عمان کے ساحل پر تباہ آئل ٹینکر سے تیل کا اخراج مسلسل جاری، آبی حیات متاثر ہونے کا خطرہ
عمان کے ساحل کے قریب تباہ شدہ آئل ٹینکر سے تیل کا اخراج مسلسل جاری ہے اور آلودگی ساحلی علاقوں تک پہنچ گئی ہے، جس سے سمندری ماحول اور آبی حیات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیل کا پھیلاؤ جاری رہا تو حساس سمندری ماحولیاتی نظام اور اس سے وابستہ جانداروں پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق عمان کے ساحل کے قریب پھیلنے والے تیل نے تقریباً 500 مربع میل یعنی 1300 مربع کلومیٹر کے سمندری علاقے کو متاثر کیا ہے۔ ماحولیاتی تنظیم گرین پیس نے سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کی بنیاد پر بتایا ہے کہ تیل ایک ہی جگہ جمع ہونے کے بجائے مختلف حصوں میں الگ الگ دھبوں کی صورت میں پھیل رہا ہے۔
عمانی حکام کے مطابق تیل سمندر سے نکل کر مرکزی سرزمین تک پہنچ گیا ہے، جو بحیرہ عرب میں پھنسے ہوئے ٹینکر سے تقریباً 200 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ تاہم عمانی حکومت نے تاحال متاثرہ علاقے کے مجموعی حجم کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
گرین پیس کی مہم کار حنان کسکس کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر میں تیل کے پھیلاؤ کے متعدد الگ حصے دکھائی دیتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آلودگی ایک مسلسل تہہ کی شکل میں نہیں بل کہ سمندر کے مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے۔

’سی این این‘ کی تازہ رپورٹ سے ایک روز قبل خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لینے والے ماہر کے حوالے سے بتایا تھا کہ تیل کا پھیلاؤ 2 ہزار مربع کلومیٹر سے تجاوز کرچکا ہے۔ دونوں رپورٹس میں مختلف تخمینے سامنے آنے کے باوجود عمانی حکام نے متاثرہ علاقے کے حجم کا حتمی سرکاری تخمینہ جاری نہیں کیا۔
’رائٹرز‘ کے مطابق عمان کی ماحولیاتی ایجنسی نے بتایا تھا کہ تیل راس مدراکہ کے قریب تقریباً 40 کلومیٹر ساحلی پٹی کو متاثر کرسکتا ہے جب کہ مسیرہ جزیرے تک بھی اس کے پہنچنے کا خدشہ ہے۔
مسیرہ جزیرہ اور اس کے اطراف کا سمندری علاقہ اہم قدرتی حیات کا مسکن ہے، جہاں بحیرہ عرب کی ہمپ بیک وہیل سمیت متعدد سمندری انواع پائی جاتی ہیں۔ تیل کے پھیلاؤ سے اس حساس ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
گرین پیس کے مطابق تیل کے پھیلاؤ میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے۔ تنظیم کے مطابق جولائی کے اختتام پر متاثرہ سمندری علاقہ تقریباً 45 مربع کلومیٹر تھا، جو اگست کے آغاز تک 150 مربع کلومیٹر تک پہنچ گیا اور اس کے بعد چند ہی روز میں کئی گنا اضافہ ہوا۔

تیل کا اخراج کیرولین بیزینگی نامی ٹینکر سے ہورہا ہے، جو تقریباً 8 لاکھ بیرل روسی خام تیل لے کر جارہی تھی۔ یہ جہاز بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں تھا اور اسے روسی تیل کی نقل و حمل کرنے والے نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
ٹینکر نے روس کے بحیرہ اسود میں واقع بندرگاہ نووروسیسک سے سفر شروع کیا تھا۔ جہاز مئی کے اختتام پر نہر سوئز سے گزرا اور اس کے بعد یمن کے قریب سے ہوتے ہوئے عمان کی جانب بڑھا۔
’رائٹرز‘ کے مطابق ٹینکر کو 8 جون کو یمن کے قریب مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بحری ذرائع نے اس وقت جہاز میں دھماکے کا شبہ ظاہر کیا تھا، تاہم واقعے کی حتمی نوعیت واضح نہیں ہوسکی اور کسی فریق نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
بعد ازاں ٹینکر عمان کے قریب پہنچا اور 30 جون کو سمندر میں پھنس گیا۔ جہاز کو پہنچنے والے نقصان کے بعد اس میں موجود تیل کا اخراج جاری رہا، جو کئی ہفتوں کے دوران تیزی سے پھیل کر عمان کے ساحل تک پہنچ گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق تقریباً 274 میٹر طویل یہ ٹینکر 2001 میں تعمیر کیا گیا تھا اور روسی تیل لے جانے کی وجہ سے یورپی یونین، برطانیہ، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ اور یوکرین کی پابندیوں کی زد میں ہے۔
تیل کے اخراج سے نمٹنے کی کوششیں موسمی حالات کے ساتھ قانونی اور مالی پیچیدگیوں سے بھی متاثر ہورہی ہیں۔ تیل کے اخراج سے ہونے والے نقصانات کی تلافی سے متعلق بین الحکومتی ادارے ’آئی او پی سی فنڈز‘ نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ وہ صفائی کے اخراجات میں شامل نہیں ہوگا کیونکہ واقعے کو حادثے کے بجائے جنگی کارروائی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
ٹینکر کے پاس کسی تسلیم شدہ مغربی بیمہ فراہم کرنے والے ادارے کی انشورنس بھی موجود نہیں، جس کے باعث صفائی اور ممکنہ نقصانات کی ذمہ داری کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹینکر کو فوری طور پر مستحکم نہ کیا گیا اور اس میں موجود باقی خام تیل دوسرے جہاز میں منتقل نہ کیا گیا تو صورتِ حال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔ مسلسل ہواؤں اور سمندری لہروں کے باعث جہاز مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کی صورت میں اس میں موجود باقی تیل بھی سمندر میں شامل ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بدترین صورت حال میں تیل کا اخراج کئی کروڑ گیلن تک پہنچ سکتا ہے۔ ماحولیاتی ماہر جان ایموس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسا ہوا تو یہ واقعہ 1989 میں الاسکا کے قریب پیش آنے والے ایکسون والڈیز تیل حادثے کے حجم کے برابر ہوسکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم تنظیم کے مطابق مون سون کے موسمی حالات نے ٹینکر تک رسائی محدود کردی ہے اور اسے نکالنے کی کارروائی میں تاخیر ہوئی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ تیل کے اخراج سے نمٹنے کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی موجود ہے۔
برطانوی بحری سیکیورٹی کمپنی ’ایمبری‘ بھی بین الاقوامی امدادی کارروائی کا حصہ بن رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں بحری جہاز اور طیارے شامل ہوں گے جب کہ 100 ٹن سے زائد سامان بھی جائے وقوعہ تک پہنچایا جارہا ہے، تاہم مون سون کے باعث کارروائی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ٹینکر کو مستحکم کرنا اور باقی تیل نکالنا مزید مشکل اور خطرناک ہوسکتا ہے۔ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو تیل کا پھیلاؤ عمان کے ساحلی علاقوں اور بحیرہ عرب کے حساس ماحولیاتی نظام کے لیے ایک بڑے بحران میں تبدیل ہوسکتا ہے۔














