Aaj TV News

BR100 4,607 Decreased By ▼ -61 (-1.3%)
BR30 20,274 Decreased By ▼ -618 (-2.96%)
KSE100 44,629 Decreased By ▼ -192 (-0.43%)
KSE30 17,456 Decreased By ▼ -66 (-0.38%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,265,047 663
DEATHS 28,280 11
Sindh 465,819 Cases
Punjab 437,974 Cases
Balochistan 33,128 Cases
Islamabad 106,469 Cases
KP 176,886 Cases

معروف ریسرچر اور مصنفہ زویا رحمان کا کہنا ہے کہ 'بغیر سوچے سمجھے شادی شدہ خواتین کا مذاق اڑانا فیمنزم نہیں ہے۔ شادی پر تنقید کریں مگر اس تنقید کی آڑ میں خواتین سے متعلق بدگمانی نہ پھیلائیں۔'

سنہ 2018 میں پاکستان کی پہلی "عورت مارچ" منعقد ہونے کے بعد سے عورتوں کے حقوق پر بحث نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔

مارچ میں شامل خواتین نے حقوق نسواں کی آڑ میں بہت بے باک جملوں کا استعمال کیا لیکن کسی نے اس جانب توجہ نہیں دی کہ وہ مطالبہ کیا کررہی ہیں۔

عورت کو اس بات کی آزادی ہونا کہ وہ اپنی مرضی سے جیون ساتھی کا انتخاب کرے، تعلیم حاصل کرے، شادی کرے یا نہ کرے، ملازمت کرے یا نہ کرے قانونی اور شرعی طور پر بالکل جائز ہے۔

اب تحفظِ حقوق نسواں کی چھتری تلے عورتوں کے حقوق کی علمبردار خواتین کچھ اس قسم کی باتیں کرنے لگی ہیں جن سے دوسری خواتین کو تکلیف پہنچ رہی ہے۔

زویا رحمان نے یہی بات اپنی ٹویٹ میں کہی ہے کہ 'اگر آپ شادی نہیں کرنا چاہتیں تو نہ کریں لیکن جو خواتین اپنی شادی شدہ زندگی ہنسی خوشی گزار رہی ہیں ان کا مذاق بنانا کہاں کا فیمنزم ہے؟ یہ تو فیمنزم کی نفی ہے۔'

'وہ خواتین جو شادی نہیں کرنا چاہتیں یا جنہیں اپنی پسند کا شخص نہیں ملا اور وہ خواتین جو طلاق یافتہ یا بیوہ ہیں، یہ ان کا اپنا انتخاب ہے کہ وہ کیسی زندگی بسر کرنا چاہتی ہیں لیکن اُن کی جانب سے شادی شدہ لڑکیاں جو کہ اپنے شوہر کے ساتھ اچھی زندگی بسر کر رہی ہیں کا تمسخر اڑانا نہایت لغو بات ہے۔'