Aaj TV News

BR100 4,858 Decreased By ▼ -103 (-2.07%)
BR30 23,865 Decreased By ▼ -558 (-2.28%)
KSE100 46,009 Decreased By ▼ -519 (-1.12%)
KSE30 18,179 Decreased By ▼ -243 (-1.32%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,230,238 2,333
DEATHS 27,374 47
Sindh 452,267 Cases
Punjab 424,701 Cases
Balochistan 32,796 Cases
Islamabad 104,472 Cases
KP 171,874 Cases

کسی نہ کسی وجہ سے مسلسل تنازعات کا شکار رہنے والے یوٹیوبر جوڑے شام ادریس اور ان کی اہلیہ فروگی پر اب مسلمانوں اور اسلام کو بدنام کرنے کا الزام عائد کردیا گیا ہے۔

یوٹیوبرز شام ادریس اور ان کی اہلیہ سحر عرف کوئین فروگی نے سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیو پوسٹ کیں جن میں انہوں نے کینیڈین کیفے چین ڈییمیٹرز پر نسل پرستی کا الزام لگایا۔ تاہم، ریسوٹورنٹ چین کا بیان سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شام ادریس اور ان کی اہلیہ پر "جھوٹا الزام" لگانے پر تنقید کی جارہی ہے۔

فیس بک کے مقبول گروپس میں سے ایک "سول سسٹرز پاکستان" کی بانی کنول احمد نے معاملے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ 'شام ادریس اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر حجاب سے متعلق امتیازی سلوک کیے جانے کا جھوٹ بولا اور کینیڈا میں مقیم مسلمانوں کے ساتھ غلط کیا'۔

کنول احمد کا کہنا تھا کہ 'ایسا کرنے سے اسلاموفوبیا سے متعلق اصل شکایات کو نقصان پہنچے گا'۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں کچھ لوگوں کے بیان بھی شیئر کیے کہ کورونا وائرس کی پابندیوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے شام ادریس اور ان کے ساتھ موجود افراد کو وہاں بیٹھنے نہیں دیا گیا۔

کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ شام ادریس صرف یکطرفہ بات بتارہے ہیں۔

تنقید کے بعد شام ادریس نے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ثبوت موجود ہیں، جس پر سوشل میڈیا صارفین نے ان سے ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کردیا۔

انسٹاگرام پر جاری ویڈیو میں معاملے کی مبینہ یکطرفہ تفصیلات بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں زندگی کے بدترین تجربے کا سامنا ہوا، نسل پرستانہ سرورز نے ہمیں بتایا کہ وہ ہمارے جیسے لوگوں کو خدمات فراہم نہیں کریں گے'۔

کوئین فروگی نے اپنی پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ 'مجھے بہت دکھ پہنچا ہے، ڈیمیٹرز اوکول نے ہمارا آرڈر نہیں لیا اور ہمیں بتایا کہ مسلمان ہونے اور حجاب لینے کی وجہ سے ہمارا وہ آرڈر نہیں لیں گے'۔

ساتھ ہی انہوں نے اپنے مداحوں سے درخواست کی کہ وہ گوگل میپس پر جاکر ڈیمیٹرز کو ریویو میں ون اسٹار دیں اور #BanIslamophobia کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کریں۔

فروگی نے مزید لکھا کہ 'ہمیں کہا گیا کہ اگر ہم ریسٹورنٹ سے نہیں گئے تو وہ پولیس کو بلائیں گے، ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ ہم مسلمان ہیں اور وہ ہمارا آرڈر نہیں لینا چاہتے تھے۔

کینیڈین کیفے نے بھی سوشل میڈیا پر مذکورہ واقعے سے متعلق ایک وضاحتی بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ 'ہمارا خیال ہے ریسٹورنٹ میں کورونا وائرس پابندیوں کی وجہ سے سیٹنگ ارینجمنٹ پر ہمارے عملے اور مہمانوں کے درمیان غلط فہمی ہوئی اور صورتحال بگڑنے پر مہمانوں کو وہاں سے جانے کے لیے کہا گیا تھا'۔