Live
Iran Israel War

امریکا اور اسرائیل کی کون سی کمپنیاں ایران جنگ سے اربوں ڈالر کما رہی ہیں؟

یہ تمام کمپنیاں پہلے ہی اربوں ڈالر کے آرڈرز حاصل کر چکی ہیں اور ان کے بیک لاگ آرڈرز کی مالیت بعض ممالک کی مجموعی قومی آمدنی (جی ڈی پی) کے برابر بتائی جا رہی ہے۔
شائع 09 مارچ 2026 05:42pm

ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران دنیا کی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کے منافع میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس جنگ کے باعث جدید ہتھیاروں کی مانگ میں تیزی آئی ہے جس سے خاص طور پر امریکا اور اسرائیل کی دفاعی صنعت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں امریکا کی بڑی دفاعی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک اہم اجلاس کیا جس میں جدید ہتھیاروں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اجلاس میں آر ٹی ایکس (سابقہ ریتھیون)، لاک ہیڈ مارٹن، بوئنگ، نارتھروپ گرومن، بی اے ای سسٹمز، ایل تھری ہیرس میزائل سلوشنز اور ہنی ویل ایرو اسپیس جیسی بڑی کمپنیوں کے سربراہان شریک ہوئے۔ ی

یہ تمام کمپنیاں پہلے ہی اربوں ڈالر کے آرڈرز حاصل کر چکی ہیں اور ان کے بیک لاگ آرڈرز کی مالیت بعض ممالک کی مجموعی قومی آمدنی (جی ڈی پی) کے برابر بتائی جا رہی ہے۔

امریکا پہلے ہی دنیا کا سب سے بڑا دفاعی اخراجات کرنے والا ملک ہے۔ 2025 میں اس کے دفاعی اخراجات تقریباً ایک ہزار ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے جو دنیا کے اگلے نو بڑے ممالک کے مجموعی دفاعی اخراجات سے بھی زیادہ ہیں۔

امریکی حکومت اس رقم کو بڑھا کر 2027 تک تقریباً ڈیڑھ ہزار ارب ڈالر تک لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ایران کے خلاف جاری جنگ میں اربوں ڈالر کے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں جس کے باعث دفاعی کمپنیوں کی آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے اسلحہ بنانے والی کئی امریکی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

نارتھروپ گرومن کے حصص تقریباً پانچ فیصد، آر ٹی ایکس کے ساڑھے چار فیصد جبکہ لاک ہیڈ مارٹن کے تین فیصد تک بڑھ گئے۔

امریکی فوج کے مطابق ایران کے خلاف جاری کارروائی ”آپریشن ایپک فیوری“ میں فضائی، بحری اور زمینی فورسز کے بیس سے زیادہ مختلف ہتھیاروں کے نظام استعمال کیے جا رہے ہیں۔

ان میں طویل فاصلے تک مار کرنے والا ٹوما ہاک میزائل شامل ہے جو گزشتہ تین دہائیوں سے امریکی فوج کا اہم ہتھیار رہا ہے۔

یہ میزائل کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی بحریہ کے ارلی برک کلاس ڈسٹرائر جہازوں سے یہ میزائل فائر کیے جا رہے ہیں اور ہر جہاز نوّے سے زیادہ ٹوما ہاک میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسی طرح امریکی فوج نے پہلی بار پریسیژن اسٹرائیک میزائل بھی استعمال کیا ہے جو ہائی موبیلیٹی آرٹلری راکٹ سسٹم یعنی ’ہیمارس‘ سے داغا جاتا ہے۔ یہ میزائل تقریباً 400 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دفاعی نظام کے طور پر پیٹریاٹ میزائل بیٹریاں اور ٹرمینل ہائی آلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس سسٹم یعنی ’تھاڈ‘ بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

پیٹریاٹ سسٹم کم فاصلے سے آنے والے میزائل اور کروز میزائل کو روکنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ تھاڈ سسٹم فضا کی بلند سطح پر بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ڈرون ٹیکنالوجی بھی اس جنگ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

امریکا نے لو کاسٹ ان میینڈ کومبیٹ اٹیک سسٹم یعنی ’لوکاس‘ نامی نیا حملہ آور ڈرون بھی استعمال کیا ہے۔ اس ڈرون کی قیمت تقریباً 35 ہزار ڈالر ہے اور اسے نسبتاً سستا اور استعمال کے بعد ختم ہونے والا ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں ایم کیو نائن ریپر ڈرون کی قیمت تقریباً چار کروڑ ڈالر تک ہوتی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے یکم مارچ کو ایک ریپر ڈرون مار گرایا تھا۔

امریکا ایران کے میزائل اڈوں اور زیر زمین بنکروں کو نشانہ بنانے کے لیے جدید لڑاکا طیارے بھی استعمال کر رہا ہے جن میں بی ون اور بی ٹو بمبار طیارے، ایف 15، ایف 22 ریپٹر اور ایف 35 لائٹننگ ٹو شامل ہیں۔ یہ طیارے دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرا کر اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جاسوسی اور نگرانی کے لیے بھی مختلف طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔ امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر ای اے 18 جی گراؤلر الیکٹرانک وارفیئر طیارے موجود ہیں جو دشمن کے ریڈار اور مواصلاتی نظام کو جام کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح پی ایٹ اے پوسائیڈن طیارے خلیج اور بحیرہ ہند کے علاقوں میں نگرانی کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

امریکی ای تھری سینٹری اے واکس طیارے میدان جنگ کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں جبکہ آر سی 135 جاسوس طیارے قطر اور متحدہ عرب امارات کے اڈوں سے پرواز کر کے ایرانی میزائل سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔

امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ بھی اس جنگ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ ارلی برک کلاس کے کئی جنگی جہاز بھی اس کارروائی کا حصہ ہیں۔

ان ہتھیاروں کی تیاری میں امریکا کی بڑی دفاعی کمپنیوں کا کردار نمایاں ہے۔

بوئنگ کمپنی بی ون بمبار، ایف 15 طیارے، ای اے 18 جی گراؤلر، پی ایٹ اے پوسائیڈن اور آر سی 135 طیارے تیار کرتی ہے۔

نارتھروپ گرومن بی ٹو اسٹیلتھ بمبار اور ای تھری سینٹری کے ریڈار سسٹمز بناتی ہے۔

لاک ہیڈ مارٹن ایف 35 اور ایف 22 لڑاکا طیارے، تھاڈ دفاعی نظام، ہیمارس راکٹ سسٹم اور مختلف میزائل تیار کرتی ہے۔

آر ٹی ایکس کارپوریشن کا ریتھیون ڈویژن ٹوما ہاک اور پیٹریاٹ میزائل بناتا ہے۔

اس کے علاوہ اسپیکٹر ورکس لوکاس ڈرون جبکہ جنرل ایٹامکس ایم کیو نائن ریپر ڈرون تیار کرتی ہے۔

امریکی بحریہ کے بڑے جنگی جہاز ہنٹنگٹن انگلز انڈسٹریز تیار کرتی ہے۔

عالمی سطح پر اسلحہ ساز کمپنیوں کی آمدنی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کے مطابق 2024 میں دنیا کی سو بڑی دفاعی کمپنیوں نے مجموعی طور پر 679 ارب ڈالر سے زیادہ آمدنی حاصل کی۔ ان میں امریکی کمپنیوں کا حصہ سب سے زیادہ تھا جو تقریباً 334 ارب ڈالر بنتا ہے۔ اس کے بعد چین، برطانیہ، روس اور فرانس کا نمبر آتا ہے۔

امریکا کی سب سے بڑی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن ہے جس نے 2024 میں تقریباً 68 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی۔ اس کے بعد آر ٹی ایکس، نارتھروپ گرومن، جنرل ڈائنامکس اور بوئنگ بڑی کمپنیوں میں شامل ہیں۔

اسرائیل کی دفاعی صنعت بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔

اسرائیل کی بڑی دفاعی کمپنیوں میں ایلبٹ سسٹمز، اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز اور رافیل شامل ہیں۔

ایلبٹ سسٹمز ڈرون، نگرانی کے نظام اور جنگی الیکٹرانکس تیار کرتی ہے۔

اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز میزائل دفاعی نظام، سیٹلائٹ اور ڈرون ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتی ہے جبکہ رافیل کمپنی آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام اور درست نشانہ لگانے والے ہتھیار تیار کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی دفاعی اخراجات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ 2024 میں دنیا بھر میں دفاعی اخراجات تقریباً 2.7 کھرب ڈالر تک پہنچ گئے تھے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 9.4 فیصد زیادہ ہیں۔

نیٹو ممالک نے بھی 2035 تک اپنے دفاعی بجٹ کو اپنی مجموعی قومی آمدنی کے پانچ فیصد تک بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں کے باعث اسلحہ کے ذخائر تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں، جس کے بعد نئے ہتھیاروں کی تیاری کے لیے بڑے پیمانے پر آرڈرز دیے جا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے بڑی دفاعی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور دفاعی صنعت عالمی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتی نظر آ رہی ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر منتخب ہونے سے امریکا اور اسرائیل میں مایوسی پھیل گئی: علی لاریجانی

ایرانی سرزمین سے ترکیہ، قبرص اور آذربائیجان کی طرف کسی قسم کے حملے نہیں کیے گئے: اسماعیل بقائی
شائع 09 مارچ 2026 05:07pm

ایران میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے نئے سپریم لیڈر منتخب ہونے کے بعد ایرانی قیادت کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آرہے ہیں جن میں اس فیصلے کو ملک کے لیے امید کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایران کی قومی سلامتی کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا سپریم لیڈر منتخب ہونا ایران کے لیے امید کا باعث بنا ہے جبکہ امریکا اور اسرائیل جیسے مخالف ممالک کے لیے یہ مایوسی کا سبب ہے۔

انہوں نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ ماہرین کی مجلس یعنی مجلس خبرگان کی جانب سے انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کا رہنما منتخب کیے جانے سے دشمن قوتیں مایوس ہو گئی ہیں۔

ان کے مطابق وہ قوتیں جو ایران کے خلاف جنگی ماحول پیدا کرنا چاہتی ہیں، اس فیصلے سے مایوسی کا شکار ہیں۔

دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس کانفرنس کے دوران مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے موجودہ صورتحال پر حکومت کا مؤقف پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے اور ملک کی مسلح افواج مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

انہوں نے ایرانی فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی اور ان کی بہادری اور ثابت قدمی قابل تعریف ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ دشمن کو پسپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے دی جانے والی قربانیاں ایران کی تاریخ کا اہم حصہ بنیں گی۔

ترجمان نے اس موقع پر ایران میں موجود سفارتی مشنز کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی بات کی۔

انہوں نے بتایا کہ ایران میں اس وقت ایک سو سے زیادہ سفارتی مشنز موجود ہیں اور حکومت ان کی حفاظت اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ جنگی صورتحال کے دوران بعض فریقوں نے تمام سرخ لکیریں عبور کر لی ہیں جس سے حالات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

جنگ بندی کے امکانات سے متعلق سوال کے جواب میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس وقت ایسے معاملات پر بات کرنا مناسب نہیں کیونکہ فوجی جھڑپیں ابھی جاری ہیں۔ ان کے مطابق اس مرحلے پر ایران کے لیے سب سے اہم چیز اپنی سرزمین کا دفاع ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے یہ جنگ شروع نہیں کی بلکہ یہ جنگ اس پر مسلط کی گئی ہے، اس لیے یہ ایران کی پسند کی جنگ نہیں بلکہ ایک ناگزیر صورتحال ہے جس کا سامنا ملک کو کرنا پڑ رہا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران بعض خبروں کے حوالے سے بھی سوالات کیے گئے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ گزشتہ ہفتے ایران کی جانب سے ترکیہ، قبرص اور آذربائیجان کی طرف میزائل یا گولہ بارود داغا گیا۔

اسماعیل بقائی نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی سرزمین سے ان ممالک کی طرف کسی قسم کے حملے نہیں کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے بعض حملوں کو جان بوجھ کر اس طرح پیش کیا گیا ہو تاکہ ایران اور دیگر ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کیے جا سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران خطے کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔

ان کے مطابق ایران ہمیشہ علاقائی تعاون اور روابط کو اہمیت دیتا رہا ہے اور آئندہ بھی اس پالیسی پر قائم رہے گا۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی دوسرے ملک کی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کی گئی تو ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے دفاعی اقدامات کو کسی ملک کے خلاف دشمنی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ صرف اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے کیے جاتے ہیں۔

لبنان میں شدید اسرائیلی حملے: 83 بچوں سمیت 400 افراد جاں بحق

دو مارچ کے بعد سے لبنان بھر میں روزانہ اوسطاً 10 سے زائد بچوں کی جان جا رہی ہے جبکہ تقریباً 36 بچے ہر روز زخمی ہو رہے ہیں۔
اپ ڈیٹ 09 مارچ 2026 04:57pm

لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی نے شدت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں عام شہریوں خصوصاً بچوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کے مطابق گزشتہ سات دنوں کے دوران لبنان میں کم از کم 83 بچے جاں بحق جبکہ 254 زخمی ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے ’یونیسیف‘ کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا کہ دو مارچ کے بعد سے لبنان بھر میں روزانہ اوسطاً 10 سے زائد بچوں کی جان جا رہی ہے جبکہ تقریباً 36 بچے ہر روز زخمی ہو رہے ہیں۔

ادارے کے مطابق گزشتہ 28 مہینوں کے دوران لبنان میں مجموعی طور پر 329 بچوں کی ہلاکت اور 1632 کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔

یونیسیف نے ان اعداد و شمار کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ جاری تنازع بچوں کے لیے کس قدر تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔

ادارے کے مطابق جنگ کے باعث لبنان بھر میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی ہو رہی ہے۔ اب تک تقریباً سات لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں جن میں دو لاکھ کے قریب بچے شامل ہیں۔

اس سے قبل بھی مختلف جھڑپوں کے باعث ہزاروں افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے تھے۔

دوسری جانب لبنان میں جاری حملوں کے بعد عالمی سطح پر بھی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بیرو نے اعلان کیا ہے کہ فرانس نے لبنان کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کر دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی بمباری میں مقامی صحت حکام کے مطابق تقریباً 400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے بتایا کہ فرانس نے لبنان میں کام کرنے والی انسانی امدادی تنظیموں کے لیے تقریباً 6.9 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد بھی فراہم کی ہے۔ اس کے علاوہ 20 ٹن مزید انسانی امداد بھی لبنان بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے جو جلد وہاں پہنچ جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ فرانس لبنانی اور اسرائیلی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ملک کو مزید افراتفری کی صورتحال میں جانے سے روکا جا سکے، جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے اور حزب اللہ کے اسلحہ کے مسئلے پر بھی پیش رفت ہو سکے۔

ادھر لبنان کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں دو طبی امدادی کارکن ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے ہیں۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ حملے جنوبی قصبے طیر دبا اور گاؤں جوئیہ میں کیے گئے۔

وزارت صحت نے الزام عائد کیا کہ ایمبولینس ٹیموں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا جو طبی امداد فراہم کر رہی تھیں۔

لبنان کے اندرونی سیاسی حالات بھی اس جنگ کے باعث متاثر ہو رہے ہیں۔

لبنانی پارلیمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو دو سال کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔

یہ انتخابات پہلے مئی میں ہونے تھے لیکن اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ کے باعث انہیں ملتوی کر دیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ کا اجلاس پیر کو اس وقت منعقد ہوا جب اسرائیلی جنگی طیارے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے اوپر پرواز کر رہے تھے۔

اجلاس میں حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک کے سربراہ محمد رعد سمیت دیگر ارکان پارلیمنٹ نے شرکت کی۔

ایران کے نئے سپریم لیڈر کون ہیں؟

مجتبیٰ حسینی نے ایران۔عراق جنگ کے دوران حبیب بٹالین میں خدمات انجام دیں
شائع 09 مارچ 2026 03:23pm

امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا گیا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کی 88 رکنی مجلسِ خبرگانِ رہبری نے ووٹنگ کے ذریعے ان کے نام کی منظوری دی۔ ووٹنگ دوران مجتبیٰ خامنہ ای کو بھاری اکثریت سے نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا گیا ہے۔

سید مجتبیٰ خامنہ امام خمینی اور آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ایران کے تیسرے سپریم لیڈر ہیں۔

نو منتخب سپریم لیڈر ایران کے اعلیٰ ترین مذہبی اور سیاسی منصب پر فائز ہوں گے اور ملک کی داخلی و خارجی پالیسیوں پر ان کا اثر نمایاں ہوگا۔

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای 1969ء میں مشہد میں پیدا ہوئے۔ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے بڑے بیٹے ہیں اور ان کے پانچ بہن بھائی ہیں۔ ان کی پرورش ایسے دور میں ہوئی جب ان کے والد سابق شاہ محمد رضا پہلوی کے خلاف سرگرم ایک نمایاں مذہبی رہنما کے طور پر ابھر رہے تھے۔

1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای خاندان ریاستی نظام کے مرکز میں آ گئے۔ تہران منتقل ہونے کے بعد مجتبیٰ نے الوی ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی، جو حکومتی حلقوں سے وابستہ شخصیات کی تیاری کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

بعد ازاں انہوں نے قم میں ممتاز علما کی نگرانی میں دینی تعلیم حاصل کی، تاہم کئی دہائیوں کی تعلیم کے باوجود وہ تاحال آیت اللہ کے درجے تک نہیں پہنچ سکے۔

ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کے لیے اعلیٰ مذہبی مقام کا حامل ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث مجتبیٰ حسینی کا مذہبی درجہ سینئر علما میں بحث کا موضوع رہا ہے۔

ایران۔عراق جنگ کے دوران انہوں نے حبیب بٹالین میں خدمات انجام دیں، جہاں ان کے تعلقات ایسے افراد سے قائم ہوئے جو بعد میں ملک کے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں میں اہم عہدوں تک پہنچے۔

اگرچہ انہوں نے کبھی کوئی عوامی عہدہ یا سرکاری منصب نہیں سنبھالا، تاہم انہیں طویل عرصے سے سپریم لیڈر کے دفتر میں بااثر شخصیت سمجھا جاتا رہا ہے۔ ان کے کردار کا موازنہ اکثر سابق ایرانی سپریم لیڈر روح اللہ خمینی کے بیٹے احمد خمینی سے کیا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ان کا اثر و رسوخ بڑی حد تک پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی روابط کی وجہ سے ہے، جو ایران کی سیاسی معیشت اور سیکیورٹی پالیسی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

2019ء میں امریکا نے مجتبیٰ حسینی خامنہ ای پر پابندیاں عائد کیں اور الزام لگایا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے اختیارات کا کچھ حصہ اپنے بیٹے کو منتقل کر رکھا تھا۔ اصلاح پسند سیاست دانوں اور بعض مغربی حکومتوں نے بھی ان پر انتخابی عمل میں مداخلت اور سیکیورٹی کریک ڈاؤن کی حمایت کے الزامات عائد کیے، جنہیں ایرانی حکام مسترد کرتے رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مجتبیٰ حسینی کے پاس وسیع سرمایہ کاری نیٹ ورک موجود ہے، تاہم ان کے اثاثوں کی درست مالیت ظاہر نہیں کی گئی۔ رپورٹ میں عالمی سطح پر جائیدادوں میں سرمایہ کاری اور مغربی منڈیوں میں اربوں ڈالر منتقل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔

واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے ممکنہ جانشینوں میں تین سینئر علما کے نام زیرِ غور رکھے تھے، جن میں ان کے بیٹے کا نام شامل نہیں تھا۔

ایران میں موروثی جانشینی کے تصور کو عمومی طور پر پسند نہیں کیا جاتا، خصوصاً اس نظام میں جو بادشاہت کے خاتمے کے بعد قائم ہوا۔

ایران کی نئی قیادت کے اعلان کے بعد ایران میں سیاسی صورتحال پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

نو منتخب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو درپیش بڑے چیلنجز

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای پیچیدہ مسائل کا سامنا کرتے ہوئے ایران کی پالیسیوں میں کوئی بڑی تبدیلی لائیں گے یا نہیں۔
شائع 09 مارچ 2026 03:22pm

ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد ان کے بیٹے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے، تاہم ان کی تقرری کو ایران کے مستقبل کے لیے ایک بڑا اور اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت ایران کو دو مختلف راستوں میں سے کسی ایک طرف لے جا سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف ملک کے اندر بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد کے مقابلے میں زیادہ سخت گیر اور نظریاتی رہنما سمجھا جاتا ہے۔ ان کے ایران کے طاقتور نیم فوجی ادارے ’پاسدارانِ انقلاب‘ اور سرکاری بیوروکریسی کے ساتھ قریبی تعلقات بھی بتائے جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بعض حلقے انہیں ایک سخت مؤقف رکھنے والے رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں۔

تاہم، رائٹرز کے مطابق کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ چونکہ وہ سابق سپریم لیڈر کے بیٹے ہیں، اس لیے انہیں نظام میں اصلاحات کرنے کے لیے زیادہ سیاسی گنجائش اور جواز بھی حاصل ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر سپریم لیڈر کے عہدے پر کسی اور شخصیت کو مقرر کیا جاتا تو ممکن تھا کہ ایران کے سیاسی نظام میں قانونی اور عوامی حیثیت کے حوالے سے ایک بڑا بحران پیدا ہو جاتا۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری نے اس امکان کو کسی حد تک کم کر دیا ہے کیونکہ وہ براہِ راست سابق قیادت سے جڑے ہوئے ہیں اور نظام کے اندر ان کی شناخت پہلے سے موجود ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ان کی قیادت میں ایران کا راستہ دو مختلف سمتوں میں جا سکتا ہے۔

ایک امکان یہ ہے کہ وہ اپنے سخت نظریاتی مؤقف کو مزید مضبوط کریں، جس سے ایران کے اندر سیاسی تقسیم بڑھ سکتی ہے اور خطے میں اس کی تنہائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ علاقائی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کی کوشش کریں اور امریکا سمیت عالمی طاقتوں کو یہ اشارہ دیں کہ ایران اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کے لیے تیار ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای ایسے وقت میں اقتدار سنبھال رہے ہیں جب ایران کو ایک نہایت مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔

ملک اِس وقت اُس جنگ کے اثرات سے گزر رہا ہے جس کا آغاز امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد ہوا۔ اس صورتحال نے ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

ایران کے سیاسی اور فوجی اداروں کی جانب سے نئے سپریم لیڈر کے لیے حمایت کے پیغامات سامنے آچکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی ڈھانچے کے اہم حصے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

تاہم چیلنجز صرف بیرونی محاذ تک محدود نہیں ہیں بلکہ داخلی سطح پر بھی کئی سنگین مسائل موجود ہیں۔

معاشی میدان میں ایران گزشتہ کئی برسوں سے بین الاقوامی پابندیوں اور داخلی بدانتظامی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے۔

ماہرین کے مطابق نئی قیادت کو سب سے پہلے اسی کمزور معیشت کو سنبھالنے کے لیے مؤثر فیصلے کرنا ہوں گے کیونکہ عام شہری مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

سماجی اور عوامی سطح پر بھی صورتحال پیچیدہ ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری کے اعلان کے بعد تہران کے مختلف علاقوں میں لوگ جمع ہوئے۔ شہر کے مرکزی علاقوں میں ان کے حامیوں نے نئے سپریم لیڈر کے حق میں اظہارِ حمایت کیا جبکہ انقلاب اسکوائر جیسے اہم سیاسی مقام پر بھی اجتماعات دیکھنے میں آئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت ایران میں ایک طرف قومی اتحاد کا جذبہ دکھائی دے رہا ہے جہاں لوگ بیرونی دباؤ کے مقابلے میں ملک کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات کر رہے ہیں، لیکن دوسری طرف معاشرہ پہلے ہی سیاسی اور سماجی طور پر تقسیم کا شکار ہے۔

گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں ایران میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے تھے۔ ابتدا میں یہ مظاہرے معاشی مشکلات کے خلاف تھے، لیکن بعد میں ان میں سیاسی اور سماجی مطالبات بھی شامل ہو گئے تھے۔ اس پس منظر میں نئی قیادت کے لیے عوامی توقعات اور دباؤ دونوں موجود ہیں۔

اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای ان تمام پیچیدہ مسائل کا سامنا کرتے ہوئے ایران کی پالیسیوں میں کوئی بڑی تبدیلی لائیں گے یا نہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے مہینے اس بات کا تعین کریں گے کہ ایران نئی قیادت میں کس سمت میں آگے بڑھتا ہے۔

ایران: نئے رہبرِ معظم کے انتخاب کے بعد بیعت کا سلسلہ شروع، عوام سڑکوں پر نکل آئے

مجلسِ خبرگان کی اپیل کے بعد ملک بھر میں نئے رہبر کے ہاتھ پر بیعت کا سلسلہ جاری ہے
شائع 09 مارچ 2026 02:45pm

ایران کی مجلسِ خبرگانِ رہبری (اسمبلی آف ایکسپرٹس) نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو اکثریتِ رائے سے اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ جس کے بعد بعد ملک بھر میں بیعت کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

سید مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی شہادت کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے ہیں جو 1989 میں امام خمینی کے انتقال کے بعد 37 برس تک ایران کے سپریم لیڈر رہے۔ مجلسِ خبرگانِ رہبری نے پیر کی صبح انہیں اسلامی انقلاب کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا، اس طرح ایران کے اسلامی انقلاب کے تیسرے سپریم لیڈر بن گئے ہیں۔

ایرانی آئین کے مطابق سپریم لیڈر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اعلیٰ درجے کا عالمِ دین (مجتہد) ہونے کے ساتھ سیاسی اور انتظامی صلاحیتوں کا حامل ہو۔

مجلسِ خبرگان کی جانب سے باضابطہ توثیق کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کی جگہ ایران کے سیاسی و مذہبی سربراہ اور مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

مجلسِ خبرگان نے عوام، دانشوروں اور معاشرے کے دیگر طبقات سے اپیل کی ہے کہ وہ نئے رہبر کے ہاتھ پر بیعت کریں۔ اس کے بعد ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے نئے رہبر کے ساتھ وفاداری کے اظہار کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

ایران میں سپریم لیڈر کے لیے صدارتی طرز کی کوئی عوامی تقریبِ حلف برداری نہیں ہوتی۔ نئے سپریم لیڈر مجلسِ خبرگان کے سامنے اپنے عہدے کی ذمہ داریوں کا عہد کرتے ہیں، جس کے فوراً بعد اسمبلی کے اراکین، صدر، وزراء اور عسکری قیادت نئے رہبر کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں یا ان کی اطاعت کا اعلان کرتے ہیں۔

ایرانی نظام میں بیعت کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ روایتی طور پر بیعت کا عمل عوامی اجتماعات اور عسکری قیادت کی جانب سے نئے رہبر کے ساتھ وفاداری کے عہد سے شروع ہوتا ہے۔

اسی تناظر میں پاسدارانِ انقلاب اور دفاعی کونسل نے بھی نئے کمانڈر اِن چیف سے وفاداری کا باقاعدہ عہد کر لیا ہے، جب کہ جید علماء نے اس تقرری کو ملک کے لیے روحانی اطمینان کا باعث قرار دیتے ہوئے اس کی مذہبی توثیق کی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق پیر کے روز ایران بھر میں عوامی اجتماعات کا انعقاد کیا جا رہا ہے جہاں عوام نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے سامنے بیعت (حلفِ وفاداری) کریں گے۔

دارالحکومت تہران میں مرکزی اجتماع انقلاب اسکوائر میں مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بجے منعقد ہوگا جب کہ دیگر بڑے شہروں میں بھی اسی نوعیت کی تقریبات جاری ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی بطور سپریم لیڈر تقرری کے بعد عبوری کونسل کے تمام اختیارات انہیں منتقل ہو گئے ہیں اور وہ تاحیات اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اب وہ ’بیتِ رہبری‘ یعنی سپریم لیڈر کے دفتر کا کنٹرول سنبھالیں گے، جہاں سے مشیروں، مختلف صوبوں اور ریاستی اداروں کے نمائندوں سمیت اہم عہدیداروں کی تقرری یا توثیق کی جائے گی۔

ایران کے آئینی ڈھانچے کے مطابق سپریم لیڈر مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف بھی ہوتے ہیں۔ ان کی تقرری کے بعد تمام عسکری ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں براہِ راست انہیں رپورٹ کریں گی اور انہی سے نئی ہدایات اور احکامات حاصل کریں گی۔

واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے ممکنہ جانشینوں کے طور پر تین سینئر علما کے نام تجویز کیے تھے، جن میں ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا نام شامل نہیں تھا۔

مجتبیٰ خامنہ ای جلد ہی قوم سے اپنا پہلا خطاب بھی کریں گے، جسے موجودہ علاقائی اور جنگی حالات کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس خطاب میں وہ ممکنہ طور پر مستقبل کی پالیسیوں، داخلی امور اور موجودہ جنگ کے حوالے سے خارجہ حکمت عملی پر روشنی ڈالیں گے۔

آذربائیجان نے ایران کی سرحد کو کارگو ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا

یہ سرحد گزشتہ ہفتے نخچیوان میں مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے بعد بند کر دی گئی تھی۔
شائع 09 مارچ 2026 02:23pm

آذربائیجان نے ایران کی سرحد کو کارگو ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا ہے، یہ سرحد گزشتہ ہفتے نخچیوان میں مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے بعد بند کر دی گئی تھی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آذربائیجان نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ اس کی سرحدی گزرگاہیں تمام کارگو ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دی گئی ہیں۔

روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق یہ سرحدی راستے ایران کو اس کے اتحادی روس سے زمینی طور پر ملانے والے مختصر ترین راستوں میں شمار ہوتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق آذربائیجان نے گزشتہ ہفتے ان گزرگاہوں کو اس وقت بند کر دیا تھا جب باکو کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ نخچیوان کے علاقے میں ایرانی ڈرون حملہ ہوا ہے۔

دوسری جانب اتوار کی شب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔

آذربائیجانی صدارتی دفتر کے مطابق ایرانی صدر نے گفتگو میں کہا کہ ایران کا نخچیوان کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور تہران اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

ایران اپنا دفاع کن ہتھیاروں سے کر رہا ہے؟

ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تقریباً دو ہزار سے ڈھائی ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں
اپ ڈیٹ 09 مارچ 2026 05:59pm

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ عہدیداروں کی ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی تیزی سے بڑھ گئی ہے۔ ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جوابی کارروائیاں صرف اسرائیل تک محدود نہیں بلکہ ان ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے جہاں امریکا کی افواج تعینات ہیں، جن میں خلیجی ریاستیں بھی شامل ہیں۔

اس صورتحال نے خطے کے دارالحکومتوں اور عالمی منڈیوں میں ایک اہم سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا یہ حملے صرف محدود جوابی کارروائیوں تک رہیں گے یا یہ کشیدگی ایک طویل جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

دفاعی ماہرین ایران کے میزائل ذخیرے کو مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا اور متنوع قرار دیتے ہیں۔

ایران کے پاس بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور مختلف اقسام کے ڈرون موجود ہیں، جن کے ذریعے وہ اپنی فضائیہ کی کمزوری کے باوجود دور دراز اہداف تک حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا میزائل پروگرام دفاعی حکمت عملی اور دشمن کو باز رکھنے کے لیے ضروری ہے، کیونکہ اس کی فضائیہ زیادہ تر پرانے طیاروں پر مشتمل ہے۔

تاہم مغربی ممالک کا مؤقف ہے کہ ایران کے میزائل خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں اور مستقبل میں جوہری ہتھیاروں کی ترسیل کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، جس کی ایران تردید کرتا ہے۔

طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل

ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تقریباً دو ہزار سے ڈھائی ہزار کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس فاصلے کے باعث اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے ان میزائلوں کی زد میں آتے ہیں۔ تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق یہ میزائل امریکا تک پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل

اس کے علاوہ ایران کے پاس کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل بھی موجود ہیں جن کی رینج تقریباً 150 سے 800 کلومیٹر تک ہے۔

یہ میزائل قریب کے فوجی اہداف کو نشانہ بنانے اور فوری علاقائی حملوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ ان میزائلوں میں فتح سیریز، ذوالفقار، قیام ون اور شاہاب ون اور ٹو جیسے پرانے نظام شامل ہیں۔

ایران اس حکمت عملی کو پہلے بھی استعمال کر چکا ہے۔ جنوری 2020 میں ایران نے امریکی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عراق میں عین الاسد ایئربیس پر بیلسٹک میزائل داغے تھے۔ اس حملے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا اور سو سے زائد امریکی فوجی دماغی چوٹوں کا شکار ہوئے تھے۔

درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل

ایران کی عسکری طاقت کا ایک اور اہم حصہ ہیں۔ ان میزائلوں کی رینج تقریباً پندرہ سو سے دو ہزار کلومیٹر تک ہے اور ان میں شاہاب تھری، عماد، قدر ون، خرم شہر، سجیل، خیبر شکن اور حاج قاسم جیسے میزائل شامل ہیں۔ ان میزائلوں کی مدد سے ایران اسرائیل سمیت خطے میں موجود کئی امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

ان میں سجیل میزائل خاص طور پر قابل ذکر ہے کیونکہ یہ ٹھوس ایندھن سے چلتا ہے اور اسے نسبتاً کم وقت میں لانچ کیا جا سکتا ہے۔ یہ خصوصیت ایسے حالات میں اہم سمجھی جاتی ہے جب ایران کو فوری طور پر جواب دینے کی ضرورت ہو۔

کروز میزائل

کروز میزائل بھی ایران کی جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔ یہ میزائل زمین کے قریب پرواز کرتے ہیں اور اکثر ریڈار سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

ایران کے پاس سومار، یا علی، قدس، حویظہ، پاوہ اور رعد جیسے کروز میزائل موجود ہیں۔

سومار میزائل کی رینج تقریباً ڈھائی ہزار کلومیٹر بتائی جاتی ہے۔

ڈرونز

ڈرون بھی ایران کے لیے اہم ہتھیار بن چکے ہیں۔ اگرچہ ڈرون میزائلوں کے مقابلے میں سست رفتار ہوتے ہیں، لیکن انہیں بڑی تعداد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران ممکنہ طور پر ڈرون کے مسلسل حملوں کے ذریعے فضائی دفاعی نظام کو تھکا دینے کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔

ایران کے حفاظتی اقدامات

ایران نے اپنے میزائل پروگرام کو محفوظ بنانے کے لیے ملک بھر میں زیر زمین سرنگیں، خفیہ اڈے اور محفوظ لانچنگ سائٹس بھی قائم کی ہیں۔ اس نیٹ ورک کی وجہ سے کسی بھی حملے کے بعد ایران کی تمام میزائل صلاحیت کو فوری طور پر ختم کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔

ایران کی عسکری حکمت عملی صرف زمینی اہداف تک محدود نہیں۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز بھی اس کے لیے اہم اسٹریٹجک مقام رکھتے ہیں۔ دنیا کے تیل اور گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے، جس کے باعث یہاں کشیدگی عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

بحری جہازوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت

ایران بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے اینٹی شپ میزائل، بحری بارودی سرنگیں، ڈرون اور تیز رفتار جنگی کشتیاں استعمال کر سکتا ہے۔ ایران نے فتاہ نامی ہائپرسونک میزائل نظام کا بھی اعلان کیا ہے، اگرچہ اس کی عملی صلاحیت کے بارے میں آزاد ذرائع سے محدود معلومات دستیاب ہیں۔

ایران کی پاسداران انقلاب نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب امریکا اور برطانیہ سے منسلک تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسی دوران عالمی شپنگ کمپنیوں نے بھی اس راستے سے جہازوں کی آمدورفت پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔

امریکا نے اس صورتحال کے پیش نظر خطے میں اپنی بحری اور فضائی طاقت میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے دفاعی صلاحیت تو بڑھ سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ممکنہ اہداف کی تعداد بھی زیادہ ہو گئی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی صرف براہ راست حملوں تک محدود نہیں رہ سکتی۔ ایران سے منسلک گروہ جیسے لبنان میں حزب اللّٰہ اور یمن میں حوثی بھی اس تنازع میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دونوں گروہوں نے آیت اللّٰہ خامنہ ای کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کشیدگی: عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 119 ڈالر سے تجاوز

آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی سپلائی معطل، عالمی منڈی میں بھونچال
شائع 09 مارچ 2026 01:15pm

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق مشرقی وسطیٰ میں جاری جنگ اور امریکا کی آبنائے ہرمز کھولنے میں ناکامی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 119 ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ برینٹ کروڈ فی بیرل تقریباً 119.50 ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ بعد میں 112.98 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 119.48 ڈالر تک پہنچنے کے بعد 110.17 ڈالر پر واپس آیا۔

تحقیقی ادارے ریسٹڈ انرجی کے مطابق روزانہ تقریباً 15 ملین بیرل تیل، جو عالمی پیداوار کا 20 فیصد بنتا ہے، ہرمز کے راستے منتقل ہوتا ہے۔ تاہم ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرے کی وجہ سے ٹینکرز کا یہ سفر تقریباً رک گیا ہے، جس سے سعودی عرب، کویت، عراق، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ایران سے تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔

عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات نے اپنی پیداوار کم کردی ہے کیونکہ برآمد نہ کرنے کی وجہ سے اسٹوریج ٹینک بھر گئے ہیں۔ جنگ کے آغاز سے ایران، اسرائیل اور امریکا نے بھی تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے عالمی تیل کی فراہمی پر شدید دباؤ پڑا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہرمز کے راستے میں رکاوٹ عالمی تیل مارکیٹ کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کار اور مالی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے، جس نے اسٹاک ایکسچینجز اور توانائی کی قیمتوں پر اثر ڈالا ہے۔

ایران کے حملے جاری رہے تو اسے بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا: سعودی عرب

سعودی عرب اپنے عوام، سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق رکھتا ہے: سعودی وزارتِ خارجہ
شائع 09 مارچ 2026 01:06pm

سعودی عرب نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں جارحانہ کارروائیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کشیدگی جاری رہی تو ایران کو اس کی سب سے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز جاری بیان میں ایران کی جانب سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر جاری حملوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اپنے عوام، سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایئرپورٹس اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

واضح رہے کہ ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے حال میں ہی ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کا ہمسایہ ممالک پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں۔ سعودی حکام نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی صدر کی یقین دہانی محض کاغذی ہے کیوں کہ ایران کے حملے اب جاری ہیں۔

سعودی عرب نے ایران کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ سعودی لڑاکا اور ایندھن بھرتی کرنے والے طیارے ایران کے خلاف حملوں میں استعمال ہورہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ طیارے صرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے فضائی حدود کی نگرانی اور ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے حفاظت کے لیے گشت کر رہے ہیں۔

سعودی وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ایران کے حملے جاری رہے تو اس کے نتیجے میں ایران کو سفارتی، اقتصادی اور اسٹریٹجک سطح پر سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔

اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں سفید فاسفورس استعمال کیا: ہیومن رائٹس واچ

ہیومین رائٹس واچ کا امریکا اور اتحادی ممالک سے اسرائیل کو فوجی امداد اور اسلحہ کی فروخت معطل کرنے کا مطالبہ
اپ ڈیٹ 09 مارچ 2026 12:05pm

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے رہائشی علاقوں پر حملوں میں سفید فاسفورس کے گولے استعمال کیے جو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی اور انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے قصبے یوحمر میں شہری آبادی پر سفید فاسفورس کے گولے استعمال کیے جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

تنظیم کے مطابق اس نے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز کا کا جائزہ لیا جس میں یوحمر کے رہائشی علاقے میں سفید فاسفورس کے گولے فضا میں پھٹتے دکھائی دیے۔

رپورٹ کے مطابق ان حملوں کے بعد بننے والے دھوئیں کے بادل کی شکل امریکی ساختہ ایم 825 سیریز کے 155 ملی میٹر آرٹلری گولے سے مطابقت رکھتی ہے جس میں سفید فاسفورس موجود ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سفید فاسفورس ایک ایسا کیمیائی مادہ ہے جو آکسیجن کے ساتھ رابطے میں آتے ہی بھڑک اٹھتا ہے۔ اسے جنگی میدان میں دھواں پیدا کرنے یا روشنی فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ آتش گیر ہتھیار کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور شدید آگ، خطرناک جھلساؤ، سانس کے مسائل، اعضا کے ناکارہ ہونے اور حتیٰ کہ موت کا سبب بن سکتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گنجان آباد علاقوں میں سفید فاسفورس کے گولوں کا استعمال فوری طور پر بند کرے کیوں کہ اس سے شہریوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سفید فاسفورس انسانی گوشت اور ہڈیوں کو جلا سکتا ہے اور عمارتوں کو آگ لگا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ جس روز اسرائیل نے اس علاقے پر حملہ کیا تھا اسی روز اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے یوحمر اور دیگر تقریباً 50 دیہات اور قصبوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر گھروں سے ایک ہزار میٹر دور کھلے علاقوں میں منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی تھی۔

ہیومن رائٹس واچ نے امریکا، برطانیہ اور جرمنی سمیت اسرائیل کے اتحادی ممالک سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو فوجی امداد اور اسلحہ کی فروخت معطل کریں اور مبینہ سنگین جرائم میں ملوث حکام پر پابندیاں عائد کری

قطر: سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلانے کے الزام میں 313 افراد گرفتار

قطری وزارتِ داخلہ کی عوام سے سیکیورٹی واقعات کی ویڈیوز نہ بنانے اور صرف تصدیق شدہ ذرائع پر بھروسہ کرنے کی اپیل
شائع 09 مارچ 2026 10:48am

قطر کی وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 313 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

قطری وزارتِ داخلہ کے مطابق ان افراد کو سائبر کرائمز کی روک تھام کے لیے قائم ادارے نے گمراہ کُن معلومات اور افواہیں پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

حکام کے مطابق گرفتار افراد نے غیر مجاز ویڈیو کلپس بنا کر انہیں سوشل میڈیا پر پھیلایا، گمراہ کُن معلومات، افواہیں اور وہ مواد سوشل میڈیا پر شیئر کیا جس کا مقصد عوام میں تشویش اور بے چینی پیدا کرنا تھا، یہ سرکاری ہدایات کی خلاف ورزی ہے۔

وزارتِ داخلہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ معلومات کے حصول کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کیا جائے اور ایسی کسی بھی معلومات یا مواد کو شیئر نہ کیا جائے جس میں گمراہ کن معلومات شامل ہوں یا جو عوامی رائے کو اشتعال دلا سکتا ہو۔

وزارت نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورت حال سے متعلق کسی بھی قسم کی ویڈیوز بنانے، شیئر کرنے یا افواہیں پھیلانے سے گریز کی جائے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ایران نے خلیجی ممالک پر حملہ کر کے دھوکا دیا، قطری وزیراعظم

کشیدگی فوری کم ہونی چاہیے، جنگ بڑھی تو عالمی معیشت متاثر ہوگی، شیخ محمد بن عبدالرحمان
شائع 09 مارچ 2026 10:38am

قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی کا کہنا ہے کہ ایران نےہمیں دھوکادیا اس باوجود فریقوں کو کشیدگی کم کرنی چاہیے اور حملےاب بند ہوجانے چاہیے۔

غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں قطری وزیراعظم نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے آغاز کے صرف ایک گھنٹے بعد ہی قطر اور دیگر خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا گیا، حالانکہ یہ ممالک اس تنازع کا براہ راست حصہ نہیں تھے۔

شیخ محمد بن عبدالرحمان نے کہا کہ قطر نے ابتدا ہی میں واضح کر دیا تھا کہ وہ اپنے پڑوسیوں کے خلاف کسی جنگ میں حصہ نہیں لے گا۔ ان کے بقول قطر طویل عرصے سے ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھے ہوئے تھا اور ہمیشہ خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے، لیکن موجودہ حملوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملے ایک خطرناک غلط اندازہ ہیں جو پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت قطر ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے، تاہم ملک کی دفاعی اور سیکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔

قطری وزیراعظم نے بتایا کہ حالیہ حملوں کے دوران ہوائی اڈوں، پانی کی فراہمی کے نظام اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق تقریباً 25 فیصد حملوں میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کا براہ راست جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔

شیخ محمد بن عبدالرحمان نے کہا کہ قطر دنیا کو تقریباً 20 فیصد گیس فراہم کرتا ہے اور کھاد پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ اگر قطر کی توانائی اور بنیادی تنصیبات متاثر ہوئیں تو اس کے اثرات عالمی معیشت، خوراک کی فراہمی اور توانائی کی منڈیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

انہوں نے زور دیا کہ ایران ہمارا پڑوسی ہے اور اس کے ساتھ رہنا ہماری تقدیر ہے، لیکن موجودہ بحران کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق تمام فریقوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

قطری وزیراعظم نے امریکا سمیت دیگر عالمی طاقتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ خطے میں تناؤ کم کرنے میں کردار ادا کریں، کیونکہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو پورا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

ایران کا جوہری خطرہ ختم ہوگا تو تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں گی: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل کی بڑھتی قیمتوں کو عالمی امن کی معمولی سی قیمت قرار دیا ہے
شائع 09 مارچ 2026 09:59am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو عالمی امن اور سلامتی کی معمولی قیمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک چھوٹی سی قربانی ہے اور صرف احمق ہی اس بات سے اختلاف کر سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ عارضی ہے اور یہ کوئی بڑی قیمت نہیں ہیں، ایران کے جوہری خطرے کے خاتمے کے بعد یہ قیمتیں تیزی سے کم ہو جائیں گی۔

انہوں نے لکھا کہ تیل کی قیمتوں میں عارضی اضافہ قابلِ قبول ہے کیوں کہ اس کے بدلے امریکا اور دنیا کو سلامتی اور امن حاصل ہوگا۔

ٹرمپ نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ امریکا اور دنیا کے امن اور سلامتی کے لیے تیل کی عارضی بلند قیمت ایک بہت چھوٹی قیمت ہے اور جو اس کے جو اس کے برعکس سوچے گا وہ احمق ہی ہوگا۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور قیمتیں جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

اس صورت حال کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے چند بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے جب کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں طویل تعطل کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

آبنائے ہرمز بندش: تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے
شائع 09 مارچ 2026 09:29am

امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور قیمتیں جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے تیل کی عالمی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔

اس صورت حال کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے چند بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے جب کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں طویل تعطل کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

پیر کو برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں ایک موقع پر 18 ڈالر 35 سینٹ یا تقریباً 19.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 111.04 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ بعد ازاں قیمت 15 ڈالر 24 سینٹ اضافے کے ساتھ 107.93 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتی دیکھی گئی۔

اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ آئل کی قیمت 16 ڈالر 50 سینٹ یا 18.2 فیصد اضافے کے ساتھ 107.40 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جب کہ سیشن کے دوران یہ 111.24 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ گئی تھی۔

گزشتہ ہفتے بھی برینٹ کروڈ میں 27 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی میں 35.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق عراق اور کویت نے تیل کی پیداوار میں کمی شروع کر دی ہے، جب کہ اس سے قبل قطر کی جانب سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدات میں بھی کمی دیکھی گئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہوتی رہی تو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو بھی جلد تیل کی پیداوار کم کرنا پڑ سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ یہ جنگ جلد ختم بھی ہو جائے تو بھی دنیا بھر کے صارفین اور کاروباری اداروں کو کئی ہفتوں یا مہینوں تک مہنگے ایندھن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیوں کہ سپلائی چین، تیل کی تنصیبات اور شپنگ کے خطرات بدستور برقرار رہیں گے۔

آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب

مجتبیٰ خامنہ ای امام خمینی اور آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ایران کے تیسرے سپریم لیڈر ہیں
اپ ڈیٹ 09 مارچ 2026 12:51pm

سید مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا ہے۔ وہ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مجلس خبرگان نے ووٹنگ کے ذریعے ان کے نام کی منظوری دی، جس میں انہیں بھاری اکثریت کی حمایت حاصل ہوئی۔

رپورٹس کے مطابق سید مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے تیسرے سپریم لیڈر ہوں گے۔ مجلس خبرگان کے ارکان کا کہنا ہے کہ ملک میں قیادت کے خلا سے بچنے کے لیے فوری طور پر نئے رہبر کے انتخاب کا عمل مکمل کیا گیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مجلس خبرگان کے اجلاس میں قومی اتحاد اور استحکام پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں شریک ارکان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ نئے سپریم لیڈر کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کریں اور ملک میں اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھیں۔

مجلس خبرگان کے عہدیداروں نے بتایا کہ حالیہ کشیدہ حالات اور دشمن کے حملوں کے باوجود سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل میں کوئی تاخیر نہیں ہونے دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخاب کے لیے تمام آئینی اور شرعی تقاضے پورے کیے گئے۔

ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے بھی اس موقع پر کہا کہ مجلس خبرگان نے خطرات اور حملوں کے باوجود نئے سپریم لیڈر کا انتخاب مکمل کیا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں نئی قیادت ملک کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرے گی اور عوام کو متحد رہنے کی ضرورت ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای طویل عرصے سے ایرانی قیادت کے قریبی حلقوں میں ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے رہے ہیں۔ انہیں پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ بھی قریبی روابط رکھنے والی شخصیت قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے ماضی میں جانشینی کے معاملے پر کھل کر کوئی بیان نہیں دیا تھا۔

۔

نو منتخب سپریم لیڈر ایران کے سب سے اعلیٰ مذہبی اور سیاسی منصب پر فائز ہوں گے اور ملک کی داخلی و خارجی پالیسیوں پر ان کا اثر نمایاں ہوگا۔ سرکاری ذرائع نے اس فیصلے کو ایران کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم مرحلہ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب سیکیورٹی امور کے ماہر ڈاکٹر قمر چیمہ نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ایران میں تقریباً چالیس برس بعد نئے سپریم لیڈر کا انتخاب ہوا ہے۔ ان کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے مشن کو جاری رکھنے کی کوشش کریں گے۔

ڈاکٹر قمر چیمہ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بعض حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ ایران میں نئی قیادت کے حوالے سے واضح صورتحال موجود نہیں۔ ان کے مطابق پاسداران انقلاب کے کئی کمانڈرز بھی مجتبیٰ خامنہ ای کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مختلف شہروں میں مناب اسکول کے حملے میں جان سے جانے والے طلبہ اور دیگر شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ مسلح افواج کے کردار کو بھی سراہا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئی قیادت کے اعلان کے بعد ایران میں سیاسی صورتحال پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اس فیصلے پر ردعمل سامنے آ سکتا ہے، تاہم ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ملک کی قیادت کا فیصلہ ایران کا داخلی معاملہ ہے۔

نئے منتخب سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کون؟

رپورٹس کے مطابق ایران کی 88 رکنی مجلسِ خبرگانِ رہبری نے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو منتخب کرلیا ہے، مجتبیٰ حسینی خامنہ ای 1969ء میں مشہد میں پیدا ہوئے۔ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے بڑے بیٹے ہیں اور ان کے پانچ بہن بھائی ہیں۔ ان کی پرورش ایسے دور میں ہوئی جب ان کے والد سابق شاہ محمد رضا پہلوی کے خلاف سرگرم ایک نمایاں مذہبی رہنما کے طور پر ابھر رہے تھے۔

1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد خامنہ ای خاندان ریاستی نظام کے مرکز میں آ گیا۔ تہران منتقل ہونے کے بعد مجتبیٰ نے الوی ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی، جو حکومتی حلقوں سے وابستہ شخصیات کی تیاری کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

بعد ازاں انہوں نے قم میں ممتاز علما کی نگرانی میں دینی تعلیم حاصل کی، تاہم کئی دہائیوں کی تعلیم کے باوجود وہ تاحال آیت اللہ کے درجے تک نہیں پہنچ سکے۔

۔

ایران۔عراق جنگ کے دوران انہوں نے حبیب بٹالین میں خدمات انجام دیں، جہاں ان کے تعلقات ایسے افراد سے قائم ہوئے جو بعد میں ملک کے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں میں اہم عہدوں تک پہنچے۔

اگرچہ انہوں نے کبھی کوئی عوامی عہدہ یا سرکاری منصب نہیں سنبھالا، تاہم انہیں طویل عرصے سے سپریم لیڈر کے دفتر میں بااثر شخصیت سمجھا جاتا رہا ہے۔ ان کے کردار کا موازنہ اکثر سابق ایرانی سپریم لیڈر روح اللہ خمینی کے بیٹے احمد خمینی سے کیا جاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ان کا اثر و رسوخ بڑی حد تک پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ قریبی روابط کی وجہ سے ہے، جو ایران کی سیاسی معیشت اور سیکیورٹی پالیسی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

2019ء میں امریکا نے مجتبیٰ حسینی خامنہ ای پر پابندیاں عائد کیں اور الزام لگایا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے اختیارات کا کچھ حصہ اپنے بیٹے کو منتقل کر رکھا تھا۔ اصلاح پسند سیاست دانوں اور بعض مغربی حکومتوں نے بھی ان پر انتخابی عمل میں مداخلت اور سیکیورٹی کریک ڈاؤن کی حمایت کے الزامات عائد کیے، جنہیں ایرانی حکام مسترد کرتے رہے ہیں۔

امریکا کا ایران کی شہری آبادی کو نشانہ بنانے اور یورینیم قبضے میں لینے کا منصوبہ

امریکی فوجی حکام نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں وہ ایران کے عام شہریوں کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتے۔
شائع 08 مارچ 2026 07:15pm

امریکی فوجی حکام اور سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے حوالے سے خدشات موجود ہیں جبکہ دوسری جانب ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بھی نئی حکمت عملی زیر غور ہونے کی اطلاعات ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے بعض حملے شہری علاقوں کے قریب سے کیے جا رہے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اگر کسی جگہ سے فوجی کارروائی کی جا رہی ہو تو بین الاقوامی قوانین کے تحت اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اسی تناظر میں امریکی فوج نے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر گھروں کے اندر رہنے کو ترجیح دیں۔

امریکی فوجی حکام نے یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال میں وہ ایران کے عام شہریوں کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

دوسری جانب بعض امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں ایک خصوصی مشن بھیجنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اس مشن میں جوہری امور کے ماہرین اور سائنسدان بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس بارے میں کوئی باضابطہ سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے چند اہم سوالات زیر بحث ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم اس وقت کہاں موجود ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اس تک رسائی کس طرح حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر ضرورت پڑے تو اسے کس طرح اپنے کنٹرول میں لیا جا سکتا ہے۔

امریکی سینیٹر مارکو روبیو نے میڈیا کو دی گئی بریفنگ کے دوران ان امور پر گفتگو کی۔

بریفنگ کے دوران ان سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا ایران کا افزودہ یورینیم محفوظ ہے۔ اس پر روبیو نے جواب دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو کچھ لوگ وہاں جا کر اسے حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

تہران میں تیل کی بارش، دھویں سے دن رات میں بدل گیا

بارش کے قطرے سیاہ بادلوں سے گر رہے تھے جن میں تیل کی آمیزش محسوس ہو رہی تھی۔
شائع 08 مارچ 2026 05:42pm

ایران کے دارالحکومت تہران میں اسرائیلی حملوں کے بعد آسمان پر سیاہ دھوئیں کے گھنے بادل چھا گئے اور کئی علاقوں میں بارش کے ساتھ تیل آلود قطرے گرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ صحت کے خطرات کے پیش نظر گھروں کے اندر رہیں۔

اتوار کی صبح تہران کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے بتایا کہ شہر کے اوپر آسمان گہرے دھوئیں سے ڈھکا ہوا تھا اور فضا میں جلتے ہوئے ایندھن کی بو پھیل رہی تھی۔

کئی شہریوں کا کہنا تھا کہ سورج نکلنے کے باوجود ماحول غیر معمولی طور پر تاریک دکھائی دے رہا تھا۔ بعض لوگوں نے شکایت کی کہ بارش کے قطرے سیاہ بادلوں سے گر رہے تھے جن میں تیل کی آمیزش محسوس ہو رہی تھی۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ہفتے کی رات اسرائیل کی جانب سے تہران کے قریب تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’فارس‘ کے مطابق حملوں میں چار آئل ڈپوز اور ایک تیل منتقلی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے جن میں دو آئل ٹینکر ڈرائیور بھی شامل تھے۔

ایرانی ریڈ کریسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ تیل کے ڈپو میں ہونے والے دھماکوں کے بعد فضا میں زہریلے ہائیڈروکاربن مرکبات، سلفر اور نائٹروجن آکسائیڈز کی بڑی مقدار پھیل گئی ہے۔

ادارے کے مطابق اگر اس ماحول میں بارش ہوتی ہے تو یہ بارش انتہائی خطرناک اور تیزابی ہو سکتی ہے جس سے جلد جلنے اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

ایرانی ماحولیاتی حکام نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ممکنہ طور پر گھروں کے اندر رہیں اور غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں تاکہ سانس کی بیماریوں اور دیگر صحت کے مسائل سے بچا جا سکے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جن تیل ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا وہ ایران کے فوجی ڈھانچے کے لیے ایندھن فراہم کرتی تھیں۔

اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ ایرانی فوجی ادارے ان ذخیرہ گاہوں سے باقاعدگی سے ایندھن حاصل کرتے ہیں جو مختلف فوجی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ حملہ ایران کے فوجی ڈھانچے کو مزید کمزور کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

ایران کی نیشنل آئل پروڈکٹس ڈسٹری بیوشن کمپنی کے سربراہ کرامت ویسکرامی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ حملوں میں پانچ تیل تنصیبات کو نقصان پہنچا لیکن آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے پاس پٹرول کے ذخائر کافی مقدار میں موجود ہیں اور فوری طور پر ایندھن کی قلت کا خدشہ نہیں۔

دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی معیشت پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ تنازع اسی طرح جاری رہا تو تیل کی پیداوار اور فروخت دونوں متاثر ہو سکتی ہیں جس سے عالمی سطح پر قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

جنگ کے آغاز کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت بڑھ کر تقریباً بانوے ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جو 2023 کے بعد بلند ترین سطح بتائی جا رہی ہے۔

اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمت بھی نوے ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے۔

اسی دوران خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ اتوار کو ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے بعض اہم انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایندھن کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں آگ لگنے کی اطلاع دی گئی تاہم کویتی حکام کے مطابق اسے جلد قابو میں لے لیا گیا اور کوئی بڑا جانی نقصان نہیں ہوا۔

بحرین میں بھی ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں پانی کو صاف کر کے پینے کے قابل بنانے والے ایک پلانٹ کو نقصان پہنچنے کی خبر دی گئی۔ بحرین کی وزارت داخلہ نے ایران پر شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

تاہم بحرین کے سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے باوجود ملک میں پانی کی فراہمی یا نیٹ ورک کی صلاحیت متاثر نہیں ہوئی۔

مہنگا بیچیں یا سستا؛ پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں کیسے طے ہوتی ہیں؟

عوامی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پرانے اسٹاک یا ذخائر پر نئی قیمتیں کیسے لاگو کر دی جاتی ہیں۔
شائع 08 مارچ 2026 04:42pm

پاکستان میں جب بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو عوامی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پرانے اسٹاک یا ذخائر پر نئی قیمتیں کیسے لاگو کر دی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ اس معاملے کو پوری طرح سمجھے بغیر اسے منفی رنگ دیتے ہیں، حالانکہ اس کے پیچھے ایک سادہ معاشی منطق اور طریقہ کار کام کرتا ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں رائج ہے۔

اس نظام کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ پیٹرول کی قیمت کا تعین کسی خاص بحری جہاز کے ذریعے منگوائے گئے تیل کی قیمت پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کا فیصلہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کی اوسط قیمت اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تبدیلی کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔

حکومت اور اوگرا کی طرف سے آئل کمپنیوں کے لیے یہ قانونی طور پر لازمی ہے کہ وہ ہر وقت اپنے پاس کم از کم بیس دن کا پیٹرول ذخیرہ رکھیں۔ حال ہی میں علاقائی کشیدگی کی وجہ سے اس ذخیرے کی حد کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کمپنیاں جس وقت عوام کو پیٹرول بیچ رہی ہوتی ہیں، اسی وقت انہیں اپنا ذخیرہ پورا رکھنے کے لیے عالمی مارکیٹ سے نئی قیمتوں پر مزید تیل بھی خریدنا پڑتا ہے۔ جب آج ایک لیٹر پیٹرول فروخت ہوتا ہے تو اسے برقرار رکھنے کے لیے عالمی منڈی سے موجودہ ریٹ پر نیا ایک لیٹر خریدنا ضروری ہوتا ہے۔

جسے لوگ ’انوینٹری پرافٹ‘ یا ذخیرے پر منافع کہتے ہیں، وہ دراصل اس عمل میں ختم ہو جاتا ہے کیونکہ پرانا تیل بیچ کر جو پیسہ ملتا ہے وہ مہنگا نیا تیل خریدنے میں صرف ہو جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نظام دونوں طرف کام کرتا ہے اور اکثر کمپنیوں کو بڑے نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

جب عالمی منڈی میں قیمتیں گرتی ہیں تو کمپنیوں کو وہ تیل سستا بیچنا پڑتا ہے جو انہوں نے پہلے مہنگے داموں خرید کر ذخیرہ کیا ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر دسمبر میں جب پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 24 روپے فی لیٹر کمی کی گئی تو ریفائنریوں اور تیل کمپنیوں کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا کیونکہ ان کے پاس موجود لازمی ذخیرہ مہنگے داموں خریدا گیا تھا۔

اسی طرح کے حالات 2022 اور 2023 میں بھی دیکھے گئے جب قیمتوں میں کمی کی وجہ سے کمپنیوں کو اپنا مہنگا اسٹاک سستے نرخوں پر بیچنا پڑا۔

مختصر یہ کہ یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں عالمی مارکیٹ کی تبدیلیوں کا اثر براہ راست قیمتوں پر پڑتا ہے۔

یہ کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے جس سے کمپنیاں پہلے کا خریدا ہوا سستا تیل مہنگا بیچ کر ناجائز منافع کمائیں، بلکہ یہ لازمی ذخیرہ برقرار رکھنے اور عالمی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ چلنے کا ایک قانونی طریقہ کار ہے۔

بعض اوقات یہ عارضی منافع لگتا ہے لیکن قیمتیں گرنے پر کمپنیوں کے لیے یہ اکثر بڑے مالی نقصان میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

سستے ایرانی ڈرونز نے خطے میں موجود اربوں ڈالر کے امریکی ریڈار سسٹم کیسے تباہ کیے؟

ایران کی ڈرونز نے امریکا کے میزائلوں کا اندھا کردیا۔
شائع 08 مارچ 2026 04:26pm

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران ایرانی ساختہ سستے ترین ڈرونز نے امریکی فوج کے جدید اور مہنگے ریڈار اور نگرانی کے نظام کو نقصان پہنچایا ہے۔ مختلف بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق ایران کے ڈرون حملوں نے قطر، اردن اور بحرین میں موجود اہم امریکی فوجی تنصیبات کو متاثر کیا ہے، جس کے بعد خطے کے میزائل دفاعی نظام میں بڑی کمزوریاں پیدا ہو گئی ہیں۔

امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ اور ٹی وی نیٹ ورک ’سی این این‘ نے سیٹلائٹ تصاویر اور انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے کم قیمت شاہد ڈرونز کی بڑی تعداد استعمال کرتے ہوئے امریکی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق ایک شاہد ڈرون کی قیمت تقریباً بیس ہزار ڈالر ہوتی ہے، جبکہ جن ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا ان کی قیمت اربوں ڈالر تک بتائی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ حکمت عملی اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس میں نسبتاً سستے ہتھیاروں کے ذریعے انتہائی مہنگے دفاعی نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق قطر میں امریکی فضائی اڈے العدید پر موجود فوری خبردار کرنے والے ریڈار سسٹم کو نقصان پہنچا ہے۔

یہ ریڈار امریکی خلائی فورس کے عالمی نگرانی کے نیٹ ورک کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی مالیت تقریباً ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں اس تنصیب کے متاثر ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

اسی طرح اردن کے موافق السلطی فضائی اڈے پر نصب ایک اہم ریڈار سسٹم کی تباہی کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

یہ ریڈار تھاڈ میزائل دفاعی نظام کا مرکزی حصہ ہوتا ہے اور اس کی قیمت تین سو سے پانچ سو ملین ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔

یہ ریڈار طویل فاصلے سے آنے والے بیلسٹک میزائلوں کی نشاندہی کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر کے قریب بھی ڈرون حملے کی اطلاعات ہیں جہاں سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے دو اہم ٹرمینلز کو نقصان پہنچا۔ یہ نظام فوجی مواصلاتی رابطوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں موجود کچھ ریڈار تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

ان مقامات پر تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام تعینات ہیں جو خطے میں بیلسٹک میزائلوں کے خطرے کے خلاف اہم دفاعی ڈھال سمجھے جاتے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے باوجود مجموعی دفاعی صلاحیت برقرار ہے کیونکہ نگرانی کے لیے دیگر متبادل نظام بھی موجود ہیں، جن میں سیٹلائٹ پر مبنی سینسرز شامل ہیں۔

تاہم فوجی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر زمینی ریڈار نظام متاثر ہوتے ہیں تو آنے والے میزائلوں کی بروقت نشاندہی اور انہیں روکنے کے لیے دستیاب وقت کم ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر تھاڈ نظام کے ساتھ نصب ریڈار غیر فعال ہو جائے تو وہ خود سے اہداف کو ٹریک نہیں کر سکتا۔

ایسی صورت میں دفاعی ذمہ داری کم فاصلے تک مار کرنے والے پیٹریاٹ نظام پر منتقل ہو جاتی ہے، جن کے بارے میں پہلے ہی کہا جا رہا ہے کہ ان کے پاس میزائلوں کی تعداد محدود ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید اور مہنگے دفاعی نظام بھی کم قیمت ہتھیاروں کے سامنے نئے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔

امریکا اور اسرائیل کی ایران کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش کیا ہے؟

ایران کے نقشے کو بدلنے کی کوشش کی جا سکتی ہے: پروفیسر فواد ایزدی
شائع 08 مارچ 2026 04:03pm

ایران کے ایک ماہرِ تعلیم نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کو کمزور کر کے اسے مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

تہران یونیورسٹی کے پروفیسر فواد ایزدی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ حالیہ جنگی صورتحال کے دوران سامنے آنے والے بیانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایران کے نقشے کو بدلنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

پروفیسر فواد ایزدی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان میں یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ جنگ کے بعد ایران کا نقشہ موجودہ شکل میں نہیں رہے گا۔

ان کے مطابق اس طرح کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جسے سیاسی اصطلاح میں ”بالکنائزیشن“ کہا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے امریکا کی توجہ ایران کے ان علاقوں پر ہو جہاں تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں، خاص طور پر خلیج فارس کے شمالی ساحلی علاقے۔

اُن کے بقول اگر ایسا منصوبہ بنایا گیا تو ان تیل سے مالا مال علاقوں کے لیے الگ انتظام قائم کیا جا سکتا ہے جبکہ دیگر حصوں کو کم اہم سمجھا جا سکتا ہے۔

فواد ایزدی نے یہ بھی کہا کہ ان کے خیال میں بعض طاقتیں ایران میں ایسی صورتحال پیدا کرنا چاہتی ہیں جس میں حکومت کمزور ہو جائے یا قیادت کا خلا پیدا ہو۔

ان کے مطابق اس طرح کے حالات میں ملک کے سیاسی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ایران کے موجودہ ڈھانچے میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔

تاہم، اس معاملے پر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران مختلف ماہرین اور حکام کی جانب سے متعدد دعوے اور خدشات سامنے آ رہے ہیں جن کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے۔

مبصرین کے مطابق ایران خطے کا ایک اہم ملک ہے اور اس کی جغرافیائی اور توانائی کی اہمیت کے باعث اس کے بارے میں کسی بھی بڑے سیاسی یا جغرافیائی منصوبے کے عالمی سطح پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس وقت خطے میں جاری کشیدگی کے باعث صورتحال مسلسل غیر یقینی کا شکار ہے۔

نئے سپریم لیڈر کا فیصلہ ہوگیا: ایرانی میڈیا کا دعویٰ

اسمبلی آف ایکسپرٹس کی اکثریت نے ایک ایسے امیدوار پر اتفاق کیا ہے جسے اس منصب کے لیے سب سے موزوں سمجھا گیا ہے: محسن حیدری
شائع 08 مارچ 2026 03:43pm

ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس مقصد کے لیے قائم کمیٹی نے اپنا فیصلہ کرلیا ہے، تاہم منتخب شخصیت کے نام کا باضابطہ اعلان ابھی نہیں کیا جائے گا۔

ایران کی خبر رساں ایجنسی ’ایسنا‘ کے مطابق ماہرین کی مجلس کے رکن محسن حیدری نے بتایا کہ اسمبلی آف ایکسپرٹس کی اکثریت نے ایک ایسے امیدوار پر اتفاق کیا ہے جسے اس منصب کے لیے سب سے موزوں سمجھا گیا ہے۔

محسن حیدری خوزستان صوبے کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل میں شامل ارکان میں سے ایک ہیں۔

اسی حوالے سے مجلس کے ایک اور رکن محمد مہدی میرباقری نے بھی ایک ویڈیو بیان میں تصدیق کی کہ ارکان کی اکثریت کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مضبوط اور واضح فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

یہ ویڈیو ایرانی خبر ایجنسی ’فارس‘ کے ذریعے جاری کی گئی۔

تاہم حکام کی جانب سے ابھی تک اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ نئے سپریم لیڈر کے طور پر کس شخصیت کو منتخب کیا گیا ہے اور نہ ہی اس اعلان کے وقت کے بارے میں کوئی باضابطہ اطلاع دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں سپریم لیڈر کا عہدہ ملک کے سیاسی اور مذہبی نظام میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

اس منصب کے حامل شخص کو ریاستی امور، خارجہ پالیسی اور دفاعی معاملات سمیت کئی اہم اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔

سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمہ داری مجلس خبرگان یعنی اسمبلی آف ایکسپرٹس کے پاس ہوتی ہے، جو مختلف مذہبی اور سیاسی شخصیات پر مشتمل ایک بااثر ادارہ ہے۔

ایران جنگ: 200 بچوں سمیت 1200 سے زائد ایرانی شہید، دو ہزار اسرائیلی زخمی

تہران میں آئل ڈپوز پر فضائی حملہ، قبرص میں ہزاروں شہریوں کا انخلا
شائع 08 مارچ 2026 02:11pm

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث دونوں ممالک میں جانی و مالی نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 1,929 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 157 افراد گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسپتالوں میں لائے گئے۔

اسرائیلی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ زیر علاج افراد میں نو مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 42 افراد کی حالت درمیانی نوعیت کی بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 70 افراد معمولی زخمی ہیں۔ حکام کے مطابق اسپتالوں میں لائے جانے والے کئی افراد ایسے بھی ہیں جو حملوں کے دوران محفوظ پناہ گاہوں کی طرف جاتے ہوئے زخمی ہوئے۔

دوسری جانب ایران کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں اب تک 1200 سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔

وزارت کے ترجمان حسین کرمان پور کے مطابق مرنے والوں میں تقریباً 200 بچے اور 200 خواتین بھی شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں لگ بھگ 400 خواتین بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا نے آئل ڈپوز پر فضائی حملہ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ تیل کے ذخیرہ کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد آگ کے بلند شعلے اور دھوئیں کے بادل فضا میں پھیل گئے۔

ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق اتوار کے روز ہونے والے حملوں میں تہران اور قریبی صوبے البرز میں چار آئل اسٹوریج ڈپو اور ایک آئل ٹرانسفر مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔

اس واقعے میں چار ٹینکر ڈرائیوروں کی ہلاکت کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔

ایرانی ہلال احمر سوسائٹی نے بھی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

ادارے کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں اب تک کم از کم 9,669 شہری یونٹس تباہ ہو چکے ہیں۔ ان میں 7,943 رہائشی مکانات اور 1,617 تجارتی یونٹس شامل ہیں۔

اسی دوران لبنان کے جنوبی گاؤں سر الغربییہ میں اسرائیلی حملے میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہوئے۔ لبنان کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق حملہ ایک تین منزلہ عمارت پر کیا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کئی افراد ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹا کر لاشوں کو نکالنے کا کام کر رہی ہیں۔

ادھر قبرص میں بھی سیکیورٹی صورتحال کے باعث احتیاطی اقدامات جاری ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اکروتیری کے علاقے میں تقریباً ایک ہزار افراد کو اس وقت اپنے گھروں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جب ایک ایرانی ساختہ ڈرون برطانوی فوجی اڈے کے قریب گرا۔

ایران پر حملہ: امریکا اب تک کتنا نقصان اٹھا چکا ہے؟

امریکا اس جنگ میں تقریباً 249 ارب روپے یومیہ خرچ کر رہا ہے جب کہ نقصانات اس کے علاوہ ہیں۔
اپ ڈیٹ 08 مارچ 2026 04:16pm

امریکا کے ایران کے خلاف جاری حملوں کو اب تک کی مہنگی ترین فوجی کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس میں واشنگٹن اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی، ہتھیاروں اور جنگی طیاروں کا استعمال کر رہا ہے۔ امریکا کو اس جنگ پر روزانہ اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑ رہے ہیں جب کہ ایران کے جوابی حملوں سے خطے میں امریکی فوجی اثاثوں کو بھی نمایاں نقصان پہنچ رہا ہے۔

ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال امریکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد اس جنگ کے معاشی اثرات پر عالمی سطح پر بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔

امریکا نے 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران میں فضائی حملے شروع کیے جسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کا نام دیا ۔ اس آپریشن کے پہلے ہی ہفتے میں امریکی افواج نے ایران کے اندر 3 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اس جنگ کا مقصد ایران میں رجیم چینج ہے اور جب تک ایسا نہیں ہوتا، یہ کارروائیاں جاری رہیں گی ۔

امریکا نے ایران پر حملوں میں جدید ترین ہتھیار اور طیارے استعمال کیے ہیں، جن میں ٹوماہاک کروز میزائلز، بی ٹو اسٹیلتھ بمبار، ایم کیو 9 ریپر ڈرونز اور جے ڈیم کٹس شامل ہیں۔

معروف دفاعی تھنک ٹینک ’سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز‘ (سی ایس آئی ایس) کی رپورٹ کے مطابق اس جنگ پر امریکا کو تقریباً 89 کروڑ 14 لاکھ ڈالر یومیہ خرچ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا اس جنگ میں روزانہ تقریباً 249 ارب روپے بھینٹ چڑھا رہا ہے اور ان اخراجات میں تیزی آتی جارہی ہے۔

امریکا کے ایران پر حملوں میں نقصان کا سب سے بڑا حصہ مہنگے میزائلوں اور بموں پر خرچ ہو رہا ہے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکا نے صرف پہلے 100 گھنٹوں میں تقریبا 2,600 ہتھیار استعمال کیے، جن میں طویل فاصلے کے ٹوماہاک میزائل اور کم فاصلے کے ’جی ڈی اے ایم‘ بم شامل ہیں۔

مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق امریکا نے پہلے روز ابتدائی حملوں میں ایران پر تقریباً 200 سے زائد ٹوماہاک میزائل فائر کیے۔ ایک ٹوماہاک کروز میزائل کی قیمت تقریباً 3.6 ملین ڈالر یعنی تقریباً 1 ارب پاکستانی روپے بنتی ہے۔

دوسری جانب ایران امریکی تنصیبات پر حملوں کے لیے سستے ڈرونز اور میزائل استعمال کرتا ہے تاہم امریکا اور اسرائیل کو انہیں روکنے کے لیے ’تھاڈ‘ اور ’ایس ایم 3‘ جیسے مہنگے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑ رہے ہیں جو انتہائی مہنگے ہیں۔

امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس نے صرف چار روز میں 500 میزائل اور 1300 ایرانی ڈرونز مار گرائے۔

اس دعوے کو درست مانا جائے تو ان کارروائیوں سے امریکی خزانے کو تقریباً 1.6 بلین ڈالر یعنی تقریباً 448 ارب پاکستانی روپے کا نقصان ہوا۔ ایرانی حملے جاری رہنے کی صورت میں یہ اخراجات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

ایران کی جانب سے خلیجی ممالک اور خطے میں موجود امریکا کے اہم اسٹریٹجک اثاثوں اور تنصیبات پر مسلسل حملے کیے جارہے ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے مجموعی طور پر 27 امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکا کے متاثرہ اثاثوں میں جدید ریڈار سسٹم، ایف 15 اور دیگر جنگی طیارے، سیٹلائٹ کمیونیکیشن سسٹمز اور متعدد سفارت خانے شامل ہیں جب کہ سینٹ کام نے اب تک 6 اہلکاروں کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ کے جنوب مغرب میں واقع العدید ایئربیس مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا اور اہم ترین فضائی اڈہ ہے۔ یہ اڈہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے فارورڈ ہیڈکوارٹر کے طور پر کام کرتا ہے اور مصر سے لے کر افغانستان تک امریکی کارروائیوں کو یہیں سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

ایران نے جوابی حملوں میں العدید ایئر بیس کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ جہاں موجود ابتدائی وارننگ ریڈار سسٹم متاثر ہونے سے امریکا کو بڑا نقصان ہوا۔ اس ریڈار کی مالیت تقریباً 1.1 ارب ڈالر یعنی 3 کھرب 8 ارب روپے بنتی ہے۔

اس ریڈار کی رینج تقریباً 5 ہزار کلومیٹر تھی اور یہ خلیجی ریاستوں اور امریکی فوج کو ایرانی میزائل حملوں کی پیشگی اطلاع دینے کا سب سے مؤثر ذریعہ تھا۔ سیٹلائٹ تصاویر سے اس حملے میں ہونے والی تباہی کی تصدیق ہو چکی ہے۔

بحرین میں امریکی بحریہ کا ایک تاریخی اور انتہائی اہم اڈہ واقع ہے جو امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے (ففتھ فلیٹ) کا مستقل ہیڈکوارٹر ہے ۔ اس بحری بیڑے کی ذمہ داریوں میں خلیجِ فارس، بحیرہ احمر، اور بحیرہ عرب کے انتہائی اہم اور مصروف ترین آبی تجارتی راستوں کی حفاظت کرنا شامل ہے۔

ایران نے اس نیول ہیڈکوارٹر کو بھی براہ راست نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ ابتدائی حملوں میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں نے اس اڈے کے اندر موجود دو انتہائی اہم سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز کو تباہ کر دیا تھا۔

ان مواصلاتی ٹاورز کی تباہی سے امریکی بحریہ کی خلیج فارس میں اپنے بحری جہازوں کے ساتھ رابطے کی صلاحیت کو زبردست دھچکا پہنچا ہے، جس سے ان کے آپریشنز بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

کویت امریکی بری فوج کے لیے خطے کا سب سے بڑا لاجسٹک اور سپلائی مرکز ہے۔ یہاں کیمپ عارف جان، علی السالم ایئربیس اور کیمپ بیوہرنگ جیسے بڑے فوجی اڈے موجود ہیں ۔ پورے خطے میں فوجیوں کی نقل و حرکت، ٹینکوں اور دیگر بھاری سازوسامان کی فراہمی انہی کیمپس کے ذریعے ہوتی ہے۔

کویت پر بھی ایران کے براہ راست میزائل حملے جاری ہیں، ایرانی ڈرونز اور میزائیلوں نے ان فوجی اڈوں پر کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ کویت کی حدود میں ہی امریکا کے 6 فوجی اہلکار ہلاک جب کہ تین ایف 15 جنگی طیارے تباہ ہوئے ہیں۔

یکم مارچ کو ایرانی ’شاہد ڈرونز‘ نے متحدہ عرب امارات اور بحرین میں واقع معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایمازون کے تین بڑے کلاؤڈ ڈیٹا سینٹرز پر بھی حملہ کیا۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے بیان دیا کہ ان حملوں کا مقصد ان ڈیٹا سینٹرز کے امریکی عسکری اور جاسوسی سرگرمیوں میں کردار کو بے نقاب کرنا اور اسے مفلوج کرنا تھا۔

پاسدارانِ انقلاب نے متحدہ عرب امارات کے صنعتی شہر الرویس میں میزائل ڈیفنس سسٹم ’تھاڈ‘ کے ریڈار کو بھی نشانہ بنایا اور اسکی تباہی کا دعویٰ کیا ہے۔

اس کے علاوہ اردن کے موّفق السلطی ایئر بیس اور سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر بھی ’تھاڈ‘ اور اس کے ریڈارز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

دفاعی ماہرین ’تھاڈ‘ سسٹم کی صرف ایک بیٹری کی قیمت تقریباً 2 سے 3 بلین ڈالر ہوتی ہے اور اس کے ریڈار کی مرمت یا تبدیلی میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔

اس سسٹم کی تباہی امریکا کے لیے بہت بڑا اسٹریٹجک دھچکا ہے، جس نے متحدہ عرب امارات اور خطے میں امریکی اور اتحادی افواج کے فضائی دفاع کے مربوط نیٹ ورک کو شدید کمزور کر دیا ہے۔

امریکا کے جاسوسی اور ٹارگٹڈ کلنگ کے لیے مشہور جدید ’ایم کیو9 ریپر‘ ڈرونز بھی اس جنگ میں محفوظ نہیں رہے۔

امریکی حکام کے مطابق اب تک تین ریپر ڈرونز گرائے جا چکے ہیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 90 ملین ڈالر یعنی 25 ارب 20 کروڑ روپے بنتی ہے۔

ایرانی ڈرون حملوں میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے اور دبئی میں امریکی قونصل خانہ بھی متاثر ہوئے۔ ریاض میں معمولی آگ اور محدود نقصان رپورٹ ہوا جب کہ دبئی میں قونصل خانے کے پارکنگ ایریا کو نقصان پہنچا۔

یہ جنگ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس جنگ نے طول پکڑا تو دفاعی اخراجات کے علاوہ بھی اس کے امریکی معیشت اور عالمی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

ایران پر حملے خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں امریکا میں تیل کی قیمتوں اور اسٹاک مارکیٹ پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

موڈیز اینالیٹکس کے چیف اکنامسٹ مارک زینڈی کے مطابق اگر تیل کی فراہمی میں رکاوٹ ایک یا دو ماہ تک جاری رہی تو اس کے سنگین معاشی نتائج ہو سکتے ہیں اور طویل جنگ معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ان کے مطابق تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر اضافے سے امریکا میں مہنگائی کی شرح میں تقریباً 0.15 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس جنگ کا بنیادی اثر امریکا کی معیشت پر تیل اور گیس کی قیمتوں کے ذریعے پڑے گا کیوں کہ توانائی کی لاگت بڑھنے سے اشیائے ضروریہ اور دیگر سروسز کے ریٹ بھی بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں امریکا اربوں ڈالر مالیت کے مہنگے ہتھیار استعمال کرتا رہے گا جب کہ ایران خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتا رہے گا، جس سے اس جنگ کے اخراجات اور امریکی نقصانات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔