Aaj News

پرویز مشرف کی طبیعت خراب ہے، لیڈر شپ کا مشورہ ہے انہیں واپس آجانا چاہیئے: ترجمان پاک فوج

دفاعی بجٹ پر ہمیشہ بحث شروع ہو جاتی ہے، 2020 سے دفاع کے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا
شائع 14 جون 2022 09:25pm
<p>مہنگائی کے تناظر میں دیکھیں تو دفاعی بجٹ کم ہوا ہے۔  فوٹو — فائل</p>

مہنگائی کے تناظر میں دیکھیں تو دفاعی بجٹ کم ہوا ہے۔ فوٹو — فائل

Defense budget has not been increased since 2020 | DG ISPR

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی آئی ایس پی آر) میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ سابق صدرجنرل (ر) پرویز مشرف کی طبیعت ناساز ہے، لیڈرشب کا مشورہ ہے انہیں واپس آجانا چاہیئے۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کو واپس لانے کیلئے ان کے خاندان سے رابطہ کیا ہے، فیصلہ ان کی فیملی نے کرنا ہے البتہ پرویز مشرف کی فیملی کے جواب کے بعد ہی کوئی انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی صحت کی صورتحال میں انسٹی ٹیوشن اور لیڈرشپ کا مؤقف ہے کہ انہیں واپس آجانا چاہیے، اسی سلسلے میں پرویز مشرف کے اہلِ خانہ سے رابطہ کیا گیا، مشرف کی واپسی کا فیصلہ ان کے خاندان و ڈاکٹرز نے کرنا ہے کہ وہ ان کو ایسی کنڈیشن میں سفر کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگریہ دونوں چیزیں سامنے آجاتی ہیں تو اس کے بعد ہی کوئی انتظامات کیے جاسکتے ہیں، انسٹی ٹیوشن محسوس کرتاہے کہ جنرل مشرف کو اگر ہم پاکستان لاسکیں تو لانا چاہیے کیوں کہ ان کی کنڈیشن ایسی ہے۔

آرمی چیف کا دورہ چین بہت اہم تھا

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ چین بہت اہم تھا، پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط تعلقات، اسٹریٹجک اور مضبوط دفاعی تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے چینی صدر سے ملاقات کی، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پاک چین دوستی کامنہ بولتا ثبوت ہے، سی پیک کی سیکیورٹی پاک فوج کودی گئی ہے جس میں کوئی کمی نہیں آنے دی اور اس کی سکیورٹی پر 24 گھنٹے کام کیا جا رہا ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ایپکس کمیٹی کی صدارت چین کے صدر کے پاس ہے، چین کےساتھ تعلقات خطے میں امن کیلئے بہت اہم ہیں، آرمی چیف کے اس دورے کے دورس اثرات ہوں گے جو بہت جلد نظر آنا شروع ہو جائیں گے، عسکری سفارتکاری نے پاک چین دوستی کو مزید مستحکم کیا جب کہ چین نے پاکستان کی دفاعی قوت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مہنگائی کے تناظر میں دیکھیں تو دفاعی بجٹ کم ہوا ہے

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دفاعی بجٹ پر ہمیشہ بحث شروع ہو جاتی ہے، 2020 سے دفاع کے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، مہنگائی کے تناظر میں دیکھیں تو دفاعی بجٹ کم ہوا ہے لیکن اس کے باوجود ہم نےاپنی حربی صلاحیتوں میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دی جب کہ دیکھا جائے تو بھارت کا دفاعی بجٹ ہر سال بڑھتا ہے۔

فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ فوج اپنی تمام ذمہ داریاں بخوبی سرانجام دے رہی ہے، ہماری 50 فیصد سے زائد مشرقی بارڈر پر جب کہ 40 فیصد فوج مغربی بارڈر پر تعینات ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی ہدایت پر یوٹیلٹی بلز، ڈیزل، پیٹرول پر کافی بچت کر رہے ہیں، بڑی فوجی مشقوں کو بھی چھوٹے پیمانے پر قریبی علاقوں میں کرانے کی ہدایت کی ہے۔

سابق حکومت کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی

ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے خلاف من گھڑت افواہیں اڑائی جارہی ہیں، جھوٹ کا سہارا لےکر اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانے کا حق کسی کو نہیں ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیئے، شیخ رشید کا بیرونی مراسلے سے متعلق بیان درست نہیں، اجلاس میں ایجنسیوں کی جانب سے بریف کیاگیا تھا۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس کے علاوہ تینوں سروسز چیفقومی سلامتی کے اجلاس میں موجود تھے جس میں شرکا کو واضح طریقے سے بتایا گیا کہ سازش کا کوئی ثبوت نہیں اور این ایس سی میٹنگ میں بریف کیاگیا سازش کے ثبوت نہیں ملے۔

انہوں نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے حالیہ سیشن پرکوئی تبصرہ نہیں کروں گا، بھارت نے لابنگ کی پاکستان کوبلیک لسٹ کیا جائے۔

pak china relations

DG ISPR

Pervez Musharraf

Threat Letter

Comments are closed on this story.

مقبول ترین