آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث سمندری ٹریفک تقریباً رُک گئی ہے اور بڑی تعداد میں جہاز مختلف مقامات پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔
ایک بین الاقوامی میری ٹائم انٹیلی جنس ادارے ’ونڈورڈ‘ کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے تیسرے ہفتے میں بھی اس اہم گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت معمول پر نہیں آ سکی ہے، جس سے عالمی تجارت اور خاص طور پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلیج عرب میں اس وقت مجموعی طور پر 686 جہاز موجود ہیں، جن میں سے زیادہ تر یعنی تقریباً 400 جہاز خلیج عمان میں رکے ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بہت سے جہازوں کے مالکان فوری طور پر لمبے متبادل راستے اختیار کرنے کے بجائے آبنائے ہرمز کے کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ اضافی اخراجات اور وقت کے ضیاع سے بچا جا سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق 15 مارچ سے 22 مارچ کے درمیان صرف 16 جہاز ایسے تھے جنہوں نے اپنے خودکار شناختی نظام یعنی اے آئی ایس کو آن رکھتے ہوئے آبنائے ہرمز کو عبور کیا۔
عام حالات میں اس گزرگاہ سے روزانہ درجنوں جہاز گزرتے ہیں، اس لیے یہ تعداد غیر معمولی طور پر کم سمجھی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں ایک اور تشویشناک پہلو بھی سامنے آیا ہے جس کے مطابق کم از کم آٹھ بڑے جہاز، جن کی لمبائی 290 میٹر سے زیادہ ہے، ایسے دیکھے گئے جو بغیر اے آئی ایس کے کام کر رہے تھے۔
ایسے جہازوں کو عام طور پر ’ڈارک شپ‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی نقل و حرکت کو ٹریک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ان ڈارک شپس میں ایک ایسا جہاز بھی شامل تھا جس پر امریکی محکمہ خزانہ کی پابندیاں عائد ہیں۔
یہ جہاز 16 مارچ کو متحدہ عرب امارات کی اہم بندرگاہ خور فکان کے قریب دیکھا گیا، جس کے بعد اس نے اپنا اے آئی ایس بند کر دیا۔
خور فکان بندرگاہ تیل بردار جہازوں کے لیے ایک اہم مرکز سمجھی جاتی ہے، اس لیے اس واقعے نے مزید خدشات کو جنم دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں یہ تعطل طویل عرصے تک جاری رہا تو اس کے اثرات نہ صرف تیل کی عالمی سپلائی بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، فی الحال صورتحال غیر یقینی ہے اور جہاز مالکان و عالمی مارکیٹ دونوں احتیاط کے ساتھ حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے جاری کی گئی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کردہ ایک ویڈیو تیزی سے انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہے جس میں امریکا سے بدلہ لینے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ اس ویڈیو کا اختتام ایک میزائل حملے پر ہوتا ہے جو نیویارک میں نصب مشہورِ زمانہ مجسمہ آزادی سے ٹکراتا ہے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ویڈیو میں مجسمہ آزادی کا سر بدل کر اس کی جگہ ایک قدیم شیطانی دیوتا ’بعل‘ کا سر لگا دکھایا گیا ہے، جسے مذہبی اور تاریخی حوالے سے طاقت اور برائی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
روسی خبر رساں ادارے ’آر ٹی‘ نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے یہ کلپ شیئر کیا ہے جس کا عنوان ’سب کی طرف سے ایک ہی انتقام‘ رکھا گیا ہے۔
یہ ویڈیو دراصل امریکا کی جانب سے جاری طویل مظالم اور ماضی کے مختلف تنازعات کو ایک کہانی کی شکل میں پیش کرتی ہے۔
ویڈیو کا آغاز شمالی امریکا کے مقامی قبائل کی زمینوں سے ہوتا ہے جس کے بعد جاپان کے شہر ہیروشیما کے مناظر دکھائے جاتے ہیں جہاں دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکا نے ایٹمی بمباری کی تھی۔
اس کے بعد کہانی ویتنام کے جنگ زدہ کھیتوں، یمن کی تباہی اور غزہ کے پناہ گزین کیمپوں تک پہنچتی ہے۔
ہر منظر میں وہاں موجود کردار آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں، جو ان ممالک میں امریکی فوجی مداخلت یا مدد سے ہونے والی مبینہ تباہی کی طرف اشارہ ہے۔
اس ویڈیو میں ایپسٹین جزیرے میں کھڑی ایک بچی کو بھی دکھایا گیا ہے جو آسمان کی جانب دیکھ رہی ہے، اس کا مقصد امریکی اشرافیہ اور عالمی رہنماؤں کے غلیظ کارناموں کی طرف اشارہ دلانا تھا۔
کہانی میں اہم موڑ اس وقت آتا ہے جب جنوبی ایران کے شہر میناب کے ایک اسکول کی بچی کو دکھایا جاتا ہے۔
یہ منظر اس اسکول پر ہونے والے اس ٹوما ہاک میزائل حملے کی یاد دلاتا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 160 سے زائد بچیاں جاں بحق ہوئیں اور اس کا الزام امریکا پر لگایا گیا تھا۔
ویڈیو میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں، جو بالترتیب 2020 اور فروری 2026 میں امریکی و اسرائیلی کارروائیوں میں مارے گئے تھے۔
ویڈیو کے آخری لمحات میں ایک میزائل بادلوں کو چیرتا ہوا مجسمہ آزادی سے ٹکراتا ہے اور اسے تباہ کر دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس میں ’بعل‘ کا سر دکھانا ایک گہرا علامتی پیغام ہے، کیونکہ یہ کردار تاریخی طور پر بت پرستی اور اخلاقی بگاڑ سے منسوب کیا جاتا ہے۔
ایران کے اسرائیل اورامریکا پر وارجاری، صرف 40 منٹ کے دوران 400 میزائل داغ دیے، جس کے نتیجے میں تل ابیب میں متعدد عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور کئی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی، کویت، اردن، بحرین میں بھی امریکی فوجی اڈوں کونشانہ بنایا گیا، جبکہ اسرائیلی حکام کے مطابق بڑی تعداد میں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اسرائیل پر حملوں کی ایک اور بڑی لہر میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں تل ابیب میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں اور کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ شہر میں خطرے کے سائرن طویل وقت تک بجتے رہے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق بنی براک کے علاقے میں حملوں کے نتیجے میں کم از کم بارہ افراد زخمی ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران زخمیوں کی تعداد دو سو تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے حدیرہ میں واقع ایک بڑے پاور پلانٹ کو بھی میزائل حملے میں نشانہ بنایا، جس کے باعث وہاں آگ بھڑک اٹھی۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ایک ہی دن میں ہونے والا پانچواں بڑا حملہ تھا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ ایران نے چالیس منٹ کے دوران سینکڑوں میزائل داغے۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، اور کویت، اردن اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
عرب ممالک کی جانب سے دفاعی کارروائیوں کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ اماراتی وزارت دفاع کے مطابق ایران سے داغے گئے متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا، جبکہ سعودی عرب نے بھی اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے بیلسٹک میزائل کو ناکام بنانے کا اعلان کیا۔ عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ بیس سے زائد ڈرونز کو مار گرایا گیا۔
اُدھر لبنان سے حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، جس کے نتیجے میں شمالی شہر کرمیل میں دو افراد زخمی ہوئے، جبکہ مقامی اسپتالوں میں متعدد زخمیوں کو منتقل کیا گیا۔
لبنانی فوج کے مطابق ایرانی میزائلوں کے کچھ حصے لبنانی علاقے میں گرے ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ لبنان ان حملوں کا ہدف نہیں تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق میزائلوں کو راستے میں روکنے کی کوشش کی گئی جس کے بعد ان کا ملبہ مختلف علاقوں میں گرا۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے ایک نیا قدم اٹھاتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے لیے قانون سازی کی تیاری شروع کر دی ہے، جس نے عالمی سطح پر تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
عرب نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق، پارلیمنٹ میں ایک قانونی مسودہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں اور آئل ٹینکرز سے فیس وصول کی جائے گی۔
ایرانی پارلیمنٹ کی متعلقہ کمیٹی کے سربراہ کے مطابق یہ اقدام اس بنیاد پر کیا جا رہا ہے کہ ایران اس بحری گزرگاہ کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا ہے، اس لیے دیگر عالمی تجارتی راہداریوں کی طرح یہاں بھی فیس لینا ایک ”فطری عمل“ ہے۔
ایران پہلے ہی اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کے اختیار کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے، اور یہ مطالبہ اس کی جنگ بندی کی شرائط میں بھی شامل ہے۔
دوسری جانب اس پیش رفت کے عالمی معیشت پر اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں، خاص طور پر تیل کی عالمی منڈی اس سے متاثر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ماہر معاشیات ولیم لی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے اسٹریٹیجک ذخائر سے 172 ملین بیرل تیل جاری کرنا ایک ”نفسیاتی چال“ ہے تاکہ مارکیٹ کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ تیل کی سپلائی برقرار رہے گی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ خلیج کے علاقے سے روزانہ 10 سے 15 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس کا بڑا حصہ ایشیائی ممالک کو جاتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا خود تیل برآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے وہ کسی حد تک محفوظ ہے، لیکن عالمی منڈی میں خلا کو مکمل طور پر پُر کرنا آسان نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی ذخائر کے استعمال سے وقتی طور پر قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں سپلائی کی کمی برقرار رہ سکتی ہے۔ ولیم لی کے مطابق اصل مسئلہ جنگ کا دورانیہ ہے، اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو تیل کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ دیگر بڑی معیشتیں بھی کردار ادا کریں، خاص طور پر چین، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ تاہم اب تک چین کی جانب سے اپنے ذخائر استعمال کرنے کے کوئی واضح اشارے نہیں ملے۔
ادھر عالمی منڈی میں یہ خدشہ بھی بڑھ رہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا نئی پابندیاں تیل کی ترسیل کو مزید متاثر کر سکتی ہیں۔
یہ بحری راستہ دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے گزرنے والی سپلائی میں کسی بھی خلل کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
سابق سربراہ سی آئی اے لیون پینیٹا نے کہا کہ اسرائیل نے صدر ٹرمپ کو آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے پر قائل کیا۔، اس یقین دہانی کے ساتھ کہ اس اقدام سے ایران میں رجیم چینج ممکن ہو جائے گا۔
لیون پینیٹا کے مطابق اسرائیلی حکام کا خیال تھا کہ اگر سپریم لیڈر کو ہٹا دیا جائے تو ایران کا موجودہ نظام کمزور پڑ جائے گا اور سیاسی تبدیلی کی راہ ہموار ہوگی۔
تاہم انہوں نے کہا کہ یہ اندازہ درست ثابت نہیں ہوا اور زمینی حقائق اس کے برعکس نکلے۔
سابق سی آئی اے سربراہ نے اس حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل دونوں نے اس معاملے میں ’احمقانہ طور پر غلط اندازہ‘ لگایا۔
سابق سربراہ سی آئی اے لیون پینیٹا نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا اسرائیل نے ٹرمپ کو یقین دلایا تھا کہ خامنہ ای کی شہادت سے رجیم چینج ہو جائے گا، اسرائیل اور امریکا دونوں ہی نے احمقانہ طور پر غلط حساب کتاب کیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہیگسیتھ وزیر دفاع نہیں، ٹرمپ کا سہولت کار ہے، صدر جادوئی باتیں چھوڑیں، اب فوجی قوت سے ہرمز کھولنے کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ یہ جانی و مالی لحاظ سے بہت مہنگا آپشن ہے، ورنہ ٹرمپ کی ناکامی یقینی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان بیانات اور مؤقف میں مزید سختی دیکھنے میں آرہی ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا دنیا میں آٹھ جنگیں ختم کرا چکا ہے اور ایک جنگ میں کامیابی کے قریب ہے، جبکہ ان کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کھل کر اس کا اظہار نہیں کر رہا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو تباہ کر دیا ہے اور ایران میں اس وقت ایسی کوئی قیادت موجود نہیں جو سپریم لیڈر بن سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی قیادت کھل کر کسی معاہدے کی بات کرے تو انہیں اپنے ہی ملک میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری معاملات میں پانچ روزہ ٹائم لائن میں توسیع کا فیصلہ صدر ٹرمپ کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے پندرہ نکاتی منصوبے پر کئی غلط فہمیاں موجود ہیں اور ایران کو ان سے باہر آنا ہوگا۔
وائٹ ہاؤس ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے صورتحال کو تسلیم نہ کیا تو امریکا مزید سخت کارروائی کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا خطے میں استحکام اور تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے۔
ایرانی مؤقف اس کے برعکس ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیج رہا ہے، لیکن تہران کا فی الحال براہ راست مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا بلکہ تنازع کا مستقل اور جامع حل چاہتا ہے، جس میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ اور جوابدہی شامل ہو۔
ایران نے امریکا کے پندرہ نکاتی منصوبے کو بھی مسترد کر دیا ہے اور اس کے جواب میں اپنی شرائط پیش کی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکا کے مطالبات حد سے زیادہ ہیں اور وہ کسی بھی قسم کی ”ڈکٹیشن“ قبول نہیں کریں گے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک اس کی شرائط تسلیم نہیں کی جاتیں، دفاعی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ایران کی جانب سے پیش کی گئی شرائط میں فوری جنگ بندی، مستقبل میں حملے نہ کرنے کی ضمانت، نقصانات کا معاوضہ، اتحادی گروہوں پر حملوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر اپنے اختیار کو تسلیم کروانا شامل ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے، افزودگی مراکز کو بند کرنے اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنے پر زور دے رہا ہے۔
اس دوران پاکستان سمیت کچھ ممالک کی جانب سے ثالثی کی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم اب تک کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے پاکستان کی کوششوں کو مثبت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک سے رابطے میں ہیں۔
ایران نے مذاکرات کی خبروں کے درمیان امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی سرزمین یا جزائر پر حملے نہ روکے گئے یا کسی نئی جارحیت کی کوشش ہوئی تو وہ آبنائے باب المندب کو بند کرنے جیسے اقدامات سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ دشمن ایران کے ایک جزیرے پر قبضے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک فوجی ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کی صورت میں دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے نیا محاذ کھولا جاسکتا ہے۔
تسنیم نیوز کے مطابق فوجی ذریعے نے کہا ہے کہ ایران مسلسل دشمن کی تیاریوں اور پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ممکنہ کارروائی کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے ایران کی توانائی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران ماضی میں بھی اسرائیلی جارحیت کا سخت جواب دے چکا ہے اور اگر دشمن نے اب بھی سبق نہ سیکھا تو اسے ایک نئی آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ دشمن ایک علاقائی ملک کی مدد سے ایرانی جزیرے پر قبضے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔
آبنائے باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملاتی ہے، اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔
حالیہ برسوں میں یمن کی خانہ جنگی اور بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملوں کے باعث اس گزرگاہ کی سیکیورٹی عالمی توجہ کا مرکز بنی رہی ہے۔ یمن میں موجود ایران نواز حوثی گروپ ماضی میں اس علاقے میں جہازوں کو نشانہ بناتا رہا ہے اور عندیہ دے چکا ہے کہ ایران کے اشارے پر وہ اس راستے کو بند بھی کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے صوبہ بوشہر میں واقع ساؤتھ پارس گیس فیلڈ سے منسلک تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک اور اسرائیل کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
اس صورت حال کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ان حملوں سے الگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن کا اس کارروائی سے کوئی تعلق نہیں، اور توانائی تنصیبات پر حملوں سے گریز کی ہدایت بھی کی تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ جاری رہنے کی صورت میں خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھے گی، جبکہ باب المندب کی بندش سے عالمی سطح پر جاری معاشی بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جنگ صرف ایران کی طے کردہ شرائط پر ختم ہوگی۔ ایرانی حکام نے اپنی پانچ اہم شرائط بھی سامنے رکھ دی ہیں، جس میں جنگ کے دوران ہوئے نقصانات کی تلافی بھی شامل ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے امریکی ایف 18 جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے سرکاری نشریاتی ادارے کے ذریعے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے جنوبی ایران کے علاقے چاہ بہار میں ایک امریکی ایف 18 جنگی طیارے کو نشانہ بنایا، جو بعد ازاں بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہو گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ مغربی ممالک کے جنگی طیاروں کے خلاف ایران کا چوتھا کامیاب حملہ ہے، جس میں مقامی طور پر تیار کردہ جدید دفاعی نظام استعمال کیا گیا ہے۔
پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایرانی بحریہ کے جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے کی گئی، جسے بسیج فورس چلا رہی تھی۔
ایرانی میڈیا نے اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں فضا میں جنگی جہاز کو نشانہ بنتے دیکھا جاسکتا ہے تاہم یہ ویڈیو امریکا کے ایف 18 طیارہ کی ہی ہے، اس حوالے سے کوئی حتمی تصدیق نہیں کی جاسکی ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج (سینٹ کام) نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی جنگی طیارے کو مار گرانے کی خبر درست نہیں ہے۔
واضح رہے کہ ایف 18 جسے ایف اے 18 ہارنیٹ یا سپر ہارنیٹ بھی کہا جاتا ہے، امریکی بحریہ اور میرینز کا ایک جدید ملٹی رول جنگی طیارہ ہے جو عموماً بحیرہ عرب اور بحر ہند میں طیارہ بردار جہازوں سے آپریٹ کیا جاتا ہے۔
امریکی حکام نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں واضح کیا کہ خطے میں کسی بھی امریکی طیارے کے نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، ایران کا دعویٰ غلط ہے۔
چین نے پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی حمایت کردی ہے۔ چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے بیجنگ میں پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران جنگ کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پر پھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور بات چیت ہی اس بحران کا واحد مؤثر حل ہیں۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں سے متعلق ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ چین کشیدگی میں کمی، صورت حال کو قابو میں لانے اور مذاکرات کی بحالی میں معاون ہر کوشش کی حمایت کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کے حوالے سے لِن جیان نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام قائم رکھنا اور اہم بحری راستوں کو محفوظ بنانا عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین خطے کے ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر خلیج کے علاقے میں جلد از جلد امن و سکون کی بحالی کے لیے اقدامات کرے گا۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی عالمی سپلائی چین کے لیے بڑا نقصان ہے اور چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر توانائی کے مسائل کا حل تلاش کرے گا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے منگل کو اس بات کا اعلان کیا تھا کہ اسلام آباد امریکا اور ایران کے مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بھی شیئر کیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے مذاکرات کے لیے امریکی تجویز ایران کو پہنچا دی ہیں، جب کہ فریقین کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے پاکستان یا ترکیہ زیرِ غور ہیں۔
ایران نے امریکا کی جانب سے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جنگ صرف ایران کی طے کردہ شرائط پر ختم ہوگی۔ ایرانی حکام نے اپنی پانچ اہم شرائط بھی سامنے رکھ دی ہیں، جس میں جنگ کے دوران ہوئے نقصانات کی تلافی بھی شامل ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق ایران کے ایک سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایک سینئر ایرانی سیکیورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران امریکی ڈکٹیٹشن قبول نہیں کرے گا اور اپنی شرائط پوری ہونے تک جنگ اور دشمن پر حملے جاری رکھے گا۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکا نے مختلف سفارتی چینلز کے ذریعے مذاکرات کی کوششیں کیں مگر ایران کے نزدیک یہ تجاویز حقیقت سے کوسوں دور تھیں۔
ایران نے امریکی پیشکش کو چال قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے اور کہا کہ گزشتہ ادوار میں بھی مذاکرات کے دوران امریکا نے دھوکہ دیا اور ایران پر حملے کیے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے جنگ بندی پر رضامندی کے لیے پانچ شرائط رکھی ہیں:
ایران کے خلاف ہر قسم کی جارحیت اور حملے مکمل طور پر بند کیے جائیں۔
جنگ دوبارہ مسلط نہ ہونے کے لیے عملی اقدامات اور ٹھوس یقین دہانی کرائی جائے۔
جنگ کے دوران ایران کے نقصانات کی تلافی کی جائے۔
ایران کے علاوہ خطے میں تمام محاذوں اور مزاحمتی گروپوں کے خلاف بھی جنگ ختم کی جائے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کے حقِ حکمرانی اور مکمل خودمختاری کی بین الاقوامی سطح پر ضمانت دی جائے۔
یہ شرائط 28 فروری کو جنیوا مذاکرات میں ایران کی پیش کردہ شرائط سے ہٹ کر ہیں۔ ایران نے تمام ثالث ممالک کو واضح کیا ہے کہ جنگ کا خاتمہ ٹرمپ کی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ ایران کی شرائط پر ہوگا۔
دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تجویز ایران تک پہنچا دی ہے۔
ایرانی عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی تاہم امریکی تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ آیا یہ وہی 15 نکاتی امریکی منصوبہ ہے جس کی خبریں عالمی میڈیا میں سامنے آ چکی ہیں۔
ایرانی ذریعے کے مطابق مذاکرات کی کوششوں میں ترکیہ بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ممکنہ مذاکرات کے لیے پاکستان اور ترکیہ کی میزبانی پر غور کیا جارہا ہے۔
ترکیہ کی حکمران جماعت کے سینئر رہنما ہارون ارمغان نے تصدیق کی ہے کہ ترکیہ ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کر رہا ہے جبکہ پاکستان پہلے ہی اس ہفتے ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر چکا ہے۔
اس سے قبل ایران کی مسلح افواج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی صدر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کسی صورت امریکا کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کرے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے واضح کیا تھا کہ فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور ایران کی مکمل توجہ اپنی خودمختاری کے دفاع پر مرکوز ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم حالیہ دنوں میں ان کے مؤقف میں نرمی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی کچھ استحکام آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر اسرائیل کو شدید خدشات لاحق ہیں۔ اسرائیلی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران امریکی شرائط کو قبول نہیں کرے گا جبکہ امریکا مذاکرات کے دوران نرمی دکھا سکتا ہے، جس پر اسرائیل کو تحفظات ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مبینہ امریکی تجاویز میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سخت شرائط شامل ہیں۔ جس کے تحت ایران کو اپنی تمام موجودہ جوہری صلاحیت ختم کرنا ہوگی اور یہ یقین دہانی کرانی ہوگی کہ وہ مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
اس منصوبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اپنے علاقائی اتحادی گروہوں کی مالی اور عسکری امددد بند کرنا ہوگی اور آبنائے ہرمز میں بھی کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی جائے گی۔
ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت اور دوٹوک ردعمل دیا ہے۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں امریکی فوجی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔
ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتیوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خطے میں امریکا کی تمام سرگرمیوں، خصوصاً فوجی نقل و حرکت، پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ تہران امریکی اقدامات کو مسلسل مانیٹر کر رہا ہے اور اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
قالیباف نے سخت لہجے میں امریکا اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو کچھ جرنیلوں نے بگاڑا ہے، اسے فوجی درست نہیں کر سکتے بلکہ وہ نیتن یاہو کے وہم و گمان کا شکار بنیں گے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ ایران کے عزم کو آزمانے کی کوشش نہ کی جائے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار سے دو ہزار فوجی بھیجنے پر غور کر رہا ہے، جب کہ 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے ایک ہزار سے زائد اہلکاروں کی تعیناتی بھی متوقع ہے۔
اس کے علاوہ دو میرین یونٹس بھی خطے میں بھیجے جا رہے ہیں، جس سے تقریباً 5 ہزار میرینز اور ہزاروں سیلرز کی موجودگی میں اضافہ ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق اس وقت پہلے ہی تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں جب کہ مزید 4,500 میرینز خطے کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تعیناتیوں سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جہاں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان تناؤ پہلے ہی عروج پر ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورت حال میں کسی بھی غلط اندازے یا اقدام سے بڑے تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جب کہ ایران کی جانب سے سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
ایران جنگ نے دہائیوں سے چلتے آرہے پورے عالمی نظام یعنی ورلڈ آرڈر کو تہس نہس کردیا ہے۔ اب دنیا کا رُخ ہتھیاروں کی طاقت سے ہٹ کر مادی عوامل جیسے معدنیات، ٹیکنالوجی اور تجارتی راستوں کی جانب ہو گیا ہے۔ خود کو سُپر پاور کہنے والے امریکا پر اب یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ اتحادی اب محض ایک کال پر نہیں، بلکہ مشترکہ مفادات اور شراکت داری کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس کی ایک مثال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سات ممالک سے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کے اہم راستوں کے دفاع کے لیے اپنے جہاز بھیجنے کا مطالبہ ہے۔ جس پر ان کے اتحادیوں کا ردعمل انتہائی سست اور ہچکچاہٹ کا شکار رہا۔
ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے قانونی جواز پر بین الاقوامی بے یقینی غالباً ان ممالک کے لیے رکاوٹ بن رہی ہے کہ وہ پیٹرولیم کی روانی کے تحفظ کے لیے اپنی فوج کو خطرے میں ڈالیں۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریس کہہ چکے ہیں کہ ”یہ ہماری جنگ نہیں ہے؛ ہم نے اسے شروع نہیں کیا۔“
دوسری طرف ایران کے لیے اس کے دو طاقتور ترین شراکت دار چین اور روس بھی اس تنازع میں معمولی کردار ادا کر رہے ہیں۔ غزہ میں حماس نے ایران سے کہا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی خلیجی ممالک پر حملہ نہ کرے اور یہ کہ علاقائی ممالک کو ”اخوت کے رشتوں کو برقرار رکھنے“ کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔
عراق میں ایران نواز شیعہ ملیشیا زیادہ تر خاموش ہیں اور اپنے منافع بخش تیل اور گیس کے کاروباروں کو بچانے کو ترجیح دے رہی ہیں۔
ایران کے ”مزاحمتی بلاک“ کا صرف ایک اہم حصہ، لبنان کی حزب اللہ، دوبارہ ایران کی مدد کے لیے اسرائیل پر حملے کر رہی ہے، جس کا خمیازہ لبنان کے ان شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے جو اسرائیلی جوابی کارروائی کا نشانہ بنے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی ماہر اونا ہیتھوے نے کارنیگے اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”دنیا میں زیادہ تر ممالک ایک دوسرے پر حملہ نہیں کرتے، اور یہی عالمی نظام کی اصل طاقت ہے، مگر موجودہ جنگ اس نظام کو کمزور کر رہی ہے۔“
یہ جنگ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس میں جنگ کے اصول بدلتے نظر آ رہے ہیں۔ توانائی کے مراکز، بجلی گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگی براہ راست متاثر ہو رہی ہے۔
انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے بانی چیف پراسیکیوٹر لوئی مورینو اوکیمپو نے برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”ایسی کارروائیاں جہاں ایک ریاست دوسرے کی خودمختاری کو نقصان پہنچاتی ہو، بین الاقوامی قانون کے تحت جارحیت کے زمرے میں آتی ہیں۔“
لوئی مورینو کے مطابق دنیا ایک اصولی نظام سے نکل کر شخصی فیصلوں کے نظام کی طرف جا رہی ہے، جو آنے والے وقت میں خطرناک ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی مؤقف اس سے مختلف ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ریاست اپنی تنصیبات کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرے تو وہ جائز ہدف بن سکتی ہیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے قوانین کی تشریح پر بھی عالمی سطح پر اختلاف پایا جاتا ہے۔
امریکا کی قومی سلامتی سے وابستہ سابق افسر اور سیکیورٹی امور کے ماہر برائن کاٹولس کا کہنا ہے کہ ”یہ عالمی نظام کے لیے ایک نہایت نازک وقت ہے، جہاں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ اب ہر ملک اپنی مرضی کر سکتا ہے۔“
اُن کے مطابق امریکا کو اپنے اتحادیوں کی مکمل حمایت نہ ملنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اعتماد میں کمی آرہی ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہر مائیکل کوگلمین نے بھی واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک گفتگو کے دوران کہا کہ ”ایران جنگ ایک وسیع جیوپولیٹیکل مقابلے میں بدل گئی ہے، جہاں صرف فوجی طاقت ہی نہیں بلکہ سفارت کاری اور معاشی دباؤ بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔“
ان کے مطابق یہ صورتحال مستقبل میں عالمی طاقتوں کے تعلقات کو نئی شکل دے سکتی ہے۔
اس کے علاوہ اس جنگ نے سفارت کاری کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ جنگ کے بعد بالآخر امریکا مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار ہے۔ پاکستان اور دیگر ممالک کی جانب سے ثالثی کی کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دنیا اب صرف طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کے بجائے مذاکرات کو بھی اہمیت دے رہی ہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ”بات چیت ہمیشہ جنگ سے بہتر ہوتی ہے اور تمام فریقین کو امن کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔“
چینی نژاد کینیڈین پروفیسر جیانگ ژیچن نے امریکی پوڈکاسٹر ٹکر کارلسن کو دیے گئے ایک انٹوریو میں کہا کہ چین کی تجارتی جنگ، یوکرین کی جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی یہ جنگ، سب آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو میں روس، چین اور ایران سمیت سب کو ایک میز پر بٹھاتا اور کہتا کہ اب ایک ایسے ’نیو ورلڈ آرڈر‘ کا وقت آ گیا ہے جہاں ہم سب شراکت دار ہوں۔ ایک ایسی گفتگو کا آغاز ہو جہاں ہر ایک کا احترام ہو، جہاں امریکا اب کوئی بدمعاش نہیں بلکہ ایک ایسا ساتھی ہو جو ایک ایسا نیا معاشی نظام بنائے جس سے چند لوگوں کے بجائے سب کا فائدہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ ”اسرائیل کی اندرونی صورتحال دیکھیں تو وہاں اب منطقی طور پر کام نہیں ہو رہا۔ وہاں ایک طرح کا مذہبی جنون طاری ہو چکا ہے۔ اسرائیل سے آنے والی ویڈیوز میں ربی (مذہبی پیشوا) یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی یہ جنگ، چاہے تل ابیب کو تباہ ہی کیوں نہ کر دے، ہمارے لیے اچھی ہے کیونکہ یہ ہمارے ’مسیحا‘ کی آمد کا راستہ ہموار کرے گی۔“
مجموعی طور پر یہ جنگ ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں دنیا کا پرانا نظام، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہوا تھا، کمزور پڑتا نظر آرہا ہے۔
ایران جنگ عالمی نظام میں بڑی تبدیلیوں کا سبب بن رہی ہے۔ طاقت کا توازن بدل رہا ہے، نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں اور معیشت سے لے کر سیکیورٹی تک ہر شعبہ متاثر ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی جلد ختم نہ ہوئی تو دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے، جس میں طاقت اور اثر و رسوخ کی تقسیم پہلے سے مختلف ہوگی۔
اب سوال یہ ہے کہ آیا دنیا نئے اصولوں کے ساتھ ایک نیا عالمی نظام تشکیل دے گی یا موجودہ بے یقینی مزید تنازعات کو جنم دے گی۔
مغربی طاقتوں کو توانائی کی ترسیل کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے تحفظ میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، بحیرہ احمر میں حوثیوں کے خلاف مہنگی کارروائی بھی مطلوبہ نتائج نہ دے سکی۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق مغربی اتحادی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانے کے لیے حکمت عملی تیار کر رہے ہیں، تاہم ماضی کا تجربہ ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
بحیرہ احمر میں یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے گئے، سیکڑوں ڈرون اور میزائل مار گرائے گئے، لیکن اس کے باوجود چار جہاز ڈبو دیے گئے اور تجارتی راستہ آج بھی بڑی حد تک غیر محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، کیونکہ ایران ایک مضبوط فوجی طاقت رکھتا ہے، جس کے پاس جدید ڈرونز، بارودی سرنگیں اور میزائل موجود ہیں، جبکہ اس کی جغرافیائی پوزیشن بھی اسے برتری فراہم کرتی ہے۔
یہ آبی گزرگاہ دنیا کی سب سے اہم تجارتی راہداریوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے تقریباً 20 فیصد عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔
ایران کی جانب سے اس راستے کی بندش اور خلیجی ممالک میں توانائی تنصیبات پر حملوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو چکا ہے۔
کویت پیٹرولیم کے سربراہ شیخ نواف سعود الصباح نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا کوئی متبادل موجود نہیں اور یہ عالمی قوانین اور عملی طور پر پوری دنیا کی مشترکہ گزرگاہ ہے۔
اُدھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اس معاملے پر غور جاری ہے، جہاں کچھ ممالک اس آبی راستے کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات، حتیٰ کہ طاقت کے استعمال کی حمایت کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری قافلوں کا تحفظ بحیرہ احمر کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہے، کیونکہ ایران کی عسکری صلاحیت اور جغرافیائی برتری اسے ایک طاقتور حریف بناتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔ ابتدا میں انہوں نے امریکی بحریہ کی جانب سے جہازوں کی حفاظت کا عندیہ دیا، تاہم بعد میں کہا کہ اس ذمہ داری میں دیگر ممالک کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازوں کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر توانائی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان امریکا نے اپنے فوجی دستوں میں مزید اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق تقریباً دو ہزار امریکی فوجی، جو 82ویں ایئربورن ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں، خطے کی جانب روانہ کیے جا رہے ہیں تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مزید فوجی آپشنز فراہم کیے جا سکیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ فوجی ایک خاص یونٹ “’امیڈیٹ ریسپانس فورس‘ کا حصہ ہیں، جو دنیا کے کسی بھی حصے میں 18 گھنٹوں کے اندر تعینات ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس دستے میں ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل برینڈن ٹیگٹمیئر سمیت سینئر افسران اور تقریباً دو بٹالین شامل ہیں، جن میں ہر ایک میں لگ بھگ آٹھ سو اہلکار موجود ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید فوجی بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پہلے ہی تقریباً چار ہزار پانچ سو امریکی میرینز خطے کی جانب روانہ ہو چکے ہیں، جس کے بعد حالیہ تعیناتی کے ساتھ کل اضافی فوجیوں کی تعداد تقریباً سات ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ مجموعی طور پر اس وقت مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکا سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ پچاس ہزار فوجی ’ایپک فیوری‘ نامی آپریشن کا حصہ ہیں۔
ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان نئے فوجیوں کو مشرقِ وسطیٰ کے کس مقام پر تعینات کیا جائے گا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے مقامات پر رکھا جائے گا جہاں سے ایران تک فوری رسائی ممکن ہو۔
ماہرین کے مطابق ان فوجیوں کو ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز ’خارگ جزیرے‘ پر ممکنہ کارروائی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں امریکی فضائی حملے بھی کیے گئے تھے۔
اسی دوران مزید امریکی میرینز بھی خطے میں پہنچنے والے ہیں، جنہیں آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کو محفوظ بنانے یا دیگر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیراٹروپرز تیزی سے تعینات ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ان کے پاس بھاری اسلحہ اور بکتر بند گاڑیاں کم ہوتی ہیں، اس لیے ممکنہ طور پر انہیں دیگر فوجی یونٹس کے ساتھ مل کر استعمال کیا جائے گا۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں پاکستان کے مرکزی کردار نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے۔ تاہم پاکستان کی عالمی سطح پر اس اہمیت نے بھارت میں ہلچل مچا دی ہے۔
پاکستان میں ہونے والے ایران اور امریکا کے ممکنہ مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وانس جیسی اعلیٰ شخصیات کی شمولیت متوقع ہے، ان مذاکرات کا مقصد امریکا کو محفوظ طریقے سے ایران جنگ سے باہر نکالنا ہے۔
پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات نے ثابت کیا ہے کہ اپنی تمام تر اندرونی و بیرونی مشکلات کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پل کا کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان کے اس فعال سفارتی کردار کی خبریں سامنے آتے ہی بھارت میں ایک طوفان برپا ہو گیا ہے اور وہاں مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔
بھارت کی اپوزیشن جمات ’کانگریس‘ کے رہنما راہول گاندھی نے مودی کی خارجہ پالیسی کو ’مذاق‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ہماری خارجہ پالیسی دراصل وزیراعظم مودی کی ذاتی خارجہ پالیسی ہے اور آپ اس کا نتیجہ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ایک عالمی مذاق بن چکی ہے اور ہر کوئی اسے اسی نظر سے دیکھتا ہے۔“
کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیرا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ”جب مودی ملک کے اندر اپنی تعریفوں میں مصروف تھے، تب پاکستان نے ایک اہم عالمی موڑ پر خود کو سفارتی میز پر لا کھڑا کیا۔“
رکن پارلیمنٹ اور کانگریس رہنما جے رام رمیش نے بھی مودی کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ”پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں اور اپنا بیانیہ پیش کرنے کی صلاحیت مودی حکومت کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر رہی ہے۔“
کانگریس نے ایکس پر جاری ایک ویڈیو میں کہا کہ ”مودی کا اپنا ’وشو گرو‘ کا خطاب اب شہباز شریف کو دے دینا چاہیے“۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر بھارتی صارفین اس بات پر حیرانی اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں کہ اتنے بڑے عالمی بحران میں جہاں پاکستان، ترکیہ اور مصر جیسے ممالک مذاکرات کی میز پر موجود ہیں، وہاں بھارت کہیں نظر نہیں آ رہا۔
بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ نئی دہلی کے لیے ایک بڑی سفارتی ناکامی ہے کیونکہ وہ خود کو ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن عملی طور پر وہ اتنے اہم مذاکرات سے باہر ہے۔
معروف بھارتی مصنف اشوک سوین نے بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کو ”احمقانہ اور خود پسندانہ“ قرار دیا۔
بھارتی میڈیا کی جانب سے کیے جانے والے تبصروں میں مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
کئی صارفین نے لکھا کہ یہ بات شرمندگی کا باعث ہے کہ پاکستان جنگ رکوانے کے لیے ہونے والے مذاکرات کا مرکز بن گیا ہے جبکہ یہ مقام بھارت کو حاصل ہونا چاہیے تھا۔
کانگریس رہنما تیجسوی پرکاش نے بھی لکھا: ”امریکا، ایران اور اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات کے پیشِ نظر یہ توقع کی جا رہی تھی کہ بھارت اس جنگ کو ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔“
بھارت کے ایک تجزیہ کار نے اس صورتحال کو بھارت کے لیے ایک بڑے دھچکے سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ جہاں پاکستان امن کا سفیر بن کر ابھرا ہے، وہیں بھارت پر جنگ میں سہولت کار بننے کے الزامات لگ رہے ہیں۔
بہت سے صارفین نے اس بات پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے کہ بھارتی میڈیا اور حکومت کی جانب سے بڑی بڑی باتیں تو کی جاتی ہیں لیکن جب عالمی سطح پر اثر و رسوخ دکھانے کا وقت آیا تو پاکستان نے اپنی پوزیشن مضبوط کر لی۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں اور امریکی و ایرانی حکام کے ساتھ رابطوں نے پاکستان کو دوبارہ عالمی سفارت کاری کے منظر نامے پر نمایاں کر دیا ہے۔
اس پوری صورتحال سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہے کہ عالمی طاقتیں اب بھی خطے میں امن کے لیے پاکستان کی جغرافیائی اور سفارتی اہمیت کو تسلیم کرتی ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنے اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
عرب میڈیا ادارے العربیہ نے اسرائیلی اخبار ’یدیوت احرونوت‘ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کو خفیہ طور پر بتایا کہ ایران کے اعلیٰ رہنما نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی منظوری دی ہے تاکہ ممکنہ معاہدہ طے پایا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے شرائط کے مطابق مذاکرات پر آمادہ ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم ایران نے اس کی تردید کی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ بات چیت کسی ’اعلیٰ سطح کے فرد‘ کے ذریعے ہو رہی ہے، اگرچہ انہوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی، تاہم بعد ازاں انہوں نے ایرانی توانائی تنصیبات پر حملوں میں پانچ روز کی عارضی تاخیر کا اعلان کیا۔
ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ پانچ روز یا اس سے کم وقت میں ممکن ہو سکتا ہے، اور یہ کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملات مثبت سمت میں جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران کی جانب سے تاحال کسی بھی باضابطہ مذاکرات یا خفیہ رابطوں کی تصدیق نہیں کی گئی، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک بڑی چندہ مہم جاری ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان ایرانی عوام کی مدد کے لیے اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کے علاقے بڈگام سمیت مختلف علاقوں میں کمیونٹی رہنماؤں اور عمائدین کی جانب سے امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جہاں لوگ نقد رقم، سونا، گھریلو سامان اور حتیٰ کہ مویشی بھی عطیہ کر رہے ہیں۔
امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق نوجوان رضاکار گھر گھر جا کر چندہ جمع کر رہے ہیں۔ اس دوران خواتین نے بھی اپنے قیمتی زیورات جیسے سونے کی بالیاں، چوڑیاں اور انگوٹھیاں پیش کر دی ہیں۔
کئی خاندانوں نے روایتی تانبے کے برتن اور دیگر گھریلو اشیاء بھی عطیہ کیں، جبکہ بچوں نے بھی اپنے گلک توڑ کر اپنی جمع پونجی اس مہم کے حوالے کر دی۔
کچھ بچوں نے اپنے نئے نویلے کھلونے تک پیش کردیے۔
عینی شاہدین کے مطابق امدادی مراکز پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں بعض خواتین اپنی محدود جمع پونجی دیتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں۔
ایک خاتون شازیہ بتول نے کہا کہ اس کا دل ایران کے ساتھ ہے اور وہ اپنی واحد سونے کی بالیاں عطیہ کر رہی ہے، کیونکہ اس کے مطابق مدد کرنا ان کا فرض ہے۔
یہ امدادی سرگرمیاں خاص طور پر عیدالفطر کے موقع پر زیادہ تیز ہوئیں، لوگوں نے روایتی خوشیوں کے بجائے اس دن کو خدمت اور ہمدردی کے جذبے کے ساتھ گزارنے کو ترجیح دی۔
ایک رضاکار مقصود علی کے مطابق کئی لوگوں نے عید کی تقریبات کو سادگی سے منایا اور امدادی کاموں میں حصہ لیا۔
رپورٹ کے مطابق کچھ صاحب حیثیت افراد نئی دہلی میں قائم ایرانی سفارت خانے کے امدادی اکاؤنٹ میں براہ راست رقوم بھی جمع کرا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ مقامی افراد اس اقدام کو انسانی اور مذہبی فریضہ قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے سفارت خانے نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیری عوام کے اس اقدام پر شکریہ ادا کیا ہے اور اسے یکجہتی کی ایک اہم مثال قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ امدادی مہم نہ صرف انسانی ہمدردی کی عکاس ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی تنازعات کے اثرات دور دراز علاقوں تک محسوس کیے جاتے ہیں، جہاں لوگ اپنے وسائل کے مطابق متاثرہ افراد کی مدد کے لیے آگے آتے ہیں۔
اسرائیل ایران جنگ میں روس کو بھی دھکیلنے لگا، اسرائیلی فوج نے بحیرۂ کیسپین میں روس ایران ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر حملہ کردیا۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج نے بحیرۂ کیسپین میں ایک ایرانی بحری تنصیب کو نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر روس اور ایران کے درمیان ڈرونز، گولہ بارود اور دیگر عسکری سازوسامان کی ترسیل کے لیے ایک سپلائی کوریڈور استعمال کیا جا رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ ہفتے کی گئی اور اسے بحیرۂ کیسپین میں اسرائیل کی پہلی معروف کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی اندرونی آبی گزرگاہ ہے۔ یہ سمندر روس اور ایران کے ان بندرگاہوں کو جوڑتا ہے جو تقریباً 600 میل کے فاصلے پر واقع ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ راستہ جنگ کے دوران اہمیت اختیار کر گیا ہے، خاص طور پر ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کی ترسیل کے لیے، جو دونوں ممالک میں تیار کیے جا رہے ہیں۔ روس ان ڈرونز کو یوکرین کے شہروں پر حملوں میں استعمال کر رہا ہے، جبکہ ایران نے انہیں خلیجی خطے میں تنصیبات اور اہداف کے خلاف استعمال کیا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے، جہاں روس مبینہ طور پر سیٹلائٹ تصاویر اور ڈرون ٹیکنالوجی میں بہتری فراہم کر رہا ہے تاکہ اہداف کو نشانہ بنانے میں مدد مل سکے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق حملے میں بندرگاہ بندر انزلی میں موجود متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں جنگی بحری جہاز، بندرگاہی انفراسٹرکچر، ایک کمانڈ سینٹر اور مرمت کا شپ یارڈ شامل ہیں۔
رپورٹ میں شامل تصاویر کے مطابق بندرگاہ پر موجود ایرانی بحری ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچا ہے اور کچھ بحری جہاز تباہ ہوئے ہیں، تاہم مجموعی نقصان کا مکمل اندازہ ابھی سامنے نہیں آ سکا۔
سابق اسرائیلی بحری کمانڈر ایلیزر ماروم کے مطابق اس کارروائی کا مقصد روسی ہتھیاروں کی ترسیل کو محدود کرنا اور ایران کو یہ پیغام دینا تھا کہ بحیرۂ کیسپین میں اس کی بحری دفاعی صلاحیتیں محدود ہیں۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات اب پاکستان تک پہنچ چکے ہیں، اور موجودہ صورتحال میں پوری قوم کو متحد اور ذہنی طور پر تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ ہمارے دروازے تک پہنچ چکی ہے اور اس کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا مکمل اندازہ ابھی نہیں لگایا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج اور حکومت نے اس صورتحال میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ایم کیو ایم حکومت کی تمام کاوشوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور پوری قوم اس کے شانہ بشانہ ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ موجودہ حالات میں اتحاد کا مظاہرہ کریں اور ذہنی طور پر ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات، حتیٰ کہ لاک ڈاؤن جیسے آپشن پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کی بہتری کے لیے آئینی و انتظامی اصلاحات ضروری ہیں۔
انہوں نے 28ویں آئینی ترمیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے فوری طور پر لایا جائے اور اس کے ذریعے عوام کو بااختیار بنانے کے اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے حکومت کی حمایت کے لیے کوئی مطالبہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں عوام کو اختیارات دینے کے لیے تیار ہیں، اور وہ خود بھی چاہتے ہیں کہ اپنے حصے کا اختیار عوام کو منتقل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بلدیاتی نظام کا نفاذ ضروری ہے اور صرف آئین کے آرٹیکل 140-اے پر عملدرآمد ہونا چاہیے تاکہ کراچی سمیت تمام شہروں کو ان کا حق مل سکے۔
پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ شہری ترقی کے لیے مضبوط بلدیاتی نظام ناگزیر ہے اور جاگیردارانہ طرزِ جمہوریت کے باعث ترقی ممکن نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک میں بااختیار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم کے ایک اور رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک کا نظام چند وزرائے اعلیٰ کے ہاتھوں میں ہے، اور موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے خود کو تیار رکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کے تمام عزائم کو ناکام بنانا ہوگا اور حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک اور خطہ اس وقت ایک تشویشناک صورتحال سے گزر رہے ہیں، جس کے لیے سنجیدہ اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ وہ پہلی شخصیت تھے جنہوں نے ان کی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ کا آپشن اپنانے پر اکسایا۔
یہ بات انہوں نے ریاست ٹینیسی کے شہر ممفیس میں عوامی تحفظ کے حوالے سے منعقدہ ایک گول میز کانفرنس کے دوران کہی۔
ان کا کہنا تھا کہ پیٹ ہیگسیتھ ان ابتدائی شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن اختیار کرنے کی حمایت کی، تاکہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران ایک بڑا مسئلہ ہے، جو ان کے بقول کئی دہائیوں سے دہشت گردی میں ملوث رہا ہے اور اب ایٹمی صلاحیت کے قریب پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر دفاع نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
امریکی حکام کے مطابق 28 فروری 2026 کو امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک وسیع فوجی آپریشن شروع کیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے اعداد و شمار کے مطابق اس دوران ایران میں 9 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ 140 سے زیادہ بحری جہاز تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق ان کارروائیوں میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
ایک اور پیش رفت میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملوں میں پانچ روزہ وقفے کا اعلان کیا اور کہا کہ تہران کے ساتھ مثبت نوعیت کے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ تاہم ایرانی حکام نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترکیہ کے ساتھ رابطوں کا اعتراف کیا، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے براہ راست مذاکرات کی خبروں کو مسترد کیا۔
ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق ممکنہ طور پر بالواسطہ رابطوں کے لیے مختلف ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایران کے اندر غیر تیل اہداف پر حملے جاری ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ ان فوجی کارروائیوں کے بعد دفاعی ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے تقریباً 200 ارب ڈالر مختص کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو حالیہ برسوں میں سب سے بڑی رقم قرار دی جا رہی ہے۔
میدانی صورتحال کے مطابق کشیدگی کا مرکز آبنائے ہرمز بن چکا ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔
اپنے بیان کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے، اور دعویٰ کیا کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری پر آمادہ ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے باضابطہ معاہدہ ضروری ہوگا۔
حکومتِ سندھ نے ایندھن اور توانائی کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے کفایت شعاری کے تحت اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ کابینہ نے تین ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ قومی سطح پر وسائل کے تحفظ کا پیغام دیا جا سکے۔
شرجیل میمن کے مطابق حکومت سندھ ایندھن کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت کے فیصلوں کی مکمل حمایت جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر وفاق کی جانب سے لاک ڈاؤن کا کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس پر بھی مکمل عمل کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ توانائی کی کمی کی صورتحال سے بچنے کے لیے مختلف شعبوں میں اہم فیصلے کیے جا رہے ہیں، جن میں پبلک ٹرانسپورٹ سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ایندھن کی کمی کو روکا جائے اور ساتھ ہی قیمتوں کو بھی کنٹرول میں رکھا جائے تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
شرجیل میمن نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دیں اور اگر ممکن ہو تو گھروں سے کام کریں تاکہ ایندھن کی بچت ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی تعاون سے نہ صرف توانائی کے ذخائر کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے بلکہ ممکنہ بحران سے بھی بچا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سندھ آنے والے دنوں میں مزید اہم فیصلے بھی کر رہی ہے تاکہ صورتحال کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ تمام اقدامات احتیاطی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد مستقبل میں کسی بھی ممکنہ بحران سے بچاؤ ہے۔
ایرانی فوج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہونے کا دعویٰ مسترد کردیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ ایک طرف مذاکرات کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب زمینی حقائق مختلف ہیں۔
ذوالفقاری نے طنزیہ انداز میں کہا: ”کیا آپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں؟“
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے لیے ممکنہ مذاکرات کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا جس اسٹریٹجک طاقت کا دعویٰ کرتا تھا، وہ اب ”اسٹریٹجک ناکامی“ میں بدل چکی ہے، اور ٹرمپ کے ”کھوکھلے وعدوں“ کا دور ختم ہو چکا ہے۔
اس سے قبل بھی ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ویڈیو پیغام میں ٹرمپ کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا: ’ہائے ٹرمپ، آپ کو برطرف کیا جاتا ہے، آپ اس جملے سے واقف ہیں“، جو ٹرمپ کے مشہور جملے کی طرف اشارہ تھا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر رضا مند ہے، ایران میں نئی قیادت معاہدہ کرنے جا رہی ہے، ایران اس بار سمجھداری سے بات کر رہا ہے، اس نے ہمیں تیل اور گیس سے متعلق بہت بڑا تحفہ دیا۔
امریکی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ جان برینن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے مؤقف کو ٹرمپ کے دعوؤں سے زیادہ قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں۔
امریکی اخبار ’نیویارک پوسٹ‘ کے مطابق جان برینن نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے بیانات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں کے مقابلے میں زیادہ قابلِ یقین سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متعدد حقائق سامنے آنے کے باوجود ٹرمپ انہیں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور اپنی پالیسی کی ناکامی سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
برینن کے مطابق یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ ہے یا امریکی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتا ہے۔
سابق سی آئی اے سربراہ نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان کسی قسم کی باضابطہ بات چیت نہیں ہو رہی اور دونوں جانب سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
جان برینن نے واضح طور پر کہا کہ ان کے نزدیک ایران کے بیانات زیادہ حقیقت کے قریب ہیں جبکہ امریکی صدر کے دعوؤں میں تضاد پایا جاتا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے برینن کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ ایک ایسے ملک پر یقین کرنا جو دہائیوں سے امریکا کے خلاف نعرے لگاتا آیا ہے، شرمناک ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اور عہدیدار پیٹرک ایڈمز نے بھی برینن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی برینن کے بیان پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں بعض صارفین نے ان کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کچھ نے اسے موجودہ صورتحال کا عکاس قرار دیا۔