Aaj.tv Logo

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نئے سال کی خوشی میں فائر ورکس شو روکنے کی درخواست مسترد کردی، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ نئے سال کی خوشی میں فائر ورکس شو ساری دنیا میں ہوتا ہے، صرف یہاں نہیں ہورہا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شہری کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کے آج رات 12 بجے کیلئے این ا وسی واپس لینے کی درخواست پر سماعت کی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس میں کہا نئے سال کی خوشی میں فائر ورکس شو ساری دنیا میں ہوتا ہے، صرف یہاں نہیں ہورہا، عوام کو انجوائے کرنے دیں، یہ تو ابھی سعودی عرب میں بھی ہوا ہے۔

وکیل نے عدالت سے کہا کہ ڈپٹی کمشنر نے 31 دسمبر رات کیلئے این او سی جاری کیا، جی ٹی روڈ بھی ساتھ ہے لہذا اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔

درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ شہر کے بڑے شاپنگ مال پر 30 منٹ تک فائر ورکس شو کیا جاتا ہے ،بڑی تعداد میں لوگ آ جاتے ہیں جس وجہ سے ٹریفک کے مسائل ہوتے ہیں اور نوجوان ون ویلنگ اور طرح طرح کی حرکتیں شروع کر دیتے ہیں۔

بعدازاں عدالت نے فائر ورک روکنے کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی۔

شہری نے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے آج رات 12بجے کیلئےجاری این او سی واپس لینے کی استدعا کی تھی۔