بجلی بچانے کے لیے اے سی کتنے نمبر پر چلائیں؟ بل کم کرنے کے آسان طریقے جانیے

اے سی کو ہمیشہ فل پاور پر چلانا ضروری نہیں۔
شائع 16 اگست 2026 12:48pm

شدید گرمی میں ائیر کنڈیشنر یعنی اے سی کا طویل استعمال مجبوری بن چکا ہے۔ لیکن جتنی دیر اے سی چلتا ہے، مہینے کے آخر میں بجلی کا بل بھی اتنا ہی زیادہ آتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گھر کو ٹھنڈا بھی رکھا جائے اور بل بھی زیادہ نہ آئے؟ اس کا سب سے آسان حل اے سی کے درجہ حرارت کو درست طریقے سے سیٹ کرنا ہے۔


اے سی کتنی بجلی استعمال کرے گا، اس کا انحصار صرف درجہ حرارت کی سیٹنگ پر نہیں ہوتا۔ کمرے کا سائز، اے سی کی کارکردگی، باہر کا موسم، نمی اور اے سی کتنے گھنٹے چل رہا ہے، یہ سب چیزیں بجلی کے استعمال کو متاثر کرتی ہیں۔

تاہم اے سی کا درجہ حرارت کم رکھنے سے کمپریسر کو زیادہ دیر تک کام کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے برعکس درجہ حرارت چند ڈگری بڑھانے سے بجلی کی کھپت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔


اگرچہ گھر کا ماحول آرام دہ بھی رہنا چاہیے، لیکن اے سی کو ہمیشہ فل پاور پر چلانا ضروری نہیں۔ اگر آپ اے سی کا درجہ حرارت ایک ڈگری بھی بڑھا دیتے ہیں تو اس سے بجلی کے خرچ میں ایک سے تین فیصد تک بچت ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اے سی کو 22 ڈگری کے بجائے 26 ڈگری سینٹی گریڈ پر چلانے سے کافی کم بجلی خرچ ہوتی ہے۔

تاہم، اے سی کے لیے کوئی ایک ایسا درجہ حرارت نہیں ہے جو ہر گھر کے لیے بالکل ایک جیسا ہو۔ اس کا انحصار چند اہم باتوں پر ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ گھر میں لوگ کتنی دیر موجود ہیں۔ اگر گھر سارا دن بھرا رہتا ہے تو درجہ حرارت کم رکھنا پڑ سکتا ہے، لیکن اگر گھر خالی رہتا ہے تو اے سی کو بند کرنے کے بجائے اس کا درجہ حرارت بڑھا دینا زیادہ عقلمندی ہے۔

شدید گرمی میں اے سی کو بالکل بند کر دینا ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا کیونکہ واپس آنے پر کمرے کو دوبارہ ٹھنڈا کرنے میں اے سی کو زیادہ محنت اور بجلی درکار ہوتی ہے۔

دوسری اہم بات ہوا میں نمی کا تناسب ہے۔ اگر ماحول میں نمی زیادہ ہو تو وہی درجہ حرارت زیادہ گرم اور گھٹن والا محسوس ہوتا ہے۔ خشک علاقوں میں لوگ نسبتاً زیادہ درجہ حرارت برداشت کر لیتے ہیں، جبکہ زیادہ نمی والے علاقوں میں سکون کے لیے اے سی کا درجہ حرارت تھوڑا کم رکھنا پڑتا ہے۔

اس کے علاوہ دن کے اوقات کا بھی فرق ہوتا ہے۔ دوپہر اور سہ پہر کے وقت جب دھوپ تیز ہوتی ہے تو اس وقت اے سی پر بھی زیادہ دباؤ پڑتا ہے جبکہ صبح اور شام کے وقت درجہ حرارت بڑھا کر بھی گزارا کیا جا سکتا ہے۔

رات کے وقت سونے کے معاملے میں بھی لوگ مختلف عادتیں رکھتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو ٹھنڈے کمرے میں سونا پسند ہوتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اے سی کو انتہائی کم درجہ حرارت پر چلا دیا جائے۔

بہت زیادہ ٹھنڈ کرنے سے نہ صرف بجلی کا بل بڑھتا ہے بلکہ کمرہ بھی ضرورت سے زیادہ سرد ہو جاتا ہے۔ اس لیے سوتے وقت ایسا درجہ حرارت چنیں جو پرسکون نیند کے لیے بہتر ہو لیکن بجلی کی بچت بھی کر سکے۔

عام طور پر 24 سے26 ڈگری سینٹی گریڈ کا درجہ حرارت ایک بہترین انتخاب مانا جاتا ہے جو سکون اور بجلی کی بچت دونوں میں توازن رکھتا ہے۔ سادہ اصول یہ ہے کہ آپ اپنے آرام کو دیکھتے ہوئے اے سی کا درجہ حرارت جتنا زیادہ ممکن ہو سکے رکھیں، اتنی ہی زیادہ بجلی کی بچت ہوگی اور آپ کا ماہانہ بل بھی کم آئے گا۔