Aaj News

عرب امارات میں نوکری کے خواہشمندوں کیلئے منزل آسان بنانےوالا ‘نیا’ ویزہ

جاب ایکسپلوریشن ویزہ ’ کےتحت کسی اسپانسر یا میزبان کی ضرورت نہیں ہوگی
شائع 14 ستمبر 2022 02:21pm
<p>تصویربشکریہ خلیج ٹائمز</p>

تصویربشکریہ خلیج ٹائمز

متحدہ عرب امارات نے نوجوان ہنرمندوں اور پیشہ ورافراد کو راغب کرنے کے لیے ’ جاب ایکسپلوریشن ویزہ ’ کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ کسی اسپانسر یا میزبان کی ضرورت کے بغیر ملازمت کے مواقع تلاش کرسکیں۔

جاب ایکسپلوریشن ویزہ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جومنسٹری آف ہیومن ریسورسز اینڈ ایمریٹائزیشن کی درجہ بندی کے مطابق اسکلز( مہارت ) رکھتے ہوں اوردنیا کی 500 بہترین یونیورسٹیزمیں کم از کم گریجویشن یا اس کے مساوی ڈگری حاصل کی ہو۔

متحدہ عرب امارات نے ایک قانون میں بھی ترمیم کی ہے جو رہائشی اجازت نامے منسوخ یا ختم ہونے کے بعد ملک میں رہنے کے لیے “ 6 ماہ تک کی لچکداررعایتی مدت“ دیتا ہے۔ تاہم فوری طور پریہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ تمام قسم کی رہائشی اقسام پرلاگو ہوتا ہے یا نہیں۔

مشرق وسطیٰ میں Hays کی منیجنگ ڈائریکٹر ہیزسارہ ڈکسن کا کہنا ہے کہ نیا ویزہ متعارف ہونے سے ملازمت کے متلاشی افراد کے لیے روزگار کی تلاش میں ملک میں داخل ہونا آسان ہوجائے گا۔

سارہ ڈکسن کے مطابق، “ہمیں توقع ہے کہ ہم مزید غیرملکیوں کو ملک میں آتے ہوئے اور کام کی تلاش کے دوران یہاں بستے ہوئے دیکھیں گے۔ ملازمت کے متلاشی افراد جو پہلے سے ہی یہاں موجودہیں وہ زیادہ فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔ یہاں مقیم افراد کا انٹرویو کیے جانے اور بالآخر ملازمت حاصل کرنے کے امکانات بہتر ہوتے ہیں کیونکہ متحدہ عرب امارات سے وابستگی آجر کے لیے کم خطرے کا باعث ہوتی ہے۔ اس لیے ایسے افراد کے سی وی سب سے اوپر رکھے جائیں”۔

تنخواہ، کیریئر کی ترقی

سارہ ڈکسن نے کہا کہ ملازمت کے متلاشی افراد کواپنےاختیارات پرغورکرنے اورنئے کیریئرسے متعلق زیادہ بہترفیصلے کرنے کی آزادی اور لچک ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اہل ملازمت کے متلاشی نئے ویزہ سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن وہ امیدوارجو ایسے شعبوں سے وابستہ ہیں جہاں ٹیلنٹ کی کثرت ہو یا بہت زیادہ مسابقت ہو وہ نقل مکانی کا عزم ظاہرکرتے ہوئے بیرون ملک سے درخواست دینے والوں سے آگے نکل سکتے ہیں۔

دنیا کی معروف ایچ آر فرم ایڈیکو مڈل ایسٹ کے کنٹری ہیڈ میانک پٹیل کا کہنا ہے کہ جاب ایکسپلوریشن ویزہ لوگوں کے لیے کام کی تلاش کے لیے ملک میں داخل ہونا آسان بنا دے گا۔

میانک پٹیل کے مطابق“یہ ملازمت کی تلاش میں آنے والے افراد کو نہ صرف خود کو اچھی طرح سے تیار کرنے کے لیے اضافی وقت دے گا بلکہ آجر کے انتخاب سے اضافی مدد حاصل کرنے کے لیے بھی وقت بڑھا دے گا۔ اس سے صحیح فیصلہ لینے اور تنظیم کے ساتھ طویل عرصے تک وابستگی میں مدد ملے گی“۔

ویزا منسوخی کے بعد 6 ماہ قیام

انہوں نے بتایا کہ کہ غیرملکیوں کو رہائشی اجازت نامے کی منسوخی یا ختم ہونے کے بعد 6 تک رہنے کی اجازت بنیادی طور پرملازمین کو واجبات کے حصول میں مدد کرے گی اوربینکوں جیسے مالیاتی شعبے کے لیے بھی کم پریشانی کا باعث بنے گی۔

UAE

UAE Jobs

Job exploration visa

Comments are closed on this story.