Aaj News

سورج کو مدھم کرنے کا حیرت انگیز منصوبہ

سورج کو مدھم کس طرح کیا جائے گا اور اس سے کیا تباہی ہوسکتی ہے؟
شائع 03 اگست 2022 04:24pm
<p>تصویر بزریعہ ناسا</p>

تصویر بزریعہ ناسا

چند سال قبل، سائنس دانوں نے عالمی درجہ حرارت میں ہونے والی تبدیلیوں کو کم کرنے میں مدد کے لیے سننے میں ایک مضحکہ خیز خیال پیش کیا۔

آئیڈیا یہ تھا کہ جہاز لے کر جائیں اور ہر سال زمین کے ماحول میں ایسے ذرات پھیلا دیں جو سورج کی روشنی کو واپس منعکس کردیں۔ اس طرح مؤثر طریقے سے سورج کو مدھم کیا جاسکے گا۔

کچھ کا خیال ہے کہ اس سے موسمیاتی تبدیلیوں کو کم کرنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ لیکن دوسرے اتنے قائل نہیں ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی ایک بہت بڑا اور حقیقی مسئلہ ہے۔ پرما فراسٹ کے مسلسل پگھلنے سے زمین پر “جہنم کے دہانے” کو کھولنے کا عمل جاری ہے۔

بہت سے لوگ آب و ہوا کی تبدیلی کو روکنے یا کم از کم سست روی کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔

اب حالیہ رپورٹس کی بنیاد پر ایسا لگتا ہے کہ سورج کو مدھم کرنا آپشنز کی فہرست میں واپس آگیا ہے۔

آب و ہوا کے خطرات “جیو انجینئرنگ” پر تحقیق کرنے والی ایمی یونیکورا کے مطابق تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن نے اس خیال کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک نئی رپورٹ کے ساتھ ساتھ ٹویٹر پر ایک تھریڈ بھی پوسٹ کیا۔

لیکن، یونیکورا اسے صرف ایک آپشن کے طور پر دیکھتی ہیں وہ بھی اس صورت میں جب زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے دوسرے منصوبے ناکام ہو جائیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ سورج کے مدھم ہونے کی صلاحیت کو بہت زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی بنیادی طور پر آتش فشاں پھٹنے کے بعد آسمان کے تاریک ہونے سے پیدا ہونے والے اندھیرے کی نقل کرتی ہے۔

ایسا کرنے سے سورج کی روشنی زمین کے ماحول میں داخل نہیں ہو پائے گی اور عالمی درجہ حرارت کو بڑھنے سے روکنے میں مدد ملے گی۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ کام کر سکتا ہے، لیکن اس میں بھی بڑی تعداد میں خطرات شامل ہیں۔

غیر متوقع تبدیلیاں

موسمیاتی تبدیلیوں سے لڑنا اقوام متحدہ سمیت بہت سے لوگوں کے لیے ایک بنیادی مسئلہ بن گیا ہے۔

دیگر آپشنز میں زمین سے ٹکرانے والی شمسی روشنی کو سست کرنے کے لیے “خلائی بلبلوں” کا استعمال بھی شامل ہے۔

فوسل فیول اور دیگر ممکنہ طور پر خطرناک مادوں کو کم کرنے کے لیے بے شمار کوششیں کی گئی ہیں۔

تو سورج کو مدھم کرنا ان سب میں کہاں فٹ ہوتا ہے؟

اس ٹیکنالوجی پر کچھ مطالعات اور آؤٹ ڈور ٹیسٹ شروع ہوئے، لیکن اسے ان لوگوں نے ختم کر دیا جو اس سے لاحق خطرات سے پریشان تھے۔

لیکن اب یہ دوبارہ سامنے سامنے آیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس دانوں کا خیال ہے یہ عالمی درجہ حرارت کو بڑھنے سے روک سکتا ہے۔

درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم اگلے پانچ سالوں میں 1.5 ڈگری سیلسیس کا اضافہ دیکھ سکتے ہیں، جو دنیا بھر میں تباہ کن تبدیلیوں کا سبب بن سکتا ہے۔

شاید شمسی جیو انجینیئرنگ کے بارے میں سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ یہ بارش کے نمونوں میں ممکنہ تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے بعد عالمی بھوک کے ساتھ دیگر مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ اگر اس عمل کو اچانک روک دیا جائے تو شمسی جیو انجینئرنگ درجہ حرارت میں تیز اور بے قابو اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ یہ آب و ہوا کی آلودگیوں کا سبب بننے والے جیسے فوسل فیول کمپنیوں کو بغیر کسی تبدیلی کے جاری رکھنے کے لیے گرین سگنلز دے گا۔

سورج کو مدھم کرنے سے عالمی درجہ حرارت کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، یا یہ شاید ہم سب کو برباد بھی کر سکتا ہے۔

Comments are closed on this story.