Aaj News

افغان طالبان کا ٹک ٹاک اور پب جی پر پابندی کا فیصلہ

ٹک ٹاک کی زیادہ تر صارفین لڑکیاں ہیں اور پب جی کے زیادہ تر صارفین لڑکے ہیں۔
شائع 18 ستمبر 2022 10:33pm

افغانستان کی وزرات برائے مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اگلے 3 ماہ کے اندر افغانستان میں ٹک ٹاک اور پب جی ایپلی کیشنز پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

افغان طالبان کے زیرِ اثر وزارت ٹیلی کمیونیکیشن نے سیکیورٹی سیکٹر کے نمائندوں اور شرعی قانون نافذ کرنے والی انتظامیہ کے ایک نمائندے کے ساتھ میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ 90 دن کی مدت کے اندر افغانستان میں ٹک ٹاک اور پب جی دونوں ایپلی کیشنز پر پابندی لگا دی جائے۔

وزارت مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ الحاج مولوی نجیب اللہ حقانی کی سربراہی میں وزارت ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے حکام کا مشترکہ اجلاس وزارت داخلہ کے نمائندوں کی موجودگی میں ہوا۔

اجلاس میں جنرل ہیڈ آف انٹیلی جنس، وزارت برائے امور نہی عن المنکر اور شکایات، وزارت ٹیلی کمیونیکیشن کے ہال میں بریشنا کمپنی اور محکمہ امور کی جانب سے پب جی اور ٹک ٹاک ایپس پر پابندی لگانے کے لیے کانفرنسیں منعقد کی گئیں۔

میٹنگ میں کیے گئے فیصلے کے مطابق، ٹک ٹاک پر اب سے ایک ماہ کے اندر پابندی لگا دی جائے گی اور اگلے 90 دنوں کے اندر پب جی پر بھی پابندی عائد کردی جائے گی۔

اس فیصلے کو ملک بھر میں ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے تاکہ اسے اعلان کردہ شیڈول کے اندر نافذ کیا جا سکے۔

پاکستان اور بھارت کے بعد افغانستان تیسرا ملک ہے جو گیمنگ کی ایک مقبول ایپلی کیشن پب جی پر پابندی لگانے جا رہا ہے۔

پب جی ایک آن لائن گیمنگ ایپلی کیشن ہے جس کے دنیا بھر میں سب سے زیادہ پلئیرز بچوں اور نوعمروں کے درمیان ہیں۔

مطالعات اور سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ٹک ٹاک کی زیادہ تر صارفین لڑکیاں ہیں اور پب جی کے زیادہ تر صارفین لڑکے ہیں۔

افغانستان میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (VPN) ایپلی کیشنز کا استعمال اس فیصلے کے نفاذ کے لیے ایک حقیقی چیلنج ہوگا۔

وی پی اینز صارفین کو انٹرنیٹ کے کسی بھی ممنوعہ لنکس اور ویب سائٹس کو براؤز کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

afghan taliban

TikTok

Ban

PUBG

Comments are closed on this story.