Aaj TV News

BR100 4,401 Decreased By ▼ -270 (-5.78%)
BR30 17,494 Decreased By ▼ -1340 (-7.12%)
KSE100 43,234 Decreased By ▼ -2135 (-4.71%)
KSE30 16,698 Decreased By ▼ -878 (-4.99%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,285,631 377
DEATHS 28,745 8
Sindh 476,017 Cases
Punjab 443,240 Cases
Balochistan 33,488 Cases
Islamabad 107,765 Cases
KP 180,146 Cases

یہ واقعہ جنوبی جرمن شہر اُلم (Ulm) میں پیش آیا، جہاں ملک بھر میں کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن کے سلسلے میں لگائی گئی قانونی پابندیوں کی ایک ایسی خلاف ورزی دیکھنے میں آئی، جو کافی عجیب ہونے کے ساتھ ساتھ مضحکہ خیز بھی تھی۔

اس شہر میں ایک مکان کی چھت پر تین نوجوان جمع تھے اور وہ کچھ کر رہے تھے۔ قریب ہی ایک ہمسائے نے، جس کی شناخت پولیس نے ظاہر نہیں کی، یہ منظر دیکھا تو صورت حال کا اندازہ لگا کر پولیس کو اطلاع کر دی۔

ہمسائے کا اندازہ تھا کہ تین میں سے ایک نوجوان حجام تھا اور باقی دو اس کے گاہک جو بال کٹوانے کے لیے مکان کی چھت پر موجود تھے۔

اُلم کی پولیس نے منگل 29 دسمبر کو بتایا کہ اطلاع ملنے پر جب پولیس اہلکار موقع پر پہنچے تو مکان کی چھت پر حجام کی ایک کرسی رکھی ہوئی تھی جس پر بیٹھا ایک نوجوان حجام سے اپنے بال کٹوا رہا تھا۔

قریب ہی ایک صوفے پر ایک تیسرا نوجوان بھی بیٹھا تھا، جو بال کٹوانے کے لیے اپنی باری کے انتظار میں تھا۔ یہ تینوں نوجوان، جن کی عمریں 24 اور 27 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں، اس لیے قانون شکنی کے مرتکب پائے گئے کہ ان تینوں کا تعلق تین مختلف گھرانوں سے تھا اور لاک ڈاؤن کی شرائط کے تحت دو سے زائد گھرانوں کے افراد کا آپس میں نجی طور پر ملنا بھی منع ہے، چاہے ان کی مجموعی تعداد صرف تین ہی کیوں نہ ہو۔

پولیس نے ان تینوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ انہیں گرفتار تو نہیں کیا گیا مگر ان کے خلاف کارروائی ہو گی اور انہیں فی کس سینکڑوں یورو جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔