Aaj.tv Logo

بلوچستان میں سالانہ تقریباً تین ارب روپے کی کمائی کا ذریعے بننے والے درختوں کے جنگلات میں لگنی والی آگ سے اب تک 10 ہزار 700 ایکڑ زمین تباہ ہوچکی ہے۔

جنگلاے کی حفاظت کرنے والے ایک افسر، نیاز کاکڑ کا کہنا تھا کہ ‘مئی 14 سے آگ کے شعلوں نے شدت پکڑ لی ہے اور مزید خطرناک ہوگئے ہیں۔’

انہوں نے آگ بجھانے کے لیے مناسب مشینری نہ ہونے، تعاون میں کمی اور ایران سے چلنے والی ہوائیں کو آگ کی بڑھتی شدت کی وجوہات میں سے کچھ قرار دیا۔

واضح رہے کہ یہ آگ 10 مئی کو خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرا اسماعیل خان میں لگنا شروع ہوئی تھی۔ یہ ضلع بلوچستان کی سرحد کے ساتھ ہے۔

ضلع میں لگنے والی آگ بلوچستان کے ضلع شیرانی کی طرف 13 مئی کو بڑھنا شروع ہوئی تھی۔

جنگلات کے قریب رہنے والے افراد نے آگ بجھانے کی کوشش کی تھی، تاہم “غلط اندازوں” کی وجہ سے دو افراد ہلاک ہوگئے اور کم از کم 10 زخمی ہوئے۔

نیاز کاکڑ کا کہنا تھا کہ پاک فوج کا ہیلی کاپٹر آگ بجھانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا تاہم اس میں تقریباً پانچ ہزار لیٹر پانی رکھنے کی گنجائش ہے، جبکہ صوبائی محکمہ جنگلات نے ایران سے جو ہیلی کاپٹر منگوایا ہے اس میں 50 ہزار لیٹر پانی کی جگہ ہے۔

آج نیوز نے مطابق ایران سے منگوایا جانے والا ہیلی کاپٹر کوئٹہ کے ایئرپورٹ پر لینڈ کر چکا ہے۔

نیاز کاکڑ کا کہنا تھا کہ “مقامی افراد اور افسران سمیت ٹیمیں (جنگلات میں) تختِ سلیمان پر کام کر رہی ہیں اور صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک کنٹرول روم بھی فعال ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کا جنگل زیادہ گھنا ہونے کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے مقابلے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

بلوچستان میںملک عبدالستار نامی ایک سماجی کارکن کا کہنا تھا کہ کوہِ سلیمان پر درختوں کو جھلسانے والی آج کی وجوہات اب تک معلوم نہیں کی جاسکی ہے۔

“کے پی میں کم از کم 15 دن قبل آگ لگی تھی، جبکہ چلغوزے کے درختوں میں یہ آگ تقریباً ہانچ روز سے جاری ہے۔”