Live
Iran Israel War

'ایران میں فوج اتارنے سے امریکا میں سیاسی انقلاب کا خدشہ'

امریکی عوام غیر ملکی جنگیں نہیں چاہتے، ریپبلکن رہنما مارجوری ٹیلر
شائع 18 مئ 2026 12:18pm

ایران میں ممکنہ امریکی فوجی مداخلت کے معاملے پر امریکا کے اندر سیاسی تناؤ بڑھنے لگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سابق قریبی اتحادی اور ریپبلکن رہنما مارجوری ٹیلر گرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران میں فوج اتاری تو ملک میں “سیاسی انقلاب” جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، کیونکہ امریکی عوام مزید غیر ملکی جنگیں نہیں چاہتے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریپبلکن رہنما مارجوری ٹیلر گرین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی مداخلت کی سخت مخالفت کی۔

مارجوری ٹیلر گرین، جو ایک وقت میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’’میک امریکا گریٹ اگین‘‘ تحریک کی نمایاں شخصیت سمجھی جاتی تھیں، نے کہا کہ ’’ہم مزید غیر ملکی جنگیں نہیں چاہتے اور ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔‘‘

انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا، ’’WE. ARE. DONE‘‘، جبکہ مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران میں فوج بھیجنے کی کوشش کی تو ایک مضبوط اتحاد کھڑا ہوگا جو ناقابلِ شکست ہوگا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی اور اسرائیلی حکام کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ حملوں پر غور کیے جانے کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کے معاملے پر امریکی سیاست میں اختلافات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں، جہاں ایک جانب سخت مؤقف اختیار کرنے والے حلقے موجود ہیں تو دوسری جانب نئی جنگ سے بچنے کی آوازیں بھی بلند ہورہی ہیں۔

امارات اسرائیل کی سازشوں کا حصہ نہ بنے، ایران کی کھلی وارننگ

ایران نے اب تک امارات کے ساتھ دوستی کا دروازہ بند نہیں کیا، لیکن ’’صبر کی بھی ایک حد ہے۔‘‘ محسن رضائی
شائع 18 مئ 2026 10:50am

ایران نے متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابوظہبی اسرائیل کی سازشوں اور منصوبوں کا حصہ بننے سے گریز کرے۔ ایرانی حکام کے تازہ بیانات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں نئی سفارتی کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اسکائی نیوز رپورٹس اور ایرانی خبر ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے ملٹری سیکریٹری اور سابق پاسدارانِ انقلاب کمانڈر محسن رضائی نے متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر سخت تنبیہ کی ہے۔

محسن رضائی نے کہا کہ تہران کو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے روابط سے مکمل آگاہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اب تک امارات کے ساتھ دوستی کا دروازہ بند نہیں کیا، تاہم ’’ایران کے صبر کی بھی ایک حد ہے۔‘‘

انہوں نے خبردار کیا کہ متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کی پالیسیوں، سازشوں اور منصوبوں میں الجھنے سے بچنا چاہیے کیونکہ اس سے پورے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران متحدہ عرب امارات بھی ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں آیا تھا۔ بعض اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا کہ یو اے ای نے ممکنہ طور پر ایران مخالف کارروائیوں میں معاون کردار ادا کیا۔

اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی متحدہ عرب امارات پر تنقید کرچکے ہیں۔ برکس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ایران پر حملوں کے دوران یو اے ای نے نہ صرف خاموشی اختیار کی بلکہ ایران مخالف پالیسیوں پر بھی نظرثانی نہیں کی۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ’’یکجہتی کے احترام میں ہم نے متحدہ عرب امارات کا نام نہیں لیا، لیکن ایران کو توقع تھی کہ پڑوسی ممالک کم از کم حملوں کی مذمت ضرور کریں گے۔‘‘

دوسری جانب اسرائیلی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ ایرانی جنگ کے دوران بنیامین نیتن یاہو نے خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور اماراتی قیادت سے ملاقاتیں کیں، تاہم یو اے ای حکام نے ان خبروں کی تردید کردی تھی۔

حالیہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متحدہ عرب امارات کے براقہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کی اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں۔ یو اے ای حکام کے مطابق ڈرون مغربی سرحد کی جانب سے آیا تھا، تاہم کسی ملک یا گروہ کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔

علاقائی ماہرین کے مطابق ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی لفظی جنگ خلیجی خطے میں سفارتی تناؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان شدید کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔

امریکا اور اسرائیل نے ایران پر نئے حملوں کی تیاری کرلی: نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

یہ تیاریاں رواں سال اپریل کے آغاز میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی اور اہم تیاریاں ہیں: رپورٹ
شائع 18 مئ 2026 07:51am

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل رواں ہفتے کے اوائل میں ہی ایران پر دوبارہ مشترکہ حملے شروع کرنے کی تیاریوں میں تیزی سے مصروف ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے دو اعلیٰ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی ممکنہ بحالی کے لیے یہ تیاریاں رواں سال اپریل کے آغاز میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی اور اہم تیاریاں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کی بحالی کے لیے تہران کا دورہ بھی کیا ہے، لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود سفارتی عمل کے ناکام ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں جس کے بعد پینٹاگون نئے حملے کے لیے پر تول رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کانگریس کی سماعت کے دوران قانون سازوں کو بتایا ہے کہ امریکی فوج کے پاس ضرورت پڑنے پر جنگ کو تیز کرنے کا پورا پلان موجود ہے۔

وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ضرورت پڑنے پر پیچھے ہٹنے اور اپنے فوجی اثاثوں کو منتقل کرنے کا منصوبہ بھی تیار ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ گزشتہ ماہ روک دیا جانے والا آپریشن ایپک فیوری چند ہی دنوں میں دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں فوجی ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ زیرِ غور منصوبوں میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں اور فوجی ڈھانچے پر شدید فضائی حملے شامل ہیں، جبکہ ایک بڑے خطرے والے منصوبے کے تحت امریکی اسیشل فورسز کو ایران کے اندر زمین دوز تنصیبات میں موجود جوہری مواد کو اپنے قبضے میں لینے کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔

انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق اس وقت سب سے اہم ہدف اصفہان کی جوہری تنصیب ہو سکتی ہے جہاں عالمی ایجنسی کے مطابق ساٹھ فیصد تک افزودہ دو سو کلو گرام یورینیم موجود ہے۔

اس کے علاوہ امریکی انٹیلی جنس کا ماننا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع اپنی 33 میں سے 30 میزائل سائٹس کو دوبارہ فعال کر دیا ہے، جس سے عالمی جہاز رانی اور تیل کے ٹینکرز کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

اسرائیل میں بھی حکام کا خیال ہے کہ مذاکرات ناکامی کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس کے بعد انہوں نے توانائی کے مراکز اور میزائل سسٹمز پر حملوں کی تیاری شروع کر دی ہے اور وہاں کی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

خطے میں اس وقت دو امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش سمیت 20 جنگی بحری جہاز الرٹ کھڑے ہیں، جو کسی بھی اچانک حملے کا جواب دینے کے لیے بالکل تیار ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’فوکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے تہران پر معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر بار جب وہ کوئی معاہدہ کرتے ہیں، تو اگلے ہی دن ایسا لگتا ہے جیسے ہماری اس بارے میں کوئی بات چیت ہی نہیں ہوئی تھی۔

انہوں نے ایران کی جانب سے آنے والی تازہ ترین تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس کا پہلا جملہ ہی پسند نہیں آیا، اس لیے میں نے اسے کچرے کے ڈبے میں پھینک دیا۔

امریکی صدر نے ایرانی قیادت کو واضح الفاظ میں الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی عقل مند شخص معاہدہ کر لے گا، لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ پاگل ہوں۔ وہ یا تو کسی معاہدے پر پہنچیں یا پھر تباہ ہونے کے لیے تیار ہو جائیں، کیونکہ میں اب مزید صبر کا مظاہرہ نہیں کرنے والا۔

اس ممکنہ معاہدے میں ایک شرط یہ بھی شامل تھی کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرے گا اور امریکا ہی اس زمین دوز مواد کو وہاں سے نکالے گا۔

اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں اس یورینیم کو ایرانی ملبے تلے دبے رہنے دینے کے بجائے خود حاصل کرنے کو ترجیح دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ مواد مجھے مل جائے تو مجھے زیادہ اطمینان ہوگا، حالانکہ میرا خیال ہے کہ یہ سب کچھ اصل سے زیادہ پبلک ریلیشنز یعنی عوامی تاثر کے لیے ہے۔

دوسری طرف ایران کے پارلیمانی مہم جوئی اور قومی سلامتی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر دوبارہ حملے شروع ہوئے تو ان کا ملک یورینیم کی افزودگی کو بڑھا کر نوے فیصد تک لے جا سکتا ہے، جو کہ ہتھیار بنانے کے لیے درکار حد ہے۔

امریکا نے مذاکرات کی بحالی کے لیے 5 نئی شرائط پیش کر دیں: ایرانی میڈیا کا دعویٰ

امریکا نے نئی شرائط میں ایران سے 400 کلو افزودہ یورینیم حوالگی اور نقصانات کا ہرجانہ دینے سے انکار کیا ہے
شائع 17 مئ 2026 06:46pm

امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے نئی شرائط سامنے رکھ دی ہیں جس کے تحت واشنگٹن نے تہران سے 400 کلوگرام افزودہ یورینیم حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ جنگی نقصانات کے ازالے اور ایران کے منجمد اثاثوں کی مکمل بحالی سے بھی انکار کر دیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق امریکا نے ایران کی تجاویز کے جواب میں اپنی نئی شرائط پیش کی ہیں جنہیں ایران کے لیے ناقابلِ قبول تصور کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن کا ایران سے سب سے اہم مطالبہ 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کی حوالگی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران اپنی صرف ایک جوہری تنصیب کو فعال رکھے جب کہ امریکا نے ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 25 فیصد رقم بھی جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

فارس کے مطابق امریکی شرائط میں یہ بھی بات بھی شامل ہے کہ مختلف محاذوں پر کشیدگی اور جنگی سرگرمیوں کے خاتمے کو مذاکرات کے انعقاد سے مشروط رکھا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے کسی بھی ممکنہ مذاکرات کے لیے پانچ بنیادی شرائط رکھی ہیں، جن میں تمام محاذوں خصوصاً لبنان میں جنگی کارروائیوں کا خاتمہ، ایران مخالف پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگی نقصانات کا معاوضہ اور آبنائے ہرمز پر ایران کے خودمختار حق کو تسلیم کرنا شامل ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق تہران کا مؤقف ہے کہ اگر ایران امریکی شرائط قبول بھی کر لے تب بھی امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ جارحیت کا خطرہ برقرار رہے گا۔

رپورٹ میں بعض تجزیہ کاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکی تجاویز کا مقصد تنازع کے حل کے بجائے وہ اہداف حاصل کرنا ہے جو واشنگٹن جنگی دباؤ کے باوجود حاصل نہیں کر سکا۔ تاہم ان شرائط کے حوالے سے فی الحال صرف ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے، امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی اعلان یا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

آبنائے ہرمز کی گہرائیوں میں پڑے نئے طاقتور ہتھیار پر ایران کی نظریں

تیل کے بعد اب ٹیک کی دنیا کا کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ
شائع 17 مئ 2026 11:58am

آبنائے ہرمز کو عام طور پر صرف تیل کی سپلائی کے ایک اہم عالمی راستے کے طور پر جانا جاتا ہے، لیکن اب ایران اس سمندری راستے کی گہرائیوں میں چھپی دنیا کی ایک اور بڑی طاقت پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ یہ طاقت کوئی تیل یا گیس نہیں، بلکہ سمندر کی تہہ میں بچھی وہ انٹرنیٹ کیبلز ہیں جو یورپ، ایشیا اور خلیجی ممالک کے درمیان کھربوں ڈالر کے مالیاتی لین دین اور انٹرنیٹ ڈیٹا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی ہیں۔ ایران اب ان زیرِ سمندر کیبلز کو اپنے طویل مدتی معاشی اور تزویراتی فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق ایرانی قانون سازوں اور حکام نے حال ہی میں ایک ایسے منصوبے پر بات چیت کی ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز پر فیس یا ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

ایرانی فوج کے ترجمان ابراہیم ذولفقاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کھلم کھلا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم انٹرنیٹ کیبلز پر فیس عائد کریں گے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ میڈیا کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت گوگل، مائیکروسافٹ، میٹا اور ایمیزون جیسی دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایرانی قوانین کی پابندی کرنی ہوگی۔

ان کمپنیوں کو اپنے کیبلز کو گزارنے کے بدلے لائسنس فیس دینی ہوگی اور ان کیبلز کی مرمت اور دیکھ بھال کے تمام حقوق بھی صرف ایرانی کمپنیوں کے پاس ہوں گے۔

ایرانی میڈیا نے مبہم انداز میں یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر کمپنیوں نے یہ فیس ادا نہ کی تو انٹرنیٹ ٹریفک کو معطل یا متاثر کیا جا سکتا ہے۔

اگرچہ ایران یہ دھمکیاں دے رہا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پر عمل کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔

امریکی پابندیوں کی وجہ سے عالمی ٹیک کمپنیاں ایران کو کسی قسم کی ادائیگی نہیں کر سکتیں، اس لیے وہ ان بیانات کو سنجیدہ پالیسی کے بجائے صرف سیاسی پوزیشننگ یا گیدڑ بھبکی کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز کا جال: یہ اسکرین شاٹ 14 مئی 2026 کو [www.submarinecablemap.com](https://www.submarinecablemap.com) سے لیا گیا
آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز کا جال: یہ اسکرین شاٹ 14 مئی 2026 کو [www.submarinecablemap.com](https://www.submarinecablemap.com) سے لیا گیا

بلومبرگ اکنامکس میں مشرقِ وسطیٰ کی ماہر ڈینا اسفندیاری کا کہنا ہے کہ ایران کا مقصد عالمی معیشت پر اتنا بھاری دباؤ ڈالنا ہے کہ کوئی بھی دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی جرات نہ کرے۔

ڈینا کے مطابق ایرانی حکام نظریاتی طور پر جانتے ہیں کہ ان کے پاس اس راستے کا کنٹرول موجود ہے، لیکن وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان دھمکیوں کا دنیا پر کتنا اثر ہوتا ہے۔

بین الاقوامی آپریٹرز ایران کے ساتھ سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے عام طور پر ایرانی سمندری حدود سے بچتے ہیں اور زیادہ تر کیبلز عمان کی طرف سے گزاری گئی ہیں، لیکن ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مالڈن کے مطابق فالکن اور جی بی آئی نامی دو بڑی کیبلز اب بھی ایرانی حدود سے گزرتی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے ہبتور ریسرچ سینٹر کے سینئر محقق مصطفیٰ احمد کا کہنا ہے کہ اگر ایران اپنے غوطہ خوروں، چھوٹی آبدوزوں یا انڈر واٹر ڈرونز کے ذریعے ان کیبلز کو نشانہ بناتا ہے تو اس سے کئی براعظموں میں ایک بڑی ڈیجیٹل تباہی آ سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف انٹرنیٹ سلو ہوگا بلکہ بینکنگ سسٹمز، فوجی مواصلات اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ بھارت کی اربوں ڈالر کی آؤٹ سورسنگ انڈسٹری اور یورپی مالیاتی بازاروں کو اس سے شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ایرانی میڈیا اس منصوبے کو قانونی ثابت کرنے کے لیے مصر کی مثال دے رہا ہے، جو سویز نہر سے گزرنے والی کیبلز سے سالانہ کروڑوں ڈالر کماتا ہے۔

تاہم، بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سویز نہر مصر نے خود کھودی تھی جبکہ آبنائے ہرمز ایک قدرتی راستہ ہے۔

لندن کی سوآس یونیورسٹی کی پروفیسر ایرینی پاپانیکولوپولو نے اس حوالے سے سی این این کو بتایا کہ موجودہ کیبلز کے معاملے میں ایران کو ان معاہدوں کا پابند ہونا پڑے گا جو کیبل بچھاتے وقت کیے گئے تھے، لیکن نئے کیبلز کے لیے کوئی بھی ملک بشمول ایران یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس کی سمندری حدود میں کس شرط پر کیبل بچھائی جائے گی۔

یوں تو یہ کیبلز عالمی نیٹ ورک کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہیں، لیکن موجودہ جنگی حالات میں اگر ان کو نقصان پہنچا تو ان کی فوری مرمت کرنا ایک بہت بڑا چیلنج بن جائے گا۔

ٹرمپ کا ایران کو الٹی میٹم: 'پاکستان کی وجہ سے حملہ روکا، یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے'

ایرانیوں کے ساتھ کچھ مسائل ہیں اور وہ پاگل ہیں: صدر ٹرمپ
شائع 17 مئ 2026 08:24am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جلد ہی کوئی امن معاہدہ نہ ہوا تو یہ ایران کے لیے بہت برا وقت ثابت ہو گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پیغام میں کسی کا نام لیے بغیر لکھا کہ یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی۔

اس بیان کے بعد انہوں نے فرانسیسی نشریاتی ادارے کو ٹیلی فون پر ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے ایران کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے اپنے مفاد میں یہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچ جائے۔

انہوں نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ایرانیوں کے ساتھ کچھ مسائل ہیں اور وہ پاگل ہیں۔

اس سے قبل ’فوکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران پر ایک بہت بڑا اور فیصلہ کن فوجی حملہ کرنے والے تھے لیکن انہوں نے یہ حملہ پاکستان کی وجہ سے روک دیا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے ایران پر فیصلہ کن حملہ پاکستان کے بہت اچھے لوگوں کی درخواست پر روکا ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستانی شخصیات ایران کے بہت زیادہ قریب ہیں اور ان شخصیات نے مجھ سے رابطہ کر کے کہا تھا کہ اگر آپ ابھی اس حملے سے رک سکتے ہیں تو ہم آپ کی ایران کے ساتھ ڈیل یعنی معاہدہ کرا دیں گے۔

امریکی صدر کے ان بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خطے میں پسِ پردہ انتہائی اہم سفارتی کوششیں جاری ہیں جہاں پاکستان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے اور جنگ کو روکنے کے لیے ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اگرچہ پاکستان کی تعریف کی ہے اور اس کی بات مان کر عارضی طور پر اپنے قدم روک لیے ہیں، لیکن ساتھ ہی انہوں نے ایران پر واضح کر دیا ہے کہ ان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔

اسلام آباد مذاکرات ناکام نہیں ہوئے، امریکی رویے کی وجہ سے مشکل مرحلے میں ہیں: عباس عراقچی

واشنگٹن کے متضاد بیانات مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں: ایرانی وزیرِ خارجہ کی نئی دہلی میں پریس کانفرنس
اپ ڈیٹ 15 مئ 2026 06:37pm

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں جاری مذاکرات ابھی ناکام نہیں ہوئے، تاہم امریکی رویے نے انہیں شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے جنگ شروع نہیں کی بل کہ ایک خونریز جنگ میں صرف دفاع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال ایران کی ذمہ داری نہیں اور یہ راستہ صرف دشمن ممالک کے لیے محدود ہے۔ عراقچی نے مزید کہا کہ واشنگٹن کے متضاد بیانات نے مذاکرات کو پیچیدہ بنایا ہے اور امریکا پر اعتماد ممکن نہیں رہا۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ملنے والے متضاد پیغامات نے تہران کو واشنگٹن کے حقیقی ارادوں پر شکوک میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران صرف اسی صورت مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے جب امریکا سنجیدہ اور واضح مؤقف اختیار کرے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل ناکام نہیں ہوا، تاہم اسے مشکلات کا سامنا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران اور امریکا نے ایک دوسرے کی تازہ تجاویز مسترد کر دی تھیں، جس کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے متضاد بیانات مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہے ہیں اور امریکیوں پر اعتبار نہ کرنے کے تمام جواز موجود ہیں۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اس بار سب سے بڑا سوال بھروسے کا ہے، ہمیں ان پر اعتبار نہیں۔

ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ تہران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا بل کہ ایران نے ایک خونریز جنگ میں صرف اپنا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے تمام تر دباؤ اور کارروائیوں کے باوجود 40 روز میں کوئی ہدف حاصل نہیں کرسکا، جب کہ موجودہ مذاکراتی عمل میں اعتماد کا شدید فقدان ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کا ذمے دار ایران نہیں، تاہم یہ راستہ صرف دشمن ممالک کے لیے بند ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران بھی آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا چاہتا ہے اور ایران و عمان مشترکہ نظام کے تحت اس اہم بحری گزرگاہ کو سنبھالیں گے۔ تاہم تہران سے حالتِ جنگ میں نہ ہونے والے تمام بحری جہاز اس راستے سے گزر سکتے ہیں، انہیں ایرانی بحریہ کے ساتھ رابطہ رکھنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران جنگ بندی کو برقرار رکھ کر سفارت کاری کو موقع دینا چاہتا ہے، اگر حالات خراب ہوئے تو دوبارہ محاذ آرائی کے لیے بھی تیار ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مستقل امن معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کا جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر تہران کا کنٹرول ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے ان کا صبر ختم ہوتا جا رہا ہے، جب کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ گفتگو میں آبنائے ہرمز کھولنے پر زور دیا۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے کسی معاملے کا عسکری حل موجود نہیں اور یہ حقیقت سب پر واضح ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق جنگ سے کچھ حاصل نہ ہونے پر امریکا نے دوبارہ مذاکرات کی پیش کش کی، جب کہ ایران اب بھی سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ امریکا بھی سنجیدگی دکھائے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانا نہیں چاہتا تھا اور اس کا نیوکلیئر پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ان کے مطابق ایران جے سی پی او اے پر مکمل عملدرآمد کررہا تھا اور برسوں سے امریکا کی ظالمانہ پابندیوں کا مقابلہ بھی کررہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ یا کارروائی کی مزاحمت کرے گا اور جو اہداف جنگ سے حاصل نہ ہوسکے، وہ مذاکرات سے بھی حاصل نہیں کیے جاسکتے۔

بھارت سے متعلق گفتگو میں عباس عراقچی نے کہا کہ نئی دہلی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایران کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات چاہتا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایک پڑوسی ملک نے امریکا اور اسرائیل کو ایران پر حملوں کے لیے فضائی حدود اور اڈے فراہم کیے، تاہم اس ملک کا نام نہیں لیا۔

امریکا ایران میں دوبارہ مختصر ’آپریشن کلین اَپ‘ کر سکتا ہے: صدر ٹرمپ

چینی صدر نے مجھ سے سوال کیا کہ چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو کیا امریکا اس کا دفاع کرے گا: ٹرمپ کا انکشاف
شائع 15 مئ 2026 04:37pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی دیگر ممالک کی درخواست پر کی گئی، جس میں انہوں نے خاص طور پر پاکستان اور فیلڈ مارشل کا نام لے کر تعریف کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران اپنا جوہری پروگرام 20 سال کے لیے معطل کر دے تو امریکا ڈیل کے لیے تیار ہے۔

صدر ٹرمپ نے دورۂ چین کے بعد اپنے خصوصی طیارے ’ایئر فورس ون‘ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کا فیصلہ براہِ راست اپنی ترجیح پر نہیں بلکہ دیگر ممالک کی درخواست پر کیا۔

انہوں نے کہا ’ہم نے دیگر ممالک کی درخواست پر یہ اقدام اٹھایا، خاص طور پر پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کی درخواست کی گئی تھی۔ میں ذاتی طور پر اس کے حق میں زیادہ نہیں تھا، لیکن ہم نے اسے ایک رعایت کے طور پر قبول کیا‘۔

انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔ اسی گفتگو میں انہوں نے مستقبل کے ممکنہ اقدامات کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ صورت حال کے مطابق امریکا کو ایران میں تھوڑا سا ’کلین اپ‘ دوبارہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایئرفورس ون میں صدر ٹرمپ نے دورۂ چین میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ چین امریکا سے اربوں ڈالر کی سویابین اور 200 بوئنگ طیارے خریدنے جارہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ تائیوان کے مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تائیوان کے معاملے پر کسی بھی طرح کا کوئی وعدہ نہیں کیا ہے۔

جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا چینی صدر نے تائیوان کے معاملے پر امریکا کے ساتھ کسی ممکنہ جنگ یا تصادم کا اشارہ دیا ہے، تو انہوں نے کہا کہ تائیوان کا مسئلہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک پیچیدہ نکتہ ہے، تاہم انہیں نہیں لگتا کہ اس پر فی الحال کوئی مسلح تصادم ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات کے دوران صدر شی جن پنگ نے ان سے براہِ راست سوال کیا کہ ’اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو کیا امریکہ تائیوان کا دفاع کرے گا؟‘۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا اور کہا ’اس کا جواب صرف ایک ہی شخص جانتا ہے اور وہ میں ہوں۔ میں نے صدر شی سے کہا کہ میں اس کا جواب نہیں دینا چاہتا‘۔

تائیوان کو مستقبل میں امریکی ہتھیاروں کی فراہمی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ اس بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے آنے والے وقت میں خود تعین کریں گے کہ کیا فیصلہ کرنا ہے۔

دوسری جانب، چینی حکومت کی جانب سے اس ملاقات کے حوالے سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کو سختی سے خبردار کیا تھا کہ تائیوان کا معاملہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان براہِ راست محاذ آرائی کا سبب بن سکتا ہے۔

واضح رہے کہ چین تائیوان کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے اور امریکا کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کی مسلسل مخالفت کرتا رہا ہے۔

روپے کی قدر میں مرحلہ وار ایڈجسٹمنٹ

.
شائع 15 مئ 2026 03:23pm

ملکی سطح پر خدمات اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں یہ آوازیں بڑھ رہی ہیں کہ پاکستان اپنی عالمی مسابقت کھو رہا ہے، خاص طور پر برآمدات پر مبنی شعبوں میں، جس کی بڑی وجہ ایک اسٹکی یعنی غیر لچکدار ایکسچینج ریٹ ہے۔

یہ مشکلات موجودہ کموڈیٹی پرائس شاک کے باعث مزید بڑھ رہی ہیں، جس کی بنیادی وجہ توانائی کی قیمتیں ہیں۔

علاقائی کرنسیاں، بشمول بھارت کی کرنسی، بدلتی ہوئی معاشی حقیقتوں کے مطابق ایڈجسٹ ہو رہی ہیں۔ تاہم پاکستانی حکام ہمیشہ کی طرح ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے حساس رویہ رکھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔

پاکستانی روپے نے گزشتہ تین سالوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں چند فیصد اضافہ دکھایا ہے۔ اس سے پہلے والے سال میں روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ہوئی تھی، اور یہ ایڈجسٹمنٹ افراط زر اور شرح سود کے فرق کے مطابق نہیں تھی، جس کا اندازہ ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ یعنی آر ای ای آر کی ویلیو 85 سے 87 سے ہوتا ہے، جو 2023 کے پہلے نصف میں دیکھا گیا۔

اگلے دو سال ایک کیچ اپ پیریڈ رہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حقیقی شرح سود کو مثبت رکھا، اور عالمی کموڈیٹی قیمتوں میں کمی کے بعد افراط زر بھی کم ہوا۔ تاہم حالیہ عرصے میں، عالمی تیل کی قیمتوں کے جھٹکے کے باعث مہنگائی میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے، اور اس کے ساتھ ایکسچینج ریٹ دوبارہ اوور ویلیوڈ دکھائی دے رہا ہے۔ آر ای ای آر مارچ 2026 میں بڑھ کر 105.2 تک پہنچ گیا، جو ستمبر 2018 کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کا تدریجی ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے، ورنہ چند مہینوں یا سہ ماہیوں میں کرنسی اچانک اور شدید گراوٹ کا شکار ہو سکتی ہے، جو صحت مند عمل نہیں ہوگا اور خوف و ہراس پیدا کر سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ بروقت ایڈجسٹمنٹ کی جائے، جس سے مسابقت بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ کچھ لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ برآمدات صرف کرنسی کی قدر میں کمی سے نہیں بڑھتیں، جو جزوی طور پر درست ہے، لیکن اوور ویلیوڈ کرنسی موجودہ ایکسپورٹ بیس کو کمزور کرتی ہے اور درآمدات کو سستا کر کے تجارتی خسارے پر دباؤ ڈالتی ہے۔

گزشتہ تین سالوں میں، 12 ماہ کے رولنگ بیس پر، اندرونی ترسیلات زر میں 13 ارب ڈالر یعنی تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 40 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی ہے، اگرچہ اسی مدت میں تجارتی توازن 12 ارب ڈالر تک خراب ہوا ہے۔

اب خلیجی ممالک کی معیشتوں میں سست روی اور ایران امریکہ جنگ کے بعد ممکنہ اثرات کے باعث ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ ہے، کیونکہ پاکستان کی تقریباً 50 فیصد ترسیلات انہی ممالک سے آتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ درآمدات میں قیمتوں کے بڑھنے سے دباؤ مزید بڑھے گا، جو کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ ڈالے گا اور اسٹیٹ بینک کی زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کی صلاحیت کو محدود کرے گا۔

درآمدی طلب کو کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں ایک فیصد اضافہ کیا ہے اور امکان ہے کہ جون میں مزید اضافہ کیا جائے گا، کیونکہ مہنگائی مئی اور جون میں 13 سے 15 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ ایسے میں بہتر ہوگا کہ ایکسچینج ریٹ کو بھی دفاعی لائن کے طور پر استعمال کیا جائے، جس سے برآمدات کو استحکام ملے گا۔ ترسیلات زر شرح مبادلہ سے زیادہ حساس نہیں ہوتیں، لیکن برآمدات متاثر ہوتی ہیں۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات دو حصوں پر مشتمل ہیں۔ ایک کم ویلیو ایڈڈ یارن اور فیبرک ہے، جس کا حصہ کم ہو رہا ہے اور اس کی جگہ زیادہ ویلیو ایڈڈ گارمنٹس اور اپیرل لے رہا ہے۔ یہ مثبت بات ہے، لیکن بڑھتا ہوا شعبہ اپنی مسابقت کھو رہا ہے۔ معروف ٹیکسٹائل ایکسپورٹر مصدق ذوالقرنین کے مطابق مزدوری لاگت کل اخراجات کا 20 سے 25 فیصد ہے، جو ڈالر میں گزشتہ تین سالوں میں 30 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، کیونکہ کم از کم اجرت میں دو سال میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس سے انڈسٹری کے مارجنز میں 5 سے 6 فیصد کمی آئی ہے، جہاں پہلے ہی مارجنز بہت کم ہیں۔

اجرتوں میں اضافہ افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری تھا، لیکن ساتھ ہی روپے کی قدر کو بھی اس طرح ایڈجسٹ کرنا چاہیے تھا کہ برآمد کنندگان کے مارجنز برقرار رہیں۔ یہی صورتحال آئی ٹی برآمدات میں بھی ہے، جہاں لیبر لاگت 70 سے 80 فیصد ہے اور وہ بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص آر ای ای آر لیول کے ساتھ ایک واضح ایکسچینج ریٹ پالیسی ہونی چاہیے۔

بڑے بینکوں کے ٹریژری افسران بھی سمجھتے ہیں کہ روپے میں ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے، تاہم ایک بینکر کے مطابق اسٹیٹ بینک کرنسی کی شرح تبادلہ میں تبدیلی کے حوالے سے بہت حساس ہے۔ تاہم اسٹیٹ بینک یا پالیسی ساز اداروں کو کسی مخصوص سطح کے ساتھ شادی نہیں کرلینی چاہیے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر نے حال ہی میں کہا کہ مرکزی بینک نے گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں انٹربینک مارکیٹ سے 27 ارب ڈالر خریدے۔ ان کا شاید یہ مطلب تھا کہ اگر اسٹیٹ بینک نے یہ ڈالر نہ خریدے ہوتے تو کرنسی مزید مضبوط ہو سکتی تھی اور روپے کی قدر میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔ تاہم یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ہو سکتی۔

کرنٹ اکاؤنٹ جنوری 2023 کے بعد سے مجموعی طور پر صرف 0.3 ارب ڈالر سرپلس میں رہا ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر، جو بیرونی قرضوں اور واجبات کو منہا کرنے کے بعد دیکھے جائیں، صرف 3.3 ارب ڈالر بڑھے ہیں۔ (اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 13.3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ اسی مدت میں مجموعی بیرونی قرضہ اور واجبات 10 ارب ڈالر بڑھ گئے۔) اگر ہم فارورڈ واجبات میں 3 ارب ڈالر کی کمی کو بھی شامل کریں تو مجموعی طور پر نیٹ ذخائر، جو فارورڈ واجبات کے مطابق ایڈجسٹ کیے گئے ہوں، 6.3 ارب ڈالر بڑھے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے خریدے گئے 27 ارب ڈالر میں سے تقریباً 20 ارب ڈالر دراصل کرنٹ اکاؤنٹ کو فنانس کرنے کے لیے استعمال ہوئے، کیونکہ اسٹیٹ بینک حکومتی قرض پر سود ادا کرتا ہے جو کرنٹ اکاؤنٹ کا حصہ بنتا ہے۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک کا ایک غیر اعلانیہ اصول یہ بھی ہے کہ بینک ایک دوسرے سے ڈالر نہ خریدیں بلکہ اپنی آؤٹ فلو ضروریات اپنی ان فلو سے پوری کریں۔ اس کے بعد جو اضافی ڈالر بچیں وہ اسٹیٹ بینک جذب کر لیتا ہے۔

یہ حکمت عملی آئندہ ممکنہ طور پر کارآمد نہیں رہے گی، کیونکہ امکان ہے کہ مالی سال 27 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا جائے گا، جس سے ذخائر میں اضافہ رک سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ صورتحال بگڑنے سے پہلے ہی اقدامات کیے جائیں، ورنہ آنے والے مہینوں یا سہ ماہیوں میں بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ڈاکٹر کا نسخہ یہ ہے کہ کرنسی میں 3 سے 5 فیصد تک تدریجی کمی کی جائے، اور اسے واضح اور منظم انداز میں نافذ کیا جائے تاکہ گھبراہٹ پیدا نہ ہو، مسابقت بحال ہو، اور بعد میں زیادہ شدید اور نقصان دہ ایڈجسٹمنٹ سے بچا جا سکے۔


نوٹ: یہ تحریر 11 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

بانڈ ویجلانٹیز کی واپسی

.
شائع 15 مئ 2026 03:07pm

بانڈ مارکیٹیں اب یوں محسوس ہونے لگی ہیں جیسے ان کا صبر آخرکار جواب دے گیا ہو۔ برطانیہ میں طویل مدتی حکومتی بانڈز کی ییلڈز حال ہی میں 1998 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ امریکا میں ٹریژری بانڈز کی ییلڈز بار بار مانیٹری نرمی کی توقعات کے باوجود بلند ہیں۔ سرمایہ کار اب کھل کر یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کہیں حکومتیں خود ہی مہنگائی کے مسئلے کا حصہ تو نہیں بن چکیں۔

برسوں تک مالیاتی منڈیوں نے بھاری خساروں، انتہائی سستی رقوم اور اس مسلسل دعوے کو برداشت کیے رکھا کہ قرض اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ مگر اب مالیاتی نظم و ضبط نافذ کرنے والی پرانی قوتیں دوبارہ متحرک ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

بانڈ ویجلانٹیز ایک بار پھر میدان میں آ گئے ہیں۔

یہ اصطلاح 1980 کی دہائی میں اُس وقت سامنے آئی تھی جب ایسے سرمایہ کاروں کو بیان کرنا مقصود تھا جو مالیاتی بے احتیاطی کی مرتکب سمجھی جانے والی حکومتوں کو سزا دینے کے لیے حکومتی بانڈز خریدنے پر بہت زیادہ منافع طلب کرتے تھے۔ یہ اصطلاح کسی پرانی مالیاتی مغربی فلم کے مکالمے جیسی ڈرامائی محسوس ہوتی ہے، مگر اس کا طریقۂ کار نہایت سخت اور سادہ ہے۔ اگر سرمایہ کار کسی حکومت کی اخراجات یا مہنگائی پر قابو پانے کی صلاحیت پر اعتماد کھو بیٹھیں تو قرض لینے کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ اور جب یہ لاگت طویل عرصے تک بلند رہے تو بالآخر سیاسی مسائل بھی جنم لینے لگتے ہیں۔

برطانیہ اس عمل کی تلخی پہلے ہی دیکھ چکا ہے۔ 2022 میں غیر مالی معاونت والے ٹیکس کٹوتیوں کے خلاف بانڈ مارکیٹ کے ردعمل کے بعد لز ٹرس (Liz Truss) صرف چند ہفتے ہی اقتدار میں رہ سکیں۔ اب ایک بار پھر گِلٹ سرمایہ کار اپنی طاقت دکھا رہے ہیں، کیونکہ کیر اسٹارمر( Keir Starmer) سے متعلق سیاسی بے یقینی، اور ایران پر امریکا اور اسرائیل جنگ کے باعث ابھرنے والے مہنگائی کے نئے خدشات آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔ بانڈ ٹریڈرز اب صرف معاشی اعداد و شمار پر ردعمل نہیں دے رہے بلکہ کھل کر یہ جانچ رہے ہیں کہ کون سے سیاستدان ”مارکیٹ دوست“ دکھائی دیتے ہیں اور کون مزید بڑے خساروں کا خطرہ بن سکتے ہیں۔

یوں محسوس ہونے لگا ہے جیسے انتخابات کی اہمیت آہستہ آہستہ بانڈ مارکیٹ کی منظوری کے مقابلے میں ثانوی بنتی جا رہی ہو۔

یہ وقت ہرگز اتفاقی نہیں۔ ترقی یافتہ دنیا کی حکومتیں ایک طرف بڑھتے ہوئے اخراجاتی تقاضوں اور دوسری جانب مالیاتی گنجائش میں کمی کے درمیان پھنسی ہوئی ہیں۔ دفاعی بجٹ بڑھ رہے ہیں، عمر رسیدہ آبادی کی کفالت مزید مہنگی ہوتی جا رہی ہے، جبکہ وبا کے بعد کے برسوں میں قرضوں کا بوجھ پہلے ہی تاریخی سطحوں پر موجود ہے۔ پھر ایک اور توانائی بحران نے جنم لیا۔ ایران کے گرد تنازع کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے پر تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، جس سے وہی مہنگائی کے خدشات دوبارہ سر اٹھانے لگے جنہیں مرکزی بینک 2022 میں پیچھے چھوڑ دینے کی امید کر رہے تھے۔

یہیں سے صورتحال مزید خطرناک رخ اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ جنگ سے پہلے ہی بانڈ مارکیٹیں بے چینی کا شکار تھیں، جبکہ تیل کے جھٹکے نے صرف پہلے سے موجود دراڑوں کو گہرا کر دیا۔ توانائی کی بلند قیمتیں مہنگائی کی توقعات میں اضافہ کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں سرمایہ کار طویل مدتی قرض اپنے پاس رکھنے کے بدلے زیادہ منافع کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یوں ان حکومتوں کے لیے ایک خطرناک چکر جنم لیتا ہے جو پہلے ہی قرض لینے کی بڑھتی ضرورتوں تلے دبی ہوئی ہیں۔ قرض کی ادائیگی کی لاگت بڑھتی جاتی ہے، جبکہ پالیسی سازوں پر مزید اخراجات کرنے کا دباؤ بھی برقرار رہتا ہے۔

اس ردعمل کے اثرات صرف برطانیہ تک محدود نہیں رہے۔ جاپان کی بانڈ مارکیٹیں بھی دوبارہ دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ سرمایہ کار قرض پر مبنی اخراجاتی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ توانائی کی مہنگی درآمدات کے دباؤ سے ین مزید کمزور ہو رہا ہے۔ امریکا میں ٹریژری بانڈز کی ییلڈز جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر بلند ہیں، حالانکہ شیئر بازار بار بار سفارتی پیش رفت اور ممکنہ شرح سود میں کمی کی امیدوں کو قیمتوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فرانس سرمایہ کاروں کے خساروں سے متعلق خدشات کے درمیان سیاسی عدم استحکام سے نبرد آزما ہے۔ ایشیا کے بعض حصے بھی اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں، جہاں کرنسیاں کمزور ہو رہی ہیں اور مرکزی بینک بڑھتی توانائی درآمدی لاگت کے مقابلے میں شرح مبادلہ کو سہارا دینے کے لیے مداخلت کر رہے ہیں۔

برسوں تک مرکزی بینک بڑے پیمانے پر بانڈ خریداری پروگراموں کے ذریعے ییلڈز کو دبا کر جھٹکوں کو جذب کرنے کا کردار ادا کرتے رہے۔ سرمایہ کار جانتے تھے کہ مارکیٹ کے پیچھے ہمیشہ ایک خریدار موجود ہے۔ مگر اب وہ دور ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مرکزی بینک غیر معمولی مالیاتی سہولتوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، جبکہ مہنگائی کے خطرات بدستور برقرار ہیں۔ اسی لیے بانڈ سرمایہ کار اب سستے سرمائے کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ وہ مارکیٹیں جو کبھی مرکزی بینکوں کے تحفظ پر انحصار کرتی تھیں، اب دوبارہ مالیاتی ساکھ کی اصل قیمت سمجھنے لگی ہیں۔

اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے جو پالیسی سازوں کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔ کم شرح سود کے دور میں مالیاتی خطرات ختم نہیں ہوئے بلکہ صرف اپنی جگہ بدل گئے ہیں۔ اب حکومتی بانڈز کی تجارت کا بڑا حصہ روایتی بینکوں کے بجائے ہیج فنڈز اور زیادہ قرض پر چلنے والے مالیاتی ڈھانچوں کے ذریعے ہو رہا ہے۔ نجی قرضوں کی منڈیاں غیر معمولی حد تک پھیل چکی ہیں۔ ریگولیٹرز نے 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد برسوں بینکوں کو مضبوط بنانے پر صرف کیے، مگر اب مالیاتی نظام کے دوسرے حصوں میں دوبارہ حد سے زیادہ قرض کا رجحان ابھر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بانڈ ییلڈز میں اچانک اتار چڑھاؤ اب کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر مالیاتی اداروں کے لیے دباؤ اور بحران کا باعث بن سکتا ہے۔

منڈیاں اس خطرے کی جھلک پہلے ہی دکھا چکی ہیں۔ ایران تنازع کے بعد ابتدائی تیل بحران کے دوران ہیج فنڈز کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بانڈ ییلڈز تیزی سے بڑھیں اور شرح سود سے متعلق توقعات اچانک تبدیل ہو گئیں۔ فی الحال مالیاتی نظام نے اس دباؤ کو نسبتاً سنبھال لیا ہے۔ نہ تو وسیع پیمانے پر فروخت کا خوف پھیلا اور نہ ہی بانڈ مارکیٹ میں ویسی شدید بے ترتیبی دیکھی گئی جیسی ماضی کے بحرانوں میں سامنے آئی تھی۔ مگر ایک سوال اب بھی منڈیوں پر ناپسندیدہ سائے کی طرح منڈلا رہا ہے: اگر دباؤ کی اگلی لہر بیک وقت شیئر بازاروں، کریڈٹ مارکیٹوں اور حکومتی بانڈز کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو کیا ہوگا؟

پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس کے اثرات محض مالیاتی نظریات تک محدود نہیں۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند ییلڈز عالمی مالیاتی حالات کو سخت بناتی ہیں، ڈالر کو مضبوط کرتی ہیں اور ابھرتی معیشتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھا دیتی ہیں۔ دوسری جانب تیل کے جھٹکے درآمدی بل اور مہنگائی دونوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ وہ ممالک جو پہلے ہی کمزور بیرونی مالیاتی کھاتوں کے سہارے توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہوں، جلد محسوس کرنے لگتے ہیں کہ جب بانڈ مارکیٹیں مخالف رخ اختیار کر لیں تو پالیسی کی غلطیوں کی گنجائش کتنی محدود رہ جاتی ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں کے پاس شاید اب بھی کچھ حفاظتی سہولتیں موجود ہوں، مگر چھوٹے ممالک کے پاس ایسا تحفظ نہیں۔

شاید یہی بانڈ ویجلانٹیز کی واپسی کی اصل اہمیت بھی ہے۔ سرمایہ کار اب صرف مہنگائی کے اعداد و شمار یا مرکزی بینکوں کے بیانات پر ردعمل نہیں دے رہے بلکہ وہ یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کہیں حکومتیں خود ہی قرض، سستے ری فنانسنگ اور مسلسل مالیاتی توسیع کی ساختی عادت کا شکار تو نہیں ہو چکیں۔ جنگیں، توانائی کے بحران اور سیاسی عدم استحکام محض اُس لمحے کو تیز کر رہے ہیں جب ان خدشات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

اور شاید یہیں وہ زیادہ بے آرام کرنے والا سوال بھی جنم لیتا ہے۔ کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ نے عالمی مالیاتی نظام میں ایک اور دراڑ پیدا کر دی ہے، جو پہلے ہی بلند شرح سود اور بڑھتے خساروں کا بوجھ اٹھانے میں مشکلات کا شکار تھا؟ ممکن ہے توانائی کا یہ جھٹکا وقت کے ساتھ مدھم پڑ جائے، مگر بانڈ مارکیٹیں اب زیادہ تر اُس طویل المدتی حقیقت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جس میں قرض پر چلنے والی معیشتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت مستقل طور پر بلند رہ سکتی ہے۔

اس ردعمل کے اثرات صرف برطانیہ تک محدود نہیں رہے۔ جاپان کی بانڈ مارکیٹیں بھی دوبارہ دباؤ کا شکار ہیں، کیونکہ سرمایہ کار قرض پر مبنی اخراجاتی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ توانائی کی مہنگی درآمدات کے دباؤ سے ین مزید کمزور ہو رہا ہے۔ امریکا میں ٹریژری بانڈز کی ییلڈز جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر بلند ہیں، حالانکہ شیئر بازار بار بار سفارتی پیش رفت اور ممکنہ شرح سود میں کمی کی امیدوں کو قیمتوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فرانس سرمایہ کاروں کے خساروں سے متعلق خدشات کے درمیان سیاسی عدم استحکام سے نبرد آزما ہے۔ ایشیا کے بعض حصے بھی اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں، جہاں کرنسیاں کمزور ہو رہی ہیں اور مرکزی بینک بڑھتی توانائی درآمدی لاگت کے مقابلے میں شرح مبادلہ کو سہارا دینے کے لیے مداخلت کر رہے ہیں۔

برسوں تک مرکزی بینک بڑے پیمانے پر بانڈ خریداری پروگراموں کے ذریعے ییلڈز کو دبا کر جھٹکوں کو جذب کرنے کا کردار ادا کرتے رہے۔ سرمایہ کار جانتے تھے کہ مارکیٹ کے پیچھے ہمیشہ ایک خریدار موجود ہے۔ مگر اب وہ دور ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مرکزی بینک غیر معمولی مالیاتی سہولتوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، جبکہ مہنگائی کے خطرات بدستور برقرار ہیں۔ اسی لیے بانڈ سرمایہ کار اب سستے سرمائے کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ وہ مارکیٹیں جو کبھی مرکزی بینکوں کے تحفظ پر انحصار کرتی تھیں، اب دوبارہ مالیاتی ساکھ کی اصل قیمت سمجھنے لگی ہیں۔

اس کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے جو پالیسی سازوں کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔ کم شرح سود کے دور میں مالیاتی خطرات ختم نہیں ہوئے بلکہ صرف اپنی جگہ بدل گئے ہیں۔ اب حکومتی بانڈز کی تجارت کا بڑا حصہ روایتی بینکوں کے بجائے ہیج فنڈز اور زیادہ قرض پر چلنے والے مالیاتی ڈھانچوں کے ذریعے ہو رہا ہے۔ نجی قرضوں کی منڈیاں غیر معمولی حد تک پھیل چکی ہیں۔ ریگولیٹرز نے 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد برسوں بینکوں کو مضبوط بنانے پر صرف کیے، مگر اب مالیاتی نظام کے دوسرے حصوں میں دوبارہ حد سے زیادہ قرض کا رجحان ابھر آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بانڈ ییلڈز میں اچانک اتار چڑھاؤ اب کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر مالیاتی اداروں کے لیے دباؤ اور بحران کا باعث بن سکتا ہے۔

منڈیاں اس خطرے کی جھلک پہلے ہی دکھا چکی ہیں۔ ایران تنازع کے بعد ابتدائی تیل بحران کے دوران ہیج فنڈز کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بانڈ ییلڈز تیزی سے بڑھیں اور شرح سود سے متعلق توقعات اچانک تبدیل ہو گئیں۔ فی الحال مالیاتی نظام نے اس دباؤ کو نسبتاً سنبھال لیا ہے۔ نہ تو وسیع پیمانے پر فروخت کا خوف پھیلا اور نہ ہی بانڈ مارکیٹ میں ویسی شدید بے ترتیبی دیکھی گئی جیسی ماضی کے بحرانوں میں سامنے آئی تھی۔ مگر ایک سوال اب بھی منڈیوں پر ناپسندیدہ سائے کی طرح منڈلا رہا ہے: اگر دباؤ کی اگلی لہر بیک وقت شیئر بازاروں، کریڈٹ مارکیٹوں اور حکومتی بانڈز کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو کیا ہوگا؟

پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس کے اثرات محض مالیاتی نظریات تک محدود نہیں۔ امریکی ٹریژری بانڈز کی بلند ییلڈز عالمی مالیاتی حالات کو سخت بناتی ہیں، ڈالر کو مضبوط کرتی ہیں اور ابھرتی معیشتوں کے لیے قرض لینے کی لاگت بڑھا دیتی ہیں۔ دوسری جانب تیل کے جھٹکے درآمدی بل اور مہنگائی دونوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ وہ ممالک جو پہلے ہی کمزور بیرونی مالیاتی کھاتوں کے سہارے توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہوں، جلد محسوس کرنے لگتے ہیں کہ جب بانڈ مارکیٹیں مخالف رخ اختیار کر لیں تو پالیسی کی غلطیوں کی گنجائش کتنی محدود رہ جاتی ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں کے پاس شاید اب بھی کچھ حفاظتی سہولتیں موجود ہوں، مگر چھوٹے ممالک کے پاس ایسا تحفظ نہیں۔

شاید یہی بانڈ ویجلانٹیز کی واپسی کی اصل اہمیت بھی ہے۔ سرمایہ کار اب صرف مہنگائی کے اعداد و شمار یا مرکزی بینکوں کے بیانات پر ردعمل نہیں دے رہے بلکہ وہ یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کہیں حکومتیں خود ہی قرض، سستے ری فنانسنگ اور مسلسل مالیاتی توسیع کی ساختی عادت کا شکار تو نہیں ہو چکیں۔ جنگیں، توانائی کے بحران اور سیاسی عدم استحکام محض اُس لمحے کو تیز کر رہے ہیں جب ان خدشات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

آخرکار بانڈ مارکیٹوں کی ایک عادت یہ بھی رہی ہے کہ وہ حد سے زیادہ پُرامید اندازوں پر کھڑے نظاموں کو دوبارہ حقیقت کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا حکومتیں صرف منڈیوں کی عارضی بے چینی کا سامنا کر رہی ہیں، یا پھر یہ اُس کہیں زیادہ سخت مرحلے کی ابتدا ہے جہاں جنگ، قرضوں اور مہنگائی کی تھکن سے پہلے ہی دباؤ کا شکار دنیا میں مالیاتی خطرات کی نئی اور کڑی قیمت لگنا شروع ہو چکی ہے۔


نوٹ: یہ تحریر 14 مئی 2026 کو بزنس ریکارڈر کی اردو ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔ اس میں موجود رائے مصنف کی ذاتی ہے۔ ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کا برکس ممالک سے امریکہ اور اسرائیل کی مذمت کا مطالبہ

ممالک بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی مذمت کریں، عباس عراقچی
شائع 15 مئ 2026 09:44am

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں تاہم اگر ملک پر جنگ مسلط کی گئی تو ایران اپنے دفاع کے لیے پوری طاقت سے لڑنے کے لیے تیار ہے۔

نئی دہلی میں ہونے والے برکس وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا بلکہ سفارت کاری، مذاکرات اور علاقائی استحکام کے فروغ پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران ہمیشہ سیاسی اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا آیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے برکس ممالک اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ’غیر قانونی جارحیت‘ کی کھل کر مذمت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن اور معیشت دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے۔

عباس عراقچی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران اپنے وطن کے دفاع کیلئے لڑنے کی مکمل صلاحیت اور عزم رکھتا ہے، تاہم تہران سفارتکاری کے تحفظ اور فروغ کیلئے بھی آمادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم امن پسند ہے اور جنگ نہیں چاہتی، لیکن اگر ایران پر دباؤ ڈالا گیا تو وہ اپنے مفادات کا دفاع کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کے نقطہ نظر سے آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کیلئے کھلی ہے، تاہم جہازوں کو ایرانی بحریہ کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خطے میں ناکہ بندی امریکا نے مسلط کی ہے۔

عباس عراقچی نے برکس ممالک پر زور دیا کہ وہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کریں۔

برکس میں امریکا کے اہم اتحادی متحدہ عرب امارات اور بھارت بھی شامل ہیں، تاہم بھارتی حکومت نے اب تک ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں کی کھل کر مذمت نہیں کی۔

سعودیہ کی مشرق وسطیٰ کے ممالک اور ایران کے درمیان عدم جارحیت معاہدے کی تجویز

سعودی عرب کی اتحادی ممالک سے بات چیت، فنانشل ٹائمز کا دعویٰ
شائع 15 مئ 2026 09:20am

ایران جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر سعودی عرب نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے عدم جارحیت سے متعلق معاہدے کی تجویز پر اتحادی ممالک سے مشاورت شروع کردی ہے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے سفارتکاروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس تجویز کا مقصد جنگ کے بعد خطے میں امن و استحکام کیلئے نئی راہیں تلاش کرنا ہے۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اتحادی ممالک اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ ایسے ممکنہ معاہدے پر بات چیت کررہا ہے جس کے ذریعے ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کیا جاسکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ریاستوں کو اس بات پر تشویش ہے کہ جنگ کے بعد انہیں ایک زیادہ سخت گیر ایرانی حکومت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جبکہ خطے میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کا امکان بھی موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق کئی یورپی ممالک اور یورپی یونین کے ادارے سعودی تجویز کی حمایت کررہے ہیں اور خلیجی ممالک پر بھی اس کی حمایت کیلئے زور دیا جارہا ہے۔

دو مغربی سفارتکاروں نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ریاض کیلئے انیس سو ستر کی دہائی کا “ہیلسنکی عمل” ایک ممکنہ ماڈل ہوسکتا ہے، جس نے سرد جنگ کے دوران یورپ میں کشیدگی کم کرنے اور اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب خطے میں ایک ایسے فریم ورک کی کوشش کررہا ہے جس کے ذریعے ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتحال میں تصادم کے امکانات کم کیے جاسکیں اور علاقائی استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔

بیش قیمت ہینڈ میڈ ریڈ وائن کی کئی بوتلیں بھی پکڑی گئی ہیں، ملزمہ سے کیٹامائن، ایفیڈرین، میتھ اور لیٹوکین بھی برآمد ہوئے، ملزمہ کے قبضے سے ایک پستول اور کئی راؤنڈز بھی ملے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ انمول عرف پنکی 300 گرام کوکین سے 1 کلو کوکین تیار کرتی ہے، ایک کوکین کے انڈے کی قیمت 8 لاکھ سے زائد ہے، اور وہ پاکستان کی مہنگی ترین کوکین خود بناتی ہے، عام کوکین 8 سے 10 ہزار روپے گرام مل جاتا ہے، انمول وائٹ کوک 25 ہزار گولڈن کوک 40 ہزار میں فروخت کرتی ہے۔


گرفتار ملزمہ نے کراچی میں سپلائی کے لیے 4 رائڈرز رکھے ہوئے ہیں، ہر رائڈر کو ماہانہ تنخواہ اور کرایہ پر گھر بھی پنکی نے دلوایا، اور ہزاروں گاہکوں سے انمول پنکی خود رابطے میں رہتی ہے، خاتون منشیات سپلائر کو سڑک پر پیسے بانٹنے کی بھی عادت ہے، کبھی ایک دن میں بھی چالیس پچاس لاکھ روپے بانٹ دیتی ہے۔

نئی دہلی: برکس اجلاس میں عباس عراقچی کی یو اے ای پر تنقید، اسرائیل سے تعلقات پر نظرثانی کا مطالبہ

ایرانی وزیرِ خارجہ نے یو اے ای کو اسرائیل سے قربت اور ایران مخالف کارروائیوں میں ملوث قرار دیا
اپ ڈیٹ 14 مئ 2026 04:30pm

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے نئی دہلی میں جاری ’برکس‘ وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران متحدہ عرب امارات پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کے مطابق ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو اجلاس کے پہلے روز متحدہ عرب امارات کے نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای ایران کے خلاف ہونے والی جارحیت میں براہِ راست شریک رہا ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ’میں نے اپنے بیان میں متحدہ عرب امارات کا نام نہیں لیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یو اے ای میرے ملک کے خلاف جارحیت میں براہِ راست ملوث تھا۔ جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو یو اے ای نے مذمت تک نہیں کی‘۔ ان کا یہ بیان اماراتی نمائندے کے ریمارکس کے جواب میں سامنے آیا۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اجلاس کے دوران اماراتی ہم منصب کو متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظرِ ثانی کا بھی مشورہ دیا۔

انہوں نے اماراتی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کے ساتھ آپ کا اتحاد بھی آپ کو تحفظ فراہم نہیں کر سکا، بہتر یہی ہے کہ آپ ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کریں‘۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات خطے میں مزید عدم استحکام اور کشیدگی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

تاحال متحدہ عرب امارات کی جانب سے ان الزامات یا ایرانی وزیرِ خارجہ کے بیانات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس کا آج پہلا روز ہے۔ جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ سمیت تنظیم کے نئے رکن ممالک کے سفارتکار شریک ہیں۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران میں جاری جنگ نے عالمی توانائی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معیشت میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق اجلاس کے دوران ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے برکس ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحیت کی مذمت کریں۔

انہوں نے کہا کہ تنظیم کے رکن ممالک کو اس جنگ کو روکنے میں کردار ادا کرنا چاہیے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ یقینی بنانا چاہیے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران رکن ممالک کی حمایت کو سراہتا ہے، تاہم مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی عالمی اداروں کو سیاست زدہ ہونے سے روکنا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ ضروری ہے کہ ہم سب امریکا کی بالادستی اور استثنیٰ کے تصور کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں، جو آج کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں رکھتا‘۔

واضح رہے کہ ’برکس‘ ابھرتی ہوئی بڑی معیشتوں کا ایک اتحاد ہے جو عالمی اداروں میں مغربی طاقتوں کے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ’گلوبل ساؤتھ‘ کی اصطلاح کے ساتھ سیکیورٹی و معاشی پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

ابتدا میں اس میں برازیل، روس، بھارت اور چین شامل تھے، تاہم 2010 میں جنوبی افریقہ کی شمولیت سے یہ برکس بن گیا، جو ان 5 ملکوں کے ناموں کے پہلے حروف سے مل کر بنا ہے۔ 2023 میں اس اتحاد میں مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہوئے تھے، جب کہ انڈونیشیا نے جنوری 2025 میں اس گروپ میں شمولیت اختیار کی۔

تاہم اس اتحاد کے اجلاسوں کے دوران رکن ممالک کے درمیان اختلافات بھی نمایاں رہے ہیں۔ بھارت اور چین کے درمیان علاقائی اثر و رسوخ کی مسابقت جاری ہے، جبکہ یوکرین جنگ اور اب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی نے ان اختلافات کو مزید واضح کر دیا ہے، خاص طور پر ایران اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک جو ایک ہی تنظیم کے رکن ہونے کے باوجود مختلف علاقائی مفادات رکھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے برکس ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اجلاس کے دوران امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف مشترکہ مؤقف اپنانے کے لیے رکن ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرے۔

حالیہ اجلاس میں برکس ممالک کے اندرونی اختلافات اس وقت مزید نمایاں ہوئے جب بدھ کے روز ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ ’برکس‘ کا رکن ہمسایہ ملک اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ملک امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران کے دفاعی حملوں کے خلاف بیان برکس کے مشترکہ اعلامیے میں شامل کروانا چاہتا ہے۔

برکس اجلاس میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی تلخی اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ تنظیم کے اندر امریکا، اسرائیل اور خلیجی صورت حال پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنا آسان نہیں ہوگا۔

دفتر خارجہ کا امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے پاکستان مخالف بیان پر ردعمل

چین پاکستان پر ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں ڈال رہا: طاہر اندرابی
شائع 14 مئ 2026 03:08pm

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے پاکستان مخالف بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بیان دیکھا ہے، یہ بیان سی بی ایس نیوز کی خبر کے فوری بعد جاری ہوا تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وقت کے فرق کے باعث ہمارا بیان تھوڑا تاخیر سے جاری ہوا۔

طاہر اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان خطے میں امن، مکالمے اور سفارتکاری کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کا کردار مسلسل فعال ہے اور پاکستان تمام ریاستوں کی خودمختاری اور برابری کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے علاقائی امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان کا مؤقف انتہائی واضح ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امن کی ان کوششوں کے سلسلے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے قطر اور آذربائیجان کے رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جن میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی طرح نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بھی اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اور مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ خطے میں تناؤ کو کم کیا جا سکے۔

طاہر اندرابی کے مطابق سعودی عرب اور آسٹریا کے وزرائے خارجہ نے بھی ایران اور امریکا کے درمیان رابطے آسان بنانے کے لیے پاکستان کے اس تعمیری سفارتی کردار کو سراہا ہے۔

ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ اور علاقائی استحکام کے لیے جاری کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔

تاہم ترجمان دفتر خارجہ نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی جن میں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ چین پاکستان پر ثالثی کے حوالے سے کوئی دباؤ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو دوستانہ ماحول میں ہوئی اور چین نے پاکستان کی امن کوششوں کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان نے بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس، خاص طور پر سی بی ایس کی رپورٹ کو حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی طیاروں کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں اور متعلقہ پروازیں صرف سفارتی عملے اور انتظامی اسٹاف کی نقل و حرکت کے لیے تھیں، جن کا کسی فوجی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پاکستان نے عسکری یا بینکنگ نوعیت کی کسی بھی مشکوک سرگرمی کے دعوؤں کو بھی غلط قرار دیا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے پر پاکستان نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا کیونکہ تحقیقات اور تکنیکی شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ حملہ آور افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس سے تعلق رکھتے تھے۔

پاکستان نے افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری اور قابلِ تصدیق کارروائی کریں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔

چینی صدر سے دو گھنٹے طویل ملاقات، شی جن پنگ کی ٹرمپ کو دو ٹوک وارننگ

صدر ٹرمپ نے ان مذاکرات کو ”بہترین“ قرار دیا۔
اپ ڈیٹ 14 مئ 2026 01:18pm

بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے کے بعد ختم ہو گئی ہے۔ اس ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے بیجنگ میں 600 سال پرانی تاریخی جگہ ’ٹیمپل آف ہیون‘ کا دورہ بھی کیا، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔ یہ وہ تاریخی مقام ہے جو 1420 میں منگ خاندان کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے شاہی قربانیوں اور اچھی فصل کی دعا کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

جب امریکی صدر ٹیمپل آف ہیون پہنچے تو ان سے سوال کیا گیا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی بات چیت کیسی رہی۔

امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ان مذاکرات کو ”بہترین“ قرار دیا۔

تاہم، ٹرمپ نے اس حوالے سے پوچھے گئے مزید سوالات کا جواب نہیں دیا کہ آیا ان کے درمیان تائیوان کے معاملے پر بھی بات ہوئی ہے یا نہیں۔

تاہم، چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ”بیجنگ میں ہونے والی حالیہ ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح کر دیا ہے کہ تائیوان کا معاملہ چین امریکا تعلقات میں سب سے زیادہ حساس اور اہم حیثیت رکھتا ہے۔“

بیان کے مطابق، ”چینی صدر کا کہنا تھا کہ اگر اس مسئلے کو صحیح طریقے سے حل کیا گیا تو دونوں ملکوں کے تعلقات مستحکم رہیں گے، لیکن اگر اس میں کوتاہی برتی گئی تو دونوں ممالک کے درمیان ٹکراؤ اور بڑے تنازعات جنم لے سکتے ہیں جس سے پورے تعلقات خطرے میں پڑ جائیں گے۔“

ماؤ ننگ کے مطابق، صدر شی جن پنگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تائیوان کی آزادی اور آبنائے تائیوان میں امن دو ایسی چیزیں ہیں جو آگ اور پانی کی طرح ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنا ہی چین اور امریکا کے درمیان سب سے بڑا مشترکہ نکتہ ہونا چاہیے۔

چین کی وزارت خارجہ نے بھی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے حوالے سے ایک باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے عالمی سطح پر جاری بڑے تنازعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق دونوں سربراہان مملکت نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، یوکرین کے بحران اور جزیرہ نما کوریا جیسے اہم بین الاقوامی اور علاقائی معاملات پر اپنے اپنے موقف اور خیالات کا تبادلہ کیا۔

چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ ان مذاکرات میں ان تمام بڑے مسائل کو زیر بحث لایا گیا جو اس وقت عالمی امن اور سلامتی کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔

بیان کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ان پیچیدہ عالمی حالات پر ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کی تاکہ مختلف خطوں میں جاری بحرانوں کا حل تلاش کیا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے لیے ٹرمپ کا یہ رویہ حیران کن ہے کیونکہ جنوری 2025 میں ان کی واپسی پر سخت اقدامات کی توقع کی جا رہی تھی۔

لا ٹروب یونیورسٹی کے پروفیسر نک بسلے نے قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو میں کہا کہ ”جنوری 2025 میں ہم میں سے بہت سے لوگوں نے کہا تھا کہ ٹرمپ چین کو ٹف ٹائم دیں گے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا“۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے باوجود ٹرمپ کا بیجنگ آنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس تعلق کو کتنی ترجیح دے رہے ہیں۔

آزاد تجزیہ کار اینڈریو لیونگ نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کی وجہ سے ٹرمپ اس وقت اپنے چینی ہم منصب کے سامنے قدرے کمزور پوزیشن میں بیٹھے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران کی صورتحال ابھی تک حل نہیں ہو سکی ہے اور امریکا کے اندر بھی بہت سے لوگ اس تنازع کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ٹرمپ پر اندرونی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔

دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے اپنی پوزیشن کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر لیا ہے۔

اینڈریو لیونگ کے مطابق چین کے پاس نایاب معدنیات (رئیر ارتھ) کی پروسیسنگ پر مکمل کنٹرول ہے، جو امریکا کے جدید ترین فوجی اثاثوں بشمول ایف-35 طیاروں کی تیاری کے لیے انتہائی ضروری ہیں، اور یہی چیز بیجنگ کو مذاکرات میں برتری دیتی ہے۔

ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ان ملاقاتوں کے باوجود دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان طویل مدتی مقابلہ اور کشیدگی برقرار رہے گی۔

اینڈریو لیونگ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات کی مکمل بحالی سے ابھی بہت دور ہے۔

صدر ٹرمپ اپنے ساتھ ایپل، بلیک راک اور ٹیسلا جیسی بڑی کمپنیوں کے وفود لائے ہیں تاکہ وہ اپنی سیاسی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لیے سرمایہ کاری اور مارکیٹ تک رسائی کے وعدے حاصل کر سکیں۔

اس ملاقات میں تائیوان کا معاملہ صدر شی جن پنگ کے لیے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اگر وہ صدر ٹرمپ کو تائیوان کی آزادی یا ہتھیاروں کی فروخت کے حوالے سے اپنے موقف میں تبدیلی پر راضی کر لیتے ہیں، تو یہ چین کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔

چین کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ محاذ آرائی کے مقابلے میں تعاون زیادہ قیمتی ہے۔ اس کے بدلے میں چین امریکا سے محصولات میں کمی، چینی کمپنیوں پر لگی پابندیاں ختم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا اشارہ اب تعلقات کو مستحکم کرنے اور بہتر بنانے کی طرف ہے، جو نہ صرف ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

ایران جنگ: بھارت میں جاری برکس اجلاس اہم کیوں ہے؟

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی نئی دہلی پہنچ چکے ہیں۔
شائع 14 مئ 2026 11:08am

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں آج برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اہم اجلاس ہو رہا ہے، جس کے اثرات ایران میں جاری جنگ پر پڑنے کے امکانات ہیں۔

یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے سرکاری دورے پر موجود ہیں۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد ستمبر میں بھارت کی میزبانی میں ہونے والی اٹھارہویں برکس سربراہی کانفرنس کے لیے ایجنڈا تیار کرنا ہے۔

برکس ابھرتی ہوئی بڑی معیشتوں کا ایک ایسا گروہ ہے جو عالمی اداروں میں مغربی طاقتوں کے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ”گلوبل ساؤتھ“ کی آواز بلند کرنے اور سیکیورٹی و معاشی پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

ابتدا میں اس میں برازیل، روس، بھارت اور چین شامل تھے، تاہم 2010 میں جنوبی افریقہ کی شمولیت سے یہ برکس بن گیا۔

2023 میں اس گروپ نے مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو شمولیت کی دعوت دی، جن میں سے سعودی عرب کے علاوہ باقی تمام ممالک باقاعدہ طور پر شامل ہو چکے ہیں، جبکہ انڈونیشیا نے جنوری 2025 میں اس گروپ میں شمولیت اختیار کی۔

اس اجلاس میں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، جنوبی افریقہ کے رونالڈ لامولا اور برازیل کے ماورو ویرا شریک ہیں۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ ای صدر ٹرمپ کے دورہ بیجنگ کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے، ان کی جگہ بھارت میں چین کے سفیر زو فی ہونگ نمائندگی کر رہے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو بھی نئی دہلی پہنچ چکے ہیں۔

اگرچہ اس اجلاس کی سرکاری تھیم ”لچک، جدت، تعاون اور پائیداری کی تعمیر“ ہے جس میں عوامی صحت کے مسائل پر توجہ دی جائے گی، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ایران جنگ کے اثرات تمام گفتگو پر حاوی رہیں گے۔

یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے فیلو پروفیسر رافیل لوس نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ ”ایران جنگ برکس سربراہی اجلاس اور ٹرمپ و شی جن پنگ کی ملاقات دونوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے“۔

اس جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا کر دیا ہے، جس سے بھارت اور چین جیسے ممالک شدید متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کا تیل کی درآمدات کے لیے اس راستے پر بہت زیادہ انحصار ہے۔

یونیورسٹی آف سسیکس کے پروفیسر مائیکل ڈنفورڈ کہتے ہیں کہ ”بھارت میں یہ اجلاس ایک مشکل وقت میں ہو رہا ہے، کیونکہ بھارت کے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات اور ایران و متحدہ عرب امارات کے درمیان تنازع کی وجہ سے برکس کے اتحاد کو چیلنجز کا سامنا ہے“۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اس اجلاس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور دیگر حکام سے علیحدہ ملاقاتیں بھی کریں گے تاکہ جنگ بندی کے امکانات پر بات ہو سکے۔

ایران کا میزائل نیٹ ورک بدستور مضبوط: امریکی انٹیلی جنس نے ٹرمپ کے دعوؤں کو مسترد کر دیا

خفیہ امریکی رپورٹس نے ٹرمپ انتظامیہ کے ایران کی فوجی صلاحیت تباہ ہونے کے دعوؤں پر سوال اٹھا دیے
شائع 14 مئ 2026 10:11am

امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کا میزائل نیٹ ورک اب بھی بڑی حد تک فعال اور محفوظ ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ان دعوؤں کے برعکس ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔

یہ رپورٹس ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی 75ویں روز میں داخل ہوچکی ہے اور جنگ بندی مذاکرات تاحال کسی بڑی پیش رفت سے محروم ہیں۔

برطانوی اور امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کی خفیہ جائزہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے اپنے بیشتر میزائل تنصیبات، زیرِ زمین ذخیرہ گاہوں اور موبائل لانچر سسٹمز پر دوبارہ آپریشنل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف قائم ایران کی 33 میزائل تنصیبات میں سے 30 مختلف درجوں میں قابلِ استعمال سمجھی جارہی ہیں۔ ان رپورٹس نے خطے میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے، خاص طور پر ان بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کے لیے جو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتے ہیں۔

انٹیلی جنس رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے موبائل میزائل لانچرز کو مختلف مقامات پر منتقل کرنے اور بعض صورتوں میں انہی تنصیبات کے اندر موجود انفرااسٹرکچر سے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب صرف چند تنصیبات مکمل طور پر غیر فعال ہوئی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر ایران کے تقریباً 70 فیصد موبائل میزائل لانچرز اب بھی کام کررہے ہیں۔

امریکی خفیہ اداروں کا اندازہ ہے کہ ایران نے جنگ سے پہلے موجود اپنے میزائل ذخیرے کا بھی بڑا حصہ محفوظ رکھا ہوا ہے، جس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور مختصر فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے کروز میزائل شامل ہیں۔

علاوہ ازیں سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر نگرانی کے نظام سے حاصل معلومات کے مطابق ایران نے ملک بھر میں قائم تقریباً 90 فیصد زیرِ زمین میزائل ذخیرہ گاہوں اور لانچنگ مراکز تک جزوی یا مکمل رسائی دوبارہ حاصل کرلی ہے۔ رپورٹس میں ان تنصیبات کو مختلف سطح پر فعال قرار دیا گیا ہے۔

یہ انکشافات صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ان بیانات سے متصادم ہیں جن میں ایران کی فوجی طاقت کو’’شدید متاثر‘‘ قرار دیا گیا تھا۔

رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو مؤثر انداز میں غیر فعال بنایا جاچکا ہے، جبکہ ایران کی بحالی سے متعلق دعوؤں کو مبالغہ آمیز اور سیاسی قرار دیا۔

دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان نے امریکی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض ادارے امریکی فوجی کارروائیوں کو غلط انداز میں پیش کررہے ہیں اور ایران کے خلاف کامیاب آپریشن کو متنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

امریکی بحری ناکہ بندی: کیوبا میں ایندھن ختم، بجلی کا نظام مفلوج، زندگی تھم گئی

ہمارے پاس بالکل بھی ایندھن اور ڈیزل نہیں بچا ہے اور ہمارے پاس کوئی محفوظ ذخائر بھی موجود نہیں ہیں: وزیر توانائی
اپ ڈیٹ 14 مئ 2026 12:55pm

کیوبا کے وزیر توانائی ویسینٹ ڈی لا او نے بدھ کے روز ایک ہنگامی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ملک میں ڈیزل اور فیول آئل مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ امریکی ناکہ بندی کے باعث ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے دارالحکومت ہوانا سمیت پورے ملک کو کئی دہائیوں کے بدترین بلیک آؤٹ کا سامنا ہے۔

وزیر توانائی نے سرکاری میڈیا پر صورتحال کی سنگینی بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس بالکل بھی ایندھن اور ڈیزل نہیں بچا ہے اور ہمارے پاس کوئی محفوظ ذخائر بھی موجود نہیں ہیں، جس کی وجہ سے قومی گرڈ کی حالت انتہائی نازک ہے۔

رواں ہفتے اور گزشتہ ہفتے کے دوران دارالحکومت میں بجلی کی بندش میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور کئی علاقوں میں دن کے بیس سے بائیس گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے۔

ویسینٹ ڈی لا او کے مطابق یہ صورتحال ایک ایسے شہر میں تناؤ کو بڑھا رہی ہے جو پہلے ہی خوراک، ایندھن اور ادویات کی قلت کی وجہ سے نڈھال ہو چکا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت ملک کا پاور گرڈ مکمل طور پر صرف مقامی خام تیل، قدرتی گیس اور شمسی توانائی پر چل رہا ہے۔

اگرچہ کیوبا نے گزشتہ دو سالوں میں تیرہ سو میگاواٹ شمسی توانائی کے منصوبے لگائے ہیں، لیکن ایندھن کی کمی کی وجہ سے گرڈ میں پیدا ہونے والا عدم استحکام ان کی کارکردگی کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کے باوجود ایندھن درآمد کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، تاہم امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور نقل و حمل کے اخراجات نے ان کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کیوبا ہر اس شخص کے لیے کھلا ہے جو ہمیں ایندھن فروخت کرنا چاہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، جنوری 2026 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حکم نامے کے بعد سے، جس میں کیوبا کو تیل بھیجنے والے ممالک پر تجارتی پابندیوں کی دھمکی دی گئی تھی، میکسیکو اور وینزویلا جیسے پرانے سپلائرز نے بھی ایندھن بھیجنا بند کر دیا ہے۔

صرف روس کے ایک بحری جہاز نے دسمبر کے بعد سے کچھ امداد فراہم کی ہے۔ اس بحرانی صورتحال پر اقوام متحدہ نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی ناکہ بندی کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے کیوبا کے عوام کے خوراک، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔

ایران کی دھمکی کے بعد یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والوں سے حساب لیا جائے گا: عباس عراقچی
شائع 14 مئ 2026 08:27am

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے مبینہ خفیہ دورے نے خطے کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے ہوئی۔ تاہم متحدہ عرب امارات نے اس دورے کی تردید کی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو اور محمد بن زاید کی یہ ملاقات عمان کی سرحد کے قریب العین شہر میں ہوئی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور اس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت کی بنیاد رکھی۔

اس انکشاف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والوں سے حساب لیا جائے گا۔

انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کو ایک احمقانہ جوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام سے دشمنی کے لیے اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے۔

عباس عراقچی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نیتن یاہو نے جو انکشاف کیا ہے، ایرانی سیکیورٹی ادارے بہت پہلے اس حوالے سے قیادت کو آگاہ کر چکے تھے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ غیراعلانیہ یا خفیہ دوروں سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔

اماراتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ یہ ابراہم معاہدے کے تحت کھلے عام استوار کیے گئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تعلقات کسی رازداری پر مبنی نہیں ہیں، اس لیے خفیہ ملاقاتوں کی باتیں حقیقت کے خلاف ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اس مبینہ دورے کے دوران دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون پر بات چیت کی گئی تھی۔

امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کو اپنا دفاعی نظام آئرن ڈوم فراہم کیا جس نے ایران کی جانب سے کیے گئے مبینہ حملوں کو روکنے میں مدد دی۔

اس دوران یہ بھی بتایا گیا کہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ نے بھی سیکیورٹی تعاون کے سلسلے میں یو اے ای کے دورے کیے تھے۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ابراہم معاہدے کے تحت باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

ایران جنگ نے جاپانی چپس کے رنگ اُڑا دیے، دلچسپ وجہ جانیے

صارفین حیران رہ گئے، مارکیٹ میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی۔
شائع 13 مئ 2026 10:33am

جاپان میں چپس کے مشہور برانڈ ’کالبی‘ کے شوقین افراد کے لیے اب اسٹورز کی الماریاں بدلی بدلی نظر آئیں گی۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ چپس کے پیکٹوں کے شوخ رنگوں کو عارضی طور پر ختم کر رہے ہیں۔ اب اسٹورز میں یہ پیکٹ رنگین کے بجائے سیاہ اور سفید رنگوں میں دستیاب ہوں گے۔

سی این این نیوز کے مطابق یہ غیر معمولی قدم مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سپلائی چین میں پیدا ہونے والے شدید بحران اور خام مال کی قلت کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے، جس نے عالمی تجارتی منڈیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں جاری کشیدگی کی وجہ سے چھپائی کے عمل میں استعمال ہونے والے بعض اہم خام مال کی فراہمی غیر یقینی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے یہ قدم اٹھانا پڑا۔

کالبی کے مطابق، اس عارضی اقدام کا مقصد رنگین سیاہی اور دیگر متعلقہ کیمیکلز کی بچت کرنا ہے تاکہ مارکیٹ میں مصنوعات کی مسلسل فراہمی میں کوئی تعطل نہ آئے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ پیکٹ کا رنگ بدلنے سے چپس کے ذائقے یا معیار پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، البتہ پیکنگ اب بالکل سادہ اور بے رنگ ہوگی۔

یہ تبدیلی مجموعی طور پر 14 مختلف مصنوعات پر لاگو ہوگی جن کی فروخت کا آغاز 25 مئی سے متوقع ہے۔

عام طور پر جاپانی صارفین پیکٹ کے شوخ رنگوں کو دیکھ کر اپنے پسندیدہ ذائقے کی پہچان کرتے ہیں، جیسے سرخ پیکٹ نمکین چپس کے لیے اور پیلا پیکٹ جس پر سبز لیبل ہوتا ہے، سی ویڈ ذائقے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اب خریداروں کو اپنی مطلوبہ چیز خریدنے کے لیے پیکٹ پر درج تحریر اور لیبلز پر زیادہ انحصار کرنا ہوگا کیونکہ تمام پیکٹ اب صرف گرے رنگ کے مختلف شیڈز اور تحریر میں دستیاب ہوں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قلت کی ایک بڑی وجہ پیٹرولیم کی ضمنی مصنوعات ’نیفتھا‘ کی عالمی منڈی میں کمی ہو سکتی ہے، جو چھپائی کی سیاہی کی تیاری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر ان اشیاء کی اتنی شدید قلت نہیں ہے کہ بحران پیدا ہو، لیکن کالبی جیسی بڑی کمپنیوں نے احتیاطی طور پر اپنی پیداواری لاگت اور وسائل کو بچانے کے لیے یہ حکمتِ عملی اپنائی ہے۔

دنیا بھر کی کمپنیاں فروری میں ایران پر ہونے والے حملوں اور اس کے بعد آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ راستہ تیل اور دیگر سامان کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

اس بحری راستے کی بندش کی وجہ سے نہ صرف جاپان میں چپس کی پیکنگ متاثر ہوئی ہے، بلکہ ایشیا میں فرٹیلائزر کی کمی سے کسان پریشان ہیں اور بھارت جیسے ممالک سے مشرقِ وسطیٰ کو ہونے والی اناج کی برآمدات بھی رک گئی ہیں۔ ’کالبی‘ کے پیکٹوں کا بے رنگ ہونا دراصل اس عالمی معاشی عدم استحکام کی ایک چھوٹی سی مگر واضح علامت ہے۔

ایرانی تیل کی ترسیل کی اطلاع دینے والے کے لیے 1.5 کروڑ ڈالر انعام کا اعلان

انعام کا مقصد ایران کے مبینہ مالیاتی نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنا ہے، امریکی محکمہ خارجہ
شائع 13 مئ 2026 09:24am

امریکا نے پاسداران انقلاب کے مالی نیٹ ورک کی معلومات دینے پر 15 ملین ڈالر کا انعام رکھ دیا۔

واشنگٹن نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مالیاتی ڈھانچے سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے بڑا انعامی پروگرام جاری کردیا ہے جس کے تحت قابل اعتماد معلومات دینے والے کو 15 ملین امریکی ڈالر تک انعام دیا جاسکتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے تحت کام کرنے والے ’’ریوارڈز فار جسٹس‘‘ پروگرام نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب، اس کے مالیاتی نیٹ ورک، غیرقانونی آئل شپمنٹس اور ان سرگرمیوں میں ملوث افراد یا اداروں سے متعلق معلومات دینے والوں کو 15 ملین ڈالر تک انعام دیا جائے گا۔

پروگرام کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ پاسدارانِ انقلاب اور اس کی ذیلی شاخ ’’قدس فورس‘‘ دنیا بھر میں دہشت گرد سرگرمیوں کی معاونت اور ان میں ملوث رہی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق آئی آر جی سی اپنی سرگرمیوں کیلئے فنڈز کے حصول میں مختلف خفیہ مالیاتی ذرائع استعمال کرتی ہے، جن میں فرنٹ کمپنیاں، خفیہ کاروباری نیٹ ورکس اور ایسے ادارے شامل ہیں جو امریکی اور عالمی پابندیوں سے بچنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر کسی شخص کے پاس ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی تیل ترسیل، اس میں استعمال ہونے والے ٹینکرز، معاون کمپنیوں یا متعلقہ افراد سے متعلق معلومات موجود ہیں تو وہ واٹس ایپ، ٹیلیگرام یا سگنل کے ذریعے معلومات فراہم کرسکتا ہے۔

امریکا 2019 میں پاسدارانِ انقلاب کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ واشنگٹن کا الزام ہے کہ آئی آر جی سی مختلف سائبر حملوں اور بیرونِ ملک ایرانی شہریوں کو دھمکیاں دینے میں بھی ملوث رہی ہے، جن میں برطانیہ میں قائم ایران انٹرنیشنل کے عملے کو دی جانے والی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب یورپی پارلیمنٹ بھی جنوری 2023 میں ایک قرارداد منظور کرچکی ہے جس میں یورپی یونین اور رکن ممالک سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔

تاہم جرمنی سمیت بعض یورپی ممالک کا مؤقف ہے کہ ایسا کرنے سے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی مذاکرات کا راستہ بند ہوسکتا ہے۔

اگر یورپ میں آئی آر جی سی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاتا ہے تو اس تنظیم کی رکنیت، اجلاسوں میں شرکت اور عوامی مقامات پر اس کا جھنڈا یا لوگو اٹھانا بھی جرم تصور کیا جائے گا۔

آبنائے ہرمز میں حملے کا نشانہ بننے والے جہازوں کی آخری پکار ایک چھوٹا سا دفتر کیوں ہے؟

مرکز کے اندر کا منظر کسی عام دفتر جیسا ہے اور ٹیم صرف 18 لوگوں پر مشتمل ہے۔
شائع 13 مئ 2026 09:10am

جب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر حملہ ہوتا ہے یا اسے خطرہ محسوس ہوتا ہے، تو مدد کے لیے اس کی پہلی پکار ہزاروں میل دور برطانیہ کے جنوبی ساحل پر واقع پورٹسماؤتھ کے ایک فوجی اڈے پر سنی جاتی ہے۔

یہ دفتر ’یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر‘ (یو کے ایم ٹی او) کا ہے، جو برطانوی بحریہ کی نگرانی میں کام کرتا ہے اور دنیا کی مصروف ترین سمندری گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں کے لیے ہنگامی سروس اور مانیٹرنگ کا فریضہ انجام دیتا ہے۔

اس تنظیم کی بنیاد تقریباً 25 سال قبل دبئی میں نائن الیون کے حملوں کے جواب میں رکھی گئی تھی، جس نے بعد میں صومالیہ کے ساحلوں پر قزاقی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔

رواں برس 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اس ادارے کی اہمیت ملاحوں اور شپنگ کمپنیوں کے لیے مزید بڑھ گئی ہے، خاص طور پر بحیرہ احمر، بحر ہند اور خلیج فارس میں سفر کرنے والے جہاز اس پر بہت زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔

اس مرکز کی سربراہ کمانڈر جوانا بلیک کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ تکلیف دہ لمحات وہ ہوتے ہیں جب کسی ایسے جہاز کا عملہ یا کپتان آپ کو کال کرتا ہے جس پر ابھی حملہ ہوا ہو۔

انہوں نے بتایا کہ کبھی کسی جہاز پر میزائل یا ڈرون سے حملہ کیا جاتا ہے تو کبھی انجن روم یا برج پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی جاتی ہے، جو وہاں موجود لوگوں کے لیے انتہائی خوفناک تجربہ ہوتا ہے۔

مرکز کے اندر کا منظر کسی عام دفتر جیسا ہے لیکن وہاں لگی بڑی اسکرینیں ڈیجیٹل نقشوں کے ذریعے جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتی ہیں۔

جب کوئی جہاز سیٹلائٹ فون یا ای میل کے ذریعے کسی مسئلے کی اطلاع دیتا ہے، تو یہ مرکز فوری طور پر مقامی کوسٹ گارڈ یا فوجی حکام کو مطلع کرتا ہے جو مدد کے لیے سب سے بہتر پوزیشن میں ہوں۔

کمانڈر بلیک کے مطابق بعض اوقات عملہ سمندر میں گر جاتا ہے اور ہماری اطلاع پر مقامی کوسٹ گارڈ انہیں بچا لیتے ہیں، ایسی صورتحال میں دفتر کا ماحول بہت پرتناؤ لیکن انتہائی منظم ہوتا ہے۔

جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 130 جہاز گزرتے تھے، لیکن اب یہ تعداد کم ہو کر صرف 8 سے 10 رہ گئی ہے۔

اس اہم راستے کی بندش سے عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے اور تقریباً 850 بڑے جہاز خطے میں پھنسے ہوئے ہیں، جن پر 20 ہزار کے قریب ملاح موجود ہیں۔

خطرے کی ایک بڑی وجہ سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں بھی ہیں، جس کے بارے میں کمانڈر بلیک کہتی ہیں کہ اگرچہ ابھی تک کسی جہاز نے براہِ راست ان سرنگوں کو دیکھنے کی اطلاع نہیں دی، لیکن ان کا محض خدشہ ہی انڈسٹری کو محتاط رکھنے کے لیے کافی ہے۔

برطانوی بحریہ سے منسلک ہونے کے باوجود یہ ادارہ اپنی غیر جانبداری پر فخر کرتا ہے اور ہر ملک کے جہاز کو بلا امتیاز مدد فراہم کرتا ہے۔

یہاں 18 افراد کی ٹیم 24 گھنٹے کام کرتی ہے جو درست اور حقائق پر مبنی معلومات فراہم کر کے شپنگ کمپنیوں کا اعتماد حاصل کر چکی ہے۔

کمانڈر جوانا بلیک نے حالیہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے بعد حملوں میں کمی آئی ہے لیکن اب جہازوں کو ریڈیو پر روکنے، ان پر سوار ہونے اور ملاحوں کو حراست میں لینے جیسے واقعات زیادہ پیش آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مرکز کے ساتھ تعاون رضاکارانہ ہے، لیکن یہاں اپنی معلومات درج کرانے سے شپنگ کمپنیوں کو انشورنس کے اخراجات میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔

پاکستان اور عراق کا خاموشی سے ایران کے ساتھ تیل اور گیس کی ترسیل کا بڑا معاہدہ: رائٹرز کا دعویٰ

یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران نے اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں پر اپنا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے: رپورٹ
شائع 13 مئ 2026 08:46am

ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے عالمی سطح پر توانائی کے بحران کو جنم دیا ہے، جس کے باعث خلیج فارس سے ہونے والی تیل اور گیس کی برامدات میں شدید کمی آئی ہے۔ اس بحرانی صورتحال میں پاکستان اور عراق نے ایران کے ساتھ خاموشی سے ایسے معاہدے کیے ہیں جن کے تحت آبنائے ہرمز سے توانائی کے جہازوں کی بحفاظت ترسیل ممکن بنائی جا سکے گی۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران نے اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں پر اپنا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

آکسفورڈ انسٹی ٹیوٹ فار انرجی اسٹڈیز کے کلاڈیو اسٹیور نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ ایران اب آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے بجائے وہاں تک رسائی کو کنٹرول کر رہا ہے، اور یہ راستہ اب کوئی غیر جانبدار تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ایک مکمل طور پر کنٹرول شدہ راہداری بن چکا ہے۔

رائٹرز نے دعویٰ کیا کہ پاکستان، جو پہلے ہی ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بجلی کی طلب میں اضافے کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے، اس نے تہران کے ساتھ ایک دو طرفہ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) سے لدے دو بحری جہاز پاکستان کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔

رائٹرز نے توانائی انڈسٹری سے وابستہ ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ قطر اس دو طرفہ معاہدے میں براہِ راست شامل نہیں تھا، تاہم اس نے ان بحری جہازوں کی روانگی سے قبل امریکا کو مطلع کر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق مذاکرات سے آگاہ ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے ساتھ تیل اور گیس کی ترسیل کے عمل میں کچھ مشکلات پیش آتی ہیں کیونکہ وہ اکثر شرائط بدل دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود کام کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

دوسری جانب عراق نے بھی تہران کے ساتھ ایک غیر اعلانیہ معاہدے کے ذریعے اپنے دو بڑے بحری جہازوں کے لیے راستہ صاف کروا لیا ہے جو اتوار کے روز آبنائے ہرمز سے گزرے تھے۔

رپورٹ کے مطابق، عراق اپنی آمدنی کے لیے 95 فیصد تیل کی برامدات پر انحصار کرتا ہے، اس لیے وہ اب مزید جہازوں کے لیے ایران سے اجازت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق، عراقی وزارتِ تیل کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ عراق ایران کا قریبی اتحادی ہے اور عراق کی معیشت میں کسی بھی قسم کی گراوٹ ایران کے معاشی مفادات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگی۔

اس عمل کو سہل بنانے کے لیے عراقی حکام ایرانی حکام کو ہر بحری جہاز کی منزل، ملکیت اور سامان کی تفصیلات فراہم کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ نہ تو پاکستان اور نہ ہی عراق نے ان بحری جہازوں کے گزرنے کے بدلے میں ایران یا پاسدارانِ انقلاب کو کوئی براہِ راست رقم ادا کی ہے۔

تاہم، ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر مزید ممالک نے ایران کے ساتھ اس قسم کے معاہدے شروع کر دیے تو اس سے یہ تاثر عام ہو جائے گا کہ آبنائے ہرمز پر مستقل بنیادوں پر ایران کا ہی کنٹرول رہے گا۔

مشاورتی فرم ایم ایس ٹی مارکی کے ریسرچ ہیڈ ساؤل کاوونک کا کہنا ہے کہ حکومتوں کے ایران کے ساتھ معاہدوں سے اس بات کے معمول بننے کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے کہ ایران مستقل طور پر اس اہم آبی گزرگاہ کو کنٹرول کرے گا۔

ساؤل کوونک کے مطابق، جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے ماہانہ 3 ہزار بحری جہاز گزرتے تھے، لیکن اب یہ تعداد کم ہو کر صرف 5 فیصد رہ گئی ہے، جس کی وجہ سے خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں 35 سے 50 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔

خفیہ جوابی وار؛ سعودی عرب کے ایران پر حملوں کا انکشاف

سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی رابطے بھی بحال رکھے تاکہ تنازع کو بڑے پیمانے پر پھیلنے سے روکا جا سکے: رپورٹ
شائع 13 مئ 2026 08:21am

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ سعودی عرب نے اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کے جواب میں ایران کے اندر متعدد فوجی کارروائیاں کی ہیں۔

برطوانی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی عرب نے براہِ راست ایرانی حدود میں عسکری طاقت کا استعمال کیا ہو، جو اس بات کی علامت ہے کہ مملکت اب اپنے دفاع کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ سخت موقف اپنا رہی ہے۔

یہ حملے مارچ کے آخر میں سعودی فضائیہ کی جانب سے کیے گئے تھے، جنہیں ماہرین نے جیسے کو تیسا کی بنیاد پر کی جانے والی جوابی کارروائی قرار دیا ہے۔

اگرچہ سعودی عرب روایتی طور پر اپنے دفاع کے لیے امریکا پر انحصار کرتا رہا ہے، لیکن حالیہ جنگ نے ثابت کیا ہے کہ امریکی دفاعی چھتری اب مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں رہی۔

اس صورتحال میں سعودی عرب کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات نے بھی ایران پر حملے کیے، جس سے اس پوشیدہ جنگ کی اصل شکل واضح ہوتی ہے کہ خلیجی ممالک اب خاموش رہنے کے بجائے جواب دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

تاہم، سعودی عرب کا طریقہ کار متحدہ عرب امارات سے مختلف رہا ہے؛ جہاں امارات نے سخت گیر موقف اپنایا، وہیں سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی رابطے بھی بحال رکھے تاکہ تنازع کو بڑے پیمانے پر پھیلنے سے روکا جا سکے۔

سعودی عرب کے دفترِ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے براہِ راست حملوں کی تصدیق تو نہیں کی، لیکن انہوں نے رائٹرز کو کہا کہ ہم کشیدگی میں کمی، ضبطِ نفس اور خطے کے استحکام، سلامتی اور خوشحالی کے لیے اپنے مستقل موقف کا اعادہ کرتے ہیں۔

دوسری جانب سابق سعودی انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے ایک مضمون میں مملکت کی حکمتِ عملی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ جب ایران اور دیگر نے مملکت کو تباہی کی بھٹی میں جھونکنے کی کوشش کی، تو ہماری قیادت نے اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے پڑوسی کی طرف سے ملنے والے دکھوں کو برداشت کرنے کا انتخاب کیا۔

رپورٹس کے مطابق، ان جوابی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید سفارتی کوششیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں ایک غیر رسمی معاہدہ طے پایا کہ کشیدگی کو مزید نہیں بڑھایا جائے گا۔

انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے ڈائریکٹر علی واعظ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سعودی عرب کے جوابی حملے اور پھر کشیدگی کم کرنے کی مفاہمت یہ ظاہر کرتی ہے کہ دونوں اطراف اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہیں کہ بے لگام دشمنی کے نتائج ناقابلِ قبول ہوں گے۔

اس مفاہمت کے بعد مارچ کے آخری ہفتے میں سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی تعداد 105 سے کم ہو کر اپریل کے آغاز میں محض 25 رہ گئی تھی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران نے براہِ راست حملوں کو محدود کر دیا ہے۔

ایران جنگ پر امریکی اخراجات 29 ارب ڈالر تک پہنچ گئے: پینٹاگون

یہ تخمینہ پہلے کانگریس کو بتائی گئی 25 ارب ڈالر کی رقم سے زیادہ ہے۔
اپ ڈیٹ 12 مئ 2026 07:36pm

امریکی محکمہ دفاع کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تنازع پر اب تک تقریباً 29 ارب ڈالر کے اخراجات ہو چکے ہیں، جو کانگریس کو پہلے بتائے گئے 25 ارب ڈالر کے تخمینے سے زیادہ ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات اور دیگر اخراجات اس میں مکمل طور پر شامل نہیں کیے گئے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے ایک سینئر اہلکار نے کانگریس کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ پر اب تک مجموعی لاگت 29 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اضافہ گزشتہ ماہ دیے گئے 25 ارب ڈالر کے تخمینے کے مقابلے میں 4 ارب ڈالر زیادہ ہے۔

پینٹاگون کے قائم مقام مالی امور کے نگران جے ہرسٹ نے امریکی قانون سازوں کو بتایا کہ اس نئے تخمینے میں فوجی ساز و سامان کی مرمت، دوبارہ تیاری اور جاری آپریشنل اخراجات شامل ہیں۔ ان کے مطابق متعلقہ ٹیمیں مسلسل ان اخراجات کا جائزہ لے رہی ہیں اور اعداد و شمار کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔

پینٹاگون کے مطابق 29 ارب ڈالر کا یہ تخمینہ حتمی نہیں ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان اور دیگر اخراجات اس میں مکمل طور پر شامل نہیں کیے گئے۔ بعض ذرائع کے مطابق اصل لاگت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ابتدائی دنوں میں ہی اس جنگ پر بھاری اخراجات سامنے آئے تھے، جن میں پہلے چھ دنوں کے دوران ہی 11.3 ارب ڈالر کے اخراجات کا اندازہ لگایا گیا تھا۔

امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کانگریس میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ پینٹاگون جہاں ممکن ہوگا، جنگی اخراجات کی تفصیلات شیئر کرے گا، تاہم یہ معلومات صرف اسی وقت فراہم کی جائیں گی جب وہ ضروری اور متعلقہ ہوں گی۔ کانگریس رکن پیٹ ایگولار نے اس مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تفصیلی مالی رپورٹنگ اسی فورم پر پیش کی جانی چاہیے۔

امریکی سیاسی حلقوں میں ایران جنگ کے اخراجات پر بحث جاری ہے، جہاں ڈیموکریٹس اسے معاشی مسائل اور عوامی اخراجات سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ تمام اعداد و شمار شفاف طریقے سے اپ ڈیٹ کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے جواب میں تہران نے جوابی کارروائیاں کیں۔ اس صورتِ حال کے نتیجے میں اہم عالمی توانائی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں تیل اور گیس کی ترسیل بھی متاثر ہوئی۔

بعد ازاں 8 اپریل کو پاکستانی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی عمل میں آئی اور 11 اپریل کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مذاکرات کا آغاز ہوا، جہاں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹے طویل براہ راست بات چیت ہوئی جو بغیر نتیجے کے ختم ہو گئے، جس کے بعد 13 اپریل کو امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر پابندیوں کا اعلان کیا اور دعویٰ کیا گیا کہ سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں۔

اس دوران مذاکراتی عمل غیر یقینی صورتِ حال کا شکار رہا، ایران نے اعتماد کی کمی اور امریکی رویے پر اعتراضات اٹھائے، جب کہ امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیا۔ تاہم پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش جاری رکھی۔

بعدازاں، ایران نے نئی تجاویز پیش کیں، جس میں آبنائے ہرمز پر خودمختاری اور جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ شامل تھا۔ ایران نے اس تجویز کو معقول اور وسیع البنیاد قرار دیا، جب کہ امریکا نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پیر کے روز صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

امریکی صدر کی جانب سے ایرانی جواب مسترد کیے جانے کے بعد ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ دی جس میں انھوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور ضرورت پڑنے پر مقابلہ بھی کرے گا۔