کوئٹہ: محکمہ آبپاشی بلوچستان میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کا انکشاف
محکمہ آبپاشی بلوچستان میں 2024 کے دوران گاڑیوں اور بھاری مشینری کی دو نیلامیوں میں ایک ارب روپے سے زائد کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
کوئٹہ میں محکمہ آبپاشی بلوچستان کی جانب سے فروری اور اکتوبر 2024 میں کی جانے والی دو نیلامیوں نے محکمے کے مالی معاملات پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
ان نیلامیوں میں 70 سے زائد زیر استعمال گاڑیاں اور بھاری مشینری فروخت کی گئی، جن میں لینڈ کروزر، ڈبل کیبن، ٹرک، ٹینکر، ڈمپر، ڈوزر، ٹریکٹر اور ایکسکیویٹر شامل تھے۔
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان نے ان دونوں نیلامیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ معاملے میں یہ جائزہ لیا جارہا ہے کہ سرکاری گاڑیوں اور قیمتی مشینری کی نیلامی کس طریقہ کار کے تحت کی گئی اور انہیں کس قیمت پر فروخت کیا گیا۔

دستاویز کے مطابق نیلامی میں کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں اور مشینری انتہائی کم قیمت پر فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ 2000 ماڈل کی ایک لینڈ کروزر صرف 3 لاکھ 50 ہزار روپے میں نیلام کی گئی، جب کہ ڈبل کیبن گاڑیاں 3 سے 4 لاکھ روپے تک میں فروخت ہوئیں۔
اسی طرح ٹویوٹا ہائی لکس کی بعض ڈبل کیبن گاڑیوں کی نیلامی صرف ڈھائی لاکھ روپے میں کیے جانے کی نشاندہی ہوئی ہے۔ پاجیرو جیپیں ایک لاکھ 65 ہزار سے 2 لاکھ روپے، ڈوزر 5 سے 9 لاکھ روپے جبکہ ٹریکٹر ڈیڑھ سے 2 لاکھ روپے میں فروخت کیے گئے۔
محکمہ آبپاشی کی نیلامی میں مزدا ٹرک بھی مبینہ طور پر 6 سے 8 لاکھ روپے میں فروخت کیے گئے، جب کہ کروڑوں روپے مالیت کا ایک ایکسکیویٹر صرف 11 لاکھ روپے میں نیلام کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
نیلامی کے عمل پر ایک اہم اعتراض یہ بھی سامنے آیا کہ محکمہ آبپاشی کے چیف انجینئر نے زیر استعمال گاڑیوں کو نیلام نہ کرنے کی مخالفت کی تھی، تاہم اس کے باوجود ان گاڑیوں اور مشینری کو ناکارہ قرار دے کر نیلام کردیا گیا۔
نیلامی کے عمل میں من پسند افراد کو نوازنے کا الزام بھی سامنے آیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مخصوص ٹھیکیداروں نے بولی میں حصہ لیا اور قیمتی سرکاری اثاثے انتہائی کم قیمت پر حاصل کیے۔

معاملے میں محکمہ کے انتظامی طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ایک قلی کو انسپکٹر اور ایگزامینر سمیت مختلف ذمہ داریوں کا چارج دیے جانے کی نشاندہی بھی تحقیقات کا حصہ ہے۔
نیلامی میں سب سے اہم معاملہ ایک ایسے ٹرک کی فروخت کا سامنے آیا جس میں جنریٹرز اور دیگر قیمتی سامان موجود تھا۔ یہ پورا ٹرک جنریٹرز سمیت صرف 10 لاکھ روپے میں فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
اس کے علاوہ کیٹرپلر کے ڈوزر اور اعلیٰ قسم کے جنریٹرز سمیت دیگر بھاری مشینری بھی مبینہ طور پر انتہائی کم قیمت پر نیلام کی گئی۔

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان نے 2024 میں ہونے والی دونوں نیلامیوں کا ریکارڈ حاصل کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ نیلام کی گئی گاڑیوں اور مشینری، ان کی قیمتوں اور نیلامی کے عمل سے متعلق دستاویزات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
ڈی جی اینٹی کرپشن بلوچستان نصیب اللہ کاکڑ کی جانب سے معاملے کی تحقیقات شروع کی گئی ہیں، جب کہ حکام کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال جاری ہے اور تحقیقات کی روشنی میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔














