Aaj TV News

BR100 4,846 Increased By ▲ 46 (0.97%)
BR30 24,817 Increased By ▲ 124 (0.5%)
KSE100 45,244 Increased By ▲ 300 (0.67%)
KSE30 18,494 Increased By ▲ 111 (0.6%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 845,833 4198
DEATHS 18,537 108
Sindh 288,680 Cases
Punjab 312,522 Cases
Balochistan 22,900 Cases
Islamabad 77,065 Cases
KP 121,728 Cases

امریکی ریاست ایری زونا کے ایک طالب علم جوش سوئین کی جانب سے کی گئی فیس بک سرگرمی انٹرنیٹ پر وائرل میمز اور ’مصنوعی لڑائی‘ کی بنیاد بننے کے ساتھ ساتھ سینکڑوں افراد کے اجتماع کی وجہ بن گئی۔

’جوش فائٹ‘ یا ’جوشز کی لڑائی‘ کے نام سے پہچانی جانے والی سرگرمی کی ابتدا گزشتہ برس 24 اپریل کو ہوئی تھی۔ اس دوران ایک فیس بک میسنجر گروپ کے سکرین شاٹس سامنے آئے تو یہ سرگرمی دیگر سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہی تھی۔

فیس بک گروپ کے سکرین شاٹس میں ’جوش‘ نام کے حامل افراد کو ایک جگہ جمع ہونے کے لیے کہا گیا تھا، یہاں جمع ہونے کے بعد ان کے درمیان مقابلہ ہونا تھا کہ کون یہ نام استعمال کرنے کا اہل ہے۔

ابتدا میں ایک مذاق کے طور پر شروع ہونے والی یہ سرگرمی اور تقریب 24 اپریل 2021 کو کئی سو افراد کے اجتماع میں بدل گئی۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس موقع پر تقریب کے نام یا مقصد کے برعکس شرکا میں کسی قسم کا کوئی جھگڑا یا بدمزگی کا مسئلہ سامنے نہیں آیا۔

24 اپریل 2020 کو جس فیس بک میسینجر ایکٹیویٹی سے یہ سارا معاملہ شروع ہوا اس میں جوش سوئین نام کے حامل افراد کو مدعو کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’24 اپریل 2021 کو دیے گئے مقام پر مل کر ہم مقابلہ کریں گے، جو جیت گیا وہ اپنا نام باقی رکھ سکے گا، باقی سب کو اپنا نام تبدیل کرنا ہو گا۔ آپ کے پاس تیاری کے لیے ایک برس ہے‘۔

اس گروپ پر جوش سوئین نے لڑائی کی تقریب کا پتہ ڈالا اور گروپ چیٹ کا سکرین شاٹ انٹرنیٹ پر گردش کرنے لگا۔ ’جوش فائٹ‘ کو فالو کرنے والوں کے مطابق ابتدا میں کسی نے اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا تاہم، جب جوش سوئین کے دوستوں نے اپریل 2021 سے چند مہینوں قبل اس کا ذکر دوبارہ شروع کیا تو سوشل میڈیا پر ایک بار پھر اس بارے میں باتیں گردش کرنے لگیں۔

ایک پوسٹ میں جوش سوئین نے تقریب میں شرکت کرنے والوں کو کہا کہ وہ ہتھیار کے طور پر 'پول نوڈلز' یا ہلکی چھڑی جیسا دکھائی دینے والا کھلونا لے کر آئیں اور کھانے کے لیے کچھ سامان بھی ہمراہ رکھیں۔

تقریب کے مقصد کے بارے میں بات کرتے ہوئے کالج کے طالب علم جوش سوئین کا کہنا تھا کہ کووڈ-19 کی وجہ سے پیداشدہ بوریت بھگانے اور سوشل میڈیا پر پہچان پہچان بنانے کے لیے انہوں نے اس تقریب کا ذکر شروع کیا۔

انہیں سوشل میڈیا پر اپنے نام کا ہینڈل چاہیے تھا لیکن جوش سوئین نام کے متعددد صارفین ہونے کے باعث وہ ہینڈل حاصل نہیں کر پا رہے تھے۔

انہوں نے امریکہ کی ریاست نیبراسکا میں لنکن نام کی جگہ کا تعین کر کے جوش سوئین نامی دیگر افراد کو دعوت دی۔ تاہم انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ بات اتنے وسیع پیمانے پر گردش کرنے لگے گی۔

رواں سال سنیچر کو، یعنی 24 اپریل، یہ تقریب منعقد کی گئی۔ لیکن یہ اس اعلان کردہ جگہ پر نہیں ہوئی جسں کا تعین نجعش سوئین نے کیا تھا، کیونکہ وہ کسی کی ذاتی پراپرٹی تھی۔

تقریب میں شرکت کرنے والے افراد امریکہ کے مختلف حصوں سے آئے تھے، جنہوں نے ہلکے پھلکے کھیلوں میں شرکت کر کے بچوں کے علاج کے لیے رقم بھی اکھٹی کی۔ ریڈٹ پر جوش سوئین کی پوسٹ کے مطابق انہوں نے چھ ہزار 400 ڈالر چلڈرن ہسپتال اینڈ میڈیکل سینٹر فاؤنڈیشن کے لیے جمع کیے۔

’جوشز کی لڑائی‘ یا ’جوش فائٹ‘ نامی تقریب منعقد ہونے پر اس کے مناظر ویڈیو اور تصاویر کی صورت ٹائم لائنز پر سجے تو متعدد افراد نے جہاں کامیاب ہونے والے کا ذکر کیا وہیں ایک مذاق کے سچ ہونے پر حیرت کا اظہار کیے بغیر نہ رہ سکے۔

تقریب کے دوران ’پتھروں، قینچی اور پیپرز‘ کا استعمال کر کے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی جاتی رہی، تاہم یہ خطرناک اشیا عملی استعمال کے بجائے اشاروں تک محدود رہیں۔

’جوشز کی لڑائی‘ کے پورے معاملے کی ابتدا کرنے والے جوش سوئین اگرچہ تقریب کے پہلے مقابلے میں مدمقابل جوش سوئین سے جیت گئے تاہم اگلے مراحل کے بعد فاتح کا سہرا ایک کمسن بچے کے سر رہا۔

جوش سوئین نامی افراد کی منفرد تقریب کو سوشل میڈیا سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر خاصی دلچسپی سے دیکھا گیا تاہم موجودہ وبائی صورتحال میں یوں اکٹھا ہونے اور احتیاط نہ کر سکنے پر کچھ افراد تشویش ظاہر کیے بغیر بھی نہ رہ سکے۔