Aaj News

فلم جوائے لینڈ: پہلے پابندی اب ریلیز کا مطالبہ کیوں؟

فلم 18نومبر کو پاکستان میں ریلیز ہونا تھی تاہم حکومت نے فلم پر پابندی لگادی
شائع 13 نومبر 2022 05:26pm
<p>فوٹو — فائل</p>

فوٹو — فائل

عالمی ایوارڈ جیتنے والی پاکستانی فلم جوائے لینڈ کے حوالے سے ٹوئٹر پر دو ٹرینڈ سامنے جس گذشتہ بین جوائے نے ٹرینڈ کیا تو آج ریلیز جوائے لینڈ کا ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے لگا۔

فلم کو کانز فلم فیسٹیول میں ’کانز: کوئیر پام‘ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جو کہ خصوصی طور پر ہم جنس پرست یا پھر مخنث افراد کی کہانیوں پر مبنی فلموں کو دیا جاتا ہے تاہم پاکستان میں جوائے لینڈ کو رواں 18 نومبر کو ریلیز کیا جانا تھا۔

رواں ماہ کے آغاز میں فلم کا ٹیزر جاری کیا گیا تو جماعت اسلامی کے سنیٹر مشتاق احمد نے فلم کی ریلیز پاکستان میں روکنے اور اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا ۔

اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے کہا تھا کہ فلم میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے اور ایسی فلموں کے ذریعے پاکستان کے معاشرتی اقدار پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔

فلم کی کہانی ایک نوجوان اور ٹرانس جینڈر کے گرد گھومتی ہے جو کہ ڈانس کلب میں ملازمت کے دوران ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔

تاہم گزشتہ روز اسی حوالے سے ٹوئٹر پر ٹرینڈ بھی نظر آیا جس میں فلم جوائے پر پابندی کا مطالبہ کیا جارہا تھا ۔

جس کے بعد وزارت اطلاعات ونشریات نے فلم جوائے لینڈ کی ملک بھر کے سنیما میں نمائش پر پابندی عائد کرتے ہوئے فلم کو جاری کردہ سنسربورڈ کا سرٹیفیکیٹ منسوخ کردیا۔

سینیٹر مشتاق خان نے وزارت اطلاعات و نشریات کا جاری کردہ اعلامیہ اپنی ٹوئٹر ہینڈل پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ الحمدللہ! حکومت پاکستان نےمتنازع فلم جوائےلینڈکوجاری کردہ نمائش کالائسنس منسوخ کر کرکےنوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے،یہ حکومت کااحسن اقدام ہے،پاکستان اسلامی مملکت ہےیہاں کوئی قانون، کوئی اقدام،کوئی نظریہ خلافِ اسلام نہیں چل سکتا۔

وزارت اطلاعات و نشریات کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فیچر فلم جوائے لینڈ کو فلم سنسر بورڈ نے نمائش کا سرٹیفیکیٹ جاری کردیا تھا تاہم فلم ریلیز ہونے کےبعد تحریری شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں فلم کے مواد کو انتہائی قابل اعتراض ،پاکستانی معاشرے کی سماجی اقدار اور اخلاقی معیار سے متصادم قرار دیتے ہوئے اسے موشن پکچرز آرڈیننس 1979 کی شق 9 کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔

لہٰذا وفاقی حکومت مذکورہ آرڈیننس کی شق 9 کے تحت دیے گئے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے فلم کی نمائش کیلیے جاری کردہ سرٹیفیکیٹ منسوخ کرتے ہوئے ملک بھر کے سنیماز میں فلم کی نمائش پر فوری طور پر پابندی عائد کرتی ہے۔

فلم پر پابندی کا مطالبہ کرنے والی مشتاق احمد اکیلے نہیں تھے بلکہ معروف فیشن ڈیزائنر ماریہ بی اور اداکار فیروز خان نے بھی فلم کی نمائش پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس سارے معاملے کے بعد آج ٹوئٹر پر ریلیز جوائے لینڈ کا ہیش ٹیگ گردش کرنے لگا جس میں اداکارہ ثروت گیلانی سمیت دیگر فنکاروں فلم کو پاکستان میں ریلیز کرنے کا مطالبہ کیا ۔

اداکارہ ثروت گیلانی نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ پاکستانی سنیما کے لیے تاریخ رقم کرنے والی فلم جوائے لینڈ کے خلاف ایک جان بوجھ کر مہم چلائی جارہی ہے ، فلم کو تمام سنسر بورڈز سے پاس کر دیا گیا تھا لیکن اب حکام کچھ بددیانت لوگوں کے دباؤ میں آ رہے ہیں جنہوں نے فلم دیکھی تک نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ شرمناک بات ہے کہ 200 پاکستانیوں کی 6 سال میں بنائی گئی ایک پاکستانی فلم جس کو ٹورنٹو، قاہرہ اور کانز فلم فیسٹیول میں کھڑے ہو کر داد دی گئی اس فلم کی ریلیز اپنے ہی ملک میں نہیں ہو پارہی ہے۔

اداکارہ ثروت گیلانی سمیت ہدایتکار وجاہت روف اور اداکار یاسر حسین نے بھی فلم پر سے پابندی ہٹانے اور ریلیز کرنے کا مطالبہ کیا ۔

ہدایت کار صائم صادق کی اس فلم کی کاسٹ میں سرمد کھوسٹ، ثروت گیلانی، علینا خان، سہیل سمیر، سلمان پیر، ثانیہ سعید، کنول کھوسٹ، زویا احسن، ثنا جعفری اور قاسم عباس سمیت دیگر اداکار شامل ہیں۔

joyland

Mushtaq Ahmed Minhas

Sarwat Gilani

Comments are closed on this story.

مقبول ترین