'عراق میں قاسم سلیمانی کے جنازے سے ردعمل کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے'
فائل فوٹوقومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتےہوئےوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہمارا خطہ امن و خوشحالی سے محروم رہا، حالات نے نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔31 دسمبر کو بغداد میں امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کیا گیا۔ امریکا اس واقعے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتا ہے۔ امریکا کی نظر میں جنرل قاسم سلیمانی اس کا ماسٹرمائنڈ ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ماہرین اسامہ بن لادن اور ابوبکر بغدادی کی ہلاکت سے زیادہ اس واقعے کو سنگین قرار دیتے ہیں۔ ایران نے ہنگامی سیکیورٹی کونسل کا اجلاس بلایا جب کہ عراق میں بھی اس واقعے کے خلاف عوامی ردعمل سامنے آیا۔ عراق میں قاسم سلیمانی کے جنازے سے ردعمل کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جب کہ عراقی پارلیمنٹ نے تمام غیرملکی فوجیوں کےلئے ملک چھوڑنے کی قرارداد پاس کی۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان نے 3 تاریخ کو اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ایرانی وزیرخارجہ سے تفصیلی گفتگو ہوئی اور متحدہ عرب امارات سمیت ترکی اور سعودی عرب کے وزرائےخارجہ سے بھی تفصیل سے گفتگو کی جب کہ یورپی اور دیگر ممالک سے بھی رابطے کریں گے۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال بہت نازک اور تشویشناک ہے جو کبھی بھی کروٹ لے سکتی ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر برملا انتقام کا اظہار کر چکے ہیں، آیت اللہ خامنہ ای اپنی قوم سے بدلے کا وعدہ کر چکے ہیں۔
قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف اور پی ٹی آئی کے فواد چوہدری میں لفظی گولہ باری ہوئی۔وزیرخارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال بہت نازک اور تشویشناک ہے جو کبھی بھی کروٹ لے سکتی ہے ۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں لیگی رہنما خواجہ آصف اور وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے معاملے پر بحث و مباحثہ ہوتا رہا اور دونوں ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری کرتے رہے۔
مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف کا کہناتھا کہ ہم اپنی عزت کی نیلامی پرخود تلے ہوئے ہیں۔گلہ کسی سے نہیں ہمیں اپنےآپ سے کرنا چاہیئے۔ یہاں ایوان میں جو ہوتا ہے ہم خود پگڑی اچھلواتے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف قوانین سے پگڑی اچھالنے کا موقع ملتا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی والے وہی کاٹ رہے ہیں جو انہوں نے بویا تھا، اپنے پاؤں جلے تو شور کیا، ہمارے پاؤں جلنے پرکسی کوخیال نہیں آیا، جب تک ایوان کی عزت کا خیال نہیں کریں گے۔پگڑیاں اچھالی جائیں گی، ہمیں اپنے آپ اوررویوں کوٹھیک کرنا ہوگا۔فوادچوہدری خود اینکر رہے ہیں، ریکارڈ نکلوائیں کہ وہ کیا کہتے رہے۔
وفاقی وزیرفواد چوہدری کا کہنا تھا کہ دو دن پہلے ایک اینکر نے کہا کہ میرے پاس فواد چوہدری اور کسی خاتون کی متنازع ویڈیو ہے۔ جب ان سے استفسار کیا کہ ویڈیو کہاں ہے تو کہتے ہیں ویڈیو نہیں، میں نے کسی سے سنا۔ یہ لوگ ریٹنگ کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ یوٹیوب چینلز کا معاملہ ایوان میں پہنچ گیا، کیا ہم سیاستدان اپنی عزت چوک پر رکھ کر آئیں کہ ہر کوئی جوتے مار لے؟
فواد چوہدری نے کہا کہ سیاستدان لاکھوں لوگوں کا نمائندہ ہوتا ہے اس کی عزت پر سوال اٹھے گا تو حلقہ کے لوگ پوچھیں گے، اس معاملہ پر خصوصی کمیٹی بنائی جائے۔ پی ٹی اے اور سائبر کرائم ونگ اس پر نوٹس کیوں نہیں لے رہا؟ حکومت اور اپوزیشن مل کر اس معاملہ کا تدارک کریں۔











اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔