدوں کی جگہ لیتا ہے۔

وزیر خارجہ کے مطابق معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی بیرونی مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، یہ اصول اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے فطری حق کے مطابق ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں اور اس کا واحد مقصد خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ہماری جاری کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ مکہ معاہدہ خطے کے ان تمام ممالک کے لیے کھلا ہے، جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری پر آمادہ ہو، جو بھی ملک باہمی احترام، تعاون اور پُرامن ذرائع کے ذریعے اختلافات کے حل کے لیے آمادہ ہو۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ مکہ معاہدہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہے، خطے کے تمام برادر ممالک کے ساتھ پائیدار امن اور استحکام کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تمام تنازعات کے پُرامن حل کے فروغ کے عزم پر قائم ہے، پاکستان اپنے عوام کے لیے زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کے عزم پر قائم ہے۔

مکہ معاہدہ امن، سلامتی اور استحکام کی جانب تاریخی سنگ میل قرار

دوسری جانب وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پاکستان، ترکیہ اورسعودی عرب کے مابین مکہ باہمی امن ودفاعی معاہدے کو امن، سلامتی اور استحکام کی جانب ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے پاکستانی قوم کو مبارکباد دی ہے۔

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اپنے جاری ویڈیو بیان میں کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے، جس نے پاکستان کو یہ دن دکھایا، آج پورا پاکستان مشترکہ دفاعی معاہدے کا جشن منارہا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدہ امن، سلامتی اوراستحکام کی جانب ایک تاریخی سنگ میل ہے۔

عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو آج دنیا میں وہ مقام حاصل ہوا ہے، جس کی خواہش پاکستانی قوم ہمیشہ سے کرتی رہی ہے، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں مشترکہ وژن حقیقت کا روپ دھار گیا ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب اپنے دفاع سے متعلق معاہدے کے تحت آگے بڑھیں گے۔ پاکستان کو محافظِ حرمین شریفین کا اعزاز بھی حاصل ہے۔