Aaj TV News

BR100 4,623 Increased By ▲ 6 (0.12%)
BR30 17,917 Increased By ▲ 191 (1.08%)
KSE100 45,078 Decreased By ▼ -5 (-0.01%)
KSE30 17,793 Decreased By ▼ -35 (-0.2%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,410,033 7,963
DEATHS 29,219 27
Sindh 538,196 Cases
Punjab 474,208 Cases
Balochistan 34,277 Cases
Islamabad 125,203 Cases
KP 190,578 Cases

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین بھرتی نظرثانی درخواست پرسماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ کیا آرڈیننس ختم ہونے پر بھرتی ہونے والے ملازمین رہ سکتے ہیں؟

آرڈیننس تو جمہوری طریقہ کارہی نہیں ہے پھر تو ہر حکومت آرڈیننس لائے بھرتیاں کرے،ایسے تو سارے کام آرڈیننسزسے ہی چلتے رہیں گے۔

جسٹس عمرعطا ءبندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5رکنی لارجر بینچ نے سرکاری ملازمین بھرتی نظرثانی درخواست پرسماعت کی۔

سوئی سدرن گیس کے وکیل حامد خان نے دلائل میں مؤقف اپنایا کہ 1122ملازمین 1996میں بھرتی ہوئے، 1997 اور1999میں نوکری سے برطرف کیا، فیڈرل سروس ٹربیونل نے پھر بحال کیا، بلوچستان ہائیکورٹ نے سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا، جبکہ سندھ ہائیکورٹ نے ملازمین کو آپشن دیا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ عدالت نے بحالی کو دیکھنا ہے، آرڈیننس،ایکٹ اور ہائیکورٹ تینوں کے الگ الگ مضمرات ہوں گے ۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ایکٹ صرف خاص گروپ کو ریلیف دینے کیلئے کیوں بنایا گیا ؟ قانون سازوں کے ذہن تونہیں پڑھ سکتے، لیکن پیش کی گئی دستاویزات بھی خاموش ہیں۔

رضا ربانی نے دلائل میں مؤقف اپنایا کہ ایکٹ کا کوئی بھی سیکشن بنیادی حقوق یا آئین کخلااف نہیں۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ کتنے ملازمین حکومت اداروں اور کتنے خود مختار داروں سے ہیں،کس ادارے نے ملازمین کی تقرری کیلئے کیا طریقہ کار اپنایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی فیصلوں کے باوجود کیا ملازمین کو یوں بحال کیا جا سکتا تھا، پہلے حکومت نے مخالفت کی اوراب حمایت کی کیا وجہ ہے۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 13 دسمبرتک ملتوی کردی۔