Aaj.tv Logo

راولپنڈی کی عدالت نے اسلام آباد کی رہائشی 26 سالہ خاتون پر واٹس ایپ کے ذریعے گستاخانہ پیغامات پھیلانے کا الزام ثابت ہونے پر موت کی سزا سنادی ۔

راولپنڈی کی سائبر کرائم کورٹ کے جاری کردہ تفصیلی فیصلے کے مطابق خاتون نے شکایت کنندہ کو اس کے واٹس ایپ نمبر پر ایک "توہین آمیز پیغام" بھیجا تھا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران تفصیلی فیصلے کے مطابق خاتون نے عدالت کو بتایا کہ پب جی گروپ میں شامل ہونے کے بعد اس نے شکایت کنندہ سے رابطہ کیا اور اسے دوستی کی پیشکش کی "کیونکہ ہم پاکستانی تھے" لیکن اس نے انکار کردیا۔

فیصلے کے مطابق خاتون نے عدالت کو بتایا کہ پب جی گروپ کے دیگر ارکان شکایت کنندہ کا مذاق اڑاتے تھے۔ خاتون کا کہنا تھا کہ اسے یقین ہے کہ شکایت کنندہ نے جان بوجھ کر اسے مذہبی بحث میں گھسیٹا تاکہ وہ [شواہد] جمع کر سکے اور "بدلہ" لے سکے۔