راجہ پرویز اشرف کا نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت فرد جرم عائد کرنے پر اعتراض
فائل فوٹواسلام آباد:نیب ترمیمی آرڈیننس سے سیاست دانوں نے بھی فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت فرد جرم عائد کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کیس سے بری کرنے کی استدعا کر دی۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد اعظم خان نے گلف اور ریشماں رینٹل پاور ریفرنس کی سماعت کی۔
راجہ پرویز اشرف کے وکیل نے کہا کہ نیب کے نئے ترمیمی آرڈیننس کے بعد فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی،اس لیے راجہ پرویز اشرف کو اس کیس سے بری کیا جائے۔
نیب پراسیکیوٹر عثمان مرزا نے فرد جرم عائد نہ کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نیب آرڈیننس کے سیکشن 10بی میں کوئی ترمیم نہیں ہوئی،رینٹل پاور پراجیکٹ میں مختلف 12ریفرنسز عدالت میں زیر التوا ہیں۔
جج نے وکیل کو تحریری اعتراضات دائر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اعتراضات دائر ہونے کے بعد نیب کا مؤقف سنیں گے۔
بعدازاں احتساب عدالت نے کیس کی سماعت 23جنوری تک ملتوی کر دی۔
سندھ کے سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن نے بھی سندھ روشن پروگرام کرپشن کیس میں نیب تحقیقات کو چیلنج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی۔
شرجیل میمن نے نئے آرڈیننس کا سہارا لے کر نیب تحقیقات کو کالعدم قرار دینے اور نیب کو تحقیقات سے فوری روکنے کی استدعا کی ہے۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔