Aaj TV News

BR100 4,599 Increased By ▲ 13 (0.29%)
BR30 17,334 Decreased By ▼ -78 (-0.45%)
KSE100 44,888 Decreased By ▼ -36 (-0.08%)
KSE30 17,696 Decreased By ▼ -30 (-0.17%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,386,348 5,196
DEATHS 29,137 15
Sindh 531,008 Cases
Punjab 467,698 Cases
Balochistan 34,032 Cases
Islamabad 120,813 Cases
KP 186,537 Cases

اسلام آباد:سانحہ آرمی پبلک اسکول ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کے طلب کرنے پر وزیراعظم عمران خان عدالت میں پیش ہوگئے۔

وزیراعظم عمران خان سپریم کورٹ کے حکم پر عدالت میں پیش ہوگئے، اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید اور دیگر وزرا ءاور اہم حکام بھی موجود تھے جبکہ وزیراعظم کا قافلہ ججز گیٹ سےسپریم کورٹ میں داخل ہوا ،سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو فوری طلب کیا تھا۔

اس سے قبل چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے3 رکنی بینچ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول ازخود نوٹس کی سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل سے مخاطب ہوتےہوئے پوچھا کہ کیا وزیراعظم نے عدالتی حکم پڑھا ہے؟ ۔

اٹارنی جنرل نے بتایاکہ وزیراعظم کوعدالتی حکم نہیں بھیجا تھا، وزیراعظم کو عدالتی حکم سےابھی آگاہ کروں گا۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ اٹارنی جنرل صاحب یہ سنجیدگی کا عالم ہے؟ وزیراعظم کوبلائیں ان سے خود بات کریں گے ، ایسے نہیں چلے گا ۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کیا سابق آرمی چیف اور دیگرذمہ داران کیخلاف مقدمہ درج ہوا؟۔ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایاکہ سابق آرمی چیف اورڈی جی آئی ایس آئی کیخلاف انکوائری رپورٹ میں کوئی فائنڈنگ نہیں ۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ دعوی بھی ہے کہ ہم دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسی ہیں ،اربوں روپے خرچ ہوتےہیں ،انٹیلی جنس پراتنا خرچ ہورہا ہے لیکن نتائج صفرہیں،ملک میں اتنا بڑا انٹیلی جنس سسٹم ہے اپنے لوگوں کے تحفظ کی بات آئےتوانٹیلی جنس کہاں چلی جاتی ہے؟۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ بچوں کواسکولوں میں مرنےکیلئے نہیں چھوڑسکتے،چوکیداراورسپاہیوں کیخلاف کارروائی کردی گئی،اصل میں توکارروائی اوپرسےشروع ہونی چاہیئے تھی،اوپروالے تنخواہیں اورمراعات لے کرچلتے بنے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اداروں کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ قبائلی علاقوں میں آپریشن کا رد عمل آئے گا، سب سے نازک اور آسان ہدف اسکول کے بچے تھے،یہ ممکن نہیں کہ دہشتگردوں کواندرسےسپورٹ نہ ملی ہو۔

دوران سماعت سپریم کورٹ میں کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا بھی تذکرہ ہوا ۔

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ اطلاعات ہیں کہ ریاست کسی گروہ سےمذاکرات کررہی ہے ،کیا اصل ملزمان تک پہنچنا اورپکڑنا ریاست کا کام نہیں؟۔