Aaj TV News

BR100 4,623 Increased By ▲ 6 (0.12%)
BR30 17,917 Increased By ▲ 191 (1.08%)
KSE100 45,078 Decreased By ▼ -5 (-0.01%)
KSE30 17,793 Decreased By ▼ -35 (-0.2%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,410,033 7,963
DEATHS 29,219 27
Sindh 538,196 Cases
Punjab 474,208 Cases
Balochistan 34,277 Cases
Islamabad 125,203 Cases
KP 190,578 Cases

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے تھرکول منصوبہ کرپشن کیس تحقیقات کیلئےقومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوادیا جبکہ عدالت نے چیئرمین نیب کو آڈیٹرجنرل رپورٹ کا جائزہ لے کر ابتدائی رپورٹ 3ماہ میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے تھرکول منصوبہ کرپشن کیس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے تھرکول منصوبہ کرپشن کیس تحقیقات کیلئے نیب کو بھجوا دیا گیا۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ چیئرمین نیب آڈیٹرجنرل رپورٹ کاجائزہ لےکرابتدائی رپورٹ 3ماہ میں پیش کریں، نیب سرکاری فنڈز کی خردبرد میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کرے، تھرکےلوگ بنیادی سہولیات اورپینے کے پانی کوترس رہے ہیں، ٹھٹھہ، منوڑا اورسجاول کے حالات بھی اچھے نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سمیت کسی سرکاری عہدیدارکومعاملے میں دلچسپی نہیں، سارا پیسہ ایک اکاونٹ سےدوسرے میں چلا گیااسی لیے دلچسپی نہیں، آڈیٹرجنرل رپورٹ پرسندھ حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ چئیرمین نیب کو بجھوا دیتے ہیں، چیئرمین نیب رپورٹ کودیکھیں کہ کیا کرپشن اوراختیارات کے ناجائز استعمال کا کیس بنتا ہے؟۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کے فنڈ کا استعمال شفاف اندازمیں نہیں ہوا، نہ آراوپلانٹ ضرورت کےمطابق قائم ہوئےناہی پینےکاصاف پانی دستیاب ہے، واٹرفلٹریشن پلانٹ کیلئےسولرپاورجنریشن پلانٹ بھی قائم نہ ہوسکے۔

عدالت نے مزیدکہا کہ موبائل ایمرجنسی ہیلتھ یونٹ کی سہولت بھی فراہم نہیں کی گئی، اسپیشل ترقیاتی پیکج کے فنڈ کا بھی غلط استعمال ہوا، سندھ حکومت نے آڈیٹرجنرل کی رپورٹ پرکوئی ایکشن نہیں لیا، بظاہر ترقیاتی اور فلاحی فنڈز میں خوردبرد اور بے ضابطگیاں ہوئیں،سندھ حکومت کواس سارے معاملے کی کوئی پرواہ نہیں، بظاہرترقیاتی فلاحی منصوبے فعال نہیں ہوئے۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 3ماہ کیلئے ملتوی کر دی۔