Aaj TV News

BR100 5,026 Increased By ▲ 52 (1.05%)
BR30 24,773 Increased By ▲ 557 (2.3%)
KSE100 46,920 Increased By ▲ 204 (0.44%)
KSE30 18,658 Increased By ▲ 98 (0.53%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,218,749 2,928
DEATHS 27,072 68
Sindh 448,658 Cases
Punjab 419,423 Cases
Balochistan 32,707 Cases
Islamabad 103,720 Cases
KP 170,391 Cases

ماہرین نے ایک حسابی نظریہ پیش کیا ہے، جس کے مطابق جیون ساتھی کے انتخاب کی بہتر اور صحیح عمر 26 سال ہے۔

کاگنیٹیو سائنس دان ٹام گریفیتھ اور جرنلسٹ برائن کرسچن کا کہنا ہے کہ لوگ اپنے جیون ساتھی کے انتخاب میں زیادہ وقت لگا دیتے ہیں، تاہم 26 سال کی عمر میں شادی کرنی چاہئے کیونکہ یہ ہی ان کے لئے جیون ساتھی بننے کا بہترین وقت ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر کوئی شخص زندگی کا 37 فیصد راستہ طے کر لیتا ہے تو یہ اس کے لئے مناسب وقت ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ کر لے۔ کیونکہ اس عمر میں آپ کے پاس اتنا تجربہ آجاتا ہے کہ آُ صحیح فیصلہ کرسکیں اور اتنی دیر بھی نہیں ہوتی کہ آپ کو پچھتانا پڑے۔

اس کے علاوہ ٹام گریفیتھ اور برائن کرسچن نے اپنی تھیوری میں بتایا ہے کہ اگر کوئی شخص 18 سے 40 سال کی عمر کے درمیان اپنا جیون ساتھی ڈھونڈ رہا ہے تو پھر 26 سال کی عمر ان کے لئے مثالی ہے کیونکہ آپ 22 سال کی عمر میں 37 فیصد فاآصلہ طے کرچکے ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستانی معاشرے میں شادی کرتے ہوئے مرد اور عورت کے درمیان عمر کا فرق دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ رواج عام ہے کہ شادی کے لیے عورت کی عمر مرد سے چند سال کم ہی ہونی چاہیے اور اگر کوئی مرد اپنے سے کچھ سال بڑی عمر کی عورت سے شادی کر لے تو اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہی نہیں بلکہ اگر کوئی لڑکی کسی ادھیڑ عمر مرد سے شادی کر لے تو اسے بھی اکثر لوگ عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ہیں۔ ایسے جوڑوں پر طرح طرح کے جملے کسے جاتے ہیں اور کبھی ان کی پیٹھ پیچھے اور کبھی ان کے سامنے ہی ان کو برا بھلا کہہ کر تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔