Aaj.tv Logo

اسلام آباد: حکومت نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح گوگی کو دبئی سے پاکستان واپس لا نے کا فیصلہ کرلیا۔

ذرائع کے مطابق فرح گوگی کو دوبئی سے واپس لانے کی قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا، فرح گوگی کی تفتیش کیلئے موجودگی ضروری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فرح گوگی نے عمران نیازی کی فرنٹ مین کا کردار ادا کیا ، ان سے حقائق معلوم کرنے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی سینٹرل سیکریٹریٹ کے 4ملازمین کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ان ملازمین میں طاہر اقبال، محمد نعمان افضل، محمد ارشد اور محمد رفیق شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 2008 سے لے کر 2022 تک ان ملازمین کے نجی اکاؤنٹس میں جتنی رقوم آئی ہیں ،ان کا ریکارڈ حاصل کیا جارہا ہے، پی ٹی آئی کے 4ملازمین کے نجی اکاؤنٹس میں آنے والی بھاری رقوم کا ریکارڈ سٹیٹ بینک سے منگوا رہے ہیں ، شواہد کی روشنی میں گرفتار یاں بھی عمل میں آئیں گی۔

ذرائع کے مطابق عمران نیازی کی فارن فنڈنگ کے 2013 سے 2022 کے 9 سال کا ریکارڈ بھی منگوا رہے ہیں، پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں صرف 5سال تک کے عرصے کا ریکارڈ ہے، مالی سال 2008-09 سے 2012-13 تک کی مدت کا ریکارڈ اسٹیٹ بینک الیکشن کمیشن کو فراہم کرچکا ہے، اس مدت کے بعد پی ٹی آئی کو اور بھی زیادہ بڑی مقدار میں غیرقانونی رقوم فراہم ہوئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ریکارڈ سے پتہ چلے گا کہ عمران خان نے دھرنے کے دوران کس کس سے کتنے پیسے لئے، انڈیپنڈنٹ آڈیٹرز کے ذریعے ریکارڈ کی فورنزیک جانچ پڑتال ہو گی، ایف آئی اے اور ایف بی آر اپنی اپنی سطح ریکارڈحاصل کرکے کارروائی کریں گے ۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پی ٹی آئی اور عمران نیازی کے خفیہ انٹرنیشنل بینک اکاؤنٹس کے ریکارڈکیلئےعالمی بینکس کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے دور میں ڈیٹا ایکسچینج ایگریمنٹ ہوا تھا،اس معاہدے کے تحت کارروائی عمل میں آئے گی، اس معاہدے کے تحت ایف بی آر کو قانونی اختیار حاصل ہے کہ وہ عالمی بینکس سے ریکارڈ حاصل کرسکتا ہے، امریکا، برطانیہ، کینیڈا، ناروے، فن لینڈ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سمیت دیگر غیرملکی بینک اکاؤنٹس کا ریکارڈ حاصل کیاجائے گا ۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ عمران نیازی کے گوشواروں اور آمدن کی جانچ پڑتال کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ،گوشواروں اور سامنے آنے والے ریکارڈ کا تقابلی جائزہ لے کر قانونی کارروائی کی جائے گی۔