نادرا کے نئے 'کیو آر کوڈ' پر مبنی قومی شناختی کارڈ کا کیا فائدہ ہے؟
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کے لیے نیا شناختی کارڈ متعارف کرا دیا ہے جس میں روایتی مائیکرو چِپ کے بجائے محفوظ کیو آر کوڈ استعمال کیا جائے گا۔ اس نئے کارڈ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی شناخت اور تصدیق اسمارٹ فون کے ذریعے بھی کی جا سکے گی۔
نادرا کے مطابق نیا شناختی کارڈ کراچی میں قائم نیشنل سیکیورٹی پرنٹنگ کمپنی نے مقامی طور پر تیار کیا ہے۔ کارڈ کی تیاری نادرا کی مقرر کردہ تکنیکی اور سیکیورٹی ضروریات کے مطابق کی گئی ہے۔ حکومت نے رواں سال 23 فروری کو نئے کارڈ کے اجرا کی منظوری دی تھی۔
نئے کارڈ پر موجود کیو آر کوڈ میں کارڈ ہولڈر کی ضروری شناختی معلومات اور تصویر شامل ہوگی۔ اسے نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے اسمارٹ فون سے اسکین کرکے تصدیق کیا جا سکے گا۔
نادرا کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے اداروں کے لیے شہری کا نام، پتہ اور دیگر شناختی معلومات اپنے نظام میں درج کرنا آسان ہوگا اور ڈیٹا درج کرتے وقت غلطیوں کے امکانات بھی کم ہوں گے۔
کارڈ پر شہری کا خاندان نمبر بھی درج ہوگا، جبکہ معذور افراد، بزرگ شہریوں، اعضا عطیہ کرنے والوں اور آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں کی شناخت کے لیے مخصوص علامات بھی موجود ہوں گی۔ شہری کا نام اور پتہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں درج کیا جائے گا۔
نادرا کے مطابق نئے کارڈ میں نظر آنے والی اور خفیہ سیکیورٹی خصوصیات کو بھی موجودہ ضروریات کے مطابق اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد شناختی کارڈ کی سیکیورٹی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر اس کی تیاری کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
نادرا نے وضاحت کی کہ تقریباً 14 سال قبل متعارف کرایا گیا چِپ والا اسمارٹ شناختی کارڈ اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق استعمال نہیں ہو سکا، کیونکہ چِپ پڑھنے والے آلات اور اس سے متعلق ضروری نظام ملک بھر میں وسیع پیمانے پر دستیاب نہیں تھے۔ اس کے برعکس کیو آر کوڈ کو عام اسمارٹ فون یا کیمرے سے منسلک سافٹ ویئر کے ذریعے پڑھا اور تصدیق کیا جا سکتا ہے۔
نادرا کے مطابق بینکوں، ٹیلی کام کمپنیوں، اسپتالوں، پاکستان ریلوے، پولیس اور دیگر مجاز اداروں کو کیو آر کوڈ پڑھنے اور اس کی تصدیق کے لیے مخصوص سافٹ ویئر بھی فراہم کیا جائے گا۔ اس طرح ان اداروں کے لیے شناخت کی جانچ کا عمل زیادہ آسان ہونے کی توقع ہے۔
نئے کارڈ کا اجرا مرحلہ وار کیا جائے گا۔ نادرا نے جمعہ سے کیو آر کوڈ والا کارڈ، عام شناختی کارڈ کی جگہ جاری کرنا شروع کردیا۔ جنوری 2027 سے یہ نظام تمام متعلقہ اقسام کے شناختی کارڈز تک توسیع دیا جائے گا، جن میں بیرون ملک پاکستانیوں کے شناختی کارڈز اور کم عمر افراد کے جووینائل کارڈز بھی شامل ہوں گے۔ آخری مرحلے میں پاکستان اوریجن کارڈ کو بھی چِپ لیس فارمیٹ میں منتقل کیا جائے گا۔
نادرا نے شہریوں کو یہ بھی واضح کیا ہے کہ پہلے سے جاری کیے گئے شناختی کارڈ منسوخ نہیں ہوں گے۔ وہ اپنی مقررہ میعاد ختم ہونے تک بدستور قابل استعمال رہیں گے۔
نئے نظام کے لیے قانونی بنیاد بھی رواں سال فراہم کی گئی۔ فروری میں حکومت نے نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ رولز 2002 اور پاکستان اوریجن کارڈ رولز 2002 میں ترامیم کی تھیں۔ ان ترامیم کے ذریعے کیو آر کوڈ کو شناختی دستاویز کی سیکیورٹی اور تصدیق کے ایک باقاعدہ طریقے کے طور پر شامل کیا گیا۔
ترامیم میں نادرا کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ مائیکرو چِپ کے بجائے کیو آر کوڈ یا مستقبل میں سامنے آنے والی کسی دوسری ٹیکنالوجی کو شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال کر سکے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ٹیکنالوجی میں تبدیلی کے ساتھ شناختی نظام کو بھی آسانی سے جدید بنایا جا سکے اور ہر نئی ٹیکنالوجی کے لیے قوانین میں بار بار ترمیم کی ضرورت نہ پڑے۔














