طیبہ گل کیس: کمیشن کیخلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب
لاہور ہائیکورٹ نے طیبہ گل کے الزامات پر انکوائری کمیشن کی تشکیل کے خلاف درخواست پر انکوائری کمیشن کی جانب سے بھجوائے گئے نوٹس پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے 25 اگست کو جواب طلب کر لیا-
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار حسین نے درخواست پر سماعت کی، ڈائریکٹر نیب کاشف مسرور کے وکیل صفدر شاہین پیرزادہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ طیبہ گل نے جنسی ہراسانی کے معاملے پر احتساب عدالت لاہور، وفاقی شرعی عدالت اور پبلک اکاونٹس کمیٹی سے بھی رجوع کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی اے سی کا معاملہ زیر سماعت ہونے کے باوجود وفاقی حکومت نے انکوائری کمیشن تشکیل دے دیا، کمیشن نے غیر قانونی طور پر نوٹس بھی بھجوا دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کا انکوائری کمیشن تشکیل دینے کا اقدام غیر قانونی ہے،قانون کے تحت انکوائری کمیشن مفاد عامہ کے معاملے پر ہی قائم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ طیبہ گل معاملے کے لئے قائم انکوائری کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔
عدالت نے کمیشن کے بھجوائے گئے نوٹس کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے 25 اگست کو جواب طلب کر لیا-












اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔