ہمارے پاس ایران سے نمٹنے کے لیے 3 حکمتِ عملیاں ہیں: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس ایران سے نمٹنے کے لیے تین نئی حکمت عملیاں موجود ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت شدید معاشی افراتفری کا شکار ہے اور امریکا کے پاس اب ایران سے نمٹنے کے لیے تین واضح حکمت عملیاں موجود ہیں۔
انہوں نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ایران سے نمٹنے کے لیے ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ اس کی کمزوری کی حد پر نظر رکھی جائے، اس پر شدید ضرب لگائی جائے اور اس پر معاشی دباؤ ڈالا جائے۔
اس سے قبل امریکی صدر نے پیر کے روز اوول آفس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اس وقت آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھنے والی واحد قوت امریکی بحریہ ہے، اور ہم نے پوری آبنائے ہرمز سے ایرانی بارودی سرنگیں ہٹا دی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی شرائط کے جواب میں ایک نیا پینڈورا باکس کھولتے ہوئے کہا کہ امریکا اب ایران کے باعث ہونے والے نقصانات کے عوض بھاری رقم اور تاوان کا مطالبہ کرے گا۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ وہ ایران سے ان تمام افراد کے لیے معاوضے کا مطالبہ کرتے ہیں جو سڑک کناروں پر نصب بم دھماکوں اور متعدد تنازعات کے ذریعے ہلاک یا شدید زخمی ہوئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ مستقبل کے تمام مذاکرات میں لاکھوں ایرانی مظاہرین کے خاندانوں کو تاوان کی ادائیگی کی شرط بھی شامل کریں گے۔
امریکی صدر نے سال 2000 میں یمن میں امریکی بحری جہاز کول پر ہونے والے حملے کے متاثرین کے لیے بھی ایران سے معاوضہ مانگا، حالانکہ اس تاریخی واقعے کا تعلق القاعدہ سے جوڑا جاتا رہا ہے۔














