Aaj News

سابق بھارتی کرکٹر سدھو کو ایک سال قید کی سزا

ہندوستان کی سپریم کورٹ نے اپنا تازہ ترین فیصلہ متاثرہ کے خاندان کی جانب سے 2018 کے فیصلے کی اپیل کے بعد فیصلہ سنایا،
شائع 20 مئ 2022 09:12am
<p>عدالت نے ابتدائی طور پر اس واقعے پر سدھو کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔ فائل فوٹو</p>

عدالت نے ابتدائی طور پر اس واقعے پر سدھو کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔ فائل فوٹو

نئی دہلی: بھارتی کرکٹر سے سیاست دان بننے والے نوجوت سنگھ سدھو کو ایک سال قید کی سزا تقریباً 34 سال قبل غصے میں ایک شخص کو قتل کرنے کے الزام میں سنائی گئی۔

ہندوستان کی سپریم کورٹ نے اپنا تازہ ترین فیصلہ متاثرہ کے خاندان کی جانب سے 2018 کے فیصلے کی اپیل کے بعد فیصلہ سنایا، جس میں 58 سالہ سابق ٹیسٹ اوپنر کو بھارتی 1,000 روپے (13 ڈالر) جرمانہ عائد کیا۔

عدالت نے ابتدائی طور پر سدھو کو 1988 کے اس واقعے پر 3 سال قید کی سزا سنائی، جس میں بلے باز، اس وقت بھارتی ٹیم کا باقاعدہ حصہ تھے جبکہ کے ایک دوست نے پارکنگ میں ایک شخص کو مارا پیٹا تھا۔

اس کے بعد متاثرہ شخص کی بعد میں اسپتال میں موت ہوگئی لیکن نوجوت سدھو کو صرف 1999 میں حملہ کے لیے سزا سنائی گئی۔

ہندوستان کی سپریم کورٹ نے 2018 میں اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ 30 سال سے زیادہ پرانا ہے جبکہ نوجوت سدھو نے کوئی ہتھیار استعمال نہیں کیا تھا جس پر ایک چھوٹا سا جرمانہ عائد کرنے کا انتخاب کیا تھا۔

تاہم فیصلے کے بعد متاثرہ کے اہل خانہ نے سخت سزا کی درخواست کے ساتھ سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

بھارتی اوپنرنوجوت سدھو نے 51 ٹیسٹ میچوں میں 3,202 رنز بنائے اور 136 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 4,413 رنز بنائے۔

واضح رہے کہ انہوں نے اپوزیشن کانگریس میں جانے سے پہلے ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اپنا سیاسی آغاز کیا تھا۔

Congress

BJP

Comments are closed on this story.