Live
Iran Israel War

امریکا۔ایران مفاہمت خطرے میں، ڈیڈ لاک کہاں ہے اور آگے کیا ہو سکتا ہے؟

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، فوجی کارروائیوں، جوابی حملوں اور ثالثی کی کوششوں کے درمیان خطے کی صورتِ حال غیر یقینی کا شکار ہے۔
اپ ڈیٹ 11 جولائ 2026 08:23pm

امریکا اور ایران ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں، لیکن دونوں فریق بیک ڈور سفارت کاری جاری رکھنے کے اشارے بھی دے رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی، فوجی کارروائیوں، جوابی حملوں اور ثالثی کی کوششوں کے درمیان خطے کی صورتِ حال غیر یقینی کا شکار ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ یہ تنازع اس وقت کس موڑ پر کھڑا ہے، مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں یا نہیں اور آگے کیا ہو سکتا ہے؟

امریکا اور ایران کے درمیان 17 جون کو ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کے نام سے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا گیا تھا، تاہم آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں، امریکی فضائی کارروائیوں اور ایرانی جوابی حملوں کے بعد یہ معاہدے کا مستقبل خطرے میں دکھائی دے رہا ہے۔

اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حال میں نیٹو سربراہان کانفرنس کے موقع پر کہہ چکے ہیں کہ ایران سے جنگ بندی معاہدہ ’ختم‘ ہو چکا ہے، لیکن امریکی حکام اب بھی مذاکرات جاری رکھنے کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ امریکی حملوں نے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

پاکستان اس سال کے آغاز میں اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی اعلیٰ حکام کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کے بعد اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا تھا۔

اگرچہ یہ مذاکرات فوری کامیابی پر منتج نہیں ہوئے تھے، تاہم انہوں نے مسلسل سفارتی رابطوں کی راہ ہموار کی، جس کے نتیجے میں گزشتہ ماہ ایک عبوری امن معاہدہ طے پایا جسے ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کا نام دیا گیا تھا۔

امریکا اور ایران کے درمیان کیا معاہدہ ہوا تھا؟

17 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ممالک نے 60 روزہ جنگ بندی اور مذاکراتی عمل پر اتفاق کیا تھا۔

معاہدے کے اہم نکات میں:

  • ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کارروائیوں کا خاتمہ
  • لبنان سمیت تمام محاذوں پر کشیدگی کم کرنا
  • آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی
  • ایران پر بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی
  • ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اعادہ

معاہدے کے چند ہفتوں بعد ہی دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات لگانے لگے۔ امریکا کا الزام تھا کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد واشنگٹن نے ایران میں متعدد اہداف پر حملے کیے۔

دوسری جانب ایران نے بحری جہازوں پر حملوں کے الزامات کو مسترد کیا۔ تہران کا کہنا تھا کہ امریکی حملے خود معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں اور امریکا نہ صرف ایران بل کہ لبنان سے متعلق شقوں پر بھی عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ بحران کا سب سے بڑا مرکز آبنائے ہرمز ہے، جہاں سے دنیا کی تیل بردار تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جہازوں کو اسی راستے سے گزرنا چاہیے جس کی منظوری پاسدارانِ انقلاب نے دی ہے، جب کہ بعض بین الاقوامی بحری کمپنیاں عمان اور امریکی حمایت یافتہ پرانے بحری راستے استعمال کر رہی ہیں۔ اسی اختلاف نے آبنائے ہرمز کو امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا پہلا بڑا امتحان بنا دیا ہے۔

لبنان بھی اختلافی نکات میں شامل ہے۔ اگرچہ معاہدے میں لبنان میں جنگ بندی کا ذکر کیا گیا تھا، تاہم اسرائیل اور حزب اللہ اس معاہدے کے فریق نہیں ہیں۔ ایران کا الزام ہے کہ اسرائیل نے لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھ کر معاہدے کی روح کو نقصان پہنچایا، جب کہ امریکا کا مؤقف ہے کہ اسرائیل اس مفاہمتی یادداشت کا باقاعدہ حصہ نہیں تھا۔ مبصرین کے مطابق اسی ابہام نے لبنان سے متعلق شقوں پر عمل درآمد کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

دریں اثنا، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ’سی این این‘ کے مطابق ضلع صور کے قصبے المنصوری کے علاقے المشاع میں بھی ایک حملہ کیا گیا، لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں 4,321 افراد ہلاک اور 12,207 زخمی ہو چکے ہیں۔

ابتدائی طور پر توقع کی جا رہی تھی کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور تدفین کی تقریبات مکمل ہونے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہو جائیں گے، تاہم حالیہ حملوں کے بعد کسی نئی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے اور مذاکراتی ٹیمیں اب بھی رابطے میں ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کم از کم عارضی طور پر متاثر ہوئی ہے، تاہم تکنیکی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اور واشنگٹن اب بھی کسی حل تک پہنچنے کے لیے پُرعزم ہے۔

دوسری جانب ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملے کیے تو اسے جواب دیا جائے گا اور تہران ہر قسم کے دفاع کے لیے تیار ہے۔ اسی دوران ایک سینئر امریکی عہدیدار نے ’سی این این‘ کو بتایا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں ٹینکروں کی آزادانہ آمدورفت کی اجازت نہیں دیتا تو دونوں فریق کبھی بھی جوہری ہتھیاروں سے متعلق حتمی مذاکرات کے مرحلے تک نہیں پہنچ سکیں گے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے اور ممکنہ طور پر یہ اہم ملاقات سوئٹزرلینڈ میں ہو سکتی ہے۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا سلسلہ بھی تھم گیا ہے، جب کہ خطے اور عالمی سطح پر ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو دوبارہ پٹڑی پر لانے کے لیے سرگرم ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کے مطابق پاکستان، قطر، مصر اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام نے حالیہ دنوں میں امریکی اور ایرانی عہدیداروں سے رابطے کیے ہیں تاکہ صورتِ حال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے اور دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کی نئی تاریخ طے کی جا سکے۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے روز عمان پہنچے ہیں، تاکہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت سے متعلق انتظامات پر بات چیت کی جا سکے۔

’رائٹرز‘ کے مطابق امریکا ایران سے یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تمام بحری راستے کھلے رہیں گے، جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ نقل و حرکت یقینی بنائی جائے گی اور اس گزرگاہ پر کسی قسم کی فیس عائد نہیں کی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق قطر اور پاکستان سمیت دیگر ثالث ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں کو بحال رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ عمان بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی اب مؤثر نہیں رہی، تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

معاہدے کی متنازع شقیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران کی ایک بڑی وجہ مفاہمتی یادداشت کی بعض شقوں میں موجود ابہام ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، مستقبل کے سیکیورٹی انتظامات اور لبنان سے متعلق نکات کی مختلف تشریحات کی جا رہی ہیں۔

واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران نے جہازوں کی محفوظ آمدورفت سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، جب کہ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں اور لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں نے معاہدے کی روح کو نقصان پہنچایا۔ مبصرین کے مطابق اگر مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو ان نکات کی وضاحت اولین ترجیح ہوگی۔

عالمی معیشت اور خطے پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں؟

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی سطح پر تیل و گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اسی لیے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی توانائی کی قیمتوں، بحری تجارت اور عالمی منڈیوں پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جب کہ بعض بحری کمپنیوں نے اضافی حفاظتی اقدامات بھی اختیار کیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتِ حال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات خلیجی ممالک سے لے کر یورپ، ایشیا اور عالمی معیشت تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

علاقائی سطح پر بھی یہ بحران خلیجی ممالک، عراق، لبنان اور دیگر ہمسایہ ریاستوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان، قطر، عمان، سعودی عرب اور مصر سمیت متعدد ممالک سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

فی الحال تین امکانات سب سے زیادہ زیرِ بحث ہیں:

  • مذاکرات دوبارہ شروع ہوں اور متنازع شقوں پر نئی مفاہمت طے پا جائے۔
  • محدود فوجی دباؤ اور سفارتی کوششیں بیک وقت جاری رہیں۔
  • کشیدگی مزید بڑھے اور جنگ بندی یا مفاہمتی عمل مکمل طور پر ناکام ہو جائے۔

اس وقت امریکا اور ایران دونوں سخت بیانات دے رہے ہیں، تاہم بیک ڈور سفارت کاری اور ثالثی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اسی لیے مبصرین کے نزدیک موجودہ بحران ابھی فیصلہ کن مرحلے میں داخل نہیں ہوا۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ فریقین مذاکرات کی میز پر واپس آتے ہیں یا خطہ ایک بار پھر وسیع تر تصادم کی طرف بڑھتا ہے۔

علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینا قوم کا مطالبہ ہے: ایرانی سپریم لیڈر

ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا ہے کہ انتقام قوم کا مطالبہ ہے، یہ وعدہ جلد پورا کیا جائے گا۔
اپ ڈیٹ 11 جولائ 2026 07:36pm

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو اس کارروائی کا حساب دینا ہوگا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان بیانات کی جنگ جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’فارس‘ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک بیان میں کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینا ایرانی قوم کا مطالبہ ہے اور یہ وعدہ ہر صورت پورا کیا جائے گا۔

بیان میں مرحوم رہبرِ انقلاب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا گیا، ’’ہم آپ کے پاک خون اور ان دونوں جنگوں کے تمام شہدا کے خون کا بدلہ ان مجرم اور رسوا قاتلوں سے لینے کا عہد کرتے ہیں۔‘‘

مجتبیٰ خامنہ ای کے نام سے منسوب بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’ان مجرموں کے نام اوپر سے نیچے تک معلوم اور دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ معاملہ میری یا دیگر حکام کی موجودگی سے مشروط نہیں ہے۔‘‘ بیان کے مطابق یہ عہد جلد پورا کیا جائے گا، خواہ موجودہ قیادت موجود ہو یا نہ ہو۔

یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس انتباہ کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی تو امریکا ایران کو ’’تباہ‘‘ کر دے گا۔

دوسری جانب امریکی اور اسرائیلی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تہران کے بعض سخت گیر حلقوں میں ٹرمپ کے خلاف کارروائی کی خواہش پائی جاتی ہے، تاہم امریکی انٹیلی جنس کے حالیہ جائزوں میں کسی نئے یا مخصوص ایرانی منصوبے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔

رپورٹس کے مطابق آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنی تقرری کے بعد سے اب تک عوامی سطح پر منظرِ عام پر نہیں آئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ فروری میں ہونے والے اس حملے میں وہ زخمی بھی ہوئے تھے جس میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای، والدہ اور اہلیہ شہید ہوئے تھے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق وہ جنگ کے آغاز سے اب تک اپنے حامیوں سے صرف تحریری بیانات کے ذریعے رابطے میں ہیں اور نہ ہی کسی عوامی تقریب میں شریک ہوئے ہیں اور نہ ہی کوئی ویڈیو یا آڈیو پیغام جاری کیا ہے۔ ہفتے کو جاری ہونے والا یہ پیغام بھی ان چند بیانات میں سے ایک ہے جو ان کی بطور سپریم لیڈر تقرری کے بعد منظرِ عام پر آئے ہیں۔

دریں اثنا، ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک الگ پیغام میں اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ، تدفین میں شریک افراد سے اظہارِ تشکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور عراق کے مختلف شہروں، خصوصاً تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت تاریخی اور قابلِ تحسین تھی اور اس نے مرحوم رہبرِ انقلاب سے عوامی عقیدت اور وابستگی کا اظہار کیا۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی موجودگی بدستور موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے، کیونکہ جنگ کے آغاز کے بعد سے وہ عوامی سطح پر دکھائی نہیں دیے اور اپنے حامیوں سے صرف تحریری بیانات کے ذریعے رابطے میں رہے ہیں۔

ان کی صحت اور مقامِ قیام کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں بھی گردش کرتی رہی ہیں، جب کہ کئی روز تک جاری رہنے والی آخری رسومات میں ان کی شرکت کے بارے میں بھی کوئی واضح اطلاع سامنے نہیں آئی۔

ایران کے سائنسی اور تحقیقی ڈھانچے کو تقریباً 300 ملین ڈالر کا نقصان

تہران میں دھماکوں کی آوازیں، ایران کو وسطی ایشیا سے جوڑنے والا پل 24 گھنٹے میں بحال
شائع 11 جولائ 2026 02:39pm

ایران نے امریکی حملے میں تباہ ہونے والے اپنے ایک اہم ریلوے پل کو ریکارڈ وقت میں دوبارہ بحال کر دیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق، صوبہ گلستان کے علاقے آق قلا میں واقع ایک ریلوے پل جو گزشتہ بدھ کو امریکی فضائی حملے میں تباہ ہو گیا تھا، اسے اب دوبارہ ٹرینوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

یہ ریلوے لائن ایران کو ترکمانستان اور وسطی ایشیا کے دیگر ممالک سے جوڑنے کا ایک بہت بڑا اور اہم راستہ ہے۔

گلستان کے گورنر علی اصغر طہماسبی نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ حملے کے چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت کے اندر اس تباہ شدہ پل کو دوبارہ کھولنا دشمن کی دھمکیوں اور کارروائیوں کا صوبے کی طرف سے ایک عملی جواب ہے۔

اس کے علاوہ، ہفتے کی صبح ایرانی دارالحکومت تہران کے مشرقی علاقوں پاکدشت اور قیام دشت میں ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

تاہم، ایرانی سرکاری میڈیا نے اس حوالے سے صورتحال واضح کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دھماکہ کسی دشمن کا حملہ نہیں تھا بلکہ حکام کی طرف سے پرانے اور ناکارہ گولہ بارود کو منظم طریقے سے تلف کرنے کی ایک کارروائی تھی۔

فارس نیوز ایجنسی کو ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کارروائی سے قریبی رہائشیوں کو کوئی خطرہ یا نقصان نہیں پہنچا ہے۔

ان تمام جنگی حالات کے دوران ایران کے اندر ہونے والے مالی نقصان کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔

ایرانی صدر کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے نائب حسین افشین نے انکشاف کیا ہے کہ اس حالیہ جنگ میں ملک کے سائنسی اور تحقیقی ڈھانچے کو تقریباً 300 ملین ڈالر کا بھاری نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم ملک میں ان نئی ٹیکنالوجیز پر کام کر رہے تھے جن کا فوج یا جنگ سے کوئی تعلق نہیں تھا، اور دشمن نے بنیادی طور پر ایران کی سائنسی اور ٹیکنالوجیکل طاقت کو نشانہ بنایا ہے، جسے ہم پوری طاقت کے ساتھ دوبارہ کھڑا کریں گے۔

انہوں نے عزم ظاہر کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم آج کی دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا ایک بڑا مرکز بننے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ جو بھی ملک اس شعبے میں پیسہ لگاتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بحالی اور امریکا سے جاری تناؤ پر اہم مذاکرات: عباس عراقچی عمان پہنچ گئے

دنیا بھر کے ثالث ممالک دونوں کے درمیان بات چیت کے ٹوٹتے ہوئے سلسلے کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں.
شائع 11 جولائ 2026 02:18pm

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی ہفتے کے روز عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ اپنے ہم منصب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اہم بات چیت کریں گے۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ حملوں کے بعد حالات کافی خراب ہیں اور دنیا بھر کے ثالث ممالک دونوں کے درمیان بات چیت کے ٹوٹتے ہوئے سلسلے کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں.

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس دورے کے بارے میں بتایا کہ وزیرِ خارجہ کا یہ دورہ خطے کی صورتحال، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور اومان کے درمیان جاری باہمی مشوروں کا حصہ ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں وزرائے خارجہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کے لیے مناسب طریقے بنانے پر تبادلہ خیال کریں گے.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں یہ اعلان کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والا پرانا معاہدہ اب ختم ہو چکا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا.

دوسری طرف امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو امید ہے کہ تہران آنے والے چند دنوں میں سب کے سامنے ایک عوامی بیان جاری کرے گا کہ آبنائے ہرمز کا راستہ کھلا ہے اور وہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا.

امریکی حکام نے یہ تو نہیں بتایا کہ اگر ایران نے ایسا اعلان نہ کیا تو امریکا کیا کرے گا، لیکن انہوں نے خبردار کیا ہے کہ امریکا مزید سخت فوجی کارروائی کر سکتا ہے.

اسپیکر اور ایران کے بڑے مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکی نیت پر شک ظاہر کرتے ہوئے جمعہ کے روز ایک سخت بیان دیا.

انہوں نے کہا کہ ہم امریکیوں پر بالکل بھروسہ نہیں کرتے، اور مذاکرات کے دوران میں نے امریکی نائب صدر پر واضح کر دیا تھا کہ ہمیں آپ پر کوئی اعتماد نہیں ہے.

اس کے ساتھ ہی ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکا پر پرانے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے.

انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایران نے اب تک اپنے تمام وعدے پورے کیے ہیں، لیکن امریکا کے وزیرِ خزانہ نے معاہدے کی نویں شق کی خلاف ورزی کی ہے.

واضح رہے کہ اس نویں شق کے مطابق جب تک فائنل معاہدہ نہیں ہو جاتا، ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو موجودہ حالت پر رکھے گا اور امریکا اس پر کوئی نئی پابندی نہیں لگائے گا اور نہ ہی خطے میں نئی فوج بھیجے گا.

ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے معاہدہ توڑا تو وہ ہر طرح سے اپنا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے.

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کا یہ سمندری راستہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے، جہاں سے دنیا کا بہت سا تیل اور گیس گزرتی ہے.

یہ راستہ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان لڑائی کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے کیونکہ ایران اس پر اپنا کنٹرول جتا رہا ہے اور اس نے پچھلے دنوں مبینہ طور پر وہاں جہازوں پر حملے بھی کیے تھے، جس کے جواب میں امریکا نے ایران کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی.

اگرچہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اس راستے کو بند نہیں کر سکتا، لیکن پرانے معاہدے میں یہ بات صاف صاف نہیں لکھی گئی تھی بلکہ اس میں صرف یہ کہا گیا تھا کہ ایران تجارتی جہازوں کے محفوظ گزرنے کا انتظام کرے گا اور عمان کے ساتھ مل کر اس راستے کو چلانے کا نیا طریقہ طے کرے گا.

'مجھ پر حملے کی کوشش کی تو ایک ہزار میزائل داغنے کا حکم دے دیا ہے'؛ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان پہلے ہی حالات کافی نازک ہیں۔
شائع 11 جولائ 2026 08:48am

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بہت ہی سخت اور ہولناک فوجی دھمکی دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران نے انہیں قتل کرنے کی کوئی بھی کوشش کی تو امریکا ایران پر ہزاروں میزائل داغنے کے لیے بالکل تیار ہے۔

امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری پیغام میں ایران کو خبردار کرتے ہوئے لکھا کہ اگر ایرانی حکومت نے دنیا کے کسی بھی کونے سے امریکا کے موجودہ صدر، یعنی میرے، قتل کی دھمکی پر عمل کرنے یا قتل کرنے کی کوشش کی تو ایک ہزار میزائل بالکل تیار کھڑے ہیں جن کا نشانہ اسلامی جمہوریہ ایران ہے، اور اس کے فوراً بعد ہزاروں مزید میزائل بھی فائر کیے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کو مکمل تباہی کی دھمکی دیتے ہوئے اپنے پیغام میں مزید لکھا ہے کہ اس حوالے سے احکامات پہلے ہی دیے جا چکے ہیں، اور امریکی فوج ایک سال کے عرصے کے لیے، جس میں ضرورت پڑنے پر اضافہ بھی ہو سکتا ہے، ایران کے تمام علاقوں کو مکمل طور پر ملیا میٹ اور تباہ و برباد کرنے کے لیے تیار، رضامند اور پوری طرح سے اہل ہے۔

انہوں نے امریکی میڈیا سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک عرصہ سے ان کی ہٹ لسٹ پر ہوں، اگر قتل کردیا گیا تو امید ہے کہ آپ مجھے یاد رکھیں گے۔

ٹرمپ کے اس بیان نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے کیونکہ یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان پہلے ہی حالات کافی نازک ہیں۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکی فوج ہر طرح سے الرٹ ہے اور کسی بھی ایسی کوشش کا جواب انتہائی ہولناک فوجی کارروائی کی صورت میں دیا جائے گا۔

امریکا ایران مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے کا امکان ہے: امریکی میڈیا کا دعویٰ

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سراسر مسترد کر دیا ہے کہ ایران نے مذاکرات کی درخواست کی ہے۔
شائع 11 جولائ 2026 07:58am

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے شروع ہونے کی امید ہے، اور ممکنہ طور پر یہ اہم بیٹھک سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔ اچھی بات یہ ہے کہ پچھلے دو دنوں سے دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ بھی روک دیا ہے، اور دنیا میں امن قائم کرنے والے ثالث ممالک اس لڑائی کو مستقل ختم کرانے کے لیے بہت زیادہ متحرک ہو گئے ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کے مطابق بدھ کے روز پاکستان، قطر، مصر اور سعودی عرب کے بڑے حکام نے امریکی اور ایرانی حکام سے فون پر رابطے کیے ہیں تاکہ حالات کو مزید خراب ہونے سے بچایا جا سکے اور دونوں ملکوں کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان بات چیت کی تاریخ طے کی جا سکے۔

اس پوری صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’نیویارک پوسٹ‘ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایران پر بالکل صاف کر دیا ہے کہ پرانی جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے خود ہم سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی تھی، اور ہم نے ایران کی اس درخواست پر اپنی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

دوسری طرف غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا نے ایران کے سامنے ایک سخت شرط رکھی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے سمندری راستے میں جہازوں پر حملے بند کرنے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول ٹیکس نہ لینے کا اعلان سب کے سامنے عوامی سطح پر کرے، اور ساتھ ہی دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے ایسا عوامی اعلان نہ کیا تو اس کے نتائج بہت برے ہوں گے۔

تاہم، ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سراسر مسترد کر دیا ہے کہ ایران نے مذاکرات کی درخواست کی ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا کے سامنے واضح کیا کہ ”ہم نے امریکا سے کسی قسم کے مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی، البتہ ہم نے قطر کے ثالثوں کا دورہِ ایران قبول کیا تھا جو امن کے لیے آئے تھے۔“

ایرانی ترجمان نے امریکا کو سخت لہجے میں خبردار بھی کیا کہ اگر امریکا نے پرانی مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی شق یا وعدے کو توڑا، تو ایران بھی اسی طرح کا برابر اور منہ توڑ جواب دے گا۔

اس دوران پاکستان نے بھی خطے میں امن قائم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں شروع کر دی ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو فون کیا اور علاقے میں جاری حالیہ لڑائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے ایرانی صدر سے کہا کہ دونوں فریق تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں اور کوئی بھی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے امن کے لیے اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کو نقصان پہنچے۔

وزیر اعظم نے زور دیا کہ پرانی مفاہمتی یادداشت خطے میں امن اور خوشحالی کے لیے ایک مضبوط بنیاد ہے اور پاکستان امن بحال کرنے کے لیے اپنا ایماندارانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔

دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت کا شکریہ ادا کیا جو کچھ دن پہلے جاں بحق ہونے والے ان کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں شرکت کے لیے آئی تھی، اور انہوں نے امن کے لیے پاکستان کے تعميراتی کردار کی تعریف کی۔

اسی طرح اقوامِ متحدہ یعنی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں بڑھتی ہوئی لڑائی اور کشیدگی کسی کے بھی فائدے میں نہیں ہے، اس لیے تشدد اور بے امنی کا یہ سلسلہ اب ہمیشہ کے لیے ختم ہونا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ایٹمی معاملے سمیت تمام پرانے اور الجھے ہوئے مسائل کا حل صرف اور صرف سفارت کاری اور آپس کی بات چیت سے ہی ممکن ہے۔

عاصم افتخار نے دنیا پر زور دیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت جو بھی وعدے کیے گئے تھے، ان پر عمل کرنا خطے کی خوشحالی کے لیے بہت ضروری ہے، اور پاکستان ایک حتمی اور مکمل امن معاہدے کے حصول کے لیے اپنی کوششیں برابر جاری رکھے گا۔

ایران کے متعدد شہروں میں یکے بعد دیگرے دھماکے

ایرانی میڈیا کے مطابق بندر عباس، کنارک، بوشہر اور چغادک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
شائع 10 جولائ 2026 12:08am

ایران کے جنوب مشرقی علاقوں میں جمعرات کو متعدد دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بوشہر، بندر عباس، چغادک اور کنارک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم فوری طور پر ان واقعات کی وجوہات، ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں کوئی سرکاری تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

ایران کے مختلف شہروں میں جمعرات کو یکے بعد دیگرے دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد خطے کی سیکیورٹی صورتِ حال پر تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ اور قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کے حوالے سے بتایا کہ جنوبی صوبے بوشہر میں واقع ایران کے ایٹمی پلانٹ کے اطراف اور قریبی شہر چغادک میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

رپورٹ میں دھماکوں کی نوعیت، ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

اسی دوران مہر نیوز نے اطلاع دی کہ بندر عباس کے رہائشیوں نے بھی کئی دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔ بندر عباس ایران کی اہم بندرگاہوں میں شمار ہوتا ہے اور خلیج فارس میں تجارتی اور عسکری سرگرمیوں کے حوالے سے اہم حیثیت رکھتا ہے۔

بعد ازاں ایرانی میڈیا نے صوبہ سیستان و بلوچستان کے ساحلی شہر کنارک میں بھی تین دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی خبر دی۔ کنارک خلیج عمان کے ساحل پر واقع ایک اہم بندرگاہی شہر ہے اور ایران کی مکران ساحلی پٹی میں اسٹریٹجک اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔

دھماکوں کے بعد سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ ذرائع پر مختلف دعوے سامنے آئے، تاہم ایرانی حکام نے تاحال ان واقعات کی وجوہات یا نوعیت کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان فوجی تناؤ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور خلیج فارس کے اطراف سیکیورٹی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی تدفین کر دی گئی

علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ان کے بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی: ایرانی خبر ایجنسی
اپ ڈیٹ 10 جولائ 2026 10:54am

ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں امام رضا کے مزار میں کر دی گئی ہے۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ان کے بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی، جس کے بعد مقامی وقت کے مطابق گزشتہ رات 10 بجے ان کی تدفین کی گئی۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اُن کی وصیت اور رشتہ داروں کی تجویز کے مطابق مشہد میں امام رضا کے مزار پر کی گئی ہے۔

مشہد میں امامِ رضا کے روضے کی صدیوں پرانی اور طویل تاریخ ہے۔ ایران آنے والے 90 فیصد غیر ملکیوں کی ایران آمد کا مقصد روضہ امام کی زیارت ہوتا ہے۔

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ مشہد میں ادا کردی گئی، امام رضا کے مزار کے احاطے میں نماز جنازہ آیت اللہ نوری ہمدانی نے پڑھائی جب کہ نماز جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

اس موقع پر شرکا نے انتقام کی علامت سمجھے جانے والے سرخ پرچم لہرائے جب کہ شرکا نے رہنماؤں کی تصاویر اورایرانی پرچموں کے علاوہ پاکستانی پرچم بھی تھام رکھے تھے۔

نمازجنازہ کے موقع پر بھی فضا انتقام، انتقام کے نعروں سے گونج اٹھی جب کہ جلوس جنازہ کے شرکا نے ٹرمپ ہم تمہیں ماردیں گے کا قد آوربینر تھام رکھا تھا۔

یاد رہے کہ شہید رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے خاندان کے بعض افراد کی میتیں لے کر خصوصی طیارہ آج صبح کربلا سے مشہد پہنچا تھا۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی میت کو گزشتہ 6 روز کے دوران ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں لے جایا گیا تھا، جہاں لاکھوں زائرین نے ان کی نمازِ جنازہ ادا کی اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔

آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کے سربراہ محمد محمدی گلپایگانی نے بتایا تھا کہ مرحوم رہنما نے اپنی زندگی میں ہی مشہد میں تدفین کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ان کے مطابق خامنہ ای نے وصیت کی تھی کہ انہیں امام رضا کے روضے کے قریب سپرد خاک کیا جائے۔

تابوت کی منتقلی سے قبل ایران اور عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا سمیت مختلف مقامات پر تعزیتی تقریبات اور جنازے کے مراحل مکمل کیے گئے تھے۔ ان رسومات میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور مرحوم رہنما کو خراج عقیدت پیش کیا۔

ایرانی حکام کے مطابق 6 روز تک جاری رہنے والی یہ آخری رسومات دونوں ممالک میں عقیدت اور احترام کے ساتھ ادا کی گئیں۔

اس سے قبل ایرانی میڈیا کے مطابق سید علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی میتیں گزشتہ روز عراق سے ایران روانہ کیے جانے سے قبل نجف اور کربلا میں آخری مذہبی رسومات ادا کی گئیں تھیں۔

نجف میں روضۂ حضرت علیؓ پر لاکھوں افراد نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی تھی، جس کے بعد جسدِ خاکی کو کربلا منتقل کیا گیا تھا، جہاں روضۂ امام حسینؓ پر بھی نمازِ جنازہ ادا کی گئی تھی۔

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ کربلا میں نکالے گئے جنازے کے جلوس میں تقریباً 40 لاکھ سوگوار شریک تھے جب کہ روضۂ امام حسینؓ پر رات بھر فاتحہ خوانی، نوحہ خوانی اور مرثیہ خوانی کا سلسلہ جاری تھا تاہم اس تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

رپورٹس کے مطابق آج آیت اللہ خامنی ای کی مشہد میں روضۂ امام رضاؓ کے احاطے میں سرکاری اعزاز اور مذہبی رسومات کے ساتھ تدفین کی جائے گی۔ اس موقع پر ایران بھر سے لاکھوں عزاداروں کی مشہد آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

یاد رہے کہ سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ کے جنازے کی 7 روزہ تقریبات کا آغاز جمعہ کو تہران کے امام خمینی مصلیٰ سے ہوا تھا، ہفتہ اور اتوار کو عوامی الوداع اور نمازِ جنازہ ادا کی گئی، پیر کو تہران، منگل کو قم میں لاکھوں افراد نے خراج عقیدت پیش کیا گیا، بدھ کو عراقی شہروں نجف اور کربلا میں نمازجنازہ ادا کی گئی۔

ضرورت پڑی تو ایران پر پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ حملہ کریں گے: اسرائیلی وزیر دفاع

امریکا اور ایران کے درمیان نئی جھڑپوں کے بعد خطے میں ایک بار پھر مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
شائع 09 جولائ 2026 11:03pm

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو اسرائیل ایران پر پہلے سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ دوبارہ حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر نے کہا ہے کہ فوج ایران اور لبنان کی صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئیں ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان نئی جھڑپوں کے بعد خطے میں ایک بار پھر مکمل جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق جمعرات کو اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ہتزیریم ایئر بیس پر منعقدہ ایک فوجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار اور ہائی الرٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج لڑائی دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں فضائی برتری دوبارہ حاصل کرنے اور ایران پر ایک بار پھر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ ممکنہ خطرات کو ختم کیا جا سکے اور اگر ضرورت پڑی تو تیسری بار بھی کارروائی کی جائے گی۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ”اگر ہمیں دوبارہ جانا پڑا تو ہم پہلے سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ واپس جائیں گے۔“

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان نئی فوجی جھڑپیں شروع ہو چکی ہیں، جس کے باعث اپریل میں ہونے والی جنگ بندی اور جون میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کے بعد ایک مرتبہ پھر مکمل جنگ کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

اس موقع پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی گزشتہ 2 فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کمزور ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ایرانی محور پہلے سے کہیں زیادہ کمزور جب کہ اسرائیل پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔“

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فضائیہ نے ثابت کیا ہے کہ وہ یمن سے لے کر ایران تک کہیں بھی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ موجودہ تنازع ابھی ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوجی مہم ابھی جاری ہے اور صورت حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

ایران اور لبنان کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں: اسرائیلی فوج

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل ایال ضمیر نے کہا کہ فوج انتہائی ہائی الرٹ پر ہے اور فضائیہ کے سیکڑوں طیارے فوری کارروائی کے لیے تیار رکھے گئے ہیں جب کہ 10 ہزار فوجی آپریشنل تیاریوں میں مصروف ہیں۔

ایال ضمیر کے مطابق اسرائیلی فوج اس وقت بھی ایران اور لبنان میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کی صورت میں فوری کارروائی کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی اسرائیل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا، اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ جنگ کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فضائی کارروائی شروع کی، جس میں ایران کے سپریم لیڈر اور دیگر اعلیٰ حکام ہلاک ہوئے تھے۔ یہ ایران کے خلاف اسرائیل کی دوسری بڑی فوجی مہم تھی۔ اس سے قبل جون 2025 میں بھی دونوں ممالک کے درمیان 12 روزہ جنگ لڑی جا چکی تھی۔

امریکی فضائی حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے 3 اہلکار شہید: ایرانی میڈیا

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ حملوں کے تبادلے کے بعد جنگ بندی کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
اپ ڈیٹ 09 جولائ 2026 07:16pm

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا کے فضائی حملوں میں ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے تین اہلکار شہید ہوگئے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران تہران نے امریکی کارروائیوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے اور مزید حملوں کی صورت میں سخت ردعمل کی وارننگ بھی دی ہے۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے ایرانی خبر رساں ادارے میزان کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے تین اہلکار شہید ہوگئے۔

خوزستان میں آئی آر جی سی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے ایک بیان میں کہا کہ جمعرات کو صوبے کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔

یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکا نے مسلسل دوسرے روز ایران کے خلاف کارروائیاں کیں، جب کہ تہران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے حوالے سے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ تمام جہاز ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں رہیں اور تہران کی جانب سے مقرر کردہ راستہ استعمال کریں۔

ادھر، ’رائٹرز‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت جمعرات کو تقریباً معطل ہو چکی ہے، جب کہ صبح کے اوقات میں صرف دو ٹینکر اس اہم آبی گزرگاہ سے گزر سکے۔

رپورٹ میں شپنگ تجزیاتی ادارے کپلر کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جمعرات کی علی الصبح صرف دو ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرے۔ ان میں برگ 1 نامی خام تیل بردار سپر ٹینکر شامل ہے، جس نے ایران کے جزیرہ خارگ سے تیل لوڈ کیا تھا اور جو امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔ دوسرا جہاز ویل سیل نامی کیمیکل ٹینکر ہے، جو مارشل آئی لینڈز کے پرچم تلے رجسٹرڈ ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز پاکستان کی ثالثی میں 17 جون کو طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کو عملاً ختم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھوتا اب مؤثر نہیں رہا۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی تناؤ میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ آئی آر جی سی کے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی حملوں میں ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور مشہد جانے والے دو اہم پلوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ایرانی بحری اور فضائی فورسز نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کویت میں عریفجان اور علی السالم جب کہ بحرین میں الجفیر اور شیخ عیسیٰ کے امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

آئی آر جی سی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے مغربی ایشیا میں امریکا کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور الازرق میں واقع اس کے فضائی اڈے کو 10 بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ آئی آر جی سی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی فوج نے دوبارہ جارحیت کا ارتکاب کیا تو خطے میں موجود دیگر امریکی اڈے بھی اس کی شدید میزائل کارروائیوں سے محفوظ نہیں رہیں گے۔

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا مقصد آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات سے عالمی توجہ ہٹانا تھا۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی گئی تو خطے میں موجود دیگر امریکی اڈے بھی ایرانی ردعمل کی زد میں آ سکتے ہیں۔

اگرچہ ایران کی جانب سے امریکی اڈوں پر حملوں اور خوزستان میں ہونے والے نقصانات کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم حالیہ پیش رفت نے خطے میں ایک نئی اور وسیع فوجی محاذ آرائی کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں کا بڑھتا ہوا سلسلہ اس تنازع کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات، جن میں ایک جانب فوجی کارروائیوں کی حمایت اور دوسری جانب مکمل جنگ سے گریز کا عندیہ دیا گیا، خطے کی آئندہ صورتِ حال کے حوالے سے غیر یقینی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

امریکی حکام نے تاحال خوزستان میں حملوں اور ایرانی جانی نقصان کے دعوؤں پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جب کہ زمینی صورتِ حال سے متعلق معلومات محدود ہونے کے باعث ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق بھی ممکن نہیں ہو سکی۔

تو کیا واقعی سب کچھ "ختم"ہو گیا؟

.
شائع 09 جولائ 2026 02:56pm

جنگ کا پہلا شکار اکثر ”یقین کی کیفیت“ ہوتی ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ دوسرا شکار تیزی سے مالیاتی منڈیاں بن رہی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شاید یہ اعلان کر دیا ہو کہ ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت ”ختم“ ہو چکی ہے، لیکن شاید اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا منڈیوں نے کبھی یہ تسلیم بھی کیا تھا کہ یہ واقعی شروع ہوئی تھی؟

منڈیوں کا ردعمل فوری تھا، تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔امریکی سرکاری قرضوں کے بانڈز کا منافع ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ خوف اور اتار چڑھاؤ کی پیمائش کرنے والا انڈیکس تیزی سے اوپر گیا۔ عالمی حصص بازار مندی کا شکار ہو گئے۔ سرمایہ کاروں نے خطرے والے اثاثوں کے بجائے ایک بار پھر نقد رقم کو ترجیح دی، جس سے ڈالر مضبوط ہوا۔ یہ تحریر لکھے جانے تک منڈیاں امریکی مرکزی بینک کے حالیہ اجلاس کی کارروائی کی تفصیلات کی بھی منتظر تھیں، تاکہ یہ سراغ لگایا جا سکے کہ اگر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی کا کوئی نیا جھٹکا لگتا ہے تو پالیسی ساز اس پر کیا ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں۔

کیا یہ سب کچھ ہمیں کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ دے رہا ہے؟

مالیاتی منڈیاں مہینوں سے یوں برتاؤ کر رہی ہیں جیسے مشرقِ وسطیٰ اب کسی ”آن آف“ سوئچ کے تابع ہو گیا ہو۔ جنگ بندی کا اعلان ہوا تو تیل بیچو، شیئرز خریدو اور خطرے والے اثاثوں کی طرف منتقل ہو جاؤ۔ میزائل حملے دوبارہ شروع ہوئے تو خام تیل خریدو، اسٹاک مارکیٹ سے پیسہ نکالواور ڈالر خرید لو۔ یہ عمل اب بالکل کسی مشین کی طرح خودکار ہو چکا ہے۔شاید یہی اصل مسئلہ ہے۔برسوں تک سرمایہ کار امریکی مرکزی بینک کے سربراہان کی طرف سے ملنے والے روایتی مالیاتی تحفظ کی باتیں کرتے رہے۔ یہ تصور انتہائی سادہ تھا۔ جب بھی منڈیاں شدید دباؤ میں آتیں مرکزی بینک بالآخر مالیاتی حالات کو نرم کر دیتا تھا۔ سرمایہ کاروں کو یقین تھا کہ ان کے لیے ایک حفاظتی جال موجود ہے۔اب ایک اور حفاظتی تصور ابھرتا ہوا نظر آ رہا ہے، اگرچہ یہ ذرا مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔

آپ اسے” آبنائے ہرمز کا مالیاتی جال“ کہہ سکتے ہیں۔ طنز کی بات یہ ہے کہ یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز منڈیوں کو بچا نہیں رہا بلکہ یہ بار بار مالیاتی حالات کو مزید سخت اور مشکل بنا رہا ہے۔دنیا کی اس اہم ترین توانائی گزرگاہ سے جہاز رانی کو لاحق ہونے والا ہر نیا خطرہ فوری طور پر ایک ہی جیسے اثرات کا سلسلہ شروع کر دیتا ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، جس کے پیچھے مہنگائی کی توقعات بھی اوپر جاتی ہیں۔ بانڈز کا منافع بڑھتا ہے، بازار میں اتار چڑھاؤ واپس آ جاتا ہے، ڈالر مضبوط ہوتا ہے، حصص بازار گرتے ہیں اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اثاثے دباؤ میں آ جاتے ہیں۔یہ آبنائے خود شرحِ سود مقرر نہیں کر رہا، لیکن یہ مسلسل انھی عوامل کو تبدیل کر رہا ہے جن پر مرکزی بینکوں کو ردعمل دینا ہوتا ہے۔ تو کیا پانی کی ایک چھوٹی سی پٹی خاموشی سے دنیا کے بااثر ترین مالیاتی اشاروں میں سے ایک بن چکی ہے؟

یہ بات شاید مبالغہ آرائی معلوم ہو لیکن اس وقت یہ دیکھیں کہ اب منڈیوں میں ہلچل مچانے کے لیے کتنی کم چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایران کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ہرمز کو لازمی بند کرے، اسے صرف تاجروں کو اس بات کا یقین دلانا ہے کہ نقل و حمل میں رکاوٹ کا امکان موجود ہے۔ سپلائی حقیقت میں معطل ہونے سے بہت پہلے ہی خطروں کا معاوضہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔یہ فرق بہت اہمیت رکھتا ہے۔تیل کی یہ عادت ہے کہ وہ معیشت میں تقریباً ہر دوسری چیز کی قیمت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مال برداری مہنگی ہو جاتی ہے، کھاد کی لاگت بڑھ جاتی ہے، ایئر لائنز کو ایندھن کے بھاری بلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پیداواری شعبے کے منافع کا مارجن دباؤ میں آ جاتا ہے۔ مہنگائی کے سرکاری اعداد و شمار سامنے آنے سے پہلے ہی مہنگائی کی توقعات بدلنے لگتی ہیں۔ مرکزی بینک بالاخر اسی لہر کے پیچھے چلتے ہیں۔

منڈیوں کا حالیہ ردعمل بالکل اسی منتقلی کے طریقہ کار کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹریژری بانڈز کا منافع اس وقت بڑھا جب سرمایہ کاروں نے مہنگائی کے خطرات کا نئے سرے سے جائزہ لیا۔ یورپی سرکاری بانڈز نے بھی اسی کی پیروی کی۔ اتار چڑھاؤ کے انڈیکس میں ایک ماہ سے زائد عرصے کے دوران سب سے بڑا روزانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ امریکی ڈالر میں محفوظ سرمایہ کاری کی مانگ واپس آئی، جبکہ حصص بازار، خاص طور پر مہنگے ٹیکنالوجی شیئرز ایک بار پھر دباؤ کی زد میں آ گئے۔

کیا یہ واقعتاً میزائلوں کا ردعمل ہے؟ یا اس بات کا ردعمل ہے کہ وہ میزائل مہنگائی، مالیاتی پالیسی اور سرمائے کی لاگت کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں؟ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ منڈیاں اب جغرافیائی سیاسی سرخیوں کو کلّی معاشی اعداد و شمار کی طرح دیکھ رہی ہیں۔ہر مرکزی بینک مہنگائی پر نظر رکھتا ہے جبکہ اب ایسا لگتا ہے کہ مہنگائی خود آبنائے ہرمز پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ منڈیاں اب پہلے ردعمل ظاہر کرنے اور سوالات بعد میں پوچھنے پر پوری طرح تیار دکھائی دیتی ہیں۔ تاجر اب صرف تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کی قیمت نہیں لگا رہے، بلکہ وہ اس امکان کو بھی مدنظر رکھ رہے ہیں کہ مرکزی بینک ایک بار پھر خود کو انھی مہنگائی کے خطرات کے سامنے پا سکتے ہیں جن کے بارے میں وہ چند ہفتے پہلے سوچ رہے تھے کہ یہ ختم ہو رہے ہیں۔

کیا یہ اس تنازع کے موجودہ مرحلے کی سب سے نمایاں خصوصیت بن سکتا ہے؟قیمتوں کے اس اتار چڑھاؤ کے نیچے ایک اور تضاد بھی چھپا ہوا ہے۔منڈیاں کمپنیوں کی سہ ماہی آمدنی، روزگار کی رپورٹوں اور مہنگائی کے اعداد و شمار کا تخمینہ لگانے میں تو انتہائی سمجھدار ہو چکی ہیں، لیکن وہ جغرافیائی سیاسی خطرات کے معاملے میں اب بھی ایسا برتاؤ کرتی ہیں جیسے اسے کسی صدر کے ایک بیان سے بند یا شروع کیا جا سکتا ہو۔ایک دن ایسا لگتا ہے کہ سفارت کاری نے استحکام بحال کر دیا ہے اور اگلے ہی دن ہرمز کے آس پاس چند حملے انھی منڈیوں کو دوبارہ دفاعی پوزیشن پر جانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔کیا منڈیاں کبھی امن کے امکانات کا تعین کر رہی تھیں؟ یا صرف سرخیوں کی عدم موجودگی یعنی سکون کے وقفے کا فائدہ اٹھا رہی تھیں؟

ان ممالک کے لیے جو اپنی زیادہ تر توانائی درآمد کرتے ہیں، یہ سوالات صرف تجارتی میزوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے نتائج بہت دور رس ہوتے ہیں۔پاکستان اس چکر سے اچھی طرح واقف ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہونے والا ہر مسلسل اضافہ بالآخر ملک کے درآمدی بل، مہنگائی کے منظر نامے، شرحِ مبادلہ اور مالیاتی حساب کتاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی طرح کے واقعات ایشیا کے بڑے حصے کو متاثر کرتے ہیں۔ حکومتیں توانائی کی حفاظت کو اس طرح داؤ پر نہیں لگا سکتیں جیسے منڈیاں مستقبل کے سودوں کی تجارت کرتی ہیں۔

شاید اصل سبق یہیں چھپا ہوا ہے۔

منڈیاں امکانات کے حساب سے قیمت طے کرنے کے لیے بنی ہیں، جبکہ حکومتوں کا کام خود کو کمزوریوں اور خطرات کے لیے تیار رکھنا ہے۔اگر بالآخر ایک اور جنگ بندی ہو جاتی ہے تو منڈیاں یقیناً ایک بار پھر جشن منائیں گی۔ تیل سستا ہوگا، خطرہ مول لینے کا رجحان بڑھے گا، بانڈز کا منافع کم ہو سکتا ہے اور اتار چڑھاؤ کا انڈیکس بھی پرسکون ہو جائے گا لیکن کیا پالیسی سازوں اور حکومتوں کو بھی اسی اچھے کی امید کا مظاہرہ کرنا چاہیے؟

تاریخ بتاتی ہے کہ مالیاتی منڈیاں شاذ و نادر ہی کسی یقین کی کیفیت کا انتظار کرتی ہیں۔ وہ امکانات، تاثرات اور بیانیوں پر چلتی ہیں۔ حکومتوں کا کام زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ انہیں ان نتائج کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے جن کے بارے میں وہ امید کرتی ہیں کہ وہ کبھی سامنے نہ آئیں۔

ٹرمپ کہتے ہیں کہ یہ ختم ہو چکا ہے۔منڈیاں اب بھی غیر یقینی کا شکار نظر آتی ہیں۔

شاید بہتر سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی کسی کو یہ پوچھنا چاہیے کہ آیا یہ مفاہمت نامہ ختم ہو گیا ہے یا اس کے بجائے توجہ کسی بہت زیادہ اہم چیز پر مرکوز ہونی چاہیے؟کیا آبنائے ہرمز خاموشی سے عالمی مالیاتی حالات کو چلانے والے دنیا کے طاقتور ترین محرکات میں سے ایک بن چکا ہے؟ اور اگر ہر نیا تصادم کسی بھی مرکزی بینک کے ایک لفظ بولنے سے پہلے ہی ان حالات کو سخت کر دیتا ہے تو پھر اصل میں منڈیوں کا رخ کون طے کر رہا ہے؟


نوٹ: یہ تحریر 09 جولائی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

امریکی فوج کی مدد کرنے والا ہر مقام ’جائز ہدف‘ ہوگا: ایران

تہران کا آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت مسترد، تجارتی جہازوں کے لیے ایرانی راستے کو ہی محفوظ قرار دے دیا۔
شائع 08 جولائ 2026 06:03pm

ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی میں تعاون کرنے والے ہر مقام کو اپنی مسلح افواج کے لیے جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ تہران نے آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ راستہ وہی ہے جسے ایران نے مقرر کیا ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے بدھ کو جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے ایران کی خودمختاری اور سرزمین کے خلاف کسی بھی کارروائی میں مدد فراہم کرنے والا ہر مقام ایرانی مسلح افواج کے لیے جائز ہدف ہوگا۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکا نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، جس کے بعد ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج امریکی حملوں کا فیصلہ کن جواب دیں گی اور کسی بھی صورت امریکا کو آبنائے ہرمز میں مداخلت یا اس اہم بحری گزرگاہ کے انتظام میں کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کی محفوظ آمدورفت کے لیے صرف وہی راستہ محفوظ سمجھا جائے گا جو اسلامی جمہوریہ ایران نے مقرر کیا ہے۔

اس سے قبل اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) اور ایرانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ جنوبی ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ادھر، ایران کی نیشنل سکیورٹی، فارن پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی کا کہنا ہے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی میراث ایک بہادر اور ثابت قدم قوم ہے، قوم ٹرمپ سمیت کسی بھی دھمکی سے خوفزدہ نہیں، ہم کسی بھی شیطان سے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتگھ جنگ بندی ختم کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 5 فی صد اضافہ دیکھا گیا۔

ٹرمپ کے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے تحت متحدہ عرب امارات کا مربان کروڈ آئل 4.26 ڈالر مہنگا ہو کر 73 ڈالر 22 سینٹس فی بیرل پر پہنچ گیا۔

اسی طرح لندن برینٹ کروڈ کی قیمت میں بھی 4 ڈالر 48 سینٹس کا اضافہ ہوا جس کے بعد اس کی قیمت 78 ڈالر 64 سینٹس فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی خام تیل بھی 4 ڈالر 41 سینٹس فی بیرل مہنگا ہونے کے بعد 74 ڈالر 85 سینٹس فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا۔

معاشی ماہرین کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 6 فی صد اضافے کے ساتھ 78 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جب کہ یورپی شیئرز مارکیٹوں میں 1.6 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی دوران امریکی ڈالر اور سرکاری بانڈز کی قدر میں بھی اضافہ ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے خدشات نے سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا کر دی ہے، جبکہ تیل مہنگا ہونے سے عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے اثرات، آئل ٹینکروں کا رخ تبدیل، ہزاروں کارکن سمندر میں محصور

حالیہ امریکا ایران کشیدگی نے پہلے سے موجود خوف، غیر یقینی صورتِ حال اور نفسیاتی دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا۔
شائع 08 جولائ 2026 05:42pm

آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے اثرات عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔ متعدد تیل اور گیس بردار ٹینکروں نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا ہے، ہزاروں سمندری کارکن خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں، جب کہ ماہرین نے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی خامیوں کو موجودہ بحران کی ایک اہم وجہ قرار دیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق ایران کی جانب سے منگل کو آبنائے ہرمز کے قریب تین بحری جہازوں پر مبینہ حملوں کے بعد کم از کم چار تیل اور گیس بردار ٹینکروں نے اس اہم بحری راستے سے گزرنے کی کوشش ترک کرتے ہوئے اپنا رخ موڑ لیا۔

’رائٹرز‘ نے بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنیوں کپلر اور ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ الغریہ، دحیل اور الرویس نامی تین ایل این جی ٹینکر آبنائے ہرمز کی جانب بڑھ رہے تھے، تاہم منگل کی شب انہوں نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ تینوں ٹینکر قطر انرجی کے زیر انتظام تھے اور خالی حالت میں قطر کی راس لفان برآمدی تنصیب جا رہے تھے، جہاں انہیں مائع قدرتی گیس کی کھیپ لادنی تھی۔ ادھر بھارتی پرچم بردار آئل ٹینکر لیلا وڈینار، جو کویت کے تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے جا رہا تھا، بدھ کے روز آبنائے ہرمز کے قریب عمان کے ساحل سے واپس مڑ گیا۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل قطر نے آبنائے ہرمز کے قریب قطری ایل این جی ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران کے نائب سفیر کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔ قطر نے اس حملے کو بین الاقوامی بحری جہاز رانی، عالمی توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایران سے ایسے اقدامات فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود بعض آئل ٹینکر بدستور اس آبی گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔ مرکری ہوپ نامی ایک بڑے خام تیل بردار جہاز نے متحدہ عرب امارات کے 20 لاکھ بیرل خام تیل کے ساتھ بدھ کو آبنائے ہرمز عبور کر لی، جب کہ جاپانی آئل ٹینکر ٹینجن بھی منگل کی شب اس راستے سے گزر گیا۔ اسی طرح انڈونیشیا کا سپر ٹینکر پرتامینا پرائیڈ بھی دو ملین بیرل خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے روانہ ہوا، تاہم اس دوران اس کا ٹرانسپونڈر بند تھا۔

دوسری جانب بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کی تازہ رپورٹ کے مطابق 7 جولائی کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت میں جزوی بہتری دیکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز کے 36 کے مقابلے میں 41 بحری جہاز اس اہم گزرگاہ سے گزرے۔

تاہم عمان کے قریب ٹینکروں سے متعلق دو نئے واقعات اور ایران سے وابستہ تجارت پر امریکی پابندیوں کے مزید سخت ہونے کے بعد بحری سلامتی، پابندیوں کی پاسداری اور بحری راستوں کے خطرات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔ کپلر کے مطابق اب توجہ صرف بحری ٹریفک کی بحالی پر نہیں بل کہ سیکیورٹی، قانونی تقاضوں اور بحری راستوں کے خطرات کے مؤثر انتظام پر بھی مرکوز ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے یہاں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی عالمی توانائی کی سپلائی، بحری تجارت اور تیل کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے تحت قائم بین الاقوامی بحری تنظیم (آئی ایم او) کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سیکڑوں جہازوں پر موجود تقریباً 6 ہزار سمندری کارکن اب بھی خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق حالیہ حملوں نے پہلے سے موجود خوف، غیر یقینی صورتِ حال اور نفسیاتی دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز محفوظ طریقے سے خلیج فارس سے باہر نہیں نکل پا رہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بحران نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی کمزوریاں بھی نمایاں کر دی ہیں۔

واشنگٹن میں قائم کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدر ٹریٹا پارسی کے مطابق بنیادی اختلاف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے طریقۂ کار پر ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اگرچہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی، تاہم عبوری مدت کے دوران تمام تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت ایران کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کے ذریعے ہونی چاہیے، جب کہ امریکا کا کہنا ہے کہ جہاز ایرانی یا عمانی بحری راستوں سے بغیر ایرانی اجازت کے بھی گزر سکتے ہیں۔

ٹریٹا پارسی کے مطابق ایران کو خدشہ ہے کہ امریکا اس مفاہمت کو آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، جس سے مستقبل میں ایران اپنی اہم تزویراتی برتری کھو سکتا ہے۔

ادھر کنگز کالج لندن کے ماہر بین الاقوامی امور آندریاس کریگ کا کہنا ہے کہ موجودہ مفاہمتی انتظام میں دونوں ممالک کی قابل قبول کارروائیوں کی حدود واضح نہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورت حال زیادہ عرصے تک برقرار رہنا مشکل دکھائی دیتی ہے۔

ایران کی جوابی کارروائی؛ بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر میزائل برسا دیے

امریکا نے نئے حملے ایران کے اہم ترین آئل ہب خارگ آئی لینڈ، قشم آئی لینڈ اور بندر عباس جیسے ساحلی شہروں میں کیے تھے۔
شائع 08 جولائ 2026 10:27am

امریکی فوج کی جانب سے ایران پر بمباری اور ایرانی تیل کی فروخت پر دوبارہ پابندی لگانے کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ اس جوابی حملے کے بعد کویت اور بحرین میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور کویتی فوج نے بتایا کہ ان کے دفاعی نظام نے دشمن کے میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کیا ہے۔ اس نئی لڑائی کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔

اس سے پہلے امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملے آبنائے ہرمز میں تیل کے تین بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے بدلے میں کیے گئے ہیں۔

امریکی فوج کے مطابق انہوں نے ایران کے میزائل اور ڈرون لانچ کرنے والے اڈوں کے ساتھ ساتھ پاسدارانِ انقلاب کی ساٹھ سے زیادہ چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق یہ حملے ایران کے اہم ترین آئل ہب خارگ آئی لینڈ، قشم آئی لینڈ اور بندر عباس جیسے ساحلی شہروں میں ہوئے، جہاں مچھلیوں کے گھاٹ اور ایک تجارتی بیس اِن کو نقصان پہنچا اور کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے۔

امریکا کے ان حملوں پر ایران کی سب سے بڑی فوجی کمانڈ ’خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر‘ نے سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حملے کھلم کھلا جارحیت ہیں، جس کا کچل دینے والا جواب دیا جائے گا اور تہران آبنائے ہرمز کے انتظام میں امریکی مداخلت کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔

ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ غنڈہ گردی اور زبردستی کا دور اب ختم ہو چکا ہے، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انہوں نے امریکا پر جنگ بندی توڑنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ امریکا نے نہ صرف فوجی حملے کیے بلکہ تیل پر دوبارہ پابندیاں لگائیں اور اسرائیل کے ذریعے لبنان پر بھی حملے کروائے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی بدھ کی صبح ایک بیان میں کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سیکیورٹی کی حفاظت کے لیے جو بھی قدم ضروری سمجھے گا، وہ اٹھائے گا۔

یاد رہے کہ یہ نئی لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب قطر کے ایک بڑے گیس بردار جہاز پر ڈرون حملہ ہوا اور قطر نے اس کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا۔

ایران نے ان الزامات کو حیران کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جو تجارتی جہاز ایران کے ساتھ تال میل کیے بغیر دوسرے راستے استعمال کریں گے، انہیں خطرات کا سامنا رہے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اس سمندری راستے پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن بدل سکے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بار بار دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے نیا معاہدہ نہ کیا تو وہ دوبارہ بمباری شروع کر دیں گے، جس پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اگر دھمکیاں دینے کا سلسلہ جاری رہا تو حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔

ایرانی تیل کی فروخت پر دوبارہ پابندی عائد، تہران کی امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی

امریکی حکومت کا یہ اقدام اسلام آباد امن معاہدے کی شق 10 کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے: ایران
اپ ڈیٹ 08 جولائ 2026 11:32am

امریکا اور ایران کے درمیان حال ہی میں ہونے والا امن معاہدہ صرف بیس دن کے اندر ہی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کے روز ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ایران کو بین الاقوامی منڈیوں میں تیل بیچنے کی دی گئی عارضی اجازت نامے کو منسوخ کر کے دوبارہ پابندیاں لگا دی ہیں۔

امریکا نے یہ سخت قدم آبنائے ہرمز میں تیل کے بحری جہازوں پر ہونے والے حالیہ حملوں کے جواب میں اٹھایا ہے۔

امریکی فیصلے کے فوراً بعد بدھ کی صبح ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکا پر معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ اس کے سنگین نتائج نکلیں گے۔

امریکا کے محکمہ خزانہ کے ماتحت کام کرنے والے ادارے اوفیک کے ڈائریکٹر بریڈلی سمتھ نے اس فیصلے کی تفصیل بتاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ نئی پابندی سات جولائی سے لاگو ہو چکی ہے اور اب ایران سے کسی بھی قسم کے نئے کاروباری معاہدے یا تیل خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اب صرف وہی لین دین ہو سکے گا جو پرانے معاہدوں کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

اس فیصلے پر بات کرتے ہوئے امریکی حکومت کے ایک ترجمان نے ’سی این بی سی ٹی وی‘ سے گفتگو میں کہا کہ ایران کو فائدہ صرف اسی صورت میں ملے گا جب وہ اچھے رویے کا مظاہرہ کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی کارروائیاں امریکا کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں تھیں اور ان کے نتائج تو بھگتنا ہوں گے۔

امریکہ کے اس اچانک فیصلے پر ایران کی وزارتِ خارجہ نے شدید غصے کا اظہار کیا ہے اور ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومت کا یہ اقدام 18 جون کو دستخط کیے گئے اسلام آباد امن معاہدے کی شق 10 کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

ایرانی حکومت نے کہا کہ یہ فیصلہ امریکی حکومت کی بدنیتی، غیر مستقل مزاجی اور اپنے وعدوں سے مکر جانے کا ایک اور بڑا ثبوت ہے۔

ایران نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پچھلے بیس دنوں میں امریکا نے خود یا اسرائیل کے ذریعے لبنان پر حملے کروا کر اس معاہدے کی کئی بار چھوٹی اور بڑی خلاف ورزیاں کی ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ ہم نے تو پوری ایمانداری کے ساتھ معاہدے کی تمام شرطوں کو پورا کرنے کے لیے اپنے تمام وسائل استعمال کیے، لیکن امریکی حکومت ہمیشہ کی طرح مختلف بہانے بنا کر اپنی خلاف ورزیوں کو درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس معاہدے کی خلاف ورزی کے نتائج پر تنبیہ کرتے ہیں اور ایران اپنے قومی مفادات اور سیکیورٹی کی حفاظت کے لیے جو بھی قدم ضروری سمجھے گا، وہ اٹھائے گا۔

واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ امریکا ایران پر سے کاروباری پابندیاں ہٹائے گا، لیکن امریکا نے اس شرط کو اس بات سے جوڑا تھا کہ ایران بین الاقوامی جہازوں کے لیے سمندری راستے کو کھلا اور محفوظ رکھے گا۔

ٹرمپ کا ترکیہ پر پابندیاں ختم کرنے کا اعلان، ایف 35 طیاروں کی فروخت پر بھی رضامندی

ایران کے خلاف کارروائی میں ہمیں کسی مدد کی ضرورت نہیں تھی، امریکی صدر کی ترک صدر کے ہمراہ گفتگو
شائع 08 جولائ 2026 12:10am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انقرہ کو ایف 35 جنگی طیاروں کی فروخت پر بھی رضامندی ظاہر کر دی۔ انقرہ میں نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس کے موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور دوطرفہ تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

انقرہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ صدر اردوان ان کے اچھے دوست ہیں اور ترکیہ کے ساتھ امریکا کے تعلقات انتہائی مضبوط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ ایک مضبوط اور بااثر ملک بن چکا ہے، تاہم دنیا کے بہت سے لوگ اب بھی ترکیہ کی حقیقی فوجی طاقت سے پوری طرح واقف نہیں۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی صدر اردوان کے ساتھ تجارت، دوطرفہ تعلقات، عسکری تعاون، ایران کی صورتِ حال اور دیگر اہم علاقائی معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے ترکیہ بھی یہی چاہتا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔

نیٹو پر ایک بار پھر تنقید کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس اتحاد سے سخت مایوس ہیں اور درحقیقت نیٹو سربراہی اجلاس میں آنا بھی نہیں چاہتے تھے، تاہم چونکہ اس کی میزبانی ترکیہ کر رہا ہے، اس لیے انہوں نے شرکت کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نیٹو پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے تاکہ اتحادی ضرورت کے وقت اس کا ساتھ دیں، لیکن جب امریکا کو مدد کی ضرورت پڑی تو کسی نے عملی تعاون نہیں کیا۔

ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن میں امریکا کو کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ہمیشہ یورپ کو روس سے محفوظ رکھا، جب کہ بعض اتحادی صرف جنگ ختم ہونے کے بعد تعاون کی بات کرتے رہے۔

ترکیہ کے دفاعی معاملات پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایف-35 لڑاکا طیاروں سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ترکیہ کی جانب سے ایف-35 طیارے حاصل کرنے پر کوئی تشویش نہیں، جب کہ روسی طیاروں کی خریداری پر بھی انہیں اعتراض نہیں کیونکہ یہ ہر خودمختار ملک کا اپنے قومی مفاد میں کیا جانے والا فیصلہ ہوتا ہے۔

روس اور یوکرین جنگ کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین ہے یوکرین تنازع حل کرنے میں کامیابی ملے گی اور امید ہے کہ جنگ جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔

مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگر ترکیہ چاہتا تو اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہو سکتا تھا، تاہم ان کے خیال میں ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے شام کے نئے صدر احمد الشرع کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہترین کام کر رہے ہیں اور انہوں نے ایک بکھرے ہوئے ملک کو دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کی ہے۔

امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ ترکیہ پر عائد امریکی پابندیاں ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ مل کر اس سلسلے میں کام کر رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ دنیا میں پابندیاں لگانے والے بہت سے لوگ موجود ہیں، لیکن امریکا اپنے دوست ممالک پر پابندیاں برقرار نہیں رکھنا چاہتا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے منگل کو انقرہ پہنچے تو ایتیمس گوت ایئر بیس پر ان کے لیے خصوصی استقبالی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ترک روایات کے مطابق استقبالی مقام پر روایتی سرخ قالین کے بجائے فیروزی رنگ کا قالین بچھایا گیا، جو ترکی کی ثقافتی شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے، جب کہ ترک اعزازی گارڈ نے بھی صدر ٹرمپ کو سلامی پیش کی۔

صدر رجب طیب اردوان خود ہوائی اڈے پر موجود تھے اور انہوں نے امریکی صدر کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو امریکا اور ترکی کے قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ ماضی میں کئی مواقع پر اردوان کو اپنا دوست قرار دے چکے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کے استقبال کے لیے امریکا کے ترکی میں سفیر اور شام و عراق کے لیے خصوصی صدارتی ایلچی ٹام بارک، نیٹو میں امریکی سفیر میٹ وٹیکر اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین بھی موجود تھے۔

نیٹو کے اس اہم اجلاس میں رکن ممالک کے رہنما دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی، یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتِ حال سمیت کئی اہم معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے، جب کہ صدر ٹرمپ کی مختلف عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

نیٹو کا یہ سربراہی اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر رکن ممالک پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ تیز کر دیا ہے۔ اس دباؤ کے جواب میں توقع کی جا رہی ہے کہ متعدد یورپی ممالک اربوں ڈالر کے نئے دفاعی معاہدوں اور فوجی اخراجات میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

تاہم اجلاس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ نیٹو کے اتحادی امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی کارروائی میں مناسب تعاون نہیں کر رہے، جب کہ کئی رکن ممالک اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔

دوسری جانب یورپی حکام نے صدر ٹرمپ کے الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں بڑی حد تک نبھائیں۔ حکام کے مطابق یورپی ممالک نے امریکا کو اپنے فضائی راستے اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی، حالانکہ ایران کے خلاف کارروائی سے قبل انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے نیٹو پر کھل کر تنقید کی ہو۔ رواں سال اپریل میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ وہ نیٹو سے علیحدگی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اس اتحاد پر شدید تحفظات ہیں۔ اس سے قبل اپنے پہلے صدارتی دور میں 2018 کے دوران بھی انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر رکن ممالک دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ کریں تو امریکا اتحاد سے الگ ہو سکتا ہے۔

بعد ازاں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انقرہ میں واقع صدارتی کمپلیکس بش تپے میں نیٹو رہنماؤں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے میں شرکت کی، جہاں انہیں ترک صدر رجب طیب اردوان نے پرتپاک انداز میں خوش آمدید کہا۔ عشائیے میں شریک ہونے والے رہنماؤں کا فوجی بینڈ کی دھنوں کے ساتھ استقبال کیا گیا، جب کہ صدر ٹرمپ دیگر عالمی رہنماؤں کے بعد تقریب میں پہنچے۔

یہ عشائیہ صدر ٹرمپ کے لیے نیٹو کے دیگر رکن ممالک کے سربراہان سے غیر رسمی ملاقات کا پہلا موقع تھا۔ تقریب میں فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی بھی شریک تھے، جنہیں صدر ٹرمپ گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف مواقع پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

نیٹو سربراہ اجلاس سے قبل ہونے والی اس ملاقات کو رکن ممالک کے درمیان سفارتی روابط اور اہم علاقائی و عالمی امور پر غیر رسمی مشاورت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران سے بچ کر امریکا کے طے شدہ راستے پر جانے والے تیل کے بحری جہاز پر حملہ

ایک دھماکہ خیز چیز جہاز کے بائیں حصے پر لگی جس سے آگ بھڑک اٹھی۔
شائع 07 جولائ 2026 08:50am

ایران اور عمان کے درمیان سمندری حدود یعنی آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں، جہاں ایک تیل بردار بحری جہاز (آئل ٹینکر) پر نامعلوم پوجیکٹائل سے حملہ کیا گیا ہے جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی۔

سمندری نگرانی کے برطانوی ادارے ’یو کے ایم ٹی او‘ کے مطابق، یہ واقعہ عمان کے علاقے لیماہ سے آٹھ ناٹیکل میل مشرق کی طرف اس وقت پیش آیا جب یہ جہاز جنوب کی طرف جا رہا تھا۔

اس حملے میں ایک دھماکہ خیز چیز جہاز کے بائیں حصے پر لگی جس سے آگ بھڑک اٹھی، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان یا سمندر میں تیل پھیلنے جیسی آلودگی کی اطلاع نہیں ملی اور متعلقہ حکام اس واقعے کی پوری تفتیش کر رہے ہیں۔

اس واقعے کے فوری بعد امریکی حکام نے اس حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ سے بات کرتے ہوئے دو امریکی اہلکاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی فوج نے اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کم از کم دو میزائل داغے ہیں۔

ان میں سے ایک اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ ایک اور جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے دونوں جہازوں کو اچھا خاصا نقصان پہنچا ہے لیکن کسی بندے کی جان نہیں گئی۔

دوسری طرف، ایران کے سرکاری ادارے ’آئی آر آئی بی‘ نے گمنام ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ تیل کا جہاز امریکی بحریہ کی مدد اور تحفظ کے ساتھ آبنائے ہرمز میں عمان والے راستے سے گزرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا، اور بار بار ملنے والی انتباہی وارننگ کو نظر انداز کرنے پر اس جہاز کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

تاہم، سرکاری ٹی وی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی تک کسی بھی ایرانی عہدیدار نے باضابطہ طور پر اس رپورٹ کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران پہلے ہی تمام جہازوں کو خبردار کر چکا ہے کہ وہ عمانی سمندر کے جنوبی راستے سے نہ گزریں اور اس کا اصرار ہے کہ اس سمندری راستے سے گزرنے والے ہر جہاز کو ایرانی فوج کے ساتھ تال میل یعنی رابطہ کرنا ہوگا۔

یہ تازہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند دن پہلے ہی امریکا اور ایران نے سمندر میں جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں ایک دوسرے پر جوابی حملے کیے تھے۔

تہران کے بعد قُم میں بھی آیت اللہ خامنہ ای کی تاریخی نمازِ جنازہ؛ میت کو عراق لے جایا جائے گا

جمعرات کے دن خامنہ ای کے آبائی شہر مشہد میں ان کی تدفین کر دی جائے گی۔
شائع 07 جولائ 2026 08:25am

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ تہران کے بعد اب مقدس شہر قم میں بھی ادا کر دی گئی ہے جہاں لاکھوں افراد نے اس تاریخی جلوس میں شرکت کی۔

نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق، آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار ارکان کی نمازِ جنازہ قم شہر کے مضافات میں واقع مسجدِ جمکران میں ادا کی گئی۔

ایجنسی کی طرف سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نمازِ جنازہ کے لیے مسجد میں سوگواروں کا ایک بہت بڑا ہجوم جمع ہے۔

ٹویٹ کا ترجمہ: مسجدِ جمکران میں موجود لوگوں کے آنسوؤں کے درمیان، انقلاب کے شہید رہنما اور ان کے خاندان کے دیگر شہدا کی نمازِ جنازہ کے مناظر۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے سابق سپریم لیڈر کے جسدِ خاکی کو دارالحکومت تہران کے جنوب میں واقع شہر قُم پہنچایا گیا، جہاں منگل کے روز جنازے کا جلوس نکالا گیا۔

ایران میں اس وقت چھ روزہ سرکاری سوگ کی تقریبات جاری ہیں جن کا اختتام جمعرات کو مشہد میں خامنہ ای کی تدفین کے ساتھ ہوگا۔

گزشتہ روز دارالحکومت تہران میں مسلسل تیسرے دن لاکھوں لوگ سڑکوں پر نظر آئے اور جنازے اور اس کے بعد جلوس میں میں شرکت کی۔ اس دوران ایک بڑے ٹرک پر آیت اللہ علی خامنہ ای اور اُن کے خاندان کے اُن چار افراد کے جسدِ خاکی رکھے گئے تھے جو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایک حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔

یہ ٹرک تہران کی بڑی سڑکوں سے ہوتا ہوا شہر کے مغرب میں واقع آزادی اسکوائر کی طرف بڑھتا رہا۔

سرکاری ٹی وی نے تہران کی بڑی شاہراہوں پر سوگواروں کے سمندر کی تصویریں دکھائیں اور بتایا کہ اس جنازے میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے ہیں، اور یہ مجمع سن 1989 میں ہونے والے آیت اللہ روح اللہ خمینی کے تاریخی جنازے جیسا ہی بڑا تھا۔

کالے کپڑے پہنے ہوئے غمزدہ لوگوں نے ان تابوتوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں، جن میں خامنہ ای کی چودہ ماہ کی معصوم نواسی کا چھوٹا سا تابوت بھی شامل تھا۔

جنازے میں شریک حامد نامی ایک شخص نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کا مقصد ایران کو ٹکڑوں میں بانٹنا تھا، لیکن ہمارے رہنما نے اس تقسیم کو روک دیا۔ ایرانی عوام یہاں اس کام کا شکریہ ادا کرنے آئے ہیں جو انہوں نے ایران کے لیے کیا۔

مرضیہ نامی ایک اور خاتون سوگوار نے کہا کہ ہم یہاں اپنے شہید رہنما کو یہ بتانے آئے ہیں کہ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ہم یہاں ان سے اپنی وفاداری کا عہد دہرانے آئے ہیں جنہوں نے تقریباً چالیس سال تک ایران پر حکومت کی۔

اس سب کے دوران آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے اور ان کے جانشین، موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای جنازے میں کہیں نظر نہیں آئے۔ انہیں اپنے والد کی وفات کے ایک ہفتے بعد عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک عوام کے سامنے نہیں دیکھا گیا ہے۔

تہران یونیورسٹی کے ریسرچ فیلو محمد اسلامی نے اس حوالے سے بتایا کہ وہ اپنے والد کے جنازے کے جلوس میں اس لیے شریک نہیں ہو سکے کیونکہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان اس وقت ایک بہت ہی کمزور جنگ بندی چل رہی ہے، اور اس وقت بہت مشکل موضوعات پر بات چیت ہو رہی ہے، اس لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کی وجہ سے ان کے لیے عوام کے سامنے آنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔

جنازے کی ان تقریبات میں بڑی تعداد میں لوگوں کی طبیعت بھی خراب ہوئی اور ایمرجنسی سروسز کے سربراہ جعفر میاد فر نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کو بتایا کہ 34 ہزار سے زیادہ شرکاء کو طبی امداد اور ہنگامی خدمات فراہم کی گئیں، تاہم کسی کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

اس جنازے میں ایران کے صدر مسعود پزیشکیان بھی شریک تھے، جنہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ آج ہم ایران کی عزت، ترقی اور شان و شوکت کے راستے کو جاری رکھیں گے۔

ان کے علاوہ وزیر خارجہ عباس عراقچی، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایژہای، قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قاآنی اور ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محمد باقر ذوالقدر نے بھی شرکت کی، جو مارچ میں اپنے پیشرو علی لاریجانی کے فضائی حملے میں جاں بحق ہونے کے بعد پہلی بار عوام کے سامنے آئے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا کہ سرخ جھنڈوں اور خون کا بدلہ لینے کے نعروں کے ساتھ لاکھوں لوگوں کی یہ موجودگی ایرانی قوم کی طرف سے اپنے دشمنوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔

اس جنازے میں سال 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر رہنے والے محمود احمدی نژاد بھی شریک ہوئے، جن کے صدارت کے آخری دور میں آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ اختلافات پیدا ہو گئے تھے اور جنگ شروع ہونے کے بعد سے وہ اب تک منظرِ عام سے غائب تھے۔

قم میں ان تمام رسومات کی ادائیگی کے بعد، اب بدھ کے روز شہید خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا جہاں الوداعی تقریبات ہوں گی، اور پھر جمعرات کے دن ان کے آبائی شہر مشہد میں ان کی تدفین کر دی جائے گی۔

معاہدہ نہ ہوا تو ایران کا انفراسٹرکچر چند گھنٹوں میں ختم کر سکتے ہیں: صدر ٹرمپ کی دھمکی

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ امریکا اپنے مقاصد ہر صورت حاصل کرے گا، معاہدہ ہو یا کوئی اور راستہ اختیار کرنا پڑے۔
اپ ڈیٹ 06 جولائ 2026 08:12pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکا مختصر وقت میں ایران کا بنیادی انفراسٹرکچر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاملات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم امریکا اپنے مقاصد ہر صورت حاصل کرے گا۔

اوول آفس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج نے ایران کو عسکری لحاظ سے شکست دی ہے اور دنیا کو ایک بار پھر امریکا کی فوجی طاقت کا اندازہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی مسلح افواج دنیا کی طاقت ور ترین افواج میں شمار ہوتی ہیں اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

امریکی صدر نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سفارتی معاہدہ نہ ہوا تو امریکا ایران کا بنیادی انفراسٹرکچر مختصر وقت میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ہر صورت اپنے مقاصد حاصل کرے گا، چاہے وہ معاہدے کے ذریعے ہوں یا کسی اور طریقے سے۔

انھوں نے کہا کہ ہم یا تو معاہدہ کریں گے یا پھر اپنا کام مکمل کریں گے، اور یہ مشکل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ 9 کروڑ 10 لاکھ ایرانی عوام کو متاثر نہیں کرنا چاہتے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکا ایک گھنٹے کے اندر ایران کے پل، توانائی کی فراہمی، بجلی کے نظام اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان کے بقول، دوپہر کے چند ہی گھنٹوں میں ایران کے تمام پاور پلانٹس ختم کیے جا سکتے ہیں اور وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز بہت مشہور ہے، اگرچہ پہلے شاید بہت سے لوگوں نے اس کا نام بھی نہیں سنا تھا، لیکن یہ دنیا کی معیشت کے لیے ایک بہت بڑی دولت کا ذریعہ ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی کارروائی کا واحد مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے خواہاں نہیں، تاہم ان کے بقول اگرچہ یہ حکومت کی تبدیلی ہی ہے۔

امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے انتخابی سرویز میں پیچھے رہنے کے بعد کرپٹو کرنسی سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں بائیڈن حکومت کرپٹو کی سخت مخالف تھی اور اس شعبے سے وابستہ افراد کے خلاف تحقیقات اور قانونی کارروائیاں کی جا رہی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ جب ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا تو بائیڈن انتظامیہ نے اچانک کرپٹو کے حق میں مؤقف اختیار کر لیا، تحقیقات ختم کر دیں اور گرفتار افراد کو بھی رہا کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ کرپٹو کے حامی ہیں، تاہم اس معاملے میں اپنے بچوں کے کاروباری فیصلوں پر نہ تو اثر انداز ہوتے ہیں اور نہ ہی ان سے اس حوالے سے بات کرتے ہیں، کیونکہ ان کے بقول صدارتی منصب اس سے کہیں بڑی ذمہ داری ہے۔

امریکی صدر نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی پیش گوئی کی تھی کہ چار برس کے اندر امریکی اسٹاک مارکیٹ نئی بلندیوں کو چھوئے گی اور اب اس کے آثار نمایاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ مارکیٹ مزید تیزی سے اوپر جائے گی۔

تقریب کے دوران امریکی صدر نے ٹرمپ اکاؤنٹس پروگرام کا باضابطہ آغاز بھی کیا، جس کا مقصد نومولود بچوں کو ابتدائی مالی بنیاد فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل میں سرمایہ کاری اور بچت کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کر سکیں۔

اس موقع پر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ اس پروگرام میں اب تک 60 لاکھ بچوں کا اندراج ہو چکا ہے، جن میں 86 فی صد ایسے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی سالانہ آمدنی دو لاکھ ڈالر سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 14 لاکھ بچوں کے اکاؤنٹس میں امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ایک ہزار ڈالر کی ابتدائی رقم بھی جمع کرائی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ ان اکاؤنٹس میں موجود سرمایہ جلد نکالنے کے بجائے طویل مدت تک برقرار رکھیں تاکہ بچوں کو 18 سال کی عمر تک نمایاں مالی فائدہ حاصل ہو سکے۔

انھوں نے کہا کہ یہ مفت سرمایہ کاری بچت اکاؤنٹس بچوں کو کم عمری میں ہی مضبوط مالی بنیاد فراہم کریں گے۔ ان کے بقول، جس بچے کے پاس آج کوئی سرمایہ نہیں، وہ کم عمری میں ہی لاکھوں ڈالر کا مالک بن سکتا ہے اور ان اکاؤنٹس کی مالیت ایسے اعداد تک پہنچ سکتی ہے جس کا پہلے کبھی تصور بھی نہیں کیا گیا تھا۔

اس موقع پر ٹرمپ نے اوول آفس سے نیویارک اسٹاک ایکسچینج اور نیسڈیک کی افتتاحی گھنٹی بجا کر ایک منفرد روایت بھی قائم کی، جسے ان کے حامیوں نے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔

اوول آفس میں ایک تقریب کے دوران اس وقت دل چسپ صورتِ حال پیدا ہوگئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز کو سپریم کورٹ کا جج نامزد کرنے سے متعلق مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا۔ ان کے ریمارکس پر تقریب میں موجود شرکا قہقہوں سے گونج اٹھے۔

ٹرمپ نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر وہ ٹیڈ کروز کو سپریم کورٹ کے لیے نامزد کریں تو انہیں سینیٹ میں 100 فی صد ووٹ مل جائیں گے، کیونکہ تمام قانون ساز انہیں کسی نہ کسی طرح سینیٹ سے باہر بھیجنا چاہیں گے۔ ان کے اس طنزیہ جملے پر تقریب میں موجود شرکا بھی ہنس پڑے۔

آیت اللہ خامنہ ای کا آخری سفر؛ لاکھوں کا مجمع میت لے کر قُم کی جانب رواں دواں

جنازے کے موقع پر تہران میں فضا غم اور غصے سے بھری ہوئی ہے۔
اپ ڈیٹ 06 جولائ 2026 03:06pm

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی تہران میں ادا کی گئی نمازِ جنازہ کے بعد اب ان کی میت کا جلوس اگلے سفر کے لیے قُم روانہ ہوگیا ہے۔ ایرانی حکام نے بتایا ہے کہ سابق رہبرِ اعلیٰ کے جسدِ خاکی کو ایران کے شہر قم کے بعد پڑوسی ملک عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا بھی لے جایا جائے گا، جہاں لاکھوں لوگ ان کا آخری دیدار کر سکیں گے۔

سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا جلوس تہران کے بڑے مرکز امام خمینی گرینڈ مصلیٰ سے شروع ہوا، جہاں ان کا جسدِ خاکی گزشتہ دو دن سے آخری دیدار کے لیے رکھا گیا تھا۔

انتظامیہ کے لوگوں اور تقریب کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ جنازہ تہران کی سڑکوں پر تقریباً دس سے بارہ گھنٹے تک جاری رہے گا، جو دس کلومیٹر طویل راستے سے گزرتا ہوا آگے بڑھے گا۔

ترجمہ: شہید رہنما اور ان کے خاندان کے دیگر شہدا کے پاک جسدِ خاکی کو لے جانے والی گاڑی سوگوار لوگوں کے ایک بہت بڑے ہجوم کے درمیان تہران میں جنازے کے مقررہ راستے پر داخل ہو گئی ہے۔

یہ جلوس دماوند اسٹریٹ، امام حسین اسکوائر، انقلاب اسٹریٹ، انقلاب اسکوائر، آزادی اسٹریٹ، آزادی اسکوائر اور مہر آباد ہوائی اڈے کے قریب واقع شاہد لشگری ہائی وے سے گزرے گا۔

تہران کی ان تمام مشہور سڑکوں اور چوراہوں سے گزارنے کے بعد، آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو اگلی مذہبی رسومات کے لیے ایران کے مقدس شہر قم لے جایا جائے گا۔

اس موقع پر گرمی کے باوجود لاکھوں سوگوار اپنے رہنما کے آخری سفر میں شریک ہیں۔

ترجمہ: تہران کا مشہور انقلاب اسکوائر اور ولی عصر اسکوائر سوگواروں کے ہجوم سے پوری طرح بھر گئے ہیں۔

ایرانی نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ اور ٹی وی چینل ’پریس ٹی وی‘ نے بتایا کہ مرحوم رہبرِ اعلیٰ کی آخری رسومات کے لیے تہران کی سڑکوں پر لاکھوں سوگوار موجود ہیں۔ پریس ٹی وی کے مطابق، سرکاری حکام نے اسے ملک کی جدید تاریخ کا سب سے بڑا عوامی اجتماع قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اٹھائیس فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایک مشترکہ حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای، اُن کی صاحبزادی، بہو، داماد اور کمسن نواسی شہید ہو گئے تھے۔

اتوار کو تہران کے بڑے مذہبی مرکز امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں سابق سپریم لیڈر، ان کی صاحبزادی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری، بہو زہرا حداد عادل اور ان کی معصوم و کم سن نواسی زہرا محمدی کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی تھی۔

یہ جنازہ مشہور عالمِ دین آیت اللہ جعفر سبحانی نے تین مرحلوں میں پڑھایا۔

اس بڑے اور تاریخی جنازے میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں سمیت ملک کی پوری سیاسی اور عسکری قیادت شریک ہوئی۔

شہید رہنما کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای پہلی صف میں موجود تھے، تاہم ان کے چوتھے بھائی اور ایران کے موجودہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سیکیورٹی کے سخت خدشات کی وجہ سے اپنے والد کے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے۔

جنازے کے موقع پر تہران میں لاکھوں سوگواروں کا ایک سمندر دیکھا گیا، جہاں فضا غم اور غصے سے بھری ہوئی تھی۔

بی بی سی فارسی کے مطابق، جیسے ہی نمازِ جنازہ ختم ہوئی تو وہاں موجود انتظامیہ کے لوگوں اور منتظمین نے مائیک پر مجمعے کو پکارتے ہوئے کہا کہ وہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے تیار ہو جائیں، جس پر لاکھوں لوگوں نے ایک زبان ہو کر انتقام، انتقام اور امریکا مردہ باد کے شدید نعرے لگائے۔

عراق میں موجود ایران کے ثقافتی سفیر غلام رضا اباذری نے آخری رسومات کے اگلے سفر کے بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی سات جولائی کی شام کو عراق کے مقدس شہر نجف پہنچایا جائے گا، جہاں آٹھ جولائی کو نجف اور کربلا میں بڑے جلوس نکالے جائیں گے۔

اس کے بعد نو جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے مزار کے احاطے میں ان کی تدفین کی جائے گی۔

ایران میں اس وقت سات دن کے سرکاری سوگ کا اعلان ہے اور دور دراز سے آنے والے کروڑوں مسافروں کے رکنے کے لیے پانچ ہزار اسکول کھول دیے گئے ہیں۔ نو جولائی کو مشہد میں ہونے والی تدفین میں تقریباً دو کروڑ لوگوں کی شرکت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایران اور قطر کے درمیان سمندری راستے سے تجارت بحال

طویل بندش کے بعد خلیجی سمندر میں مال بردار بحری جہازوں کی واپسی
شائع 06 جولائ 2026 08:46am

ایران اور قطر کے درمیان گزشتہ تقریباً پانچ مہینوں سے معطل سمندری تجارت اور بحری جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں تعینات ایران کے تجارتی مشیر عباس عبدالخانی نے اتوار کے روز ایران کے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ دوحہ میں ایرانی سفارت خانے اور قطری حکام کے درمیان آپسی بات چیت اور بہترین تال میل کے بعد ایران کی دیر بندرگاہ اور قطر کی الرویس بندرگاہ کے درمیان بحری جہازوں کی نقل و حرکت کا سلسلہ دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔

یہ دونوں بندرگاہیں آمنے سامنے واقع ہیں اور ان کے ذریعے علاقے میں بڑے پیمانے پر روزمرہ کی تجارت کی جاتی ہے۔

تاہم، خلیج کے اندر اور باہر آنے جانے والے راستے اب بھی کچھ حد تک تنازع کا شکار ہیں۔

یہ سمندری راستہ ایک ایسے وقت پر کھولا گیا ہے جب گزشتہ ماہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک عارضی معاہدہ طے پایا تھا، جس میں چار ماہ سے جاری لڑائی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس معاہدے کے تحت طے کیا گیا تھا کہ خلیج کے علاقے میں سمندری آمد و رفت کو جنگ سے پہلے والی پرانی صورتحال پر واپس لایا جائے گا۔

اس جنگ کے دوران ایران کی دیر بندرگاہ کو بھی کئی بار حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا جس سے تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی تھیں۔

عباس عبدالخانی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ سفارتی کوششوں کی وجہ سے اب دونوں ملکوں کے تجارتی جہاز دوبارہ مال لا اور لے جا سکیں گے۔

اس سے پہلے جون کے آخری دنوں میں ایران کی تجارتی ترقی کی تنظیم کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بھی سرکاری میڈیا کو بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی سب سے بڑی جبل علی بندرگاہ پر بھی ایرانی سامان کو کلیئرنس ملنا شروع ہو گئی ہے۔

ان تمام تبدیلیوں سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ خلیج کے دونوں کناروں پر آباد ملکوں کے درمیان حالات اب آہستہ آہستہ معمول پر آ رہے ہیں اور کاروباری زندگی دوبارہ پٹڑی پر لوٹ رہی ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں لہراتے سرخ جھنڈوں کا کیا مطلب ہے؟

ایران میں سرخ رنگ کے جھنڈے کا ایک خاص اور بڑا مطلب ہوتا ہے۔
شائع 05 جولائ 2026 02:25pm

ایران کے دارالحکومت تہران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور نمازِ جنازہ کے دوران ہر طرف لال رنگ کے بینر اور جھنڈے دکھائی دے رہے ہیں، جنہیں دیکھ کر بہت سے لوگ ان کا مطلب جاننا چاہتے ہیں۔

ایران میں سرخ رنگ کے جھنڈے کا ایک خاص اور بڑا مطلب ہوتا ہے۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ کسی کا خون ناحق بہایا گیا ہے اور جب تک اس کا بدلہ یا انتقام نہ لے لیا جائے، یہ جھنڈا نہیں اتارا جاتا۔

تہران کے بڑے امام خمینی مصلیٰ میں جمع ہونے والے لاکھوں سوگواروں نے ان لال جھنڈوں کو ہاتھوں میں اٹھا کر اپنے لیڈر کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا کھلا اعلان کیا ہے۔

ان سرخ جھنڈوں پر خاص نعرے لکھے ہوئے ہیں جن میں سب سے زیادہ نمایاں نعرہ ’یا لثارات الحسین‘ ہے، جس کا مطلب ہے ’اے حسین کا بدلہ لینے والوں‘۔

اس کے ساتھ ہی ایک نیا نعرہ ’یا لثارات الخامنہ ای‘ بھی لکھا دیکھا گیا ہے، جس کا مطلب ہے ’اے خامنہ ای کا بدلہ لینے والوں‘۔

تاریخ بتاتی ہے کہ یہ نعرہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کی یاد دلاتا ہے، جنہیں سن 680 ہجری میں کربلا کے میدان میں شہید کیا گیا تھا اور ان کی یہ قربانی ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی سب سے بڑی علامت ہے۔

پرانے زمانے میں بھی جب جنگجوؤں کو بدلہ لینے کے لیے اکٹھا کرنا ہوتا تھا تو یہی نعرہ لگایا جاتا تھا، اور اب خامنہ ای کے نام کے ساتھ اس نعرے کو ملا کر لگانے کا مطلب یہ ہے کہ ایرانی عوام اپنے لیڈر کو مارنے والوں سے سیدھا اور سخت بدلہ مانگ رہے ہیں۔

جنازے کے اس بڑے اجتماع میں ان لال جھنڈوں کے ساتھ ساتھ ایران کے قومی جھنڈے اور پیلے رنگ کے جھنڈے بھی لہرائے جا رہے ہیں، جو کہ حزب اللہ تنظیم کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ان تمام جھنڈوں کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ اس نقصان پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے جنازے میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟ امریکی میڈیا کا بڑا دعویٰ

مجتبیٰ خامنہ ای کی اپنے والد کے جنازے سے غیر حاضری نے ان کی عوامی موجودگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اپ ڈیٹ 06 جولائ 2026 08:31am

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سیکیورٹی کے سخت خدشات کے باعث تہران میں ہونے والی اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی اپنے والد کے جنازے سے غیر حاضری نے ان کی عوامی موجودگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اس تقریب کے انتظامات سنبھالنے والے ایرانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کے دن مشہد میں ہونے والی اپنے والد کی تدفین کی تقریب میں شرکت کی خواہش ظاہر کی تھی۔ لیکن ایرانی سیکیورٹی حکام نے ان کی یہ درخواست مسترد کر دی، کیونکہ سیکیورٹی اداروں کو شدید خطرہ ہے کہ اسرائیل اس موقع پر انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کے خاندان پر جنگ کے پہلے ہی دن بڑی مصیبت ٹوٹ پڑی تھی جب اسرائیل نے ایک حملے میں ان کی بیوی اور بیٹے کو ہلاک کر دیا تھا۔ بدھ کے روز ان دونوں کی تدفین کی گئی تھی اور مجتبیٰ خامنہ ای سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس جنازے میں بھی شریک نہیں ہو پائے تھے۔

مجتبیٰ خامنہ ای رواں سال مارچ کے مہینے سے اب تک کسی عوامی جگہ پر نظر نہیں آئے ہیں۔

تہران میں جاری آیت اللہ خامنہ ای تعزیتی تقریب میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، عدلیہ کے سربراہ اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈروں سمیت تمام بڑے سرکاری افسران موجود تھے۔

جمعے کے دن تہران کی مصلیٰ مسجد سے ان رسومات کا آغاز ہوا، جہاں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے تابوتوں کو ایران کے جھنڈے میں لپیٹ کر رکھا گیا تھا اور اس کے اوپر ایک کالی پٹی اور سیاہ و سفید چوکور اسکارف سجایا گیا تھا۔

مسجد کے باہر سوگواروں کا ایک بہت بڑا ہجوم جمع تھا جبکہ سرکاری میڈیا کے مطابق اندرونی تقریب کے دوران غمگین موسیقی کی دھنیں بھی بجائی جا رہی تھیں۔ آخری رسومات کا یہ سلسلہ اگلے پورے ہفتے جاری رہے گا اور نو جولائی کو مشہد میں تدفین کے ساتھ ختم ہوگا۔

امریکا ایران مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہوگا؛ عرب میڈیا کا دعویٰ

مذاکرات کا آغاز ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔
شائع 05 جولائ 2026 08:56am

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔

عرب میڈیا آؤٹ لیٹ ’العربیہ‘ نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مصکارات کا دوسرا دور 11 جولائی سے پاکستان میں شروع ہوگا۔

یہ مذاکرات دونوں ملکوں کے درمیان معاملات کو بہتر بنانے اور کسی معاہدے تک پہنچنے کی جاری کوششوں کا حصہ ہیں، جس کی میزبانی اس بار پاکستان کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق ان مذاکرات کا آغاز ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔

العربیہ نے اپنے دعوے میں بتایا کہ اس اہم بیٹھک میں ایران پر لگی عالمی پابندیوں کو ہٹانے، دنیا بھر میں روکے گئے ایران کے پیسوں یعنی منجمد اثاثوں کی بحالی اور ایران کے ایٹمی پروگرام جیسے بڑے اور حساس معاملات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

واضح رہے کہ یکم جولائی کو بھی قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان بالواسطہ بات چیت ہوئی تھی، جہاں وہ رابطے جاری رکھنے پر راضی ہوئے تھے۔

العربیہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس اہم ترین اجلاس میں شرکت کے لیے ایرانی وفد کے ناموں اور ارکان کا حتمی فیصلہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد کیا جائے گا۔

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

آیت اللہ خامنہ ای کے صرف تین بیٹے نمازِ جنازہ میں شریک ہوئے۔
اپ ڈیٹ 05 جولائ 2026 12:34pm
2 گھنٹے قبلایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ اور ان کے اہلِ خانہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی
2 گھنٹے قبلایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ اور ان کے اہلِ خانہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی
ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای تہران کی مسجد میں اپنے والد کی نمازِ جنازہ میں پہلی صف میں موجود تھے۔
ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای تہران کی مسجد میں اپنے والد کی نمازِ جنازہ میں پہلی صف میں موجود تھے۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے ارکان کی نمازِ جنازہ پورے مذہبی احترام اور انتہائی غمگین ماحول میں ادا کر دی گئی ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے سابق رہبرِ اعلیٰ اور ان کے اہلِ خانہ کے آخری دیدار کے لیے تہران کے بڑے مذہبی مرکز امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں لاکھوں سوگواروں کا سمندر اُمڈ آیا۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق یہ نمازِ جنازہ مشہور عالمِ دین آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی، جسے سیکیورٹی اور ہجوم کی وجہ سے تین الگ الگ مرحلوں میں مکمل کیا گیا۔

پہلے مرحلے میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ہوئی، جبکہ دوسرے مرحلے میں ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور بہو زہرا حداد عادل کا جنازہ پڑھایا گیا۔

تیسرے اور آخری مرحلے میں علی خامنہ ای کی چھوٹی اور کم سن نواسی زہرا محمدی کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔

اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات تھے اور فضا میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا تھا۔

بی بی سی فارسی کے مطابق، جیسے ہی نمازِ جنازہ ختم ہوئی تو وہاں موجود انتظامیہ کے لوگوں اور منتظمین نے مائیک پر مجمعے سے علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے ’انتقام، انتقام‘ کے جوشیلے نعرے لگوائے، جس کا جواب وہاں موجود لاکھوں لوگوں نے ’امریکا مردہ باد‘ کے نعروں سے دیا۔

اس بڑے جنازے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای صفِ اول میں کھڑے دکھائی دیے۔ تاہم ان کے چوتھے بھائی اور ایران کے موجودہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنے والد اور خاندان کے دیگر ارکان کے جنازے میں شریک نہیں ہو پائے۔

جنازے کے اس بڑے اجتماع میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں سمیت ملک کی تمام بڑی سیاسی و عسکری قیادت موجود تھی۔

قبل ازیں، پاکستان کی طرف سے بھی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران پہنچ کر تعزیتی بیٹھک میں شرکت کی، دعا مانگی اور ایرانی صدر سے گہرے دکھ کا اظہار کیا تھا۔

عراق میں ایران کے ثقافتی سفیر غلام رضا اباذری نے آخری رسومات کے اگلے سفر کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی سات جولائی کی شام کو عراق کے مقدس شہر نجف پہنچایا جائے گا، جہاں آٹھ جولائی کو نجف اور کربلا میں بڑے جلوس نکالے جائیں گے۔

حکومتِ ایران نے ملک میں سات دن کے سوگ کا اعلان کر رکھا ہے اور دور دراز سے آنے والے کروڑوں مسافروں کے رکنے کے لیے پانچ ہزار اسکولوں کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔

تہران اور قم سے ہوتا ہوا یہ جنازہ نو جولائی کو مشہد پہنچے گا جہاں حضرت امام رضا علیہ السلام کے مزار کے احاطے میں تدفین کی جائے گی، جس میں دو کروڑ تک لوگوں کی شرکت کا امکان ہے۔