ایران جنگ میں امریکا کے 35 ارب ڈالر کے ہتھیار استعمال ہوئے: نیویارک ٹائمز

بڑی مقدار میں میزائل اور دفاعی ہتھیار استعمال ہونے سے نہ صرف ذخائر کم ہوئے بل کہ امریکا کی عالمی دفاعی تیاریوں پر بھی سوالات اٹھ گئے۔
شائع 24 اپريل 2026 07:51pm

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتِ حال نے امریکا کے جدید اور مہنگے ہتھیاروں کے ذخائر پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مختصرعرصے میں بڑی تعداد میں میزائل اور دفاعی نظام کے استعمال کے باعث نہ صرف اسلحہ ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے بل کہ امریکا کی عالمی سطح پر دفاعی تیاریوں اور رسپانس صلاحیت پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔

امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ نے امریکا کی عسکری صلاحیت اور اسلحہ کے ذخائر کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے بعد اس کی عالمی دفاعی حکمت عملی پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکا نے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹیلتھ کروز میزائلوں میں سے تقریباً گیارہ سو میزائل استعمال کیے، جو چین کے ساتھ ممکنہ جنگ کے لیے محفوظ رکھے گئے تھے۔ اس کے علاوہ ایک ہزار سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل بھی فائر کیے گئے، جو امریکا کی سالانہ خریداری کے مقابلے میں تقریباً دس گنا تعداد بنتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف 11 سو جاسم ای آر میزائل استعمال کیے گئے۔ ایک جاسم ای آر میزائل کی مالیت 1.1 ملین امریکی ڈالر ہے۔ امریکا کے پاس اب صرف 15 سو جاسم ای آر میزائل بچے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج نے بارہ سو سے زائد پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل استعمال کیے، جن میں سے ہر میزائل کی مالیت چار ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زمینی حملوں میں استعمال ہونے والے ایک ہزار سے زائد جدید میزائل بھی خرچ کیے گئے، جس کے باعث امریکی دفاعی ذخائر خطرناک حد تک کم ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسلحے کی اس بڑے پیمانے پر منتقلی کے باعث امریکا کو اپنے مختلف عالمی کمانڈز، خصوصاً ایشیا اور یورپ سے ہتھیار مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنا پڑے، جس سے ان خطوں میں امریکی افواج کی تیاری متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے روس اور چین جیسے ممکنہ حریفوں کے خلاف فوری ردعمل کی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے۔

امریکی حکام اور کانگریس کے ارکان کے مطابق اس جنگ نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ امریکا کا دفاعی نظام مہنگے اور محدود پیداوار والے ہتھیاروں پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے۔ اسی وجہ سے اب دفاعی صنعت پر دباؤ ہے کہ وہ نسبتاً سستے اور مؤثر ہتھیار، خصوصاً ڈرونز، کی پیداوار میں اضافہ کرے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس جنگ کے دوران امریکا نے 38 دنوں میں 13 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، تاہم ہر ہدف پر متعدد بار حملوں کے باعث اصل میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ رہی۔

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق دو آزاد تحقیقی اداروں کا کہنا ہے کہ اس جنگ کی مجموعی لاگت 28 ارب سے 35 ارب ڈالر کے درمیان رہی ہے، جو روزانہ تقریباً ایک ارب ڈالر کے اخراجات کے برابر بنتی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اب تک اس جنگ کی مجموعی لاگت ظاہر نہیں کی، تاہم دفاعی حکام کے مطابق اس صورتِ حال نے امریکی فوجی وسائل پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں پہلی مرتبہ کئی دہائیوں بعد بیک وقت تین امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے سرگرم ہیں۔

ان بیڑوں میں یو ایس ایس ابراہم لنکن، یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش شامل ہیں، جن کے ساتھ مجموعی طور پر 200 سے زائد جنگی طیارے اور تقریباً 15 ہزار ملاح و میرینز تعینات ہیں۔ حکام کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دی جا رہی ہے۔

سینٹ کام کے مطابق یہ تینوں بحری بیڑے مختلف علاقوں میں آپریشنل سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جن میں سے ایک خلیجِ عرب اور دوسرا بحیرۂ ہند کے قریب تعینات ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں یہ غیر معمولی عسکری موجودگی ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکی دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جب کہ حالیہ جنگ بندی کے باوجود صورتِ حال مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی۔