آرمی ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے پیپلزپارٹی نے 3تجاویزپیش کردیں
فائل فوٹواسلام آباد:آرمی ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے پیپلزپارٹی نے تین تجاویزپیش کردیں ۔قائمہ کمیٹی دفاع میں پیپلزپارٹی کی ترامیم کی تجاویزپرحکومت نے غورکرنے کی حامی بھی بھرلی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کی آرمی ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے دی جانے والی 3تجاویز سامنے آگئیں۔
پہلی ترمیم کے مطابق وزیراعظم کو پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کو سروسز چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی وجوہات ریکارڈ کرانا ہوں گی۔
دوسری ترمیم کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے پارلیمان کو وجوہات بتانے کے بعد ایکسٹینشن تودی جاسکتی ہے مگر دوبارہ تعیناتی نہیں کی جاسکتی۔
تیسری ترمیم کے مطابق آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حکومتی بل میں سے توسیع کے معاملے کوعدالت میں چیلنج نہ کرنے کی شق بھی ختم کی جائے شامل ہے ۔
پیپلزپارٹی نے قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں اپنی تجاویزپیش کردیں، قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں بھی جمع کرادیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی حکومتی تجاویز کو من و عن تسلیم نہیں کیا بلکہ اپنی ترامیم کی تجاویزدیں ۔
قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں پاکستان پیپلزپارٹی کی ترامیم کی تجاویزپرحکومت نے غورکرنے کی حامی بھی بھرلی۔
ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی آرمی ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے دیگر اپوزیشن پارٹیوں سے رابطے میں بھی آگئی ہے ۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔