برقعہ ایوینجرز' کی لندن میں دھوم'
فائل فوٹو-پاکستان کی پہلی فل لینتھ اینیمیٹد فلم 'برقعہ ایوینجرز' لندن میں ریلیز کر دی گئی۔ سیریزمیں برقعہ استعمال کرنے پر اسکو دوہزار تیرہ میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔تخلیق کار ہارون رشید نےسیریز کے کردار جیا کا دفاع کیا اور واضح کیا کہ اس نے برقعہ صرف اپنی شناخت چھپانے کے لئے پہنا تھا۔
فائل فوٹو-سیریز سے متعلق انہوں نے مزید کہا کہ جیا ایک اسکول ٹیچر ہے جو کبھی برقعہ نہیں پہنتی اور ایک عام سی لڑکی ہے۔ اس نے کسی کو برقعہ پہن کر حملہ نہیں کیابلکہ اس نے اپنے دشمنوں سے لڑنے کے لئے قلم اور کتابوں کا استعمال کیا۔ سیریز پر تبصرہ کرتے ہوئے فنکاروں نے برقعہ کے بارے میں ہمارے خیالات کو بدل دیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہاس سیریز نے برقعے کو جبر کے بجائے طاقت کے نشان کے طور پر اجاگر کیاہے ۔
دوہزار تیرہ میں ٹائمز نے برقعہ ایوینجر کو سب سے زیادہ اثر رکھنے والی فلم قرار دیا تھا تاہم یہ فلم تنازعے کا شکار ہو گئی تھی۔اس سیریز کی نمائش لندن کے رائل فیسٹیول ہال میں مئی کے آخر تک جاری رہے گی۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔