Aaj.tv Logo

اسلام آباد: حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال حسین ملک نے 25 مئی کو بھارتی حکام کی جانب سے (یاسین ملک) کو من گھڑت کیس میں سزا سنانے کے بعد اقوام متحدہ سے مداخلت اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشال ملک نے کہا کہ وہ ایک ماں اور بیٹی کی حیثیت سے بات کر رہی تھیں جب بھارتی حکام نے ان کے شوہر کو تہاڑ جیل منتقل کیا، جہاں مسلسل قید کی وجہ سے انہیں برین ہیمرج ہوا۔

انہوں نے کہا کہ یاسین ملک کو بین الاقوامی بنیادی حقوق کی ضمانت بھی نہیں دی گئی، اور اس تہاڑ جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جہاں اس کے سر میں چوٹ آئی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ یاسین ملک کو جیل کے اندر کوئی سہولت نہیں دی گئی اور عدالت کے باہر قاتل ملک سے متعلق فیصلوں پر بھارتی عدلیہ کو ہدایت دے رہے ہیں۔

مشعال حسین ملک نے پاکستانی حکومت سے کشمیری آزادی پسند کو شعور کا قیدی قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا اور یاسین ملک کی بھارتی عدالتوں سے من گھڑت مقدمات میں سزا کے خلاف عالمی مہم کی قیادت کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے جائز حقوق سے محروم ہیں اور میری بیٹی نے گزشتہ آٹھ سالوں میں اپنے والد کو نہیں دیکھا۔

وفاقى وزير اطلاعات مريم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ياسين ملک کو جعلى مقدمات میں گرفتارکر کے فورى سزا سنانا انسانى حقوق کى خلاف ورزى ہے، بھارت اپنى رياستى طاقت استعمال کررہا ہے، بين الاقوامی اداروں کو جواب دينا ہوگا۔

اسلام آباد میں حریت رہنماء یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ بھارت ریاستی طاقت استعمال کرکے مقبوضہ کشمیر پرقبضہ جمائے ہوئے ہے ، عالمی ادارے سزاوں ، زیادتیوں ، تشدد اور دیگر غیرقانونی اقدمات کا نوٹس لیں۔

وفاقى وزير نے کہا کہ بھارت میں کئی سالوں سے لاپتہ 65 کشمیروں کا تاحال کچھ معلوم نہیں۔

یاد رہے کہ فروری 2019 کو بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ کشمیر میں ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا، اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو گرفتار کر لیا۔

بھارتی فوجیوں نے سرینگر میں ملک کی مائسمہ کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور انہیں کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن میں بند کردیا۔