Aaj News

“اسٹار وارز” طرز کے لیزر ہتھیاروں کی تیاری شروع

یہ دفاعی نظام دشمن کے ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
شائع 20 جولائ 2022 10:52am
<p>یہ ہتھیار صرف دو سیکنڈ میں چھ میل دور سے ڈرون کو مار گرانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں (تصویر: ای اے اسپورٹس)</p>

یہ ہتھیار صرف دو سیکنڈ میں چھ میل دور سے ڈرون کو مار گرانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں (تصویر: ای اے اسپورٹس)

برطانیہ میں مشہور زمانہ ہالی وُڈ فلم “اسٹار وارز” طرز کے لیزر ائیر ڈیفنس سسٹم تخلیق کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

یہ دفاعی نظام دشمن کے ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

برطانوی وزارتِ دفاع سے 160 ملین پاؤنڈ کا معاہدہ ملنے کے بعد دفاعی اور انٹیلی جنس ٹیکنالوجی فرم “ریتھیون ٹیکنالجیز” مذکورہ دفاعی نظام کی تیاری کے لیے اسکاٹ لینڈ میں ایک فیسیلٹی کھولے گی۔

فرم دفاعی سسٹم کی جانچ اور دیکھ بھال پر توجہ دینے کے ساتھ اسکاٹ لینڈ کے ایچ ایم نیول بیس کلائیڈ میں رائل نیوی کے اہلکاروں کی تربیت میں بھی معاونت کرے گی۔

یہ ہتھیار صرف دو سیکنڈ میں چھ میل دور سے ڈرون کو مار گرانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

“ریتھیون یوکے” کا اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ یوکرین میں جنگ نے ڈرونز سے لاحق خطرے کو نمایاں کیا ہے۔

فرم کے ہائی انرجی لیزرز کے سینئر ڈائریکٹر مائیکل ہوفل کہتے ہیں کہ ، “ہم سب نے دیکھا ڈرون، راکٹ، توپ خانے اور مارٹر جیسے غیر متناسب خطرات ایک سنگین مسئلہ ہیں، اوران کو شکست دینے کے لیے سستے اور مؤثر لیزر ہتھیاروں کی طلب بڑھ رہی ہے۔”

ہائی انرجی لیزر ویپن سسٹم کو “وولف ہاؤنڈ لینڈ وہیکل” نامی چھ پہیوں والے ہیوی آرمرڈ ٹرک میں نصب کیا جائے گا۔

فروری میں ناقدین نے دعویٰ کیا تھا کہ لیزر سسٹم کا یہ آئیڈیا روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے افواج کو یوکرین پر حملے کا حکم دینے کے بعد بے کار ہوچکا ہے۔

اس حملے نے برطانوی حکومت کو اپنے جنگی منصوبے کی دوبارہ جانچ پر مجبور کردیا ہے، جس میں سائبر صلاحیتوں کو بڑھانا اور آلات کو جدید بنانا شامل ہے۔

لیکن نیٹو میں برطانوی فوجی دستوں کی تعداد 82 ہزار سے کم کر کے صرف 73 ہزار کی جا رہی ہے اور درجنوں اہم جنگی ٹینکوں کو ختم کیا جا رہا ہے، جس سے یہ خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ برطانیہ کیسے حملہ آوروں کو پسپا کر سکتا ہے یا نیٹو کی سرزمین کا دفاع کر سکتا ہے۔

uk

Drones

ukraine russia war

Star Wars

Laser Weapon

Comments are closed on this story.