قومی اسمبلی نے”زینب الرٹ بل2019 “متفقہ طور پر منظورکرلیا
فائل فوٹواسلام آباد:قومی اسمبلی نے”زینب الرٹ بل 2019“متفقہ طور پر منظورکرلیا ، بل کے مطابق بچوں کے خلاف جرائم پر عمرقید اور 10سے 14سال سزا دی جاسکے گی، ہیلپ لائن بھی قائم ہوگی۔
قصورمیں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی ننھی زینب کی دوسری برسی پرقومی اسمبلی میں ’زینب الرٹ بل پیش کیا گیا ۔
وفاقی وزیرشیریں مزاری نے زینب الرٹ جوابی ردعمل اور بازیابی ایکٹ 2019 بل پیش کیا ، جسے متفقہ طور پر منظورکیا گیا۔
بل کے مطابق بچوں سے متعلق جرائم کا فیصلہ 3ماہ کے اندرکرنا ہوگا ، مجرم کو 10 سے 14 سال قید سزا دی جاسکے گی ، 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی ہوگا ، 1099ہیلپ لائن قائم کی جائے گی جس پر بچے کی گمشدگی، اغواء اورزیادتی کی اطلاع دی جائے گی ، قانون کے مطابق دو گھنٹے کے اندر بچے کے خلاف جرائم پرردعمل نہ کرنے والے افسر کو بھی سزا دی جاسکے گی۔
بل کے مطابق،18 سال سے کم عمربچوں کااغوا، قتل، زیادتی، ورغلانے اور گمشدگی کی اطلاع کے لیے زینب الرٹ جوابی ردعمل وبازیابی ایجنسی قائم کی جائے گی۔
حکومتی ارکان نے بل کی منظوری پراپوزیشن ارکان کا شکریہ ادا کیا جبکہ پیپلزپارٹی نے بل کی منظوری کواہم پیشرفت قراردے دیا۔
حکومتی رکن فہیم خان نے مجرموں کوسرعام چوک میں پھانسی پرلٹکانے کا مطالبہ کیا توشیری مزاری نے کہا کہ قانون میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ۔













اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔