Aaj News

رکن پارلیمان کا ووٹ انفرادی حق ہے کسی سیاسی جماعت کا نہیں، سپریم کورٹ بار

سپریم کورٹ بار، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) نے صدارتی ریفرنس پراپنے اپنے تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیئے۔
اپ ڈیٹ 24 مارچ 2022 01:34pm

رپورٹ: احمد عدیل سرفراز

اسلام آباد: سپریم کورٹ بار اور جے یو آئی (ف)نے صدارتی ریفرنس پراپنے اپنے تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیئے، سپریم کورٹ بار نے جواب میں کہا کہ رکن پارلیمان کا ووٹ انفرادی حق ہے کسی سیاسی جماعت کا نہیں۔

سپریم کورٹ بارنے عدم اعتماد کی تحریک میں رکن پارلیمان کے ووٹ کے حق کوانفرادی قراردیتےہوئے کہا کہ آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ ڈالنا رکن قومی اسمبلی کا انفرادی حق ہے، آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ کسی سیاسی جماعت کا حق نہیں۔

سپریم کورٹ بار نے جواب میں کہا کہ آرٹیکل 95 کے تحت ڈالا گیا ہرووٹ گنتی میں شمارہوتا ہے، ہررکن قومی اسمبلی اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنےمیں خودمختارہے۔

جواب میں مزید کہا گیا کہ کسی رکن قومی اسمبلی کوووٹ ڈالنےسے روکا نہیں جاسکتا، عوام اپنے منتحب نمائندوں کےذریعے نظام حکومت چلاتےہیں،آرٹیکل63 کے تحت کسی رکن کوووٹ ڈالنےسےنہیں روکاجاسکتا،آرٹیکل 63 اے میں پارٹی ڈائریکشن کیخلاف ووٹ ڈالنےپرکوئی نااہلی نہیں۔

صدارتی ریفرنس کا معاملہ: جے یو آئی نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا

دوسری جانب جے یو آئی نے صدارتی ریفرنس کے معاملے پر سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا ۔

جے یو آئی نے جواب میں کہا کہ پی ٹی آئی میں پارٹی الیکشن نہیں ہوئے، جماعت سلیکٹڈ عہدیدارچلارہے، یہ آرٹیکل 63اے کے تحت ووٹ سےمتعلق ہدایت نہیں کرسکتے، اسپیکر کو اراکین کے ووٹ مسترد کرنے کا اختیار نہیں دیا جاسکتا اور آرٹیکل 63 اے پہلےہی غیرجمہوری ہے، آزاد جیت کرپارٹی میں شامل ہونے والوں کی نشست پارٹی کی پابند ہوتی ہے۔

جواب میں کہا گیا کہ ریفرنس سے لگتا ہے صدر ، وزیراعظم اور اسپیکر ہمیشہ صادق اور امین ہیں اور رہیں گے، پارٹی کیخلاف ووٹ پر تاحیات نااہلی کمزور جمہوریت کو مزید کم تر کرے گی۔

جے یو آئی نے جواب میں مزید کہا کہ لازمی نہیں عدم اعتماد سے پہلےریفرنس پر رائے دی جائے، کسی رکن کیخلاف نااہلی کا کیس بنا تو عدالت تک معاملہ آناہے، سپریم کورٹ نے رائے دی تو الیکشن کمیشن کا فورم غیرمؤثر ہوگا، عدالت پارلیمنٹ کی بالادستی ختم کرنے سے اجتناب کرے۔

صدارتی ریفرنس : مسلم لیگ (ن) کا سپریم کورٹ میں جواب جمع

ادھر مسلم لیگ (ن)نے صدارتی ریفرنس پرسپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا ۔

(ن)لیگ نےآرٹیکل 63اے کی تشریح کیلئے دائر صدارتی ریفرنس کوعدالت کےقیمتی وقت کاضیاع قراردے دیا۔

جواب میں کہا گیا کہ آئین کاآرٹیکل 63 اے اور95واضح ہیں،ہررکن کوووٹ ڈالنے کا حق ہے،جو گنتی میں بھی شمار ہوتا ہے،سپریم کورٹ کےپاس صرف آئین کی تشریح کااختیارہے، آئینی ترمیم کانہیں۔

صدارتی ریفرنس :پیپلزپارٹی نے بھی جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا

صدارتی ریفرنس کے معاملے پر پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا۔

پیپلز پارٹی نے جواب میں کہا کہ صدارتی ریفرنس آرٹیکل 186 کے دائرہ اختیارمیں نہیں آتا، صدارتی ریفرنس پر رائے دینے سے اپیل کا حق متاثر ہوگی، رکن اسمبلی کے ووٹ کاسٹ کرنے سے پہلے 63اے کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔

Supreme Court

اسلام آباد

JUI

Presidential Ordinance

Supreme Court Bar

Comments are closed on this story.