Aaj.tv Logo

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سعودی عرب واقعہ سے متعلق تحریک انصاف کے رہنماوں کے خلاف وفاقی دارالحکومت میں مقدمات درج کرنے سے روک دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بادی النظرمیں لگتا ہے کہ یہ مقدمات بنتے ہی نہیں ،عدالت کو مطمئن کریں یہ مقدمات کیسے بنتے ہیں، ریاست کا کام ہے کہ وہ مذہبی منافرت نہ ہونے کو یقینی بنائے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سعودی عرب واقعہ پردرج مقدمات کیخلاف فواد چوہدری،شہبازگل اورقاسم سوری کی درخواست پر سماعت کی۔

فواد چوہدری نے موقف اپنایا کہ ماضی میں بھی بہت غلطیاں ہوئیں، مگرایسا کبھی نہیں ہوا ، وزیرداخلہ نے معاشرے کو تقسیم کردیا۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ کے کیس سننے سے متعلق سوال پر فوادچوہدری نے کہا کہ عدالت پراعتماد نہیں ہوگا توکس پراعتماد ہوگا، چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے معاشرے میں استحکام صرف سیاسی لوگ ہی لاسکتے ہیں، مذہبی الزامات لگانا بہت بڑی بدقسمتی ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے اسلام آباد پولیس کی رپورٹ جمع کرائی، وکیل فیصل چوہدری بولے کہ اس وقت پنجاب میں کوئی حکومت نہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے آئین پاکستان کی بہت بے توقیری ہوچکی ہے، آئین کو سپریم نہیں سمجھتے ورنہ آج ملک میں یہ حالات نہ ہوتے، ادارے بھی آئین کے تابع ہیں، جس کے تحت ادارہ جوابدہ بھی ہیں، سب کو آئین کی پاسداری کرنی چاہئے۔

عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالتی معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کردی۔