دیگر ممالک کی طرح ایران کو بھی بیلسٹک میزائل رکھنے کا حق حاصل ہے: وزیراعظم

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ ہفتے تہران کا دورہ کریں گے۔
اپ ڈیٹ 23 جون 2026 11:49pm

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام مذاکرات کا حصہ نہیں تھا اور نہ ہی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں اس حوالے سے کوئی شق شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب دیگر ممالک اپنے دفاع کے لیے بیلسٹک میزائل رکھ سکتے ہیں تو ایران کو بھی یہ حق حاصل ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد میں ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے پاک ایران تعلقات، خطے کی صورتِ حال پر تفصیلی گفتگو کی۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب کا آغاز فارسی کے ایک شعر سے کیا اور کہا کہ حقیقی دوست کی پہچان مشکل اور آزمائش کے وقت ہوتی ہے۔ انہوں نے ایرانی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی خوشی ہماری خوشی اور آپ کا غم ہمارا غم ہے، انھوں نے یقین دلایا کہ پاکستان ایک بھائی کی حیثیت سے ایران کو کبھی مایوس نہیں کرے گا۔

اس موقع پر ایرانی صحافی کے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں بیلسٹک میزائل پروگرام زیر بحث نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں بھی اس معاملے کا کوئی ذکر موجود نہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور اس کے تحت شروع ہونے والے تکنیکی مذاکرات خطے میں امن کے قیام کی جانب اہم سنگ میل ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب دوسرے ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ایران اپنے دفاع کے لیے یہ صلاحیت کیوں نہیں رکھ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ بعض عناصر خطے میں امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، تاہم امن کے حامی ممالک اور عوام ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے آہنی دیوار کی طرح متحد کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ملاقات انتہائی خوش گوار اور نتیجہ خیز ماحول میں ہوئی، جس میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم کے مطابق یہ ملاقات رسمی سفارت کاری کے بجائے ایک خاندانی نشست کا منظر پیش کر رہی تھی۔

وزیراعظم نے حالیہ جنگ کے دوران ایرانی جانی نقصانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی صدر اور عوام سے تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں، خصوصاً بچوں کی ہلاکت پر پاکستان کو گہرا دکھ ہے۔ انہوں نے ایران کی قیادت اور عوام کی ثابت قدمی کو بھی سراہا۔

شہباز شریف نے خطے میں جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنازع مزید پھیل کر پورے خطے اور دنیا کو متاثر کر سکتا تھا، تاہم سفارتی کوششوں نے امن کی نئی امید پیدا کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران نے ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور حالیہ پیش رفت نے دونوں ممالک کے درمیان بھائی چارے اور شراکت داری کے رشتے کو مزید مضبوط کیا ہے۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے والے تکنیکی مذاکرات خطے میں امن، استحکام اور خوش حالی کے نئے دور کا آغاز ثابت ہوں گے۔

وزیراعظم نے امن معاہدے کی حمایت پر قطر کے امیر شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

اس موقع پر وزیراعظم نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ ہفتے تہران کا دورہ کریں گے، جہاں ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ ایرانی عوام تک پاکستان کی یک جہتی کا پیغام بھی پہنچائیں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف کے خطاب کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے گفتگو کا آغاز علامہ اقبال کے اشعار سے کیا اور کہا کہ پاکستان اور ایران محض ہمسایہ ممالک نہیں بل کہ دو برادر اور دوست قومیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ مستقبل اور مشترکہ مفادات کے حامل ہیں اور ان کے تعلقات ہمیشہ باہمی احترام، خیرسگالی اور اعتماد کی بنیاد پر استوار رہے ہیں۔

صدر پزشکیان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں پاکستان نے ایران کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو قبول کرنا دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط اعتماد اور قریبی تعلقات کا مظہر ہے۔

ایرانی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے امن عمل میں معاونت پر قطر، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور دیگر دوست ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران ان تمام ممالک کی کوششوں کا قدر دان ہے۔

مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام مفاہمتی یادداشت کا حصہ تھا اور نہ ہی مستقبل میں اسے کسی مذاکراتی عمل کا حصہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی ملک کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا کیونکہ قومی دفاع اور سلامتی سے متعلق معاملات ایرانی عوام اور ریاست کا بنیادی حق ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ اگر ایران کے پاس اپنے دفاع کے لیے میزائل نہ ہوتے تو اسرائیل اور امریکا ایران کے ساتھ بھی وہی سلوک کرتے جو غزہ کے ساتھ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں نہ بچوں پر رحم کیا جاتا اور نہ بزرگوں پر، ایران کی دفاعی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی کوشش کی جاتی۔

انہوں نے انسانی حقوق کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑا جھوٹ ہے اور اگر ایران اپنے دفاع کی صلاحیت نہ رکھتا تو دشمن عناصر ملک کی طاقت کو ختم کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔

صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام صرف دیانت دارانہ مذاکرات، باہمی احترام اور علاقائی تعاون کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے مسائل کا حل بیرونی دباؤ میں نہیں بل کہ علاقائی ممالک کے درمیان براہ راست بات چیت، تعاون اور اعتماد کے فروغ میں مضمر ہے۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے تعمیری مذاکرات کا حامی ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات منفرد نوعیت کے ہیں اور دونوں ممالک مشترکہ مستقبل اور منزل کے شراکت دار ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور ایران کو ’یک جان دو قالب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت اور عوام، پاکستان کی حکومت اور عوام کی حمایت اور یک جہتی پر شکر گزار ہیں۔